1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice
  3. Dismiss Notice

آسانی اور رواداری پر مبنی موحدانہ طرز عمل


آئی ٹی استاد کی ںئی ایپ ڈاونلوڈ کریں اور آئی ٹی استاد ٹیلی نار اور ذونگ نیٹ ورک پر فری استمال کریں

itustad

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by IQBAL HASSAN, Apr 27, 2015.

General Topics Of Islam"/>Apr 27, 2015"/>

Share This Page

  1. IQBAL HASSAN
    Offline

    IQBAL HASSAN Designer
    • 63/65


    [​IMG]

    آسانی اور رواداری پر مبنی

    موحدانہ طرز عمل



    بعثت بالحنيفية السمحة (مسند احمد)

    ”مجھے اس موحدانہ طرز عمل کے ساتھ بھیجا گیا ہے جس میں آسائش اور رواداری ہے“۔


    فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الأوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ حُنَفَاءَ لِلَّهِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بِهِ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ
    (الحج: ٣٠۔ ٣١)

    ”پس بتوں کی گندگی سے بچو اور باطل قول سے اجتناب کرو۔ (حنفاء) خدا کی جانب یکسو موحد بن کر۔ شرک سے دور رہتے ہوئے۔ سنو! اللہ کے ساتھ جس نے شرک کیا گویا وہ تو آسمان (کی بلندی) سے گر گیا۔ اب یا تو اسے پرندے اچک لے جائیں یا ہوا اس کو ایسی جگہ لیجا کر پھینک دے جہاں اس کے چیتھڑے اڑ جائیں“۔


    وَمَا أُمِرُوا إِلا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ وَيُقِيمُوا الصَّلاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ
    (البینہ: ٥)

    ”اور وہ اس بات کے سوا کسی چیز کے مامور نہ تھے کہ ایک اللہ کی بندگی کریں“ اپنے دین کو اس کیلئے خالص کرکے (حنیف) یکسو موحد ہو کر، اور نماز قائم کریں اور زکوٰت دیں۔ یہی نہایت صحیح ودرست دین ہے۔

    عن ابن عباس رضی اللّٰہ عنہ قال: قیل لرسول اللّٰہ ! ای الادیان احب الی اللّٰہ؟ قال: ”الحنیفیہ السمحہ“ (رواہ احمد)

    ”عبداللہ بن عباس سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ سے سوال کیا گیا: کونسا انداز دینداری خدا کو سب سے زیادہ پسند ہے؟ فرمایا: موحدانہ طرز کی بندگی جس میں نرمی ومیانہ روی ہو“۔ [لفظ ”سمحہ“ میں نرمی ومیانہ روی کا معنی بھی آتا ہے۔ آسانی و آسائش کا بھی اور رواداری وفراخ دلی کا بھی۔ ایک لفظ میں اس کا ترجمہ کر دینا ممکن نہیں۔]

    عن عائشہ قالت: دخل علی ابوبکر وعندی جاریتان من جواری الانصار تغنیان بما تقاولت بہ الانصار یوم بعاث، قالت: ولیسنا بمغنیتین فقال: ابوبکر: ابمزمور الشیطان فی بیت رسول اللّٰہ ؟ وذلک فی یوم عید، فقال رسول اللّٰہ : لا یاابابکر ان لکل قوم عیداً وھذا عیدنا“۔

    وحدثناہ یحی بن یحی وابوکریب جمیعا عن ابی معاویہ عن ھشام بھذا الاسناد، وفیہ: جاریتان تلعبان بدف (رواہ مسلم)

    عن عائشہ، قالت: جاءحبش یزفنون فی یوم عید فی المسجد۔ فدعانی النبی فوضعت راسی علی منکبہ، فجعلت انظر الی لعبہم، حتی کنت انا التی انصرف عن النظر الیہم (رواہ مسلم: باب الرحضہ فی اللعب الذی لا معصیہ فیہ، فی ایام لعید)

    عن انس، قال: کانت الحبشہ یزفنون بین یدی رسول اللّٰہ ویرقصون ویقولون: محمد عبد صالح (مسند الامام احمد)

    عن انس بن مالک: ان الحبشہ کانوا یزفنون بین یدی رسول اللّٰہ ، ویتکلمون بکلام لا یفھمہ، فقال رسول اللّٰہ: ”ما یقولون؟“ قالوا: یقولون: محمد عبد صالح (صحیح ابن حبان)

    عبدالرحمن عن ابیہ، قال: قال لی عروہ: ان عائشہ قالت: قال رسول اللّٰہ یومئذ: ”لتعلم یھود ان فی دیننا فسحہ، انی ارسلت بحنیفیہ سمحہ“ (مسند الامام احمد)

    ”عائشہ روایت کرتی ہیں، کہا: میرے ہاں ابوبکر تشریف لائے جبکہ اس وقت میرے ہاں دو انصاری لڑکیاں ان رجزیہ اشعار پر گا رہی تھی جو کہ انصار لوگوں نے جنگ بعاث کے موقع پر کہے تھے۔ عائشہ کہتی ہیں: یہ دونوں باقاعدہ گانے والیاںنہ تھیں۔ تب ابوبکر (غصہ میں) کہنے لگے: شیطان کا یہ سُر کیا رسول اللہ کے گھر میں؟ جبکہ اس روز عید تھی۔ تب رسول اللہ نے فرمایا: ابوبکر ہر قوم کی کوئی عید (جشن) ہوتی ہے اور آج ہماری عید ہے“۔

    یحی بن یحی اور ابو کریب دونوں ابومعاویہ ہشام سے اسی اسناد کے ساتھ جو روایت کرتے ہیں اس میں یہ لفظ آتے ہیں:

    یہ دونوں لڑکیاں دف بجا کر گا رہی تھیں۔ (صحیح مسلم)

    عائشہ سے روایت ہے، کہا: کچھ حبشی لوگ عید کے روز آئے اور مسجد میں ایک رقص نما کھیل پیش کیا۔ تب نبی نے مجھے بھی بلا لیا۔ میں آپ کے کاندھے پر اپنا سر رکھ کر ان کاکھیل دیکھتی رہی۔ یہاں تک کہ میں نے خود ہی ان کی طرف سے توجہ پھیر لی۔ (صحیح مسلم)

    انس سے روایت ہے، کہا: حبشی لوگ رسول اللہ کے سامنے اچھلتے اور رقص کرتے ہوئے گا رہے تھے: محمد عبد صالح یعنی محمد خدا کے نیک بندے ہیں۔(مسند احمد)

    انس بن مالک سے روایت ہے کہ: حبشی لوگ رسول اللہ کے سامنے رقص نما کھیل پیش کرتے ہوئے (اپنی) زبان میں کچھ گا رہے تھے جسے رسول اللہ نہ سمجھ پائے۔ تب آپ نے پوچھا: ”یہ کیا کہہ رہے ہیں؟“ انہوں نے کہا یہ کہتے ہیں: ”محمد خدا کے نیک بندے ہیں“۔ (صحیح ابن حبان)

    عروہ کہتے ہیں: عائشہ نے کہا: اس روز رسول اللہ نے فرمایا تھا: ”یہود جان لیں کہ ہمارے دین میں وسعت ہے۔ درحقیقت مجھے ایک ایسے موحدانہ طرز زندگی کے ساتھ بھیجا گیا ہے جس میں آسائش اور رواداری ہے“۔ (مسند احمد)

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ’حنیفیت‘ ملت ابراہیم کا ایک خوبصورت وصف بھی ہے اور اس کا ایک معروف لقب بھی۔ ظہور اسلام سے پہلے عرب میں شرک اور بتوں کی عبادت کو غلط جاننے والے اور جاہلیت کی عام برائیوں سے دامن کش رہنے والے حنفاءکے نام سے مشہور تھے۔ قرآن میں بیشتر مقامات پر ابراہیم کا تعارف ’حنیف‘ کے وصف سے کرایا گیا ہے۔ خود مسلمانوں کو حنفاءللّٰہ غیر مشرکین بہ رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ صبح شام کے بعض مسنون اذکار میں جو کہ توحید بندگی کی زبردست یاددہانی ہیں، حنیفاً مسلماً کے الفاظ آتے ہیں۔ ضرور پھر اس لفظ میں کوئی ایسی بات ہے جو خدا کو خاص طور پر مطلوب ہے اور جس کو دعوت اسلام کا تعارف کرانے میں نہایت برمحل جانا گیا ہے۔

    یہ لفظ عجیب وسعت کا حامل ہے۔ یہ بیک وقت دو معنی دیتا ہے جو کہ بظاہر متعارض ہیں مگر ایک دوسرے کو مکمل کرنے والے ہیں۔ حنف یحنف کا مطلب میلان ختم کرلینا بھی ہے اور میلان پیدا کرلینا بھی۔ گویا یہ ٹوٹنا بھی ہے اور جڑنا بھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے ساتھ عن کا حرف بھی استعمال ہوتاہے اور الی کا بھی۔ چنانچہ یہ دہرا معنی رکھتا ہے۔ یہ کمال انداز سے ایک حقیقت کے دونوں رخ بیک وقت بیان کرتا ہے۔ توحید کے دراصل دو پہلو ہیں۔ ان دونوں پہلوؤں پر یہ ایک ہی لفظ فٹ آتا ہے۔ یہ دونوں پہلو الگ الگ رہیں تو بے معنی ہیں یکجا ہوں تو توحید بنتی ہے۔ چنانچہ جس قدر توحید کے یہ دونوں پہلو اہم ہیں اسی قدر ان دونوں پہلوؤں کا اجتماع ضروری ہے تاکہ یہ انسان کے تصور اور کردار کی ایک متعین جہت بنا دے۔ ’حنیفیت‘ کا لفظ ان دونوں پہلوؤں کو کمال خوبصورتی کے ساتھ‘ یکجا کر دیتا ہے۔ حنیف اس شخص کو کہیں گے جو کسی طرف سے یکسر ہٹ جائے اور مکمل طور پر کسی اور طرف کا ہو لے۔ ان دونوں باتوںکے بغیر حنیف کامعنی متکامل نہ ہوگا۔ ایک طرف سے ٹوٹنا اور دوسری طرف جڑنا۔ یعنی نفی اور اثبات دونوںبیک وقت مراد لئے جائیں تو اس لفظ کی حقیقت سامنے آئے گی۔

    چنانچہ ’حنیفیت‘ کا معروف معنی ہے: سب معبودوں سے ناطہ توڑ کر بس ایک ہی معبود سے لو لگا لینا اور سب راستوں سے ہٹ کر ایک حق کے راستے پر آرہنا اور اسی پر جم جانا۔ چنانچہ جس قدر خدائے برحق کی بندگی کا دم بھرنے کا مفہوم اس سے واضح ہوتا ہے اتنا ہی باطل کو مسترد کرنے اور لوگوں کی دیکھا دیکھی اور رسوم ورواج کا راستہ چھوڑ دینے کا مفہوم بھی اس لفظ میں نمایاں ہے۔ اس لحاظ سے یہ اسلام کی ایک لفظ میں بہترین اور جامع ترین تفسیر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ اپنی دعوت کے تعارف میں فرماتے ہیں: ”مجھے حنیفیت سمحہ دے کر بھیجا گیا ہے“۔

    یہ تو ہوا ’حنیفیت‘ کا مطلب۔ ’سمحہ‘ کیا ہے؟ اس کے معنی میں نرمی، آسانی، رواداری، رحمدلی، میانہ روی، اعلیٰ ظرفی اور وسعت نظر کے مفہومات آتے ہیں۔ گویا یہ ’مذہب‘ اور ’دھرم‘ کے لگے بندھے مفہوم سے یکسر مختلف چیز ہے۔ ہر دھرم کی پیشہ ورانہ تفسیر اس کو پیچیدگیوں کا مجموعہ اور ایک ازکار رفتہ چیز بنا دیتی ہے۔ ’مذہب‘ جکڑبندی کا دوسرا نام ہو جاتا ہے۔ اس پر ایک خاص کاہن پیشہ قسم کے لوگوں کا اجارہ ہوتا ہے۔ ’مذہب‘ کو ترک دُنیا اور مردم بیزاری کا ہم معنی کر دیا جاتا ہے۔ قدرتی جذبوں کا قتل اورجائز خواہشات کو دبا دینا ’مذہبی‘ ہونے کا تقاضا مان لیا جاتا ہے۔ ’شریعت‘ کو سخت سے سخت کر دینا خدا کے تقرب کا ذریعہ باور کیا جاتا ہے۔ پھر چونکہ یہ ایک بے بنیاد دین ہوتا ہے خرافات اور انسانی اھواءو خواہشات بلکہ بسا اوقات انسانی حماقتوں کا مجموعہ ہوتا ہے لہٰذا اسے ’ثابت‘ کرنے اور منوانے میں دھونس اور زبردستی کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔

    ’سمحہ‘ کا لفظ ان سب مفہومات کو باطل کر دیتا ہے اور دین اسلام کا ان جکڑ بندیوں سے یکسر مختلف تعارف کراتا ہے۔ اسلام فطرت کی اپنی ہی آواز ہے اور انسانی ضمیر اور عقل سے سیدھا سیدھا خطاب ہے۔ لہٰذا اس کو ثابت کرنے اور منوانے میں کوئی جبر اور زبردستی نہیں۔ اس معنی میں اسلام کے اندر رواداری ہے۔ پھر شریعت کے احکام میںنرمی اور آسانی ہے۔ پھر لوگوں کو ان کے فرائض بتانے میںانکے حالات، انفرادی استعداد اور موقع ومناسبت کی حد درجہ رعایت کی جاتی ہے۔ مزید برآں سادگی کا حکم ہے۔ ایک طرف بھاری بھر کم رسومات مذموم ہیں تو دوسری طرف رہبانیت اور ترک دُنیا کی ممانعت ہے، معاشرے کے عین بیچ میں رہنا، لوگوں میں گھل کر رہنا، لوگوں سے ملنے والی اذیت کو نیکی میں بدل کر لوٹانا اسلام کا سبق ہے۔ دین سکھانے میں تدریج ہے۔ کسی بات کا مکلف ہونا استطاعت سے مشروط ہے۔ اخوت، مساوات، خیر خواہی، صبر، احسان، صدقہ، صلہ رحمی اور مکارم اخلاق کی تلقین ہے۔ غرض ہر معاملے میں ایک توازن ہے۔

    اس لحاظ سے ”الحنیفیہ السمحہ“ رسول اللہ کی دعوت اور مشن کا بہترین تعارف ہے۔

    حنیفیہ اور سمحہ۔ یہ دونوں رسول اللہ کے مشن کو بے انتہا منفرد بنا دیتے ہیں۔ ایک طرف اصول ہیں ۔ جن پر کوئی سمجھوتہ نہیں۔ حنیفیت ہے یعنی باطل سے کوئی سازگاری نہیں۔ ہر باطل راستے، ہر باطل نظام اور ہر باطل معبود سے مکمل ناطہ توڑ لینا ہے جس کے بعد باطل سے مسلم فرد یا مسلم جماعت یا مسلم معاشرے کاکوئی لینا دینا ہی نہ رہے۔ اصولوں پر بے پناہ سختی ہے۔ عقیدہ پر بے حد زور ہے۔ یہاں کوئی چھوٹ نہیں۔

    دوسری طرف اصولوں کی دعوت دیے جانے میں ہر درجہ معقولیت ہے۔ ان کو منوانے میں کوئی زبردستی نہیں۔ یہاں انسان کی عقل اور ضمیر سے خطاب ہے۔ دعوت کو لیکر چلنے میں اور اس راستہ کے اندر لوگوں کے ساتھ تعامل اختیارکرنے میں معقول ترین، آسان ترین اور موثر ترین اندازاپنانے کی ہدایت ہے۔ بشروا ولا تنفروا۔ راستہ وہی توحید کا راستہ ہے۔ راستہ نہیں بدلنا۔ انچ بھر نہیں ہٹنا۔ مگر اس راستے کو مردم بیزاروں سے بھی نہیں بھرنا۔ معقولیت کا دامن نہیں چھوڑنا۔ لٹھ ماری کا یہاں کیا کام۔ لوگوں کی ہمت اور استعداد اور لوگوں کے حالات کو مدنظر رکھا جانا ہے۔ اس راستے میں بہترین انسانی رویوں کو پروان چڑھایا جانا ہے۔ انسانی رشتوں کی تکریم کی جانی ہے۔ سماجی بندھنوں کو اور سے اور مضبوط کیا جانا ہے۔ یہاں عفو ودرگزر ہے۔ بلند خیالی ہے۔اعلیٰ ظرفی ہے۔ انسانی جوہر کی ترقی وافزودگی ہے۔ تہذیبی عمل ہے۔ احکام شریعت میں یُسر ہے۔ عزیمت ہے تو رخصت بھی ہے۔ جہاد اور عزم الامور پہ زور ہے تو تفریح اور شغل کی گنجائش بھی ہے۔ تبھی دف بجانے اور حبش کے مسلمانوںکو اپنا علاقائی کھیل پیش کرنے کی اجازت دیتے ہوئے فرمایا: یہود جان لیں کہ ہمارے دین میں ایک وسعت اور آسائش ہے۔ درحقیقت مجھے ایک ایسے موحدانہ طرز زندگی کے ساتھ بھیجا گیا ہے جس میں آسائش اور رواداری ہے“۔

    چنانچہ ان بے شمار جہتوں سے اسلام میں بے حد وسعت اور رواداری ہے۔

    البتہ جاہلیت جس ’رواداری‘ کامطالبہ کرتی ہے اس سے مراد کچھ اور ہے!

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    رواداری کی حدود:

    ’دعوت‘ اصل میں تاثرات کی جنگ ہے۔

    ’رواداری‘ کا سوال بھی اسی وجہ سے اٹھ کھڑا ہوتا ہے کہ جاہلیت معاشرے میں پہلے زندگی کا ایک دھارا بناتی ہے، جو کہ طرح طرح کے ظلم سے پُر ہوتا ہے۔ خواہ اسے باپ دادا کا راستہ کہا جائے یا جاہلی ماحول اور گردو پیش کا اپنا ہی تقاضا، یا جاہلی ابلاغ اور تعلیم کا اثر، یا انسانی اھواءو خواہشات یا لوگوں کی صلاحیتوں کا استحصال۔ جاہلیت پہلے زندگی کا یہ دھارا بناتی ہے۔ پھر اس دھارے کے ساتھ جتنے لوگ رضاکارانہ طور پر ___ اور دراصل ایک باقاعدہ سماجی اور ابلاغی دباؤ کے تحت ___ چلنا چاہیں ان کو ساتھ چلاتی ہے۔ البتہ جو نہ چلنا چاہیں ان سے ’رواداری‘ کا تقاضا کرتی ہے!

    سماج کا اثر بے انتہا زور آور ہوتا ہے۔ ایک غیر معمولی عزیمت اور قوت ارادی کے بغیر، جو کہ توحید ہی کی دین ہو سکتی ہے، اور ایک غایت درجے کی دانشمندی اختیار کئے بنا اس کی مزاحمت ناممکن رہتی ہے۔ ’تاثرات‘ پہاڑ سے بھاری ہوتے ہیں۔ اچھے اچھے لوگ بسا اوقات اس پہاڑ سے ٹکرانے کے خلاف شرعی دلائل پیش کرتے دیکھے گئے ہیں! اس ’پہاڑ‘ کو ہلانا جن کی نگاہ میں ناممکن ہوتا ہے ان کیلئے خود تھوڑا سا ’ہل‘ جانا اور اس ’پہاڑ‘ سے ذرا کترا کر گزرنا مسئلے کا آسان اور طبعی حل ہوتا ہے۔ جاہلیت جس ’رواداری‘ کی متقاضی ہوتی ہے اس سے مراد دراصل یہی ہوتی ہے۔

    جاہلی دھارے کے ساتھ چلنے سے انکار کرنا ایک دشوار کام ہے اور ابتداءمیں تو ایک خاص نظریاتی پختگی کو پہنچے ہوئے لوگ ہی یہ جرات کر سکتے ہیں۔ چنانچہ ’رواداری‘ ایک طرح کا خراج ہے۔ ہر جاہلی معاشرہ اسی ’ٹیکس‘ پر چلتا ہے۔ یہ ’خراج‘ معاشرے کے ایک عام فرد پر جاہلیت اپنا کم از کم حق جانتی ہے۔ اس حق کو وہ ہر ایک سے زبردستی بھی لیتی ہے اور گو یہ محض ایک ’منہ ملاحظہ‘ ہے مگر ایک فرد کیلئے اس سے جان چھڑانا جان جوکھوں کا کام بن جاتا ہے۔

    دوسری طرف اللہ کا حق ہے۔ پیدا کرنے والے کا تقاضا ہے۔ تخلیق کا مقصد ہے۔ نجات کا سوال ہے۔ وجود کی غایت ہے۔ اطاعت، عبادت، پرستش، تعظیم، تقدیس، کبریائی، بندگی، ڈر، خوف، محبت، عقیدت، گرویدگی صرف اس ذات کی جو واقعتا اور درحقیقت اس پر حق رکھتی اور جس نے محمد کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا اور آپ کے راستے کو ہدایت اور راستی کی سند دی اور جس کا کم از کم حق یہ ہے کہ اس سے متعارض اور متصادم راستوں کو نہ صرف غلط مانا جائے بلکہ برملا طور پر باطل کہا جائے۔

    حق اور باطل کے درمیان ’رواداری‘ اسی وجہ سے باعث نزاع بن جاتی ہے۔ جاہلیت کے ہاں غلط اور صحیح کی اپنی تقسیم ہے اور اسلام کے ہاں اپنی۔ دونوں میں صاف تعارض ہے۔ جو ایک کے ہاں صحیح ہے وہ دوسرے کے ہاں غلط ہے۔ ان دونوں کے ’صحیح‘ اور ’غلط‘ میں بعض جگہوں پر اگر اشتراک پایا جاتا ہے تو بہت ہی اہم اور بنیادی مسائل میں صاف تعارض ہے۔ ایک سے رواداری دوسرے سے انحراف ہے۔ اب یہاں رواداری کا لفظ بے معنی اور غیر متعلق (ارريليوينٹ) ہو جاتا ہے۔ یہاں تو سوال یہ ہو گا کہ رواداری کس سے ہو اور انحراف کس سے؟ دونوں کے ساتھ سازگاری ممکن نہیں۔ جاہلیت کے اپنے تقاضے ہیں جو اسلام سے متعارض ہیں۔ دوسری جانب اسلام کے اپنے تقاضے ہیںجو جاہلیت سے صاف متصادم ہیں۔ دونوں کا یہ تعارض اس قدر واضح اور اس قدر جزری اور بنیادی ہے کہ ایک کا رہنا دوسرے کا جانا ہے۔ ایک کو اپنی اصل حالت میں چھوڑ دینا دوسرے میں جزری ترمیم کر دینا ہے اور اس کو اس کی اصل حالت پر رہنے نہ دینا۔ دو متعارض عقیدوں کی جنگ ہو تو آپ دونوں کے حق میں فیصلہ کر ہی نہیں سکتے۔ بیک وقت دونوں سے نباہ ممکن نہیں۔ ایک کو اصل مان کر دوسرے میں ہر وہ ترمیم کر دینا پڑے گی جو اس ’ایک‘ کا تقاضا ہو۔

    دو باطل نظریات میں بھی اگر تصادم ہو تو ’رواداری‘ کا سوال عموماً اس طرف سے ہوتا ہے جو لوگوں کی اکثریت پر غالب اور متسلط ہو۔ کہنے کو کہا جا سکتا ہے کہ اس بات کی ضرورت اس نظریے کو زیادہ ہونی چاہیے جو اکثریت کی حمایت نہیں رکھتا۔ مگر واقعہ یہی ہے کہ ’رواداری‘ کی صدا عموماً اسی طرف سے بلند کی جاتی ہے جو ’حالت موجودہ‘ (اسٹیٹس كيو) کو باقی اور بحال رکھنے پر مصر ہو۔ چنانچہ اس صدا پر لبیک کہنے کا آپ سے آپ مطلب یہ ہوگا کہ اسی نظریے کی سیادت پر راضی برضا رہا جائے جو پہلے سے قائم ہے۔

    البتہ حالت موجودہ status quo کے داعی طبقے جس رواداری کے متقاضی ہوتے ہیں وہ ایک خاص قسم کی یکطرفہ رواداری ہوتی ہے۔ اس سے مراد ہوتی ہے ’حصہ بقدر جثہ‘ یعنی جتنا کوئی طبقہ معاشرہ میں زیادہ بڑا یا زیادہ بااثر ہے اتنا ہی اس کو ’غلط‘ کہنے سے احتیاط برتی جائے اور جتنا کوئی طبقہ چھوٹا یا بے اثر ہے اتنا ہی اس کو ’معاشرتی رحجانات کے ساتھ راوداری اپنانے کی تاکید کی جائے!

    دو متعارض نظریات باطل بھی ہوں تو ان میں یہ کھینچا تانی ناگزیر ہوتی ہے۔ ورنہ ’حالت موجودہ‘ برقرار ہتی ہے۔ پھر جب معاملہ حق اور باطل کا ہو اور جبکہ جاہلیت معاشرتی رحجانات پہ حاوی ہو وہاں حق کی جانب سے ’حالت موجودہ‘ کے ساتھ نظریاتی رواداری اپنا رکھنے کا مطلب صرف یہ ہو گا کہ جس باطل کی سیادت معاشرے میں قائم ہے اسی کی سیادت باقی رہے۔

    رہا یہ کہ کچھ ’تبدیل‘ کیا جائے تو اس کیلئے یہ تکلیف بہرحال کرنا پڑے گی کہ ہزاروں لاکھوں لوگ جس بات کو ’صحیح‘ سمجھتے ہیں اسے غلط کہنے کی ’انہونی حرکت‘ کی جائے اور اس کے بدلے میں ہر طرف سے عتاب مول لیاجائے۔ انسانی جذبات کا احترام بے حد ضروری ہے مگر حق کی حرمت اس سے بڑی ہے۔

    نظریات اور عقائد کی جنگ میں ایک کی بقا دوسرے کی زندگی کی قیمت پر ہوتی ہے۔ اس میں حرج کی کوئی بات ہے اور نہ یہ رواداری کے خلاف ہے۔ ایک نظریہ رہے گا تواس سے متصادم دوسرا نظریہ آپ سے آپ نہیں رہے گا۔رواداری کے منافی کوئی بات ہے تو وہ یہ کہ لوگوں کو بندوق کی نوک پر کلمہ پڑھوایا جائے اورباطل سے برگشتہ کرنے کیلئے لوگوں کے ساتھ زبردستی کی جائے۔ رہا یہ کہ ذہنوں کی دنیا میںایک باطل نظریے یا ایک جاہلی طرز زندگی کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے اور اسلام سے متصادم امور کو خاص طور پر ایک مسلم معاشرے سے ختم کرنے پر آمادہء عمل ہوا جائے تو یہ رواداری کے ہرگز منافی نہیں۔ کم از کم رواداری کے اسلامی تصور کے منافی نہیں۔

    نظریات میں تصادم جب ایک واقعہ ہے تو پھر کسی ایک ذہن میں یا کسی ایک معاشرے کے اندر ایک نظریے کا پنپنا دوسرے کے ختم یا مسخ ہونے کی قیمت پر ہوگا۔ جاہلی نظریات وعقائد اور جاہلی طرز زندگی کے ساتھ اگر آپ یہ مہربانی کرنا چاہیں گے کہ انہیں اپنے حال پر رہنے دیا جائے تو وہ اسلام کے مسخ ہونے کی قیمت پر ہوگی اور اگر اسلام کو اس کی اصل حقیقت کے ساتھ لے کر چلنا چاہیں گے تو وہ جاہلیت کے مسخ اور قطع و برید ہونے کی قیمت پر ہوگا۔ آپ کو کوئی ایک قیمت دیناہوگی۔ آپ کے پاس کوئی چناؤ ہے تو صرف یہ کہ آپ کونسی قیمت دینا چاہتے ہیں۔ آپ کے پاس چناؤ کے بہت سے راستے نہیں۔ ایک سے مہربانی خودبخود دوسرے سے زیادتی ہوگی۔ آپ کو صرف یہ دیکھنا ہے کہ مہربانی کس کے ساتھ ہو اور زیادتی کس کے ساتھ۔ خیر اور شر، حق اور باطل، توحید اور شرک دونوں میں خدا نے آپ ہی کچھ ایسا تعارض رکھ دیا ہے کہ اس کا ’ازالہ‘ کر دینا آپ کے بس کی بات نہیں۔ دونوں کے ساتھ مہربان ہونا آپ کیلئے ممکن نہیں۔ دونوں کو رہنے دینا رواداری ہے اورنہ انصاف۔

    ہاں ’اشخاص‘ اور ’نظریات‘ میں فرق ضروری ہے ....

    باطل یا شر کی راہ پر کوئی شخص ہے تو اس ’شخص‘ کے ساتھ اچھائی کرنے میں کوئی برائی نہیں۔ مگر خود اس ’باطل‘ اور ’شر‘ پر ہی آپ مہربان ہوں اور اس کو زندہ رہنے کا حق دیں، اس کی کوئی بھی تک نہیں۔ باطل کے ساتھ نیکی خود بخود حق کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ خدا ترسی اوررحمدلی اور رواداری ’انسانوں‘ کے ساتھ ہے خواہ وہ کتنے ہی غلط راستے پر کیوں نہ ہوں نہ کہ ’نظریات‘ اور ’عقائد‘ کے ساتھ!

    عقائد، نظریات، افکار، تہذیبیں، ثقافتیں اور طرز ہائے حیات اگر باطل ہیں تو ان کی موت ہو جانا عین حق اور انصاف کا تقاضا ہے۔ خدا چاہتا تو خود ان کی موت کروا دیتا بلکہ پیدا ہی نہ کرتا اور یا پھر فرشتوں سے ان کی موت کرواتا مگر اس نے زمین پر اپنے بندوں کی آزمائش کیلئے ان کو پیدا کیا اور پھر اپنے بندوں کو یہ مشن دیا کہ وہ باطل کے خاتمہ اور حق کے قیام کیلئے سرگرم عمل ہوں۔ شرک کو مسترد کر دیں اور توحید کی راہ اختیار کریں۔


    كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ وَنَبْلُوكُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً وَإِلَيْنَا تُرْجَعُونَ
    (الانبیاء: ٣٥)

    ”اور ہم تم کو خیر اور شر کی ابتلا سے آزماتے ہیں۔ آخر لوٹنا تم کو ہماری ہی طرف ہے“۔

    کتابوں کا نزول اور نبیوں کی بعثت اسی لئے ہے کہ وہ شر اور باطل جو خدا نے اپنی مرضی سے اور اپنی کسی حکمت کے پیش نظر پیدا کیا ہے .... خدا کی وحی اور اس کی شریعت کی مدد سے اس شر اور باطل کو ختم کیا جائے اور اس کی جگہ ___ ذہنوں اور دلوں کی دُنیا میں اورمعاشرے کی سرزمین پر ___ خیر اور حق کا احقاق کیا جائے۔


    بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ وَلَكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُونَ
    (الانبیاء: ١٨)

    ”مگر ہم تو باطل پر حق کی ضرب لگاتے ہیںجو اس کا سر توڑ دیتی ہے اور وہ اسی وقت نابود ہو جاتا ہے (البتہ) تم جو وصف بتاتے ہو وہ تمہارے لئے باعث بربادی ہے“۔

    نیکی، احسان، نرمی اور لطف انسانوں کے ساتھ کرنے کا حکم ہے (وقولوا للناس حسنا .... البقرہ: ٨٣) خواہ وہ انسان باطل پر کیوں نہ ہوں مگر خود یہ باطل کسی نرمی، کسی نیکی، کسی لطف اور کسی رورعایت کا مستحق نہیں ہوتا۔ چنانچہ رواداری کا محل انسان ہیں بے شک وہ کسی بھی دین پر ہوں البتہ باطل کے ساتھ رواداری حق کا استحصال ہوئے بغیر ممکن نہیں۔ باطل کے ساتھ نیکی کا ارادہ جب آپ کے دل میں پرورش پاتا ہے تو حق کے ساتھ اس سے پہلے آپ زیادتی کر چکے ہوتے ہیں۔

    غلط کو غلط کہنا اورباطل کو باطل جاننے پر مصر رہنا عقل کا تقاضا ہے اور ہمارے دین کا حکم بھی۔ باطل کو باطل جاننا ایمان کا کمترین درجہ ہے۔

    ولیس وراءذلک من الایمان حبہ خردل (صحیح مسلم)

    ”یہ نہیں تو رائی برابر ایمان نہیں“۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نظریات، عقائد، طرز ہائے معاشرت حق ہوں یا باطل فضا میں نہیں پائے جاتے۔ نہ ہی فضا میں پائے جا سکتے ہیں۔ ان کو انسانی ذہنوں اورانسانی معاشروں میں ہی رہنا ہوتا ہے۔ یہاں سے اس معاملے کی سنگینی اور حساسیت کا آغاز ہوتا ہے۔ ایک نظریے کوہٹا کر دوسرے نظریے کو بسانے کا واقعہ انسانی شعور کے اندر ہی رونما ہونا ہوتا ہے۔ ایک عقیدے کی موت اور اس کی جگہ دوسرے عقیدے کا احیاءانسانی قلب وذہن اور انسانی معاشرے کے اندر ہی روپذیر ہوتا ہے۔ حق اورباطل کا یہ معرکہ بلاشبہ افکار ونظریات اور عقائد ورحجانات ہی کے مابین ہونا ہوتا ہے مگر میدان جنگ بہرحال انسانی ذہن وشعور اور انسانی معاشرہ ہی بنتا ہے۔ جنگ کے اثرات ظاہر ہے ماحول اور گرد وپیش پر پڑ کر رہتے ہیں۔ میدان جنگ کا کچھ نہ کچھ نقصان بہرحال ہوتا ہے۔ یہ ایک آزمائش ہے۔ خدا کی طرف سے ہے۔ اور ناگزیر ہے۔ خدا نے یہ دُنیا پیدا ہی کچھ اس طرح کی ہے۔ یہاں یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ جنگ کی اس سرزمین کا نقصان اور اس میں توڑ پھوڑ کم سے کم ہو۔ انسانی جذبات کا مجروح ہونا کم سے کم ہو۔ انسانی قلب وشعور میں باطل کو مغلوب اور حق کو غالب کرنے کا عمل کم سے کم نقصان اٹھا کر اور زیادہ سے زیادہ خوش اسلوبی سے اور باحسن انداز انجام پائے۔ البتہ کسی تکلیف کے ڈر سے علاج ترک بہرحال نہ کیا جائے۔ ’حکمت‘ اسی صلاحیت کو پانے کا نام ہے۔
    ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ
    (النحل: ١٢٥)
     
  2. IQBAL HASSAN
    Offline

    IQBAL HASSAN Designer
    • 63/65


    [​IMG]


    ”اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ۔ اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقہ پر جو بہترین ہو“۔

    وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلا مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ
    وَلا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ
    وَمَا يُلَقَّاهَا إِلا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ (حم السجدہ: ٣٣۔ ٣٥)

    ”اور اس شخص کی بات سے اچھی بات اور کس کی ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں مسلمان ہوں۔

    ”اور اے نبی، نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں۔ تم بدی کو اس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو۔ تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے۔

    ”یہ صفت نصیب نہیں ہوتی مگر ان لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں اور یہ مقام حاصل نہیں ہوتا مگر ان لوگوں کو جو بڑے نصیبے والے ہیں“۔


    وَلا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ كَذَلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ
    (الانعام: ١٠٨)

    ”اور گالی مت دو ان کو جن کی یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہیں کیونکہ پھر وہ براہ جہل حد سے گزر کر اللہ کی شان میں گستاخی کریں گے۔ ہم نے تو اس طرح ہر گروہ کیلئے اس کے عمل کو خوش نما بنا دیا ہے“۔

    ’باطل‘ کے خاتمہ کے اس مشن میں ’انسان‘ کو بچانے کی ازحد کوشش کرنا ہمیں ہمارے اپنے ہی دین کا سبق ہے۔ آپ اس کو رواداری کہیں یا کچھ اور، مگر ہمیں اس کی بھرپور ہدایت ہوئی ہے۔ انسان کو .... یعنی انسان کے جذبات واحساسات کو، انسان کی عزت وآبرو، نام ونسب، سماجی مرتبہ، جان ومال، رشتے اور کنبے، قوم اور قبیلے، ملک اور معاشرے .... ہر چیز کو بھرپور تحفظ دیا جانا ہے۔ یوں ’دعوت‘ اس بات کی کوشش ہے کہ ’انسان‘ کو کم از کم گزند پہنچے مگر باطل کو کوئی ترس کھائے بغیر ختم کیا جائے۔

    توحید کو انسانی شعور میں گہرا اتارنے اور انسانی معاشروں میں ایک زندہ حقیقت کا روپ دینے کے اس عمل میں ’انسان‘ کو ہر پہلو سے تحفظ دینا اسلامی دعوت کا ایک واضح ترین مسلّمہ ہے۔ یہ محض کوئی سیاسی منشور نہیں بلکہ یہ اس عمل کا خود اپنا ہی تقاضا ہے۔ ’انسان‘ کے ساتھ یہ برتاؤ خود اس عمل کے بھی شایان شان ہے۔ خود اس عمل کا پنپنا اور اس کا ثمر آور ہونا انسان کی عزت نفس اور انسانی رشتوں اور سماجی بندھنوں کے تحفظ میں مضمر ہے۔ یہ عقیدہ انسان کو تکریم اور خوش بختی اور روح کا چین دینے آیا ہے نہ کہ بدبختی سے دوچار کرنے:


    طه مَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَى إِلا تَذْكِرَةً لِمَنْ يَخْشَى
    (طہ: ١۔ ٣)

    ”طہ۔ ہم نے یہ قرآن اس لئے نہیں اتارا کہ تم مصیبت میں پڑ جاؤ۔ یہ تو ایک یاد دہانی ہے ہر اس شخص کیلئے جو خشیت اختیار کرلے“۔

    وَأَنِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُمَتِّعْكُمْ مَتَاعًا حَسَنًا إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ (ھود: ٣)

    ”اور یہ کہ تم اپنے رب سے مغفرت مانگو اور اس کی جانب پلٹ آؤ تو وہ تم کو وقت مقرر تک خوب سامان زیست دے گا اور ہر صاحب فضل کو فضل بہم پہنچائے گا“۔


    وَالَّذِينَ يَصِلُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ وَيَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَيَخَافُونَ سُوءَ الْحِسَابِ
    (الرعد:٢١)

    ”یہ وہ (لوگ) ہیں جو ان سب رشتوں کو پختہ کرتے ہیں جنہیں جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ اپنے پروردگار کا خوف رکھتے ہیں اور حساب کی سختی کا اندیشہ رکھتے ہیں“۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ ہیں رواداری کی حدود جو ہماری نظرسے کسی وقت اوجھل نہیں ہونی چاہئیں۔ توحید کی جنگ شرک کے ساتھ ہونا .... حق اور باطل کے مابین یہ تنازعہ خدا کا حکم ہے۔ خدا کے اس حکم کو ٹال دینا کسی کا اختیار نہیں۔ اس جنگ کو موقوف کر دینا رواداری نہیں۔ وہ چاہتا تو شرک اور باطل وجود میں ہی نہ آتے اور ہم اس لڑائی سے بچ کر بڑے ہی آرام سے صرف ’نماز روزہ‘ یا ’ذکر اذکار‘ یا ’اسلامی تحقیقات‘ وغیرہ ایسے امور تک محدود رہتے مگر اس نے ہی یہاں اس شر اور باطل کو پیدا کیا اور پھر اپنی کتابوں اور رسولوں کے ذریعے اپنے بندوں کو اس کے خاتمے کامشن دیا۔ اب اس کی بندگی ہونے کیلئے ___ حتی کہ نماز روزہ اور ذکر واذکار وغیرہ کے معتبر ہونے کیلئے ___ شرک سے مخاصمت اور باطل سے عداوت ایک بنیادی شرط ہے اور یہ شرط خود اسی کی طرف سے عائد کردی گئی ہے۔ یہاں سے اب اس معاملے کی ایک اور جہت سامنے آتی ہے۔ اس معرکہء خیر وشر میں ’انسان‘ بھی اس لحاظ سے متعلق ہو جاتے ہیں کہ انہی کے ذہنوں اور انہی کے معاشروں کی زمین میں یہ جنگ لڑی جانی ہے۔ باطل کو ختم کرنا، پر انسان کو بچا لینا، ازروئے دین فرض ہے۔ الا یہ کہ کوئی انسان از خود اپنے وجود کو باطل کے وجود سے آخری حد تک نتھی کرلے اورخدا کی مخلوق اور خدا کی بندگی کے مابین آڑے آنے میں آخری حد تک جانے پر مصر ہو۔ تب ضرور اسے اگر کوئی ٹھیس پہنچے تو آپ خدا کے ہاں عذر رکھتے ہیں خصوصاً جبکہ بچاؤ کی ہر تدبیر کی جا چکی ہو۔

    یہ بہرحال واضح ہونا چاہیے کہ حق اور باطل کا یہ تصادم دراصل انسان کو تکریم دینے کیلئے ہے نہ کہ انسان کو خراب کرنے کیلئے۔ انسان پر حق بھی زبردستی مسلط نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس میں نہ حق کی تکریم ہے اور نہ انسان کی۔ پوری سمجھ بوجھ اور آزادانہ مرضی سے حق کو قبول کیا جانا حق کے بھی شایان شان ہے اور بنی نوع انسان کے بھی۔ یہ تکریم انسان کو خدا کی جانب سے عطا ہوئی ہے جو کہ اس کا امتحان بھی ہے اور اس کا اعزاز بھی۔

    دعوت حق کی یہ خوبی اور یہ خاصیت اور یہ اعزاز خود ہی اس بات کیلئے کافی ہے کہ اس محنت کے حجم اور نوعیت کا اندازہ کر لیا جائے جو اس راستے میں کرائی جانا ہے۔ لوگوں کو کوئی بات دل سے منوانا ایک کٹھن کام ہے گو اس میں اصل عنصر اس حق کی خود اپنی ہی صداقت اور دوسری جانب انسان کے اپنے ہی اندر قبول حق کی ایک فطری صلاحیت ہے مگر ان دونوں کو برآمد کرنا اور پھر ایک دوسرے کے قریب لے آنا داعیان حق ہی کا کام ہے اور اس مقصد کو بروئے کارلانے کیلئے تمام تر ذرائع اختیار کرنا اور اس مشن کی تکمیل کیلئے اپنے دور کے شایان شان وسائل اپنانا ان کا ایک اہم ترین فرض۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اسلام اور دعوت توحید کے حوالے سے ’رواداری‘ کا ایک اور پہلو بھی واضح ہو جانا چاہیے۔ اس کا تعلق آخری رسالت کے موضوع سے ہے۔

    اسلام ایک ایسی حقیقت کا نام ہے جو خدا کے ہاں سے نازل ہوئی ہے۔ پس یہ ایک متعین حقیقت ہے۔ اس میں ردوبدل کر دینے کا کوئی بھی شخص مجاز نہیں۔ پہلی رسالتیںجب اپنی اصل حالت میں دستیاب نہ رہیں تب یہ آخری رسالت بھیجی گئی تاکہ لوگ پورے یقین اور وثوق سے عین وہ بات جان سکیںجو خدا کے ہاں سے ان کے لئے نازل ہوئی اور جس پر ایمان لانا اور عمل پیرا ہونا ان سے ازروئے شریعت مطلوب ہے۔ اسلامی عقیدہ اور اسلامی تصور حیات کی یہ ایک اہم ترین خصوصیت ہے کہ اس میں خدا کی وحی انسانی اھواءو خواہشات کے ساتھ غلط ہونے کے ہر شائبے سے پاک ہے۔ اس دین کی یہ خاصیت کہ یہ ہر ملاوٹ اور ہر قسم کی کمی بیشی سے پاک ہے اس کے آخری رسالت ہونے کی ایک زبردست دلیل ہے۔ اس کی یہ خاصیت خدا کی طرف سے ہے مگر اس کے تحفظ کا ذریعہ ہر دور کے موحد حاملین حق ہی بنے ہیں۔ چنانچہ اسلام کو ہر دور کی انسانی اھواءو خواہشات سے پاک اور خالص رکھنا عین وہ کام ہے جو اس آخری رسالت کے واقعتاً شایان شان ہونا چاہیے۔ دنیا کا کوئی بہترین گروہ ہو سکتا ہے تو وہی لوگ جو اپنے دور میں خالص اسلام کا تحفظ کرنے کو کھڑے ہوں اور جو اپنے زمانے میں سوچ اور عمل کے ہر اس فیشن کی راہ روکنے کو آگے بڑھیں جو کہ اسلام نہیں مگر اسلام کی سند پانا چاہتا ہے۔

    امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں: ”اہلسنت ابدال ہیں“۔ یعنی اس وقت انبیاءکا بدل ہیں۔ رسولوں کے قائم مقام ہیں اور آسمانی ہدایت کے امین۔ انبیاءکی وراثت سب سے بڑا اعزاز ہے جو کہ اس امت کے اہل حق کو حاصل ہے۔

    ہر دور میں انسانی اھواءو خواہشات کو یہ تقاضا ہوتا رہا ہے کہ وہ چیزیں اور باتیں جو اسلام نہیں ان کو اسلام کی سند دلائی جائے اور کچھ ایسی باتیں جو اسلام ہیں ان کو اسلام کے حوالے سے ’بیان‘ نہ کیا جائے۔ اس بات کو لوگ ’زمانے کے ساتھ چلنے‘ کا عنوان دیتے ہیں اور ایسا نہ کرنے کو جمود اور قدامت پسندی اور تحجر اور نہ جانے کیا کیا کہتے ہیں۔ گویا اسلام کو زمانے کے ساتھ چلنا ہے نہ کہ زمانے کو اسلام کے ساتھ چلایا جانا ہے! اسلام اگر کہیں انکے کہنے پر زمانے کے ساتھ چلنے لگتا تو اسلام اس قدر زمانے دیکھ آیا ہے اور اس قدر زمانے اس پر ابھی اور آنے ہیں کہ یہ کچھ سے کچھ ہو جاتا مگر اسلام آج بھی وہ ٹھوس حقیقت ہے کہ جو آج سے چودہ صدیاں پیشتر تھی اور قیامت تک اس کو ویسا ہی رہنا ہے۔

    یہ ہرگز کوئی آسان بات نہیں۔ اسلام کو اس کے اصل پر باقی رکھنے پر ہر دور کے اہل حق کی بے انتہا محنت ہوئی اور ’زمانے‘ سے ان کو اس پر بہت کچھ سننا اور سہنا پڑا ہے۔

    اسلام خدا کی شریعت ہے اور خدا کا تقاضا۔ خدا اپنے بندوں سے کیا تقاضا کرے، یہ فیصلہ اسے کرنا ہے۔ ہر دور کے انسانوں کو اس کے تقاضوں پر پورا اترنا ہے اور اس کو کسی کے تقاضوں پر پورا اترنے کی کوئی ضرورت درپیش نہیں۔ قوت اور اختیار اس کے ہاتھ میں ہے۔ جنت اور جہنم اس کے پاس ہے۔ مطلق علم وہ رکھتا ہے اور حق اور عدل کا تعین کرنا اس کا کام:


    وَلَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ أَهْوَاءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمَاوَاتُ وَالأرْضُ وَمَنْ فِيهِنَّ (المومنون: ٧١)

    ”اور حق اگر کہیں ان کی خواہشات کے پیچھے چلتا تو زمین اور آسمان اور ان کی ساری آبادی کا نظام درہم برہم ہو جاتا“۔

    کوئی اس اسلام کو، جیسا کہ یہ ہے اور جیسا کہ یہ اللہ کے ہاں سے نازل ہوا ہے، قبول نہیں کرنا چاہتا تو دُنیا کی زندگی زندگی اس کو اس کی پوری آزادی ہے۔ اس کا فیصلہ قیامت کے روز خدا کو کرنا ہے ہمیں نہیں۔ اس تک خدا کا یہ تقاضا بلا کم وکاست پہنچا دینا البتہ ہمارا کام ہے اس سے آگے وہ جانے اور خدا جانے ہمارا کام اس پر ختم ہو جاتا ہے۔ کسی پر زبردستی کرنا اسلام کا حکم نہیں۔ رواداری کا یہ مفہوم اسلام میں بہت واضح ہے۔ اس کو جیسا کہ یہ ہے اور جیسا کہ یہ اللہ کے ہاں سے نازل ہوا ہے، من وعن بیان کرنا اور لوگوں تک پہنچانا اور اس کے بتائے ہوئے غلط کو غلط اور درست کو درست کہنا اور اس کے ٹھہرائے ہوئے حق کو حق اورباطل کو باطل کہنا البتہ بے انتہا ضروری ہے چاہے کسی کو یہ رواداری نظر آئے یا نہ۔

    پیچھے ہم یہ بیان کر آئے ہیں کہ ___ کوشش کی حد تک ___ ’انسان‘ کو کوئی گزند پہنچائے بغیر باطل کو انسانی ذہنوں اور انسانی معاشروں میں مغلوب کر دینا اور اس کی جگہ حق کا بول بالا کرنا ازروئے اسلام فرض ہے اور اسلام کے تصور رواداری کے خلاف نہیں۔ کیونکہ باطل کا رہنا حق کے نہ رہنے کی قیمت پر ہوگا اور حق پر ایمان لایا جانا باطل کو چھوڑنے اور مسترد کرنے کی شرط پر۔ لہٰذا انسان کو تو حق قبول کرنے یا نہ کرنے کی پوری آزادی دی جانا ہے مگر باطل کیلئے ___ بطور نظریہ اور بطور تصور حیات اور بطور تہذیب اور بطور طرز معاشرت ___ زندگی کا کوئی حق تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ باطل پر رہنے والوں کو غلط اور گمراہ بہرحال مانا جائے گا اور ان کو خدا کے عذاب اور پکڑ سے بھی لازماً ڈرایا جائے گا۔ حق اور باطل دونوں کیلئے ذہنوں اور معاشروں میں رہنے کا حق یکساں طور پر تسلیم کرنا رواداری کی کوئی قسم نہیں اور اگر یہ رواداری کا کوئی تصور ہے تو اسلام کے قطعاً منافی ہے۔

    یہ بات تو ہم پیچھے واضح کر آئے ہیں مگر یہاں ’رواداری‘ کا ایک اور تصور بھی دیکھنے میں آیا ہے اور یہ اس سے بھی عجیب تر ہے جسے ابھی ہم نے اسلام کے تصور رواداری کے منافی قرار دیا ہے....

    آج اسلام سے صرف اتنا ہی تقاضا نہیں ہوتا کہ وہ دوسروں کے غلط کو غلط کہنے میں ذرا ’نرمی‘ اور ’رواداری‘ سے کام لے بلکہ اسلام سے یہ بھی تقاضا ہے کہ خود یہ اپنے اندر بھی کچھ ’ترمیمات‘ کی اجازت دے اور اگر یہ اس بات کی اجازت نہیں دیتا تو اس کا یہ رویہ ’رواداری‘ کے خلاف جانا جائے گا!

    اسلام سے اب یہ مطالبہ ہوتا ہے کہ یہ لوگوں کی ’مجبوریوں‘ کو دیکھ کر، لوگوں کی اھواءو خواہشات کے احترام میں اور لوگوں کے انحرافات کیلئے گنجائش پیدا کرتے ہوئے لوگوں کی ’ہر بات کو خلافِ اسلام‘ قرار نہ دینے لگ جایا کرے! مثلاً بعض لوگ شرک کا کوئی کام کرتے ہیں جس کا اسلام کی رو سے شرک ہونا چاہے کتنا ہی واضح ہو مگر اب جب لوگوں کی ایک بڑی تعداد ___ جو کہ اسلام کی نام لیوا ہے ___ یہ کام کرنے ہی لگ گئی ہے اور ’بڑی دیر سے‘ یہ ہوتا آرہا ہے (امت پر زوال کا عمل بھی ’بڑی دیر سے‘ ہی شروع ہوا ہے!) لہٰذا یہ ’رواداری‘ کے منافی ہے کہ اسے اب اسلام کے حوالے سے شرک اور ہلاکت گردانا جائے! رائے شماری کے اس دور میں اسلام اگر لوگوں کی اتنی بڑی تعداد کے جذبات و احساسات کا خیال نہیں رکھتا اور انکے کسی شرکیہ فعل کو ’خلاف اسلام‘ کہنے پر ہی مصر ہے تو یہ صریحاً ’رواداری‘ کے خلاف ہے!!!

    فلاں کام کرنے سے آدمی کفر کا مرتکب ہو جاتا ہے، فلاں چیز صریحاً حرام ہے، فلاں رویہ فسق اور فجور ہے، فلاں کام بدعت ہے اور دین میں اضافہ، فلاں نظام شرک کا نظام ہے .... ان باتوں کی تبلیغ سے اب چونکہ معاشرے میں بہت سے لوگوں پر صاف زد آتی ہے، لوگوں کے جذبات شدید مجروح ہو سکتے ہیں، لوگوں کے بڑے ان کی نگاہ میں غلط قرار پاتے ہیں، بعض قومی شخصیات کا تاثر خراب ہو سکتا ہے لہٰذا یہ سب کچھ اگر شریعت کے خلاف بھی ہے تو ان کا شرعی حکم بیان کیا جانا اب موقوف ہونا چاہیے۔ بلکہ ان سب چیزوں کا یہ حکم شریعت میں ہونا ہی نہیں چاہیے۔ بلکہ یہ ہے ہی نہیں شریعت سے یہ سب باتیں یونہی منسوب کر دی گئی ہیں اور انتہا پسندوں کی کج فہمی ہے۔ اسلام کب یہ کہتا ہے کہ ایک جدی پشتی مسلمان محض غیر اللہ کو سجدہ کرنے سے یا محض کسی مردے کو حاجت روائی کیلئے پکار لینے سے مشرک ہو جاتا ہے یا محض غیر اللہ کا قانون چلا لینے سے مسلمان ماں باپ کا ایک فرزند کفر کا مرتکب ہو جایا کرتا ہے یا یہ کہ اسلام میں سود کوئی ’اتنا ہی حرام‘ ہے اور یہ کہ سود کو قانون کا باقاعدہ جواز دینا خدا کا ہم سر ہونے کے مترادف ہے وغیرہ وغیرہ .... یہ اسلام کی ایک بے جا اور انتہا پسندانہ اور قدامت پسندانہ تفسیر ہے۔ اس میں اب ترمیم ہونی چاہیے ’اسلام‘ کی صرف وہی تعبیر معتبر ہوگی جو ’قومی زندگی‘ کے موافق ہو!!!

    کسی بھی عقیدے اور نظریے کو یہ حق ہے کہ وہ اپنے ثبوت یا عدم ثبوت کی بابت اپنے ہی مراجع پر انحصار کرے۔ اس کو آپ صحیح بھی کہہ سکتے ہیں اور غلط بھی۔ اسے جاری کرنے یا ختم کرنے کا مطالبہ آپ کر سکتے ہیں۔ اس کو قبول یا رد کرنے کا آپ کو اختیار ہے۔ اس سے اتفاق اور اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ مگر یہ کہ اس کی تفسیر آپ خود کرنے لگیں اور خود اس کے اپنے اصولوں اور اس کے اپنے مراجع (ريفرينسز) کو یہ حق نہ دیں کہ وہ اپنی تفسیر آپ کریں، یہ بلاشبہ ایک انہونا مطالبہ ہے۔

    اسلام کیا ہے اور کیا نہیں ہے، یہ طے کرنا اللہ کی کتاب کا حق ہے یا اس کے رسول کی سنت کا۔ آپ اس کو، جیسا کہ وہ ہے، قبول بھی کر سکتے ہیں اور مسترد بھی، کہ ہر دو صورت میں اس کے نتائج کا سامنا آپ کو خدا کے ہاں جا کر ہی کرنا ہوگا۔ مگر اسلام سے آپ یہ تقاضا نہیں کر سکتے کہ اسلام کیا ہو اور کیا نہ ہو۔

    مگر لوگوں کا اسلام سے آج کیا تقاضا ہے؟

    ایک بڑی تعداد اسلام کی نام لیوا ہے۔ یہ ’امت‘ اب ’اقوام‘ کی صورت میں پائی جانے لگی ہے۔ لوگوں کی اپنی مجبوریاں ہیں۔ قومی تقاضے ایک طرف ہیں۔ بدعات اور خرافات نسل در نسل بہت سے لوگوں کی زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔ غیر اللہ کی عبادت کی متعدد شکلیں لوگوں کی ایک بڑی تعداد میں رواج پا گئی ہیں۔ شرک کا نظام تقریباً ہر ملک میں قائم ہے۔ اس سب کو اسلام کی سند چاہیے! اب اگر ان سب انحرافات کو اسلام کی سند نہیں ملتی .... ان سب انحرافات کو اگر اسلام ہی کے منافی قرار دے دیا جاتا ہے جسے کہ یہ باقاعدہ طور پراپنا مذہب مانتے ہیں تو اس سے ایک بڑی سماجی مشکل پیدا ہو جائے گی۔ اسلام جب سب کا مذہب ہے تو پھر سب کیلئے اپنے اپنے عقائد اور نظریات کے ساتھ اس میں برابر کی گنجائش ہونی چاہیے کسی ایک گروہ کی اور وہ بھی ایک قلیل تعداد کی اجارہ داری اس پر آخر کیوں ہو!!! یہاں قومیت پر ایمان رکھنے والے ہیں۔ سیکولرزم پر ایمان رکھنے والے ہیں۔ ابھی کل کمیونزم اور سوشلزم پر اعتماد رکھنے والے اتنے لوگ تھے۔ صحابہ کا نام تک احترام سے لینا گناہ سمجھنے والے بھی کچھ نہ کچھ ہیں۔ قبروں کو پوجنے اور مزاروں کا طواف کرنے والے پائے جاتے ہیں۔جمہوریت کے معتقد یہاں اتنے ہیں۔ یہ سب جب مسلمان ہیں تو ان سب کے طریقوں اور عقیدوں کیلئے اسلام میں گنجائش نکلنی چاہیے۔ ورنہ یہ ’رواداری‘ کے خلاف ہوگا۔ یوں بھی کسی کو کیا حق ہے کہ کسی کے عمل یا عقیدہ کو اسلام کے منافی قرار دے!!!

    ’رواداری‘ کے اس تصور کی رو سے اب پڑھے لکھوںکے ہاں یہ ضروری ہو گیا ہے کہ کوئی آیت یا حدیث کسی چیز کو شرک کہے بھی تو معاشرے کے اندر اس کو شرک اور تباہی کا سبب قرار دینے سے ’گریز‘ کیا جائے۔ ’حدیث‘ کے ساتھ معاملہ کرنے میں تو خیر لوگ اپنے اپنے ذوق کے مطابق مسلک رکھنے لگے ہیں البتہ ’آیت‘ کے بارے میں کچھ نہ کہا جائے گا۔ ’رواداری‘ کا تقاضا ہے کہ نہ تو آیت کے حوالے سے کوئی ’غلط‘ بات کی جائے اور نہ اس شحص کے حوالے سے جس پر اس آیت کی صاف زد پڑتی ہو! دونوں کی بابت سکوت اختیار کیا جائے۔ اور سب سے زیادہ قابل مذمت وہ شخص ہے جو کسی آیت کے مفہوم پر اصرار کرنے لگے۔ یہ تو بالکل ہی گردن زدنی ہے!

    قرآن حق بیان کرنے والی کتاب ہے اور قیامت تک اس کو ویسا ہی رہنا ہے۔ اصول، عقائد، نظریات،افکار، اقدار، طرز ہائے زندگی، اعمال، اخلاق، رویے .... سب پر قرآن کو بات کرنی ہے۔ کیا حق ہے اور کیا باطل، قرآن کو سب بتانا ہے۔ قرآن مسلمانوں کی کوئی قومی کتاب تو ہے نہیں کہ آپ اس میں مسلمانوں کے ہر طبقے اور ہر گروہ کیلئے گنجائش ڈھونڈیں اور ہر ایک کو برحق ہونے کی اس سے سند دلائیں۔ سب کو اس میںبرابر حصہ ملے، اس کی گنجائش آپ پارلیمنٹ میں تلاش کریں خدا کی کتاب میں نہیں۔ یہ تو ایک آفاقی کتاب ہے۔ ذکر اور نصیحت ہے۔ فرقان ہے۔ حق کو کھول کھول کر بیان کرنے والی کتاب ہے۔ بہت سی باتوں کو یہ غلط کہے گی اس پر ایمان ہے تو ان کو ہمیں غلط ہی کہنا پڑے گا خواہ وہ باتیں یا وہ کام مسلمان کریں یا کافر۔ بہت سے عقائد، نظریات، افکار، نظام اور رویے اس کی رو سے مسترد ہوں گے ان کو ہمیں مسترد ہی کرنا پڑے گا خواہ کافروں کے ہاں پائے جاتے ہوں یا مسلمانوں کے ہاں۔ بہت سے عقائد، نظریات، افکار، نظام اور رویے اور طرز عمل اس کی رو سے حق قرار پائیں گے ان کو ہمیں حق ہی ماننا پڑے گا خواہ اس کے داعی ’آٹے میں نمک‘ کے برابر کیوں نہ ہوں۔ بہت سے کام اس کی رو سے فرض ہوں گے اس پر ایمان ہے تو ہمیں وہ بہرحال کرنا ہوں گے یا کم از کم بھی ان کی فرضیت کو تسلیم کرنا پڑے گا خواہ لوگوں کو وہ کتنے ہی ناگوار گزریں۔ بہت سے کاموں سے یہ ہمیں روکے گی ان سے ہمیں رکنا ہی پڑے گا خواہ پورا جہان وہ کام کرتا ہو۔ زمانے کو دیکھنے کی بجائے ہمیں زمانے کے مالک کی طرف دیکھنا ہو گا اور اس کی کتاب پڑھنا اور اسی کے رسول کی بات سننا ہوگی۔

    قرآن کا موضوع اقوام ہیں نہ اشخاص۔ جماعتیں ہیں نہ دھڑے۔ نام ہیں نہ لیبل۔ ملک ہیں نہ نسلیں۔ لہٰذا کسی کی اس دین میں گنجائش پانے یا نہ پانے کا سوال ہی بے معنی ہے۔ اس دین سے تو سوال یہ ہونا چاہیے کہ کس عقیدے اور کس طرز عمل کی اس میں گنجائش ہے اور کس کی نہیں۔ پھر جس پر بھی اس کی زد پڑے۔ پھر جو بھی اس کی رو سے برحق ثابت ہو۔ اصول، نظریات، افکار، اقدار، اخلاق، اعمال، طرز ہائے زندگی وبندگی .... ان میں سے کس کو خدا کے ہاں سے حق ہونے کی سند ملتی ہے اور کس کو نہیں، اس بات کو خدا کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت پر چھوڑ دینا ہے اور اس عمل سے جو بھی نتیجہ برآمد ہو اس کو پوری سعادت مندی سے قبول کرنا ہے۔ قرآن کو معاذ اللہ مسلمانوں کی قومی کتاب ہونا ہوتا تو اس میں عقائد ونظریات اور اعمال واخلاق کی بابت حق وباطل کا بیان ہی کیوں ہوتا؟ جبکہ اس کا کل موضوع ہی یہ ہے۔ اس اسلام کو، جیسا یہ ہے اور جیسا یہ خدا کے ہاں سے نازل ہوا ہے، من وعن اور بلاکم وکاست ماننا اورمنوانا.... اس کے ٹھہرائے ہوئے حق کو کسی بھی معاشرتی رحجان کی پرواہ کئے بغیر حق کہنا اور اس کے ٹھہرائے ہوئے باطل کو صاف باطل کہنا ہرگز کسی رواداری کے منافی نہیں۔

    غرض رواداری کی اور بھی کئی فرض کر لی گئی صورتیں ناجائز اور قابل مذمت ہیں مگر ’رواداری‘ کی سب سے بُری اور قابل مذمت صورت وہ ہوگی جو اپنے ’دور‘ کے تقاضوں کے حسب حال اسلام ہی میں ترمیم تجویز کر ڈالے اور لوگوں کی کسی بڑی یا چھوٹی تعداد کی فکری یا عقائدی، یا نظریاتی، یا اخلاقی، یا سماجی حالت کو اپنے حال پر رہنے دینے کیلئے اسلام سے تقاضا کرے کہ وہ اپنے اندر کچھ ’گنجائش‘ پیدا کرے۔ بعض لوگ نہیں بدلتے تو تھوڑا سا اسلام بدل جائے! لوگوں سے اسلام کے تقاضوں کے مطابق بدل جانے کا مطالبہ کر دینا تو ایک ’غیر سماجی‘ رویہ ہو البتہ اسلام سے اس حد تک بدل جانے کا تقاضا کرنا جس حد تک لوگوں پر اس کا اعتراض ختم ہوجائے اور لوگوں کیلئے اس میں گنجائش نکل آئے عین رواداری ہو! اسلام اور لوگوں کے مابین سازگاری لے آنے کا یہ نسخہ اگر رواداری کہلاتا ہے تو یہ رواداری کی وہ قسم ہوگی جو خدا کے ہاں مبغوض اور مذموم ہے۔ پہلی امتوں کی لٹیا کسی بات نے ڈبوئی تو وہ عین یہی بات ہے:


    وَلا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَقَّ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ (البقرہ: ٤٢)

    ”(اے بنی اسرائیل) حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط نہ کرو اور نہ جانتے بوجھتے ہوئے حق کو چھپاؤ“۔



    ”پھر اگلی نسلوں کے بعد ایسے ناخلف لوگ ان کے جانشین ہوئے جو کتاب الٰہی کے وارث ہو کر اسی دنیائے دنا کے فائدے سمیٹتے ہیں اور کہتے ہیں کہ (خیر ہے) ہمیں معاف کر دیا جائے گا اور اگر وہی متاع دنیا پھر سامنے آتی ہے تو پھر لپک کر اسے لے لیتے ہیں۔ کیا ان سے کتاب کا عہد نہیں لیا جا چکا ہے کہ اللہ کی طرف بجز حق کے کسی اور بات کی نسبت نہ کریں؟ جبکہ یہ خود پڑھ چکے ہیں جو جو کتاب میں لکھا ہے۔ آخرت والا گھر تو خدا ترس لوگوں کیلئے ہی بہتر ہے۔ کیا تم یہ بات نہیں سمجھتے؟ ہاں جو لوگ کتاب سے چمٹے رہے اور جنہوں نے نماز قائم کئے رکھی، یقینا ایسے اصلاح کرنے والوں کا اجر ہم ضائع نہیں کریں گے“۔

    رواداری ہی کا تقاضا ہے کہ اسلام اپنی حقیقت کے ساتھ اور اپنے تمام تر تقاضوں سمیت لوگوں کے سامنے رکھ دیا جائے پھر لوگ اسے مانیں یا نہ مانیں، ان کا معاملہ خدا پر چھوڑ دیا جائے۔ رہا یہ کہ اسلام کی رو سے کوئی چیزباطل یا شرک ہے تو لوگوں کے خیال سے اس کو شرک یا باطل نہ کہا جائے .... کوئی چیز نواقض اسلام (جن امور سے آدمی اسلام سے خارج ہو جاتا ہے) میں شمار ہوتی ہے مثلاً غیر اللہ کو سجدہ یا غیر اللہ سے دُعا، یا غیر اللہ کے نظام کوقانون کا تقدس دینا وغیرہ، تو اس کو نواقض اسلام کی فہرست سے خارج کردیا جائے تاکہ لوگ اس بات سے آزردہ نہ ہوں .... کوئی چیز مانند سود وفحاشی و بے حیائی کی ثقافت اگر اسلام میں واضح ترین انداز میں حرام ہے تو لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو اس میں پڑی دیکھ کر یا اس کا سرکاری سطح پر انتظام ہوتا دیکھ کر اس کو حرام قرار نہ دیا جائے یا چلیں اس کی حرمت کی شدت ہی کچھ کم کر دی جائے .... تو اس کا نام رواداری ہے یا کچھ اور، ہم اس کے مجاز نہیں۔ بلکہ یہ خدا کے حق میں ہمارا ایک بڑا جرم ہو گا، اگر ہم اس کا ارتکاب کرتے ہیں۔ خدا کے دین میں یہ ہماری جانب سے ایک ایسا تجاوز ہوگا جس پر ہمیں بتایا گیا ہے کہ ہمیں ایک بڑے عذاب کے دن سے ڈر جانا چاہیے:

    ”جب انہیں ہماری صاف صاف آیتیں سنائی جاتی ہیں تو یہ لوگ جن کو ہمارے پاس آنے کی امید نہیں ہے، کہتے ہیں کہ ”اس کے بجائے کچھ اور قرآن لائیے یا اس میں کچھ ترمیم کر دیجئے“ ان سے کہو: ”میرا یہ کام نہیں ہے کہ میں اپنی طرف سے اس میں کوئی تبدیلی کرلوں۔ میں تو بس اس وحی کا پابند ہوں جو میری جانب بھیجی جاتی ہے۔ میں تو، اگر اپنے رب کی نافرمانی کروں، تو مجھے ایک ہولناک دن کے عذاب کا ڈر ہے۔ کہو: اگر خدا چاہتا تو میں تمہیں یہ قرآن سناتا ہی نہ اور خدا تمہیں اس کی خبر تک نہ کرتا۔ آخر اس سے پہلے میں تمہارے درمیان گزار ہی توچکا ہوں۔ پھر کیا تم سمجھتے نہیں؟ آخر اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو ایک جھوٹی بات گھڑ کر خدا کی طرف منسوب کرے یا اللہ کی آیات کو جھوٹا قرار دے۔ یقینا ایسے مجرموں کی اصلاً فلاح نہ ہوگی“۔[(الاعراف: ١٦٩۔ ١٧٠)]

    تاآنکہ ہماری بات کو غلط مفہوم نہ پہنایا جائے .... ان دو باتوں میں ہمارے نزدیک فرق ضروری ہے: امت کے اندر اگر کچھ لوگ انحراف کا شکار ہیں تو ان لوگوں کو برداشت کرنا اس اصلاحی عمل کا عین تقاضا ہے جس کی ہم یہاں تجویز دینے جا رہے ہیں۔ ناقابل برداشت ہمارے لئے لوگوں کا وجود نہیں جو کسی انحراف پر پائے جائیں گو اپنے ان بھائیوں کو تعلیم دینا اور ان کی اصلاح کرنا امت کے سمجھداروں کی سب سے بڑی ترجیح ہونی چاہیے۔ ناقابل برداشت کوئی چیز ہے تو وہ ہے انحراف بذات خود نہ کہ اس انحراف کا شکار ہونے والے لوگ۔ جس چیز کی ہرگز کوئی گنجائش نہیں وہ ہے انحراف، ابتداع، شرک، کافرانہ نظاموں اور تہذیبوں کی اتباع اور اُمت میں ان مہلکات و موبقات کی درآمد۔ اس پر خاموش رہنا اگر رواداری ہے اور رواداری کا یہ مذہب اگر آپ اختیار کر لیتے ہیں تو اس آخری رسالت کا کیا امتیاز پھر آپ نے باقی رہنے دیا ہے!؟

    یہ آخری رسالت ہے۔ زمین پر آسمان کی آخری امانت ہے۔ یہ محض ورقوں میں ہی نہیں موحدین کے سینوں میںبھی محفوظ کی گئی ہے۔ (بل ھی آیات بینات فی صدور الذین اوتوا العلم: العنکبوت: ٤٩) یہ محض کتابوں کے اندر نہیں ذہنوں اور رویوں میں رہنے اور معاشروں میں بسنے کیلئے اتاری گئی ہے۔ اس میں اگر کچھ ردوبدل ہوتا ہے تو پھر اہل زمین کے پاس کیا باقی رہ جاتا ہے؟ دُنیا کی بقا کی تب کیا ضمانت رہ جاتی ہے؟ اس رسالت کے بعد کسی چیز کا آنا باقی ہے تو وہ قیامت ہے۔
     

Share This Page