1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

حلال وحرام

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by IQBAL HASSAN, Apr 27, 2015.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Super Moderators


    [​IMG]

    ( عقیدہ اور انسانی زندگی )

    حلال وحرام

    (اسلامی معیشت، مادی تصورات اور عقیدہ اسلامی کی طرز فکر)

    (م۔زکریا زکی)


    اِسلامی تہذیب اپنے عروج وزوال کی منزلیں طے کرتی ہوئی جس مرحلے پر پہنچ چکی ہے وہ اِسلام کا خطرناک ترین دَور ہے۔ دورِ حاضر سے ماقبل ادوار میں بھی اِسلامی فکر وعمل سے اِنحراف رہا ہے لیکن جو انحراف موجودہ دَور کے حکمرانوں اور افراد میں نظر آرہا ہے وہ پچھلے ادوار کی کسی شاہی، استبدادی حکومت اور بگڑے ہوئے مسلم معاشرے میں نظر نہیں آتا۔

    اِسلام سے منحرف دو طبقے:

    اِسلامی تاریخ کے ہر دَور میں اِنسانی نفسیات نے شریعتِ الٰہی سے فرار کیلئے چور دروازے ڈھونڈ نکالے لیکن اُن کی اکثریت گناہ کو گناہ سمجھتی تھی۔ اگرچہ وُہ نفس کی تسلی کیلئے کچھ عُذر، حیلے اور تاویلیں تراشتے تھے مگر اُس کے پسِ منظر میں بھی خوفِ الٰہی کا تصور ہوتا تھا جس کی وجہ سے عُذروں کی ضرورت پیش آتی تھی۔ اِس کے مقابلے میں موجودہ مسلم معاشرہ دن بِدن فکری زوال کا شکار ہے۔ گناہ کو گناہ سمجھنا تو ایک طرف رہا وہ اِس موضوع پر بات کرنے اور سوچنے کو بھی تیار نہیں۔ گناہ پر غور کرنا، اُس پرکڑھنا اور اُس سے اجتناب کی تدبیریں سوچنا یہ سب کام اُن کی شخصیتِ ذہنی وفکری کے کسی خانے میں فِٹ نہیں ہوتا___ شریعت سے کامل اعراض، سرد مہری، بے حسی، بے رغبتی اور ٹھنڈے پتھر کی طرح سخت جُمود ہے___ سیاست، معیشت، شوبز، کھیل، لائف سٹائل .... غرض زندگی کے ہر موضوع پر گرم بحث ہو سکتی ہے لیکن اِسلامی فکر وعمل کے موضوع پر بحث تو کُجا، یہ گفتگو کا موضوع ہی نہیں بن سکتا۔ اِسلام پر بات چھڑتے ہی لبوں پر مُہر لگ جاتی ہے اور ذہن کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ یہ مادیت کا خطرناک ترین سیلاب ہے جو آخرت اور بامقصد زندگی کو تباہ کیے بغیر اپنی جگہ نہیں بنا سکتا۔ زندگی کا کوئی عمل خالص آخرت کے حصول کیلئے بھی کیا جا سکتا ہے؟ دُنیا کا کوئی نقصان خالص قیامت وحشر کے ڈر سے بھی برداشت کیا جا سکتا ہے؟ یہ سوچ موجودہ مادہ پرست مسلمانوں کے فکر وعمل سے یکسر خارج ہو گئی ہے۔

    اِسلام، گناہ ثواب اور نیکی بدی کے تصور سے مکمل ذہنی وفکری بائیکاٹ کرنے والوں کے مقابلے میں ایک اور طبقہ بھی ہے جو پہلے طبقے سے بھی دس قدم آگے ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو اِسلامی فکر وعمل پربحث چھڑتے ہی خم ٹھونک کر میدان میں اُترتا ہے اور پھر اِسلامی تعلیمات کے ایک ایک جزءمیں کیڑے نکالے جاتے ہیں۔ اِسلام کے عملی مسائل تو ایک طرف رہے عقیدہءآخرت، قبر، قیامت اور جنت دوزخ کا مذاق اُڑایا جاتا ہے۔ شریعت کے مسلّمہ قطعی قوانین کی بے حرمتی کی جاتی ہے۔ آخرت کی سوچ رکھنے والوں کو گالیوں اور طعن وتشنیع سے نوازا جاتا ہے۔ یہ لوگ نہ صرف خالص مادہ پرست ہیں بلکہ پچھلے طبقے کے مقابلے میں زیادہ جہالت، تشکیک، ذہنی انتشار اور ایمان ویقین سے محرومی کا شکار ہیں۔

    موجودہ دَور میں ضرورت ہے کہ مادیت جس زور سے حملہ کر رہی ہے اُسی زور سے اُس کا دفاع کیا جائے۔ اِسلام سے منحرف اِن دونوں طبقوں کا شرعی حکم تلاش کیا جائے۔ زندگی کے ہر ہر عمل کو عقیدہ کی اساس اور بنیاد پر تشکیل دیا جائے۔ کیونکہ ایک سادہ گناہ اور استکبار میں فرق ہوتا ہے۔ ایک عام معصیت ونافرمانی والی زندگی اور شریعت وآخرت سے کامل اِعراض والی زندگی میں فرق ہوتا ہے۔ موجودہ دَور میں مسلم معاشرے کے افراد میں وہ ذہنی بنیادیں منہدم ہو گئی ہیں جن کی وجہ سے وہ گناہ وثواب، اچھے اور بُرے کی بحث میں واقع ہوتا تھا۔ مسلم افراد کی سوچ بھی بدل گئی اور سوچنے کا طریقہ بھی بدل گیا۔ فکر بھی بدل گئی اور طرزِ فکر بھی بدل گئی۔ اب ہمیں نئے سرے سے ہر موضوع کو چھیڑنا ہوگا۔ اور وُہ اساس اور بنیاد تعمیر کرنی ہوگی جس کی وجہ سے زندگی کے ہر ہر عمل کو اِسلام کی روشنی میں دیکھنے کی عادت پیدا ہو۔ گناہوں کے مقابلے میں قدم لڑکھڑا بھی جائیں تو بھی گناہ کی اذیت کا شدید ذہنی تاثر پیدا ہو۔

    موجودہ گناہ، عقیدے کے بگاڑ پر مبنی ہیں:

    اِسلامی تہذیب کا موجودہ بگاڑ فقط بدعملی، معصیت اور گناہوں کا بگاڑ نہیں بلکہ یہ عقیدہ، طرزِ فکر، رویے اور منبع جذبہ وعمل کا بگاڑ بھی ہے۔ حرام رزق پچھلے اَدوارمیں بھی کھایا جاتا تھا مگر اُس میں شرمندگی، ندامت اور مسلم سوسائٹی کی طرف سے نفرت کا ڈر ہوتا تھا۔ فحاشی وعریانی پچھلے زمانوں میں بھی تھی لیکن ایک مسلم فرد کے رگ وپے میں، دِل ودماغ میں اِس قدر نفوذ نہ تھا کہ فکر وعمل کی ساری قوتیں مادہ پرست بن جائیں اور آخرت کی سوچ کا کوئی راستہ باقی نہ بچے۔ مسلمان حکمران پچھلے ادوار میں بھی عیش وعشرت کے دلدادہ تھے مگر یہ بحث کبھی نہ کرنی پڑی کہ انسانی قوانین زیادہ افضل ومفید ہیں یا شرعی قوانین زیادہ بہتر اور لازمی ہیں۔ تعلیم وتربیت میں پچھلے اَدوار کے اندر جمود، بے عملی اور دُنیا داری رہی ہے لیکن اِس قدر پیٹ پرست اور شہوت پرست حیوان کبھی پیدا نہیں ہوئے جو موجودہ کالجز اور یونیورسٹیوں سے نکل رہے ہیں اور جن کی شخصیت، سوچ، علم وعمل، جذبہ وکردار کا ہر ہر گوشہ دُنیوی کیرئیر کی تعمیر اور اِسلام سے اِعراض اور تخریب کار ی پر مبنی ہے۔ گناہ کس وقت عقیدے کے بگاڑ پر مبنی ہوتا ہے اور کس وقت وہ فقط سادہ اور مجرد گناہ رہتا ہے۔ اِس کی تفصیلات تو آئندہ بیان میں ہوتی رہیں گی تاہم اِس قدر بتلانا ضروری ہے کہ کامل شریعت سے کامل اِعراض اور گناہ کے وقت افسوس کا نہ ہونا، شریعت کے مقابلے میں رائی کے دانے کے برابر تکبر کرنا، شریعت کے کسی ایک مسلّمہ قطعی اُصول کا مذاق اُڑانا اور آخرت سے صد فیصد دُوری اختیار کرنا ایسے اُمور ہیںجن کے متعلق کوئی شک وشبہ کی گنجائش نہیں کہ یہ امور عقیدے کے بگاڑ کہلاتے ہیں۔ عقیدہ اسلام وہ مذہبی تصورات ہوتے ہیں جو نہ غلطی پر مبنی ہوتے ہیں اور نہ غلطی کا احتمال رکھتے ہیں۔ یہ تصورات نہ شکوک وشبہات پر مبنی ہوتے ہیں اور نہ شکوک وشبہات کا احتمال رکھتے ہیں۔ اِن تصورات میں معمولی بگاڑ یا صد فیصد بگاڑ برابر ہوتا ہے۔ چنانچہ فرعون اور ابوجہل کی طرح تمام شریعت کو ٹھکرایا جائے یا کوئی مدینے کا منافق اللہ و رسول پر زبانی کلامی ایمان کے باوجود اِسلام کے کسی ایک قطعی لازمی امر کو نفرت، حقارت، استہزاءواستکبار کے ساتھ ٹھکرا دے۔ دونوں اِسلام کے تعلق سے یکسر خارج ہو جاتے ہیں۔ اِن کی کفر کی غلاظت میں مقدار کا تو فرق ہے لیکن اِن کی کفر کی نوعیت میں کوئی فرق نہیں۔

    اِسلام کا ہر عمل عقیدے سے پیوست ہے:

    اِسلام وہ واحد اور کامل دین ہے جس کا ہر ہر عمل، ہر ہر تعلیم اور شعبہ زندگی عقیدے کے ساتھ براہِ راست پیوست ہے۔ اِس دین میں سیکولر سیاست کا کوئی تصورنہیں، بے قید معیشت کا کوئی تصورنہیں، بے مقصد یا بے دین تعلیم کاکوئی جواز نہیں۔ مدر پدر نسوانی وجنسی آزادی کا کوئی تعلق نہیں۔ خالص دُنیوی ومادی تفریح کی کوئی صورت نہیں۔ اِسلام میں ہر ہر شعبہ زندگی اللہ کی ربوبیت، مالکیت، الوہیت، حاکمیت اور تصورِ آخرت کے ساتھ جکڑا ہوا ہے۔ چنانچہ ایک بظاہر دینی عمل بھی اُس وقت تک دِینی عمل قرار نہیں پا سکتا جب تک اُس کے پسِ منظر میں اللہ کی حاکمیت کا اقرار، اُس کی رضا کی خواہش اور آخرت کی طلب شامل نہ ہو۔ جب بظاہر دینی عمل، اللہ وآخرت کے تصور کے بغیر دینی قرار نہیں پا سکتا تو فلاح اِنسانی کے عمومی کام کس طرح اللہ وآخرت کی سوچ کے بغیر دینی قرارپا سکتے ہیں۔

    اِسلامی معیشت اور حلال وحرام کا تصور:

    اِسلامی معیشت ”حلال وحرام کے تصور“ پر مبنی ہے۔ جس طرح گناہ ثواب، نیکی بدی، اجر وعذاب خالص دینی اِسلامی اصطلاحیں ہیں۔ اِسی طرح حلال وحرام بھی خالص دینی اصطلاحیں ہیں۔ اِسلامی معیشت چاہے ملکی وقومی سطح کی ہو یا نجی وانفرادی سطح کی، چھوٹے اداروں کی ہو یا بڑے اداروں کی، حلال وحرام کے تصور میںجکڑی ہوئی ہے۔ مادہ پرست سرمایہ دارانہ نظام، لادین اشتراکیت اور سینکڑوں نام نہاد مسلمانوں کے نزدیک کاروبار صرف اور صرف دو ہی قسم کے ہوتے ہیں۔ منافع بخش کاروبار اور غیر منافع بخش کاروبار۔ اور اِس تقسیم کا حلال وحرام سے کوئی تعلق نہیں۔کتنے ہی لوگ ہیں جو علی الاعلان یہ کہتے ہیں کہ کوئی بھی کاروباری فیصلہ اچھا یا بُرا، نیک یا بدنہیں ہوتا بلکہ وُہ فقط عاقلانہ ہوتا ہے یا احمقانہ۔ عقلمند وُہی ہے جو موقع سے فائدہ اُٹھائے غلط یا صحیح کے چکر میں نہ پڑے۔ اور وہ شخص احمق ہے جو غلط صحیح میں پڑ کر سنہری موقع (گولڈن چانس) کو گنوا دے۔

    اِسلام میں تصور حلال وحرام کے مطابق:

    ہر وُہ چیز حلال ہے جس کو اللہ حلال قرار دے اور ہر وہ چیز حرام ہے جس کو اللہ حرام قرار دے چاہے وہ کام بظاہر کتنے ہی نفع بخش کیوں نہ ہوں۔ چاہے وہ کام بظاہر کتنے ہی دلچسپ کیوں نہ ہوں۔

    اِسلام کی اِس تعریف میں سب سے زیادہ قابل غور بات یہ ہے کہ حلال وحرام کا تعلق ”اللہ تعالیٰ، مالک الملک“ کے ساتھ ہوتا ہے۔ کسی فرد، ذات، ادارے، پارلیمنٹ، قوم کی ذاتی خواہشات کے ساتھ نہیں ہوتا۔ اِسی طرح حلال وحرام کا خالص دنیوی معاشی نتیجہ ”نفع یا نقصان“ کے ساتھ نہیں ہوتا بلکہ اللہ کی رضا کی تکمیل اور اللہ کی حاکمیت کے اقرار کے ساتھ ہوتا ہے۔ جس میں انجام کے اعتبار سے دُنیا وآخرت کی کامیابی ہے اگرچہ بسا اوقات فوری طور پر خسارہ، نقصان بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔

    حلال وحرام اِسلامی معیشت کی تفہیم وتنفیذ کا پہلا باب ہے۔ حلال وحرام کو سمجھے اور پختہ کیے بغیر اِسلامی معیشت اور غیر اسلامی معیشت میں فرق کرنا ممکن نہیں۔ اِس وقت جہاں جدید معاشی، زرعی، تجارتی اور صنعتی گوناگوں مسائل کا حل تلاش کیا جا رہا ہے وہاں اِس چیز کی بھی ضرورت ہے کہ حلال وحرام کا تصور خوب اچھے طریقے سے ذہن نشین کرایا جائے۔ یہ ضروری ہے کہ قوم کو اسٹاک ایکسچینج میں شیئرز حاصل کرنے کا حکم بتلایا جائے، افراطِ زر سے قرضوں پر واقع ہونے والے اثرات کا حکم بتلایا جائے۔ زراعت، صنعت اور تجارت میں استحصالی قوتوں کے نت نئے حربوں کا حکم بتلایا جائے، قومی وبین الاقوامی تجارت میں مضر اُمور کی نشاندہی کی جائے، کسٹم اور ٹیکس کے نظام میں فاسد عناصر کی نشاندہی کی جائے۔ اِن سب اُمور کے ضروری ہونے کے باوجود قوم کی سب سے بڑی اور سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ اُن کوحلال وحرام کا اِسلامی تصور ازبر کرایا جائے۔ گناہ واستکبار کا فرق بتلایا جائے، اِعراض وانابت کا فرق بتلایا جائے، دُنیا وآخرت کا فرق بتلایا جائے۔

    حلال وحرام کے دو اَساسی اُصول:

    اِسلام میں حلال وحرام کو سمجھنے کیلئے دو چیزوں کو سمجھنا ضروری ہے:

    ا) حلال وحرام کا تعلق فقط اور فقط اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے۔ حلال کمانے کا اُس وقت تک کوئی فائدہ نہیں جب تک اللہ کی رضا کی تکمیل کی خواہش نہ ہو۔ حرام سے بچنے کا اُس وقت تک کوئی فائدہ نہیں جب تک اللہ کی ناراضگی کا خوف نہ ہو۔ یعنی حلال وحرام کا براہِ راست تعلق اللہ کی ذات سے ہے، شریعت وقانون سازی کے اعتبار سے بھی اور اجر وثواب یا گناہ وعقاب کے اعتبار سے بھی۔ ایک شخص رشوت سے فقط اِس لئے بچتا ہے کہ یہ نیچ اور گھٹیا حرکت ہے، حقدار حق سے محروم ہو جاتا ہے، پیارے ملک پاکستان کی جڑیں کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔ ایسے شخص کو رشوت سے بچنے کا کوئی ثواب نہیں۔ اِس شخص کو ثواب اُس وقت ملے گا جب وہ اولاً یہ سوچے کہ رشوت حرام ہے۔ اِس پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں۔ آخرت میں مجھے سزا ہوگی۔

    ب) حلال وحرام کا تعلق خالص اور خالص آخرت کی طلب کے ساتھ ہے۔ یہ چیزیں بھی اوپر والے اُصول کی دوسری تعبیر ہے۔ یعنی حلال کو صرف اِس لئے نہ کمایا جائے کہ وہ خوب نفع آور ہے اور حرام سے صِرف اِس لئے نہ بچا جائے کہ اُس میں نفع کی اُمید کم ہے۔ یا حلال کی رغبت فقط اِس وجہ سے نہ ہو کہ یہ قانوناً ومعاشرہ رائج ہے اور حرام سے بے رغبتی فقط اِس وجہ سے نہ ہو کہ یہ قانوناً منع ہے۔

    اِس کی مثال اِس طرح ہے کہ بعض لوگ ”لاٹری“ سے بچتے ہیں صِرف اِس وجہ سے کہ وہ اِس کو غیر عاقلانہ، احمقانہ فعل سمجھتے ہیںجس میں نفع کی اُمید نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ لاٹری سے بچنے کا یہ تصور خالص مادی اور دُنیوی ہے جس پر کوئی ثواب نہیں۔ لاٹری سے بچنے کا ثواب اس وقت ہے جب اِس کو گناہ سمجھا جائے۔ اِس کو حرام سمجھا جائے اور آخرت کے خوف کے تحت اِس کو رد کر دیا جائے۔
     
  2. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Super Moderators

    [​IMG]


    اِسلامی معیشت: حلال وحرام کی دَو قِسمیں:

    اِسلامی معیشت میں حلال وحرام کو دَو قسموں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

    (1 اِسلامی معاشی قانون میں حلال وحرام۔

    (2 اِسلامی معاشی اخلاق میںحلال وحرام۔

    اِسلامی معاشی قانون میں جو چیزیں حلال وحرام ہیں وہ اِسلامی تہذیب کا خاصہ ہیں۔ دیگر تمام عالمی تہذیبوں میں اُن کے ممنوع ہونے اور غیر ممنوع ہونے کا کوئی تصور نہیں۔ اور جو چیزیں اِسلامی اخلاق میںحلال یا حرام ہیں وہ ساری دُنیا کے اخلاقی اصول کے مطابق ممنوع یا غیر ممنوع ہیں۔

    اِسلام میں معاشی قانون میں درج ذیل فقط چیزیں حرام ہیں جو دُنیا کی باقی تمام تہذیبوں میں غیر ممنوع ہیں۔

    (1 سُود (2 جُوا اور اُس کی تمام جدید شکلیں

    (3 مُردار، سور، خون کی خرید وفروخت (اکل وشرب کیلئے)

    (4 مخدرات .... تمام نشہ آور اُمور جیسے شراب، ہیروئن، چرس وغیرہ

    (5 فحش لٹریچر .... زرد صحافت، رسائل، ناول، ڈائجسٹ، فحش فنون لطیفہ، ڈرامے، فلمیں، نغمے، موسیقی

    (فحش ایک قرآنی علمی، ٹھوس اِصطلاح ہے جو ہر اُس چیز کو قانوناً حرام قرار دیتی ہے جو زنا سے قربت کا ذریعہ اور وسیلہ بنے چاہے یہ قربت ذہنی اعتبار سے ہو یا عملی اعتبار سے)۔

    اِسلامی معاشی اخلاق میں جو چیزیں حلال یا حرام ہیں وہ دُنیا کے عالمی تہذیبی اخلاق کے مطابق ہیں۔ مثلاً ملاوٹ، دھوکہ، لوٹ کھسوٹ، کسی کا ناحق مال دبانا، جھوٹ سے ناقص مال بیچنا، رشوت، یتیم کا مال کھانا، قرضے کی واپسی میں ٹال مٹول، بغیر ڈیوٹی یا ناقص ڈیوٹی کے بدلے مکمل تنخواہ وصول کرنا، صارفین کو دِل فریب تجارتی سکیموں کے ذریعے دامِ فریب میں پھنسانا، محکمانہ دفاتر میں تاخیری حربے اور رشوت کی گرم بازاری، غبن اور قرضوں کی خُرد بُرد، عوام کی ضرورت کے وقت ذخیرہ اندوزی، صنعتی وتجارتی اجارہ داریاں اور قیمتوں پر ظالمانہ کنٹرول، اِسی طرح جاگیرداروں کامزارعین کی مکمل معاشی زندگی پر سفاکانہ کنٹرول، سیاست میں غنڈہ گردی کے عناصر اور لالچ اور دھونس کے عوامل، مزدوروں کا استحصال، سامانِ تعیش اور شادی وبیاہ میں لاکھوں کروڑوں کا اِسراف .... یہ تمام اُمور بین الاقوامی اخلاقی اصولوں کے خلاف ہیں اور دُنیا کا ہر مذہب، قوم، باشعور انسان اِن اُمور کو قبیح اورناپسندیدہ قرار دیتا ہے۔ اور ترقی یافتہ ممالک میں اِن اخلاقی اصولوں کی پاسداری کیلئے مناسب قانون اور اُس کی علمبرداری بھی موجود ہے۔

    حلال وحرام قانونی اعتبار سے ہو یا اِخلاقی اعتبار سے، اُس کے متعلق دو باتوں کا جاننا ضروری ہے۔

    (1 اِسلام میں دونوں قسم کے حلال وحرام کی قباحت یکساں ہے۔ اُن کا گناہ وثواب، اُن کی اُخروی ودُنیوی قباحت، اُن پراللہ کی محبت یا ناراضگی بالکل برابر درجے کی ہیں۔ چنانچہ جو شخص قانوناً جائز کاروبار کرتا ہے لیکن اللہ کے نزدیک حرام کاروبار کرتا ہے تو اُس کے مقہور ومغضوب ہونے میں کوئی شک نہیں۔

    (2 جو شخص اِسلامی اخلاق کے حلال وحرام کا خاص خیال رکھتا ہے۔ لیکن اُس کی ذہن کی رسائی فقط ملی، قومی محبت اور انسانیت کی خیر خواہی پر مبنی ہے۔ یعنی وہ حرام کردہ اُمور سے فقط قومی اور اِنسانی مصلحت کے تحت اجتناب کرتا ہے تو یہ شخص اِسلامی اخلاق کا حامل نہیں کیونکہ اِسلامی اخلاق ہر قبیح اور ناپسندیدہ حرکت سے اجتناب کو اُس وقت قدر اور وقعت کی نگاہ سے دیکھتا ہے جب اولاً اُس اخلاق کے پس پردہ اجر وثواب، رضاءالٰہی، حاکمیت الٰہی کا اعتراف، توجہ وانابت، آخرت کی طلب وجستجو شامل ہو۔

    اِسلامی معیشت کے دو واجبات:

    زکوٰت اور وراثت کی شرعی تقسیم:

    اِسلامی معیشت میں اکثر اُمور کا تعلق حلال وحرام یا جائز ناجائز کا ہے لیکن دو چیزیں ایسی ہیں جو اِسلامی معیشت میں وجوب کا درجہ رکھتی ہیں۔ یعنی دو چیزوں کو بجا لانا اُنکے مخاطبین پر لازم ہے۔

    ا) زکوٰت وعشر، صدقہ الفطر

    ب) وراثت کی شرعی تقسیم

    زکوٰت گلہ بانی،مال مویشی والوں پر بھی لازم ہے اور تمام دکاندار تاجروں پر بھی لازم ہے۔ اِسی طرح عشر اہل زراعت پر واجب ہے۔ میت کے ترکے کو شرعی تقسیم کے مطابق حقداروں تک پہنچانا ہر مومن پر لازم ہے۔

    جس طرح ایک مومن پر حلال وحرام کی تمیزکرنا لازم ہے۔ اِسی طرح ہر مومن پر اِن دو واجبات پر ایمان لانا بھی لازم ہے کہ یہ دو اُمور ”اللہ تعالیٰ“ نے شریعت بنا کر آسمان سے نازل کیے۔ اِن دَو اُمور کے بجا لانے پر ثواب ہوگا اور اُن کے ترک پر اللہ تعالیٰ عذاب دیگا۔ آج اُمت مسلمہ کا بہت بڑا طبقہ اِن شرعی واجبات سے غافل ہے۔

    لوگ اول تو نصاب زکوٰت کی تعیین کی غرض سے اثاثہ جات واموال تجارت کا حساب کتاب نہیں رکھتے۔ اگر کوئی حساب کتاب رکھتا ہے تو زکوٰت کی ادائیگی میں سو حیلے بہانے بناتا ہے۔ چولستان اور روہی کے رہنے والے سینکڑوں / ہزاروں مویشیوں کے مالک ہوتے ہیں۔ لیکن اُن کی جہالت کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے زکوٰت کا لفظ بھی شاید کبھی سنا ہو۔ انہیں کبھی کوئی دیندار شخص نظر آجائے تو اُسے کسی اور دُنیا کی مخلوق سمجھتے ہیں۔ زکوٰت سے زیادہ لوگ وراثت کی شرعی تقسیم سے غافل ہیں۔ کوئی گھرانہ ایسا نظر نہیں آتا جو میت کے ترکے کو شرعی اصولوں کے مطابق تقسیم کرتا ہو۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے مالِ وراثت کے اُصول بیان کرتے ہوئے واضح لفظوں میںاپنی حاکمیت اور حدود الٰہی کی پاسداری جتلائی ہے۔

    زکوٰت اِسلام کے ارکان میں سے ایک رُکن ہے۔ کسی اللہ سے تعلق رکھنے والے کا نماز و زکوٰت سے عاری نظر آنا ناقابل تصور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نماز و زکوٰت کو بے شمار مقامات پر اکٹھے ذکر کیا۔ پھر زکوٰت صرف اللہ کی ناراضی اور خوشی سے ہی متعلق نہیں۔ بلکہ اللہ کی طرف سے مسلم ریاست کی غریب عوام کیلئے ایک فلاحی پروگرام ہے۔ زکوٰت کا نظام سرمایہ دارانہ نظام کی تمام خرابیوں کاحل ہے اور وراثت کا شرعی نظام جاگیردارانہ نظام کی موت ہے۔ اللہ کی شریعت آخرت کے ماننے والوں پر رحمت بھی ہے اور اُس کے نتائج وثمرات دُنیا میںبھی مفید ہیں۔

    حلال وحرام میں عقیدہ جاتی بنیادیں:

    اِنسانی زندگی و شخصیت ایک ناقابل تقسیم اِکائی ہے۔ اس کے تمام فکری واساسی، ذہنی وعملی شعبے ایک دوسرے کیساتھ باہم گتھم گتھا ہیں۔ زندگی کا ہر ہر شعبہ دیگر ذہنی وعملی شعبوں کے ساتھ مکمل طور پر مخلوط ویکجان (مكسڈ اپ) ہے۔ چنانچہ زندگی کا ایک شعبہ تباہی کا شکار ہو تو اُس تباہی کے آثار وعوامل زندگی کے باقی شعبوں میں بھی ضرور ہوتے ہیں۔ اِسی طرح فکر پراگندہ ہو تو عمل بھی منتشر ہوتا ہے۔ عمل تباہ کن ہو تو اُس کے پس پردہ فکر وسوچ بھی انتہائی ردی اور نکمی ہوتی ہے۔ اِسی اُصول کی روشنی میں حلال وحرام کی مابعد الطبیعاتی بنیادوں کو سمجھا جا سکتا ہے۔ حلال وحرام کا مُنکر اِسلامی نظامِ حیات کے سرچشموں کا منکر ہوتا ہے۔ حلال وحرام کا دشمن اِسلامی معاشی عقائد کا دشمن ہوتا ہے۔ حلال وحرام سے غافل انسان کائنات و الٰہ کے باہمی رشتوں سے غافل ہوتا ہے۔ حلال وحرام میں متساہل، صفات الٰہی وعبدیت اِنسانی کی تفہیم میں متساہل ہوتا ہے۔ حلال وحرام کا کافر، اللہ کی صفت حاکمیت کا کافر ہوتا ہے۔

    یوں تو اللہ کا تصور .... زندگی کے ہر شعبہ کے حوالے سے عمومی اور خصوصی دونوں اعتبار سے بیان ہوا ہے۔ لیکن ہم ذیل میں خالص معاشی اعتبار سے اللہ کی صفات، کائنات کی مقصدیت، اِنسانیت کا عجز، کائنات وانسانیت کا انجام و مسئولیت اور حاکمیتِ الٰہیہ کو بیان کریں گے۔

    اِسلامی معیشت کی عقیدہ جاتی بنیادیں یا اسلامی فکر وعمل کے سرچشمے درج ذیل اُصول واساسی نظریات ہیں۔ جو کہ ایک خاص نظم وترتیب کے ساتھ بیان ہو رہے ہیں۔

    ا) اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کا خالق ہے اور اُن کی زندگی، نشوونما، رزق وموت وحیات

    کا مالک ومدبر ہے:

    ایک مادہ پرست حیوان نما انسان اور ایک باشعور، ذمہ دار انسان میں یہی پہلا اساسی اور جوہری فرق ہے کہ مادہ پرست نظامِ کائنات کو بلا خالق، بلامالک اور بلا مدبر کے ایک وسیع وعریض کھیل تماشا سمجھتا ہے۔ سورج، چاند، بارشیں، زمین کی روئیدگی، فصلوں کے پکنے میں سارے نظامِ عالم کی باہمی شدید ترین موافقت صرف اور صرف ایک گونگا، بہرہ بے مقصد کھیل ہے۔ جس میں انسان اپنی من مرضی، کھلی جنسی، اخلاقی، معاشرتی آوارگی اور قوت و طاقت کے ذریعے کمزور اِنسانیت کو لتاڑنے کیلئے پیدا کیا گیا ہے۔

    حرام خور کی نفسیات میں پہلا اور اہم ترین بگاڑ یہیں سے جڑ پکڑتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ اپنا سب سے پہلا اور سب سے اہم تعارف ہی یہی کرتا ہے۔

    الحمد للّٰہ رب العالمین

    ”تمام تر تعریفوں کی حقدار ذات فقط اللہ تعالیٰ ہے جو تمام مخلوقات کا خالق، مالک اور مدبر ہے“۔

    ان ربکم اللّٰہ الذی خلق السماوات والارض فی ستہ ایام ثم استویٰ علے العرش یدبر الامر .... ذلکم اللّٰہ ربکم فاعبدوہ (یونس: ٣)

    ”بے شک تمہارا مالک تو وہ اللہ ہے جس نے تمام آسمانوں اور ساری زمین کو پیدا کیا، چھ دِنوں میں۔ پھر وہ (اقتدار وعظمت کے بلند ترین مقام) عرش پر مستوی ہوا۔ وہ (ساری کائنات ومخلوقات) کے اُمور کو (بالفعل) چلا رہا ہے (نہ اُس نے مخلوق سے بے پرواہی اختیار کی ہے اور نہ اپنا اقتدار دُوسروں میں تقسیم کیا ہے) .... یہی اللہ تمہارا معبود اور مالک ہے اور اُس کے سامنے اپنی عجز اور انکسار کی تمام مراسم ونیاز بجا لاؤ“۔

    ب) اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کا روزی رساں ہے:

    اگرچہ رب کے مفہوم میں پرورش، نگہداشت، دیکھ بھال اور زندگی کے تمام لوازمات داخل ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے مزید وضاحت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ ساری مخلوق کا روزی رساں ہے۔ زمین کی سطح پر چلنے والا کوئی کیڑا، چرند، پرندہ، درندہ، اِنسان، تمام مخلوق اللہ کے عطا کردہ اور تقسیم کردہ رزق پر پَل اور بڑھ رہی ہے۔

    وما من دابہ فی الارض الا علی اللّٰہ رزقھا (ھود: ٦)

    ”اور زمین میں جو بھی جانور ہے اُس کا رزق اللہ کے ذمے ہے“۔

    وکاین من دآبہ لا تحمل رزقھا اللّٰہ یرزقھا وایاکم (عنکبوت: ٦٠)

    ”اور کتنے ہی جانور ہیں جوا پنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے۔ اللہ اُن کو بھی رزق دیتا ہے اور خاص تم (انسانوں) کو بھی“۔

    اِس آیت کا مطلب یہ ہے کہ کئی جانور، پرندے ایسے ہیں کہ وہ اپنی خوراک کو اُٹھا کر ذخیرہ نہیں کر سکتے۔ روزانہ تازہ خوراک ڈھونڈتے ہیں۔ اِن جانوروں، پرندوں کی اللہ ہی ضروریات اور رزق پورا کرتا ہے۔ سمندر کی مچھلیاں، ہواؤں میں اڑنے والے پرندے، جنگل کے جانور۔ سب کو اللہ ہی پالتا ہے۔کبھی ایسا نہیں ہوا کہ یہ جانور بھوک کا شکار ہو کر مر گئے ہوں۔ اللہ کے کائناتی نظام ربوبیت میں کروڑوں انواع کی مخلوق شب وروز پَل بڑھ رہی ہے۔

    ج) اللہ تعالیٰ ہی ساری انسانیت کو رزق دیتا ہے:

    اگرچہ مخلوق کے مفہوم میں اِنسان داخل ہیں جن کی روزی اللہ کے ہاتھ میں ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ بار بار یہ ذکر کیا کہ اللہ ہی ساری انسانیت کا رزق رساں ہے۔

    یایھا الناس اذکروا نعمت اللّٰہ علیکم ھل من خالق غیر اللّٰہ یرزقکم من السماءوالارض لا الٰہ ھو فانی تؤفکون (فاطر: ٣)

    ”لوگو! تم پر جو انعام اللہ نے کیے ہیں اُن کو یاد کرو۔ کیا اللہ کے علاوہ کوئی اور خالق بھی ہے جو تمہیں زمین وآسمان سے رزق دے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ لہٰذا تم کہاں اُلٹے جاتے ہو“۔

    یعنی تمہارے اندر توحید وآخرت کا انکار کس طرح آگیا جبکہ تم مانتے ہو کہ اللہ ہی تمہارا خالق اور رازق ہے۔

    د) اللہ تعالیٰ ہر ہر فرد کو رزق دے رہا ہے:

    اِنسانیت کا رزق بھی اللہ کے ہاتھ میں ہے اور ہر ہر فرد کا رزق بھی خاص اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ جس طرح کلیات اور نظام کو جانتا ہے اِسی طرح جزئیات، افراد اور نظام کے چھوٹے سے چھوٹے حصے کو بھی جانتا ہے انسانیت میں سے ہر ہر فرد .... عبداللہ، عبدالرحمن، عبدالشکور وغیرہ .... کو بھی الگ الگ مقرر کردہ رزق دے رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی خاص اور عام نظر سے کوئی الگ اور جُدا نہیں۔ اِس ضمن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے یہ مقولہ جات کتنے پیارے ہیں۔

    الذی خلقنی فھو یھدین، والذی ھو یطعمنی ویسقین۔ واذا مرضت فھو یشفین۔ والذی یمیتنی ثم محیین (شعراء: ٧٨۔ ٨١)

    ”(اللہ تعالیٰ وہ ہے) جس نے مجھے پیدا کیا۔ پھر اُسی (اکیلے) نے ہی مجھے (راہ راست کی) ہدایت دی۔ اور وہی (اکیلا) مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔ اور جب میں بیمار ہو جاتا ہوں تو وہی (اکیلا) مجھے شفایاب کرتا ہے اور وہی مجھے ماریگا اور پھر زندہ کریگا“۔

    اِن الفاظ میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک اکیلے فرد کا کیسا خصوصی تعلق بیان کیا گیا ہے۔ ایسے جیسے اللہ تعالیٰ خاص اور خاص اُسی ابراہیم کا ہی کام کاج کر رہا ہے اور باقی اُمور سے فارغ ہے۔

    .................................................. ..................................

    قرآن کے درج بالا مقدمات کو تسلیم کرنے والا کبھی بھی حرام رزق کی جدوجہد نہیں کریگا۔ اِن آیات پر ایمان لانے والا خالص اللہ کے ساتھ رغبت رکھے گا اور اُسی کو ہی اپنا ملجاءو ماویٰ، سہارا ومددگار سمجھے گا۔ درج بالا مقدمات اللہ کے ربوبیت عامہ کو ظاہر کر رہے ہیں لیکن اللہ کی قدرت، طاقت، اختیار وکنٹرول، قہر وجبر، تسلط واقتدار ابھی بہت کچھ وسیع ہے۔ اللہ صرف رزق دیتا ہی نہیں رزق چھینتا بھی ہے۔ وہ کوئی گونگی بہری سائنسی قوت نہیں علم وارادہ والی ہستی ہے۔ گناہوں کی وجہ سے یا آزمائش کی غرض سے، ناراضگی سے یا محبوب انسانوں پر خاص طرز کی محبت سے رزق تنگ بھی کر دیتا ہے۔ رزق محدود بھی کرتا ہے۔ بعضوں کو عبرتناک مفلسی میں گرفتار کر دیتا ہے۔ بعضوں کو کوڑی کوڑی کا محتاج کر دیتا ہے۔ فقر وفاقہ، غلبہ الرجال کا ذلت ناک لباس پہنا دیتا ہے۔اپنے شکر گزار بندوں کو بلا حد وحساب رزق بھی دیتا ہے۔ یا پہلے خوب سیراب کرنے والا رزق دیتا ہے اور پھر اُس کے طرز عمل کا تجزیہ کرتا ہے۔ وہ ہر طرح سے رزق اور صبر وشکر، توجہ وانابت، رجوع واعراض کو جانچتا ہے۔

    ر) اللہ تعالیٰ ہی رزق میں کمی بیشی کرتا ہے:

    مادہ پرست اِنسانوں کی تین قسمیں ہیں۔ پہلے نمبر پر وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے وجود میں ہی مشّکک ہیں یا بالکلیہ منکر ہیں جن کو دہریے یا کمیونسٹ وغیرہ کہا جا سکتا ہے اور ایسے لوگوں کی موجودہ مسلمانوں میں بھی کمی نہیں اگرچہ کہ اُن کا الحاد کھلم کھلا نہیں۔ دوسرے نمبر پر وہ ہیں جو اللہ کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں لیکن وہ اللہ تعالیٰ کو معطل خدا قرار دیتے ہیں۔ جس کو مخلوق سے کوئی دلچسپی نہیں۔ کائنات کا نظام اُس نے چلا دیا۔ اب کوئی جئے، کوئی مرے، کوئی در در کی ٹھوکریں کھائے یا فرعون بن کر لوگوں پر حکومت کرے، اللہ تعالیٰ کو اس سے کوئی غرض نہیں۔ کوئی رزق کی دوڑ میں آگے ہے اور کوئی رزق کی دوڑ میں عاجز وبے بس ہے۔ اللہ کو کسی کی کوئی پرواہ نہیں۔ یہ بھی مادہ پرستی کی ہی ایک شکل ہے جس میں مذہب بالکل کُند، بے کار اور فالتو چیز بن کر رہ جاتا ہے۔ تیسرے نمبر پر وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کو قولاً واقراراً خالق، مالک، رازق، متصرف، فُعّال مانتے ہیں لیکن آخرت کے بارے میں تشکیک کے شکار ہیں۔ اِن کی زندگی کی ساری بھاگ دوڑ فقط دُنیا کیلئے ہے۔ اِن کی زندگی میں کوئی سوچ / عمل اللہ کی رضا اور آخرت کی طلب کیلئے نہیں۔ مادہ پرستی کی یہ تینوں شکلیں باہمی طور پر متفاوت ہونے کے باوجود ایمان واسلام، عقیدہ و فکر اِسلامی کے کم از کم مطلوب معیار کو بھی پورا نہیں کرتیں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ بار بار یہ حقیقت واضح کر رہا ہے کہ وہی اللہ تعالیٰ انسانوں کے رزق میںکمی بیشی کرتا ہے۔

    قل ان ربی یبسط الرزق لمن یشاءویقدرو لکن اکثر الناس لا یعلمون (سبا: ٣٦)

    ”کہہ دیجئے۔ بے شک میرا رب جس کیلئے چاہتا ہے رزق کو بڑھا دیتا ہے اور جس کیلئے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے“۔

    یہ آیت اور اس کا مقصود فقط ایک نظریہ نہیں۔ دِل ودماغ کی اتھاہ گہرائیوں تک نفوذ کرنے والی ایک ٹھوس حقیقت ہے۔ اللہ کا وجود ہے۔ اللہ کو مخلوق سے دلچسپی ہے۔ اللہ معبود ہے۔ لوگوں کی ضروریات پوری کرتا ہے۔ اللہ خوش بھی ہوتا ہے۔ اللہ ناراض بھی ہوتا ہے۔ اللہ رزق دیتا بھی ہے۔ اللہ رزق تنگ بھی کرتا ہے۔ اللہ اجر بھی دیتا ہے عذاب بھی دیتا ہے۔اِن سب حقائق پر ایمان ہو تو قلب کا سارا نظام تہہ وبالا ہو جائے۔ اعصاب، قلب وجوارح پر کپکپی طاری ہو جائے۔ عبدیت، عجز وانکسار، اللہ سے محبت، تعلق، خشیت سے ایسا دل لبریز ہو کہ حرام رزق تو کجا زندگی میں کوئی بھی بُرائی مستقل نفوذ نہ کر سکے۔ یہ اللہ کی قدرت، مشیت، جلال وہیبت ہی ہے کہ انسان ذہنی وعملی طور پر لاکھ مصروف ہو لیکن اللہ کی پکار پر پانچ وقت مسجد کی طرف لپکتا ہے اور اپنی جبینِ نیاز اپنے رب کے سامنے کامل عجز وانکسار کے زمین پر رکھ دیتا ہے۔

    وان الی ربک المنتھی۔ وانہ ھو اضحک وابکی۔ وانہ ھو امات واحییٰ .... وانہ ھو اغنی واقنیٰ (النجم: ٤٨)

    ”اور یقینا صرف تیرے رب کی طرف ہی (لوگوں کا) لوٹنا ہے۔ اور بے شک وہی تو (انسانوں کو) ہنساتا اور رُلاتا ہے اور بے شک وہی (لوگوں کو) مارتا اور زندہ کرتا ہے .... اور بے شک وہ مالدار بناتا ہے اور (ضرورت سے زائد مال دیکر) سرمایہ دار بناتا ہے“۔

    اِس آیت سے ثابت ہو رہا ہے کہ فقط رزق ہی اللہ کے ہاتھ میںنہیں بلکہ اِنسانی خوشیوں، مسرتوں، دِل بستگیوں کے سارے خزانے اللہ کے پاس ہیں اور انسانی غموں، پریشانیوں اور افسردگیوں کے سارے ذخیرے بھی اُسی کے پاس ہیں۔

    ز) رزق اللہ کا فضل ہے (تسلیم ورضا اور جدوجہد کا کامل توازن)

    قرآن میں مال اور دولت کو نجس، پلید قرار نہیں دیا گیا بلکہ مال کو اللہ کا فضل قرار دیا گیا ہے۔ یعنی مال، اللہ تعالیٰ کی دین اور عنایت ہے جس کو جس قدر دے دے۔ اِس میں کامل درجے کی قناعت، تسلیم ورضا، اللہ کی تقسیم پر دل کا گہرا اطمینان اور صبر وتوکل کے سوتے پھوٹتے ہیں جو کسی بھی مذہب کی حقیقی جان ہوتے ہیں اور اِسی کی بدولت ہی مذہبی شخصیت روحانی ارتقاءکی بلند ترین چوٹیوں پر فائز ہوتی ہے۔ لیکن اِسلام میں تسلیم وتوکل کے ساتھ جدوجہد، محنت، ذمہ داری، عملیت کا بھی کامل توازن ہے۔ چنانچہ بار بار اللہ کے فضل کو تلاش کرنے کا حکم دیا گیا۔

    لیس علیکم جناح ان تبتغوا فضلاً من ربکم

    ”تم پر کوئی گناہ نہیں کہ اپنے رب کے فضل کو تلاش کرو“۔

    وجعلنا آیہ النھار مبصرہ لتبتغوا من فضلہ

    ”ہم نے دِن کی نشانی کو (اسباب و وسائلِ زندگی کو) دکھلانے والی چیز بنایا تاکہ تم اُس کا فضل تلاش کرو“۔

    ایک باشعور مذہبی انسان جہاں رزق الٰہی کو سمجھنے کی بدولت ”دِل کا بادشاہ“ یا ”دِل کا غنی“ ہوتا ہے۔ وہاں وہ محنتی، جفاکش، ذمہ دار اور ہر دَم عمل کیلئے مستعد بھی ہوتا ہے۔

    فلسفہ رزق کی یہ تعبیر عالمی مذہبی لٹریچر میں اِس سے بہتر ممکن نہیں۔

    .................................................. ......................................

    س) اللہ ہی حلال وحرام کاحاکم ہے:

    ایک سرکاری افسر جس کی حقیقی تنخواہ سات، آٹھ ہزار ہو لیکن اُس کے گھر کا خرچہ ساٹھ، ستر ہزار ہو اور آپ اُس کو کہیں کہ ”وہ حرام کھا رہا ہے“۔ وہ اِس طرح چونک اُٹھے گا جیسے اُس کو کسی نے کھینچ کر پتھر مارا ہو۔ وہ یہ سمجھ نہ سکے گا کہ معیشت، روزگار، معاملات میںحلال وحرام کا تذکرہ کہاں سے آگیا۔ اللہ ورسول، آخرت جیسے مقدس وبابرکت لفظ تو فقط مساجد، نماز اور مذہبی محفلوں میں اچھے لگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا لین دین اور کاروباری زندگی میں تذکرہ کس طرح ہو سکتا ہے۔ بعض لوگ تو واضح، ننگے لفظوں میں یہ کہتے ہیں کہ ”کاروبار اور معاملہ آپ کے اور میرے درمیان ہے۔ اِس میں آپ اللہ ورسول کو مت داخل کریں“۔

    کیا آپ یہ باور کر سکتے ہیں کہ اللہ ساری انسانیت کو پیدا کرے اُن کی مکمل ضروریات زندگی کو احسن انداز میں مکمل کرے، اپنی حکمتوں ومصلحتوں کے مطابق لوگوں کی روزی میں کمی وبیشی کا بھی مالک ہو لیکن جب وہ کسی حلال کو حلال قرار دے اور حرام کو حرام قرار دے تو اُس کی بات ماننے سے انکار کر دیا جائے۔ انکار بھی ایسا کہ جس میں اللہ کی حیثیت کو چیلنج ہو کہ اللہ کا اِس معاملے سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔ آج کتنے ہی لوگ ہیں جو اُس بنک یا ادارے کو ڈھونڈتے ہیں جوزیادہ سے زیادہ سود دیتا ہو۔ اور جب اُن کو سمجھایاجائے تو بجائے افسوس، شرمندگی اور ندامت کے گالیوں کی بوچھاڑ کر دیتے ہیں۔ کئی قوم کو نوچنے اور لوٹ کھسوٹ والے، ایسے لوگ ہیں جو بوگس سرکاری سکولوں میں ٹیچر بھرتی ہوئے اور وہ ساری زندگی مُفت کی تنخواہیں لیتے رہے اور بجائے افسوس وندامت کے فخر سے اپنا حال بتلاتے ہیں کہ ”جی ہم تو بڑے مزے میں ہیں، فلاں جگہ سے بھی دو چار ہزار مار لیتے ہیں اور سکول کی تنخواہ تو مفت کی لگی ہوئی ہے“۔ اور لعنت وپھٹکار ہو اُن بدبخت لوگوں پر جو رشوت لیتے ہیں اور اُس کو فضل رَبّی قرار دیتے ہیں۔ اِن لوگوں نے عظیم وکریم، باجبروت وملکوت، عرش عظیم کے رب، محسن حقیقی، رب العزت کی عظمت کو کیا پہچانا؟ اُس مالک حقیقی، خالق ارض وسماءکے سامنے ساری زندگی بھی سجدے میں پڑے رہتے تو اللہ کی عظمت کا حق ادا نہ ہوتا۔ لیکن انہوں نے اللہ تعالیٰ جیسی عظیم ہستی کو کانٹوں پر گھسیٹا۔ اپنے زبانی کلامی چٹخاروں کیلئے اُس کے مقدس احکامات کا مذاق اُڑایا۔ رشوت کو فضلِ رَبّی قرار دیا۔

    اللہ تعالیٰ حلال وحرام کا حاکم ہے۔ وہ جس چیز کو حلال قراردے اُس کو دُنیا کی کوئی طاقت حرام قرار نہیں دے سکتی اور وہ جس چیز کو حرام قرار دے اُس کو کوئی چیز حلال قرار نہیں دے سکتی۔

    یایھا الناس کلوا مما فی الارض حلالاً طبیاً

    ”اے لوگو! کھاؤ جو کچھ زمین میں حلال اور پاکیزہ ہے“۔

    ولا تقولوا لما تصف السنتکم ھذا حلال وھذا حرام

    ”اور نہ کہو جو تمہاری زبانیں خود گھڑ لیں کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے“۔

    یایھا الذین آمنوا لا تحرموا طیبات ما احل اللّٰہ لکم

    ”اے ایمان والو! اللہ کی حلال کردہ پاکیزہ چیزوں کو حرام قرار نہ دو“۔

    واحل اللّٰہ البیع وحرم الربوا

    ”اللہ نے خرید وفروخت کو حلال قرار دیا ہے اور سود کو حرام قرار دیا ہے“۔

    اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ حلال وحرام کو تسلیم کرنا، ایمان کے لوازمات اور مستقل ضروریات میں سے ہے۔ اللہ کے کسی ایک حلال وحرام سے انکار کرنا، اللہ تعالیٰ سے عبد ومعبود والے رشتے کو یکسر توڑ دیتا ہے۔ افسوس کہ آج مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد حلال وحرام کی نہ صرف مُنکر ہے بلکہ باغی ہے۔ استخفاف دِین، استکبار اور استہزاءاُن کا شیوہ ہے۔

    حلال وحرام کا اقرار ایمان کا قطعی لازم اور تقاضا ہے:

    اللہ ورسول پر ایمان لانے والا، آمنت باللّٰہ کے کلمات دُہرانے والا، جب تک اللہ تعالیٰ کے حلال وحرام کو دِل سے تسلیم نہ کر لے وہ مومن نہیں ہو سکتا۔ جس طرح اللہ خالق، مالک اور رازق ہے اِسی طرح وُہ حاکم بھی ہے۔ اُس کی حاکمیت کا اقرار کئے بغیر کوئی بندہ ایمان کی خوشبو بھی نہیں پا سکتا۔

    آج بے شمار لوگ ہیں جو اِسلام کے ایک دواحکام کو رد نہیں کرتے بلکہ زندگی کے بہت بڑے حصے سے اِسلام کوبے دخل کر دیتے ہیں۔ اور یہ بے دخلی، گناہ اور معصیت کی ذہنیت سے نہیں ہوتی بلکہ اُن کا یہ نظریہ ہوتا ہے کہ دین کا دُنیا سے کوئی تعلق نہیں۔ بعض وہ بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ دین اور سیاست کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ اسلام ہمارا مذہب ہے فقط اور مذہب کا کاروبار ومعیشت سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ تمام اُمور سیکولرزم کی ہی چھوٹی یا بڑی شاخیں ہیں۔

    اللہ نے یہود کے کفر کی چار حرکتیں بیان کی ہیںجن کی بنا پر صحابہ نے یہود سے جنگیں کیں۔ اُن چار حرکتوں میں سے ایک حرکت یہ تھی کہ وہ اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حرام نہیں سمجھتے تھے۔

    قاتلوا الذین .... ولا یحرمون ما حرم اللّٰہ ورسولہ ولا یدینون دین الحق (توبہ: ٢٩)
     
  3. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Super Moderators

    [​IMG]

    ”اُن سے جنگ کرو .... اور نہ اُس کو حرام قرار دیتے ہیں جس کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام قرار دیا اور نہ دِین حق کو قبول کرتے ہیں“۔

    ضروریات وقطعی مسلماتِ دین میں سے کسی ایک چیز کا انکار کُفر کہلاتا ہے۔ اور یہ انکار عام طور پر کسی علمی شبہے کی بنیاد پر نہیں ہوتا بلکہ استکبار، کراہت دین کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ مثلاً اگر کوئی کہے کہ ”میں نماز کو فرض نہیں سمجھتا“ یہ انکار کلمہء کفر ہے جو کسی علمی اشکال کی بنیاد پر نہیں بلکہ فقط دِین سے نفرت، کراہت اور تکبر کا اظہار ہے۔ اور دین سے کراہت ونفرت، استکبار واستہزاءکھلا کفر ہے۔ سورہ محمد میں تین دفعہ یہ مذکور ہوا ہے کہ مدینے کے منافقوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا۔ صرف اِس وجہ سے کہ انہیں اللہ کی نازل کردہ شریعت سے نفرت تھی۔ انہیں اللہ کی رضا طلبی سے نفرت تھی۔ اللہ نے اِن ظالموں پر پھٹکار برسائی اور اِن کے سارے اعمال ضائع کر دیے جو کُفر کا لازمی نتیجہ ہوتا ہے۔

    والذین کفوا فتعساً لھم واضلّ اعمالھم ذلک بانھم کرھوا ما انزل اللّٰہ فاحبط اعمالھم (محمد: ٨، ٩)

    ”جنہوں نے کفر کیا اُن پر افسوس ہے اور اللہ نے اُن کے اعمال کو رائیگاں کردیا یہ اُس وجہ سے تھا کہ انہوں نے اللہ کی نازل کردہ (شریعت) سے نفرت کی لہٰذا اللہ نے اِن کے اعمال ضائع کردیئے“۔

    اولئک الذین کفروا بآیات ربھم ولقائہ فحبطت اعمالھم فلا نقیم لھم یوم القیامہ وزنا۔ ذلک جزائوھم جھنم بما کفروا واتخذوا آیاتی ورسلی ھزوا (کہف: ١٠٥، ١٠٦)

    ”یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیتوں کا انکار کیا اور اُس کی ملاقات کا انکار کیا پس اُن کے اعمال ضائع ہو گئے ہم قیامت کے دِن اُن کیلئے ترازو ہی نہیں رکھیں گے۔ یہ جہنم اُن کی جزا ہے اِس وجہ سے کہ اِن لوگوں نے کفر کیا اور میری آیتوں اور رسولوں کوہنسی مذاق کا سامان بنایا“۔

    وما تاتیھم من آیت من آیاتِ ربھم الا کانوا عنھا معرضین۔ فقد کذبوا بالحق لما جاءھم فسوف یاتیھم انباءما کانوا بہ یستھزؤن (انعام: ٤، ٥)

    ”اُن کے پاس اُن کے رب کی طرف سے جو بھی نشانی (حکم الٰہی) آتا ہے وہ اُس سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ انہوں نے اُس سچی بات کو جھٹلا دیا جو اُن کے پاس آچکی تھی اب اِن کے پاس اُس (عذاب) کی خبریں ظاہر ہونگی جس کا یہ لوگ مذاق اُڑایا کرتے تھے“۔

    مادہ پرست حرام خور کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں:

    اللہ تعالیٰ نے حرام خوروں کے مختلف تذکرے میں مختلف وعیدوں کا تذکرہ فرمایا۔ کسی جگہ فرمایا کہ یتیم کا مال کھانے والے اپنے پیٹ میں آگ کے انگارے بھرتے ہیں۔ کسی جگہ فرمایا کہ زکوٰت ادا نہ کرنے والوں کا سونا چاندی گرم کرکے اِن سرمایہ داروں کے جسموں پرداغا جائے گا۔ کسی جگہ سود خوروں کو مقابلہ کیلئے للکارا گیا۔ بعض مقامات پر شراب اور جوئے کو پلید قرار دیا گیا اور شیطانی عمل بتلایا گیا۔

    لیکن اِن شدید ترین وعیدوں کے باوجود ہم یہ کہیں گے کہ موجودہ مادہ پرست حرام خور کے متعلق سب سے شدید وعید یہ ہے کہ اِن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ مادہ پرست حرام خور کا جرم مفرد نہیں بلکہ مرکب ہے۔ اِن کے دو جرم ہیں۔

    ا) مادہ پرستی۔ شریعت سے کامل اعراض۔ آخرت کی طلب سے کامل اِعراض۔

    ب) حرام خوری میں انہماک اور حرام خوری کو اوڑھنا بچھونا بنانا۔

    ایک مخلص مومن بھی بعض اوقات ایسے اعمال سرانجام دیتا ہے جو فقط دُنیوی غرض کے تحت ہوتے ہیں۔ اِسی طرح مخلص مومن کے حلال رزق میں بھی حرام کے تھوڑے یا زیادہ ذرات موجود ہوتے ہیں۔ لیکن مادہ پرست حرام خور اِن دونوں امور میں مخلص مومن سے جدا ہوتا ہے۔ مادہ پرست کی ساری زندگی، شریعت وآخرت سے اِعراض پر مشتمل ہوتی ہے اور حرام خوری اُس کی زندگی کا وصفِ خاص ہوتی ہے۔ جبکہ مخلص مومن کا معاملہ اِس طرح نہیں ہوتا۔

    پچھلی بحث میں ہم نے شریعت وآخرت کے انکار اور استکبار کا تذکرہ کیا، جو شریعت وآخرت کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اِس بحث میں ہم لفظ ”اعراض“ پر کچھ روشنی ڈالیں گے۔ شریعت وآخرت سے کامل اعراض کفر ہے۔ اِس سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی معمولی سے معمولی رشتہ بھی برقرار نہیں رہتا۔

    کفرِ اعراض یہ ہے کہ شریعت وآخرت سے مستقل طور پر رُخ پھیر لیا جائے نہ تو شریعت وآخرت کے ساتھ قلبی محبت ہو اور نہ نفرت۔ نہ تصدیق ہو اور نہ تکذیب۔ نہ شریعت وآخرت کے ساتھ دوستی ہو اور نہ ہی دشمنی۔ نہ شریعت وآخرت کو سیکھنے اور سمجھنے کا رجحان ہو اور نہ ہی عمل۔ بلکہ ایک عمیق ومہیب سرد مہری اور بے حسی ہو۔ دُنیا کا اِس قدر انہماک ہو کہ فکر وعمل کا کوئی گوشہ شریعت وآخرت کیلئے باقی نہ بچے۔ موت، عذاب، آخرت، قیامت، نیکی بدی کی کشمکش کے متعلق دِل میں کوئی حرکت اور ولولہ نہ ہو۔ اسلام پسندوں کی کامیابی اور ناکامی کے ساتھ کوئی دلچسپی نہ ہو۔ صرف اور صرف مال، اولاد، گھریلو تنعّمات وآرام پسند زندگی ہی مطمع نظر ہو۔ اِسلامی اُمور کے متعلق تذکرہ ہو تو ذہن اِدھر اُدھر بھٹک جائے یا نظریں خلاؤں میں گردش کرنے لگ جائیں۔ یا دِل میں یہ سوچ پیدا ہو کہ کس محفل میں پھنس گیا ہوں؟

    کفرِ اعراض میں شریعت سے کامل اعراض ہوتا ہے۔ یعنی حلال وحرام کی تمیز تو ایک طرف رہی۔ وہ نماز، روزہ اور زکوٰت کا بھی تارک ہوتا ہے۔ حرام خوری کی بَلا تو ایک بَلا ہے وُہ کئی بلاؤں کا شکار ہوتا ہے جس میں فحاشی، قلب ونظر کی لذات، بے دین سیاست میں حصہ، کاروباری زندگی میںجوڑ توڑ وغیرہ شامل ہوتی ہیں۔ کفر اعراض میں آخرت سے بھی کامل اعراض ہوتا ہے یعنی زندگی بھر کبھی اِتنی فرصت میسر نہیں آتی کہ کچھ اعمال خالص اللہ کی رضا کیلئے بھی کرلے یا کوئی عمل آخرت کیلئے بھی ذخیرہ کرلے۔

    ومن اظلم ممن ذکر بآیات ربہ فاعرض عنھا و نسی ما قدمت یداہ انا جعلنا علے قلوبھم اکنہ ان یفقھوہ وفی اذانھم وقراً (کہف: ٥٧)

    ”اُس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہے جس کو اُس کے رَب کی نشانیاں (احکام) بتلائے گئے پھر بھی اُس نے منہ موڑا (دلچسپی نہ لی) اور بھول گیا جو اُس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا۔ ہم اِن کے دِلوں پر غلاف چڑھا دیں گے تاکہ یہ سمجھ نہ سکیں اور اِن کے کانوں میں بوجھ ڈال دیں گے (تاکہ یہ نصیحت نہ سن سکیں)“۔

    کذلک نقص علیک من انباءما قد سبق وقد اتیناک من لّدنّا ذکراً۔ من اعرض عنہ فانّہ یحمل یوم القیامہ وزراً۔ خلدین فیہ وساءلھم یوم القیامہ حملاً (طہ: ٩٨۔ ١٠٠)

    ”اِسی طرح ہم تجھ پر پچھلی قوموں کی خبریں بیان کیا کرتے تھے۔ اور ہم نے اپنی طرف سے نصیحت بھی بھیجی جو اِس نصیحت (دین) سے منہ موڑے گا۔ قیامت کے دِن بوجھ اُٹھائے گا۔ اُس میں ہمیشہ رہے گا اور قیامت کا دِن اُن کیلئے بوجھ کے اعتبار سے بُرا ہوگا“۔

    ومن اظلم ممن ذکر بآیات ربہ ثم اعرض عنھا۔ انا من المجرمین منتقمون (سجدہ: ٢٢)

    ”اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہے جس کو ہماری نشانیاں بتلائی گئیں پھر اُس نے منہ موڑا (دلچسپی نہ لی) ہم ایسے مجرموں سے انتقام لینگے“۔

    ما خلقنا السماوات والارض وما بینھما الا بالحق واجل مسمی والذین کفروا عما انذروا معرضون (احقاف: ٣)

    ”ہم نے سارے آسمانوں اور ساری زمین کو ایک مقصد اور ایک مقرر مدت کیلئے پیدا کیا اور کافر لوگ اُس ڈرائی گئی (قیامت سے) منہ پھیرنے والے ہیں“۔

    مادہ پرست حرام خور کی ساری زندگی ”دُنیا“ کے اردگرد ہی گھومتی ہے اور آخرت کے ساتھ نہ کوئی دلچسپی ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی فکر وعمل کی کوئی لہر آخرت کیلئے اٹھتی ہے۔ انہی کے بارے میں قرآن کا یوں ارشاد ہے:

    ”جو کوئی آخرت کی کھیتی چاہتا ہے اُس کی کھیتی کو ہم بڑھاتے ہیں اور جو دُنیا کی کھیتی چاہتا ہے اُسے دُنیا ہی میں سے دے دیتے ہیں مگر آخرت میں اُس کا کوئی حصہ نہیں ہے“۔

    من کان یرید الحیوت الدنیا وزینتھا نوف الیھم اعمالھم فیھا و ھم فیھا لا یبخسون۔ اولئک الذین لیس لھم فی الآخرت الا النار وحبط ما صنعوا فیھا وباطل ما کانوا یعملون (ھود: ١٦)

    ”جو صرف دُنیا کی زندگی چاہتا ہے اور اس کی شان وشوکت۔ ہم اس کے اعمال کا بدلہ دُنیا میں ہی پورا کر دینگے اور کمی نہ کرینگے۔ (لیکن) یہی لوگ ہیں اِن کا آخرت میں جہنم کے علاوہ کوئی حصہ نہیں۔ اور ضائع ہو گیا جو یہ (محنت) کرتے تھے اور رائیگاں ہو گیا جو یہ عمل کرتے تھے“۔

    ومن الناس من یقول ربنا اتنا فی الدنیا حسنہ ومالہ فی الآخرہ من خلاق

    ”لوگوں میں سے جو یہ کہتا ہے کہ اے ہمارے رب ہمیں صرف دُنیا میں ہی خوشیاں دے تو اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں“۔

    مادہ پرست حرام خوروں کا دوسرا وصف یہ ہے کہ حرام خوری اُن کا اوڑھنا بچھونا ہوتا ہے۔ وہ حرام خوری کے سرگرم کارکن ہوتے ہیں۔ یہ عین ممکن ہے کہ ایک مخلص مومن کی روزی کا ایک حصہ حرام پر مبنی ہو لیکن یہ ممکن نہیں کہ مومن کا اوڑھنا بچھونا، اول وآخر، ساری بھاگ دوڑ حرام روزی ہو۔ اور جن لوگوں کی زندگی سراسر حرام روزی کے اردگرد گھومتی ہے، اُن کی زندگی سے سارا مذہب نابود ہو جاتا ہے۔ آپ نے کبھی دیکھا کہ سرمایہ داروں کو کال گرلز سپلائی کرنے والا نماز پڑھتا ہو۔ کھیلوں اور گھوڑوں کی ریس میں شرطیں لگا کر لاکھوں روپے جیتنے یا ہارنے والا مذہب سے محبت رکھتا ہو۔ دو باریک کپڑے کے چیتھڑے پہن کر رقص کرنے والی فاحشہ نماز کی پابند ہو۔ نیم عریاں لباس پہن کر اولمپک گیمز میں حصہ لینے والی نام نہاد مسلم خاتون عام زندگی میں مذہبی خاتون ہو۔ مسلم معصوم معاشرے میں ننگی فلموں کے نیٹ ورک کی سرپرستی کرنے والے اور فحاشی کو پھیلانے والے خوفِ خدا رکھتے ہوں۔ انڈر ورلڈ میں چھٹے ہوئے غنڈوں کی سرپرستی کرنے والے سیاستدان نیک اور دیندار ہوں۔ مذہبی حلقوں میں دہشت گردی کرانے والے بدمعاش نما سیاسی لیڈر انسانیت اور کسی مذہب کے خیر خواہ ہوں۔

    کیا آپ کا مشاہدہ ہے کہ بوگس ہاؤسنگ سکیم کے ذریعے غریب عوام سے کروڑوں روپے لوٹ کر غائب ہونے والے مذہبی اور دیندار ہونگے۔ جعلی ویزوں کے کاروبار میں سینکڑوں لوگوں کو دھوکہ دینے والے مذہبی ہونگے۔ قوم کا کروڑوں کا خزانہ لوٹنے والے اور معاف کرانے والے دِلوں میں کافی خوف خدا رکھتے ہونگے۔

    کیا آپ سوچ سکتے ہیں کروڑوں کی فیکٹری کو خود آگ لگا کر انشورنس کمپنی سے پیسے اینٹھنے والے متقی اور پرہیز گار ہونگے۔ غریب مزارعین کے گھروں سے عورتوں کو اٹھوا لینے والے جاگیردار مذہبی ذہنیت رکھتے ہونگے۔

    اللہ تعالیٰ نے کافر منافقوں کا وصف بیان کیا ہے کہ وہ حرام کھانے میں سرگرم ہوتے ہیں۔ کسی مومن کا ایسا وصف بیان نہیں ہوا۔

    تریٰ کثیراً منھم یسارعون فی الاثم والعدوان واکلھم السحت (مائدہ: ٦٣)

    ”تو اُن میں سے اکثر کو دیکھیے گا کہ وہ گناہ، دشمنی اور حرام خوری میں سرگرم ہونگے“۔

    ایسے حرام خوروں کو زندگی بھر نیکی، راستی اور بھلائی کے راستے کو اپنانے کی توفیق نہیں ہوتی۔ الا یہ کہ اللہ کسی پر خصوصی رحمت فرمائے۔

    بلی من کسب سیئہ واحاط بہ خطیئتہ فاولئک اصحاب النار ھم فیہا خالدون (بقرہ: ٨١)

    ”کیوں نہیں جس نے (ساری زندگی) بُرائیاں کمائیں اور اُس کے گناہوں نے اُس کو چاروں طرف سے لپیٹ لیا (یعنی نیکی، بھلائی اور خیر خواہی کی کوئی جگہ باقی نہ رہی) یہی لوگ جہنمی ہیں، اس میں ہمیشہ رہیں گے“۔

    حلال رزق کے بغیر اللہ سے تعلق ممکن نہیں:

    ایک مذہبی انسان کی زندگی اللہ تعالیٰ کی ذات کے اردگرد ہی گھومتی ہے۔ سو رہا ہے تو اللہ کو یاد کر رہا ہے، نیند سے بیدار ہو رہا ہے اللہ کو یاد کر رہا ہے، اہل خانہ سے شفقت وعنایت کا سلوک کر رہا ہے تو اللہ کا تصور اور اُس کی رضا دِل میں ہے۔ دُکان پربیٹھا ہے تو اللہ پر توکل اور تکیہ کرکے بیٹھا ہے اور اُس سے ہی رزق کی آس لگائے بیٹھا ہے۔ اچانک کسی پریشانی، تکلیف، بلا میں مبتلا ہو گیا تو اللہ سے ہی رَو رَو کر التجائیں کر رہا ہے۔ مصیبت ٹل گئی تواللہ کے سامنے تشکر کے چمکتے، اُبلتے آنسو بہاتا ہے اور اُس کی حمد وثناءسے زبان نہیں تھکتی۔ یہ خالص مذہبی کیفیات وجذبات حلال روزی کے بغیر حاصل نہیں ہوتے۔

    اللہ مصیبت ڈالتا ہے اور اللہ ہی مصیبت سے چھٹکارا دِلاتا ہے یہ کوئی افسانہ یا منہ کی کہی بات نہیں۔ کائنات کی ازلی وابدی حقیقت ہے۔ اور دُعا اللہ سے مناجات، محبت، تعلق اور رشتے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اگر کسی انسان پر پابندی لگا دی جائے کہ تو نے اللہ سے دُعا نہیں مانگنی تو اُس کے دامن میں اور زندگی میںامن وسلامتی اور خوشی ومسرت کیلئے کچھ نہ رہے گا۔ مذہبی زندگی، نیکی بھلائی اور تقوے والی حَیات کا دُعا کے بغیر کوئی تصور نہیں۔ اور حرام خور کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے ذریعے کہلوا دیا کہ حرام خور کی دُعائیں قبول نہیں ہوتیں۔ وہ دُعائیں چاہے سونے جاگنے کی ہو یا نماز میں داخل ہوں۔مسجد میں داخل ہونے یا نکلنے سے متعلق ہوں، قضائے حاجت، خورونوش سے متعلق ہوں یا دُنیا وآخرت کی بھلائیوں سے متعلق ہوں، روزے، زکوٰت کی قبولیت کے متعلق ہوںیا شیطان اور آفتوں سے پناہ کے متعلق ہوں۔ حرام خور کی دُعائیں قبول نہیں ہوتیں۔

    مسلم شریف کی حدیث ہے نبی اکرم نے فرمایا:

    ”اللہ تعالیٰ پاکیزہ ہے وہ پاکیزہ چیز کو ہی قبول کرتا ہے اور بے شک اللہ نے مومنوں کو اُسی چیز کا حکم دیا جو اُس نے رسولوں کو حکم دیا (یعنی حلال کھانا) .... پھر آپ نے ایک آدمی کا ذکر کیا جو لمبا سفر کرتا ہے۔ پراگندہ اور غبار آلود بالوں والا ہے۔ اپنے ہاتھوں کوآسمان کی طرف پھیلا کر کہتا ہے۔ اے میرے رب، اے میرے رب۔ اُس کی دُعا کیسے قبول ہو حالانکہ اُس کا کھانا حرام کا ہے اُس کا پیناحرام کا ہے اور اُس کا لباس حرام کا ہے اور اُس کو حرام کی غذا دی جاتی ہے“۔ (مشکوٰہ۔ کتاب البیوع۔ باب الکسب وطلب الحلال) [حرام خور کی دُعائیں قبول نہیں ہوتیں۔ لیکن حرام خور کی نمازوں اور روزوں کی عدمِ قبولیت کے متعلق ہمیں کوئی صحیح، صریح نص نہیں ملی۔ عام طور پر یہ مشہور ہے کہ حرام کھانے والے کی کوئی عبادت قبول نہیں۔ یہ بات غلط ہے۔ نماز اور روزے بدنی عبادتیں ہیں جو صرف دُعاؤں پر مشتمل نہیں لہٰذا نماز وروزے کی عدم قبولیت کو دُعاؤں پر قیاس نہیں کرنا چاہئے۔ البتہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ نماز روزے کا مقصد تقویٰ اور دِل کا نرم ورقیق ہونا ہے۔ اگر نماز و روزے کے باوجود انسان حرام روزی کو نہ چھوڑے تو اُس عبادت میں اِخلاص وللہیت کس طرح ہو سکتی ہے۔]

    حرام خور کا کوئی مالی صدقہ اللہ کے ہاں شرف قبولیت نہیں پاتا۔ اِس بارے میں قرآن کی نصوص بھی موجود ہیں اور احادیث شریفہ بھی۔

    یایھا الذین آمنوا انفقوا من طیبات ماکسبتم ومما اخرجنا لکم من الارض ولا تیمموا الخبیث منہ تنفقون ولستم باخذ یہ الا ان تغمضوا فیہ (بقرہ: ٢٦٧)

    ”اے ایمان والو اپنی حلال وپاکیزہ کمائی میں سے (اللہ کی راہ میں) خرچ کرو .... اور گندی اور پلید چیز کا قصد نہ کرو۔ کہ اُس سے تم خرچ تو کرتے ہو حالانکہ تم خود اُس کو قبول نہیں کرتے۔ اِلاّ یہ کہ چشم پوشی کرو“۔

    اِسی طرح متفق علیہ حدیث ہے:

    ولا یقبل اللّٰہ الا الطیب (مشکوٰہ۔ کتاب الزکوٰت۔ باب فضل الصدقہ)

    ”اللہ تعالیٰ صرف پاکیزہ اور حلال چیز کو ہی قبول کرتا ہے“۔

    اِن نصوص سے ثابت ہوتا ہے کہ حرام خور کا کوئی صدقہ قبول نہیں ہوتا۔ اِسی طرح جو لوگ عید الاضحی کے موقع پر حرام روزی سے موٹے تازے بکرے خریدتے ہیں اُن کی قربانی قبول نہیں ہوتی۔

    اور جو حرام کمائی سے حج کرنے جاتے ہیں، اُن کا بھی غالب امکان ہے کہ اُن کا حج قبول نہیں ہوتا کیونکہ اُن کے سفر کے اخراجات اور رہائش خوراک حرام کمائی سے ہوتا ہے۔

    حرام کمائی سے معاشرہ میں ظلم وفساد پھیلتا ہے:

    حرام کمائی صرف ایک مذہبی جرم نہیں بلکہ یہ معاشرہ کے اندر ظلم، فساد، بدامنی اور تشدد کا ایک ذریعہ ہے۔ حرام کمائی سے اولاً اللہ تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں۔ لیکن اِس کے ساتھ ساتھ اِنسان اپنے پاؤں پر بھی کلہاڑی مارتا ہے اور اپنے بھائیوں کا بھی گلا کاٹتا ہے۔ بظاہر بے ضرر نظر آنے والی حرام کمائیاں بھی اپنے نتیجہ میں ظلم اور فساد کے سوا کچھ نہیں۔

    وڈیو فلمیں / فحش موویاں بیچنے والا صرف حرام نہیں کماتا بلکہ ایک ایسی آگ لگاتا ہے جس کی زد میں کئی انسان وحشی جانور بنکر معصوم بچیوں پر ظلم کرتے ہیں اور یہ ظلم صرف زنا سے ہی نہیں پیار ومحبت کے ناٹک سے بھی ہوتا ہے جس کی وجہ سے معصوم لڑکی کی نفسیات بگڑ جاتی ہے اور اُس کی آئندہ ازدواجی زندگی بھی شکوک وشبہات کی نذر ہو جاتی ہے۔

    سگریٹ بیچنے والے صرف حرام ہی نہیں کماتے بلکہ قوم وملت کے کروڑوں روپے تمباکو میں جلانے کے مرتکب ہوتے ہیں جس سے کمزور اور دمہ والی مخلوق جنم لیتی ہے۔

    رشوت لیکر کام کرنے والا سرکاری افسر صرف حرام نہیں کھاتا بلکہ اُس معصوم بے گناہ انسان سے رِزق کا لقمہ بھی چھین لیتا ہے جو گاڑھی محنت کی کمائی سے چند روپے کماتا ہے۔

    حکومت کے تعمیراتی فنڈ میں گھپلا کرنے والا صرف حرام نہیں کھاتا بلکہ ناقص پل، عمارتیں بنا کر سینکڑوں لوگوں کی جان کو بھی ہلاکت میں ڈالتا ہے۔

    اِسی طرح سے ہر حرام کمائی کی تہہ میں ظلم، بربریت، بے گناہوں کا خون، تشدد اور نفرت انگیز منظر ملے گا۔ اِسی لئے اللہ تعالیٰ نے شریعت کی نافرمانی کو ”فساد فی الارض“ قرار دیا ہے۔

    فساد صرف یہی نہیں کہ خون کی ندیاں بہیں، چوری اور ڈکیتی ہو، خانہ جنگی اور مذہبی لوگوں کی قتل وغارت ہو۔ بلکہ یہ بھی فساد ہے کہ کلرک رشوت کے بغیر کوئی کام نہ کرے، پروفیسر و لیکچرر کالج کی بجائے اپنی کوٹھی پر ٹیوشن پڑھانے میں زیادہ دلچسپی رکھے، سرکاری ڈاکٹر سرکاری ہسپتال میں بیٹھ کر مریضوں کا صحیح علاج کرنے کی بجائے اپنی کوٹھی پر بلائے۔

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

    ظھر الفساد فی البر والبحر بما کسبت ایدی الناس (الروم: ٤١)

    ”خشکی اور سمندر میں فساد برپا ہو گیا، اس وجہ سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائی کی“۔

    وما اصابکم من مصیبہ فبما کسبت ایدیکم (شوری: ٣٠)

    ”تمہیں جو بھی مصیبت پہنچتی ہے وہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی سے ہے“۔

    ومن یکسب اثماً فانما یکسب علے نفسہ (نساء: ١١١)

    ”جو گناہ کماتا ہے وہ اپنی جان کے خلاف گناہ کماتا ہے“۔

    دُنیا کے اندر حرام خوری کس قدر قابلِ نفرت اور قبیح ہے کہ وہ ظلم وستم کے علاوہ کچھ نہیں۔ لوگ حرام خوری کرکے اپنے ہی ملک وملت اور معاشرے پر ظلم کرتے ہیں۔ جس شاخ پر بیٹھتے ہیں، اُسی کو ہی کاٹتے ہیں تاکہ دوسروں کے ساتھ ساتھ خود بھی دھڑام سے نیچے گر کر چکنا چور ہو جائیں۔

    حرام خوری کی سزا دُنیا میںبھی ملتی ہے لیکن اِس کی اصل سزا تو آخرت میں ہوگی اور آخرت مظلوموں کیلئے اور اذیت دیئے گئے مذہبی لوگوں کیلئے ایک دلکش ترانہ ہے جب ظلم کا حساب ہوگا اور دُنیا میں مشقت جھیلنے والوں کو اُن کی مزدوری دی جائے گی۔

    کتب علے نفسہ الرحمہ لیجمعنکم الی یوم القیامہ (انعام: ١٢)

    ”اللہ نے اپنے اوپر رحمت کو لازم کر دیا کہ وہ ضرور تم کو قیامت کے دِن جمع کریگا (یعنی یہ آخرت مظلوموں اور ستائے ہوئے مذہبی لوگوں کیلئے رحمت ہوگی)“۔

    حرام خور کے ساتھ معاشرتی تعلقات (چند فقہی مسائل):

    کسی بھی فاسق فاجر انسان سے معاشرتی تعلقات رکھنا اُس وقت جائز، افضل اور مستحب ہیں جب اُس کی اصلاح و خیر خواہی کی نیت اور کوشش ہو۔ کسی اُخروی مقصد یا شرعی ضرورت کے بغیر فقط تفریحی غرض سے فاسق فاجر کے ساتھ تعلقات رکھنا مکروہ ہے اور الحب للّٰہ والبغض فی اللّٰہ کے خلاف ہے۔

    یہی صورتحال حرام خور لوگوں کی ہے۔ شرعی ضرورت اور ناگزیر دُنیوی حاجت کے بغیر حرام خور سے تعلقات پالنا ناپسندیدہ ہے۔ لیکن اِس کے ساتھ ساتھ حرام خور کا ایک زائد حکم بھی ہے جو عام فاسق فاجر سے جُدا ہے۔ وہ زائد حکم یہ ہے کہ حرام خور کی حرام کمائی والے تحائف قبول کرنا، دعوتِ ولیمہ قبول کرنا، دینی اُمور کیلئے چندہ لینا وغیرہ جائز ہے؟ اِس بارے میں اہل علم نے زیادہ سوچ وبچار کی ضرورت نہیں سمجھی حالانکہ یہ دورِ حاضر کا ایک اہم مسئلہ ہے۔ خصوصاً جبکہ اِس بارے میں بعض لوگ بہت متشدد اور بعض بہت متساہل ہیں۔ حرام خور کے مالی تحائف وصدقات کی قبولیت کو ہم درج ذیل اُمور میں تقسیم کر سکتے ہیں۔

    (1 جِس شخص کی صدفی صد کمائی حرام کی ہو۔ مثلاً وہ فحش فلموں کا پروڈیوسر ہو، سرکاری افسروں کی رشوت کا دلال ہو، ایسے بنک کا ملازم ہو جس کا سارا کاروبار سودی ہو وغیرہ۔ ایسے شخص سے تحائف قبول کرنا، صدقات قبول کرنا قطعاً حرام ہے۔ اور ہم نے اِس بارے میں فقہاءکا کوئی اختلاف نہیں پایا۔ ایسے شخص کی کمائی شرعی طور پر مضرات کا سبب بنتی ہے۔ وہ مذہبی لوگوں کی خدمت کو احسان جتلانے، سیاسی یا دنیوی اغراض کے حصول کا ذریعہ بناتا ہے۔

    (2 جس شخص کی کچھ کمائی حلال کی ہے اور کچھ کمائی حرام کی ہے تو غالب مقدار کا اعتبار کیا جائے گا۔ ظاہر ہے کہ فحش فلموں کی دُکان کی کمائی کی کیفیت اُس دیندار کریانہ سٹور والے کی کمائی سے مختلف ہے جو گھی، دالیں، چینی کے ساتھ ساتھ سگریٹ بھی بیچ رہا ہے۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حلال کمائی میں ایک قطرہ حرام کا شامل ہو جائے تو ساری کمائی فاسد ہو جاتی ہے اور ایسی فاسد کمائی والے سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہیے۔ یہ نظریہ شرعی دینی لحاظ سے بھی انتہائی تباہ کن ہے اور بلا دلیل ہے۔ اور دُنیوی بصیرت کے اعتبار سے بھی ناروا تشدد ہے۔ اہل علم کی تصریحات میں اِس قسم کی کوئی بات نہیں ملتی۔

    فقہائے حنابلہ نے اپنے ایک قول میں لکھا ہے کہ جس شخص کی کمائی جس قدر زیادہ حرام مقدار پر مبنی ہوگی اُسی قدر اُس کا ہدیہ وغیرہ قبول کرنا مکروہ ہوگا۔

    وقال الحنابلہ: تکرہ اجابہ من فی مالہ حرام کاکلہ منہ ومعاملتہ وقبولہ ھدیتہ وھبتہ وصدقتہ وتقوی الکراھہ وتضعف بحسب کثرہ الحرام وقلتہ (منار السبیل۔ جلد ٢ ص ٢٠٥ الفقہ اسلامی وادلہ، جلد ٧ ص ١٢٦)

    اُس کے مقابلے میں فقہائے احناف لکھتے ہیں کہ جس شخص کی کمائی کا اکثر حصہ حرام ہو تو اُس کا ہدیہ قبول کرنا حرام ہے۔ اگر اکثر حصہ حلال ہے تو اُس کا ہدیہ قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

    ولا یجوز قبول ھدیہ امراہ الجو لان الغالب فی مالھم الحرمہ الاّ اذا علم انّ اکثر مالہ حلال (الفتاوٰی العالمگیریہ۔ جلد ٥ ص ٣٤٢)

    فتاویٰ عالمگیری کے حاشیے میں فتاویٰ بزازیہ میں لکھا ہے:

    غالب مال المھدی ان (کان) حلالا لا باس بقبول ھدیتہ واکل مالہ مالم یتعین انہ من حرام۔ وان (کان) غالب مالہ الحرام لا یقبلھا ولا یاکل الاّ اذا قال انّہ حلال ورثہ او استقرضہ (فتاویٰ بزازیہ۔ جلد ٦ ص ٣٦٠۔ کتاب الکراھیہ)

    کتاب الفقہ علے المذاہب الاربعہ، عبدالرحمن الجزیری میں شافعیوں کے حوالے سے لکھا ہے:

    ان لا یکون اکثر مال الداعی حراماً فان کان کذلک فان اجابتہ تکرہ فلو علم ان عین الطعام الذی یاکل منہ مال حرام یحرم ان یاکل منہ (کتاب الفقہ علے المذاہب الاربعہ۔ جلد ٢ ص ٣٨)

    شافعیوں کا درج بالا نظریہ بھی حرام کی کثرت والے مال کے تحائف کو مکروہ قرار دے رہا ہے۔

    ہمارا رحجان بھی اسی طرف ہے کہ اگر کسی شخص کی اکثر کمائی حرام کی ہے تو اُس کا ہدیہ، تحفہ، دعوت وغیرہ قبول کرنا جائز ہے اور پرہیز افضل ہے۔ البتہ اِس بات کا خاص دھیان رہے کہ اُس کا رویہ دین کے ساتھ اور دینداروں کے ساتھ کس طرح کا ہے۔ کیا یہ تعلق نفرت وحقارت کا ہے یا احترام ومحبت کا ہے؟ اگر اُس کا تعلق نفرت وحقارت کا ہوگا تو اُس سے ہدیہ وتحفہ، چندہ وغیرہ لینے میں کوئی دینی مصلحت نہیں کیونکہ وہ اللہ کا دشمن ہے اور اللہ کے احکام کا بدخواہ ہے۔

    اور اگر اُس کا تعلق احترام ومحبت کا ہے تو ایسے شخص کا ہدیہ، تحفہ، چندہ وغیرہ اُس کی اصلاح، تزکیہ نفس اور نفس کی پختگی کا باعث بنے گا۔ اور ممکن ہے کہ وُہ دینداروں کی محبت سے فیضاب ہو کر اپنے کاروبار کی مکمل اصلاح کر لے۔

    اِس ضمن میں یہ فقہی قول بھی کافی وزن رکھتا ہے کہ حرام کمائی کی قباحت شدید سے شدید تر ہوتی جائے گی اگر حلال روزی میں حرام کی مقدار بھی بڑھتی جائے گی۔

    (3 اِس بارے میں اہل علم کا کوئی اختلاف نہیں کہ اگر کوئی شخص کسی حرام خور کے گھر کی تعمیر کرتا ہے یا اُس کے کپڑے سی کر دیتا ہے یا کوئی اور جائز خدمت سرانجام دیتا ہے تو وہ اپنی خدمت کا معاوضہ لے سکتا ہے اگرچہ معاوضہ دینے والا مکمل طور پر حرام خور ہو۔

    حلال وحرام کے اِس مضمون میں ہم نے حتی المقدور جدوجہد اور محنت کے ذریعے صواب اور خیر خواہی کو تلاش کرنے کی کوشش کی ہے تاہم حقیقت کا کامل علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ اللہ کے علم کے مقابلے میں ہمارے علم کی کوئی حیثیت نہیں۔

    سبحانک لا علم لنا الا ما علمتنا انک انت السمیع العلیم وتب علینا انک انت التواب الرحیم

     
  4. sahil_jaan

    sahil_jaan Guest

    حلال و حرام کے حوالے سے بہت عمدہ تحقیق پیش کی ہے
     

Share This Page