1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

مشاہدہ ارض وسماوات

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by IQBAL HASSAN, Apr 27, 2015.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Management





    مشاہدہ ارض وسماوات

    .........................
    ہم بے پایاں کائنات کے کسی مختصر سے گوشے میں بس رہے ہیں۔ اس کی وسعت ایک جہان ملکوتی پر دلالت کرتی ہے۔ زمین اور اس میں بسنے والی تمام مخلوقات رب کائنات کے حکم سے پیدا ہوئے، وہ رب جو ہر چیز کو عین سے درست کرکے اُس کے مناسب حال کام سونپتا ہے۔

    اگر ہم اپنے بظاہر معمولی ڈیل ڈول کا بغور مشاہدہ کریں تو ہمیں برملا اس بات کا اقرار کرنا ہو گا کہ اس وجود کا خالق بڑی قدرتوں اور مہارتوں کا مالک ہے، وہ حکیم ہے، علیم ہے، جیسے اس کے کمالات لامتناہی ویسے اس کی تعریف لامتناہی۔

    اِس پُرانکشاف دور میں بھی کائنات کے ہزاروں راز ہماری دسترس سے باہر ہیں۔ جتنا کچھ ہم پر منکشف ہو چکا ہے وہ کتنا حیرت انگیز اور محیرالعقول ہے۔ کائنات کے جن رازوں تک ہماری رسائی نہیں ہے اس میں خدا کی کتنی نشانیاں ہوں گی، اس کا تصور کرنا بھی ہمارے ادراک سے باہر ہے۔ اسی طرف قرآن سورہ مومن کی آیت ٥٧ میں ہماری حیرت کو دوچند کرتا ہے۔

    لَخَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ

    ”آسمان اور زمین کا پیدا کرنا انسانوں کو پیدا کرنے کی بہ نسبت یقینا زیادہ بڑا کام ہے۔ مگر اکثر لوگ (اس بات کو) جاننے کی کوشش نہیں کرتے۔

    جب کوئی موجد کوئی نیا آلہ ایجاد کرتا ہے تو ہم اُس موجد کی عقل اور کاری گری کی تعریف کئے بغیر نہیں رہتے، اب جس قدر وہ آلہ حمد وکارگزاری اور نفاست سے تیار ہوا ہو گا اُس قدر ہماری حیرت اور قدردانی میں اضافہ ہوگا۔ ہم حیرت زدہ ہو کر کہتے ہیں: واہ! حیرت انگیز، کمال کر دیا اس سے بڑھ کر اور کیا کاری گری ہو سکتی ہے! نوبل پرائز ....

    اب ذرا سوچیں، اس پوری کائنات کو بغیر کسی سابقہ نمونے کے عدم سے وجود میں لانے والا موجد کتنا عظیم الشان ہوگا، زندہ اجسام کا ایک ایک خلیہ اور بے جان چیزوں کا ایک ایک سالمہ، بدلتی رُتیں جن کے طفیل انواع واقسام کے پھل اور اناج وافر مقدار میں پیدا ہوتے ہیں۔ یہ سب مخلوقات ایک نغمے کے دھیمے دھیمے بول بولتی ہیں۔

    ِ وَمَنْ عِندَهُ لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ وَلَا يَسْتَحْسِرُونَ (١٩)

    ”اور جو اس کے پاس ہیں وہ نہ اپنے آپ کو بڑا سمجھ کر اُس کی بندگی سے سرتابی کرتے ہیں اور نہ ملول ہوتے ہیں“۔

    يُسَبِّحُونَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ لَا يَفْتُرُونَ (انبیاء: ٢٠)

    ”شب روز اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں، دم نہیں لیتے“۔

    گردوپیش پھیلی ہوئی کائنات ہر نارمل انسان کے لئے وہ پہلی چیز ہے جو اُسے متاثر کرتی ہے۔ اس کائنات پر غور وخوض سے ایمان میں نئی تازگی پیدا ہوتی ہے۔ ہاں کسی ذہنی مریض کے لئے اس میں کوئی کشش نہیں ہے، ایسا شخص جو کسی چوپائے کی طرح رنگ وخوشبو سے متاثر نہیں ہوتا۔ کائنات کے مشاہدے سے صرف نظر کرنا، خدا اور بندے کے درمیان دبیز چادر ڈال دیتا ہے۔ دوسری طرف یہ قرآن کے ارشادات سے روگردانی اور اپنے فرائض سے شدید قسم کی غفلت ہے۔

    اگلی سطور پر ہم کائناتی مشاہدے کی وہ صحیح سمت قرآن مجید سے اخذ کریں گے جس کی طرف آیات ربانی بار بار توجہ دلاتی ہیں۔

    قرآن مجید ہمیں یقین دلاتا ہے کہ کائنات ایک بیش قیمت اور عمدہ تخلیق ہے، خود اس کا خالق اس کے حسن اور آہنگ کی تعریف کرتا ہے۔ اب کائنات کی اپنی بنائی ہوئی چیز کی تعریف کرنے سے یہ غرض نہیں کہ اُسے پیدا کرنے میں اُس کا وقت یا صلاحیت صرف ہوئی بلکہ یہ اس کی اہمیت کو دوچند کرنے کے لئے ہے۔ کائناتی عمارت کی ایک ایک اینٹ حق کے ساتھ جوڑی گئی ہے۔ جس طبعی قانون کے تحت وہ جکڑی رہتی ہیں اُس سے خدا کی بے مثال اور بے پایاں قدرت نمایاں ہوتی ہے جو نہایت پرکشش اور جاذب نظر ہے۔ مَا خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ وَأَجَلٍ مُّسَمًّى (احقاف: ٣)

    خدا شناسی ادھوری رہتی ہے جب تک کائنات میں کارفرماں اس کی حکمتوں اور اصول وضوابط سے ہم غیر آشنا رہتے ہیں، اللہ کے پیغام کو بھی جب تک ہم اس سے غافل رہیں گے نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہ بات نہایت تکلیف دہ ہے کہ اس زمانے میں جبکہ کائناتی مشاہدہ جاہلی طرز پر ترقی پا رہا ہے، ایمان لانے والوں کی اکثریت کے حصے میں صرف حیرت زدہ ہونا رہ گیا ہو حالانکہ قرآن کا پیغام یہ تھا کہ کائنات تمہاری خدمت کے واسطے مسخر کی گئی ہے تاکہ اس کی اطاعت اور عبادت میں شکرانے کی کیفیت بھی شامل ہو۔

    برسبیل مثال، ہماری زمین کا تین چوتھائی حصہ پانی پر مشتمل ہے۔ کسی گیند کی طرح اپنے چار اطراف اور فضا میں اس پانی کی کثیر مقدار ہر وقت موجود رہتی ہے۔ اس کے باوجود زمین کا معمور حصہ نہ اس پانی سے ڈوبتا ہے اور نہ ہی بہہ جاتا ہے۔ آخر وہ ہستی کتنی زور آور ہے جو ہمہ وقت اس بھپرتے پانی کو تھام کر رکھتی ہے۔

    گردش آب بھی ایک عجوبہ ہے۔ ہم اور ہمارے مویشی پھر ہمارے کھیت کھلیان اس پانی کی کثیر مقدار استعمال کرتے ہیں۔ یہ پانی پھر قدرت کے نظام اور اس کی دانائی سے پھر رِس رِس کر بادلوں میں اور بادلوں سے پھر مینہ کی شکل چشمے اور دریائوں کی شکل میں جمع ہوجاتا ہے اور زمین کے کل پانی میں نہ کوئی کمی ہوتی ہے اور نہ زیادتی، پانی کی اس متواتر گردش کی طرف قرآن نے ہماری رہنمائی اس طرح کی ہے۔

    ترجمہ: ہم نے زمین وآسمان کو اور ان ساری چیزوں کو جو ان کے درمیان ہیں برحق اور ایک مدت خاص کے تعین کے ساتھ پیدا کیا ہے۔

    کائنات میں موجود اللہ تبارک وتعالیٰ کی نشانیوں کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کرنا کیا کوئی دانش مندی ہوگی! کائنات کو نظر انداز کرنے والے ایسے ہیں جیسے بیش قیمت موتی کو کانچ سمجھنے والے، وہ کسی چوپائے کی طرح پھلواڑی کو چر جاتے ہیں رنگوں اور خوشبوئوں سے انہیں کوئی غرض نہیں ہوتی۔

    ایک بت پرست سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ کائنات اور اس کے خالق تک رسائی نہ کر سکے مگر قرآن کے پیروکار کائنات سے لاتعلق رہیں یہ قرآنی تعلیمات سے جہل ہے۔ قرآن پوری انسانیت کو اس غور وفکر کی دعوت دیتا ہے تاکہ لوگ اس کی قدرت کو پہچان کر ایمان لے آئیں۔ سورہ بقرہ: ٢١۔٢٢

    جہاں یونانی فلسفے نے کائنات کی مادی تعبیر کی ہے وہاں دوسری طرف بعض زہد کے دعوے دار دنیا سے لاتعلق ہونا اور کائنات سے غافل ہو کر خود زندگی سے ہی نفرت کرنا دین داری کی اعلیٰ قدر گردانتے ہیں اس فکر نے بھی اسلامی خالص تصور حیات کو کوئی کم نقصان نہیں پہنچایا۔ زہد اور ورع کی یہ قسم گزشتہ زمانے میں اتنا رواج پا گئی تھی کہ اُس سے مسلمانوں کو پے درپے شکستوں کا سامنا کرنا پڑا اور دنیا وآخرت دونوں میں سخت ہزیمت اٹھانا پڑی۔

    ایسا شخص جو اپنے ہاتھ کو اس وجہ سے کاٹ دے کہ اُس ہاتھ سے گناہ کا ارتکاب ہوا ہے، زاہد نہیں کہلا سکتا۔ جاحظ لکھتا ہے کہ اُسے ایک شخص ملا جس نے اپنے آپ کو عضو تناسل سے محروم کر دیا تھا۔ وہ کہتا تھا کہ اِس سے شہوت ہوتی ہے اور گناہ میں پڑنے کا اندیشہ رہتا تھا۔ یہ کارنامہ بہت سے ایمان داروں کے لئے شاید عمدہ سیرت رہا ہو۔ ایسے شخص کا تصور حیات کتنا تنگ نظری اور سلبی تصور لئے ہوئے ہے۔ آرام، تندرستی، گوشہ تنہائی اور عبادت کے لئے فقیرانہ روش، کنج تنہائی، قرآن کا ایسی تعلیم سے کوئی تعلق نہیں۔ کائنات کی وسعتوں سے وحشت زدہ ہونے والے قرآن کی دعوت سے نابلد ہی رہتے ہیں دنیا، دنیا داروں کے لئے چھوڑ دینا نیکی نہیں بلکہ بدی میں اضافہ کرنے میں تعاون ہے وہ اپنے اپنے طریق زندگی کو رائج کریں گے اور اس کی مضبوطی اور پائیداری کا بندوبست کر لیں گے۔

    یہ اسلامی فکر سے انحراف اور کج روی ہے اگرچہ ہمارے بیشتر عوام اسی طرزفکر کو درست سمجھتے ہیں ہمارے عوام جو اس بھرے پڑے جہاں میں تنہا بے یارومددگار، بے خاماں اور لاچار ہو کر رہ گئے ہیں۔

    قرآن جس تصور حیات کو ایمان داروں کے لئے تجویز کرتا ہے وہ کائنات سے ایک مربوط تعلق پر مبنی ہے۔ ایسا تعلق جس میں کائنات اس کے مشاہدے کا مستقل حصہ ہو اور اس سے روز بروز بڑھتی ہوئی آگاہی ہی وہ اخلاقی قدر ہے جو کج فہمی کا مداوا کرتی ہے۔

    کیا اس جہاں میں کوئی ایسی مخلوقات بھی متعارف ہوئی ہیں جن کا پیدا کرنے والا اللہ کے سوا کوئی اور ہو۔ کیا حیوانات کا خالق کوئی اور انسان کا خالق کوئی دوسرا الہ ہے، کیا سورج کا خالق اور زمین کا خالق دو الگ الگ ہستیاں ہیں۔ اس کائنات کا مربوط نظام اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ ان سب کو پیدا کرنے اور ایک مربوط نظام سے منسلک کرنے والی ہستی ایک ہی ہے۔ اسی طرف سورہ لقمان کی یہ آیات توجہ دلاتی ہیں۔

    (سورہ لقمان: ١۔١١)

    ترجمہ ”ا۔ ل۔ م یہ کتاب حکیم کی آیات ہیں۔ ہدایت اور رحمت نیکو کار لوگوں کے لئے، جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰت دیتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے راہ راست پر ہیں اور یہی فلاح پانے والے ہیں۔

    اور انسانوں ہی میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو کلام دلفریب خرید کر لاتا ہے۔ تاکہ لوگوں کو اللہ کے راستہ سے علم کے بغیر بھٹکا دے اور اس راستے کی دعوت کو مذاق میں اڑا دے۔ ایسے لوگوں کیلئے سخت ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔ اسے جب ہماری آیات سنائی جاتی ہیں تو وہ بڑے گھمنڈ کے ساتھ اس طرح رُخ پھیر لیتا ہے گویا کہ اس نے انہیں سنا ہی نہیں، گویا کہ اس کے کان بہرے ہیں۔ اچھا مژدہ سُنا دو اسے ایک دردناک عذاب کا۔ البتہ جو لوگ ایمان لے آئیں اور نیک عمل کریں، اُن کے لئے نعمت بھری جنتیں ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کا پختہ وعدہ ہے اور وہ زبردست اور حکیم ہے۔

    اس نے آسمانوں کو پیدا کیا بغیر ستونوں کے جو تم کو نظر آئیں۔ اس نے زمین میں پہاڑ جما دیئے تاکہ وہ تمہیں لے کر ڈُھلک نہ جائے۔ اس نے ہر طرح کے جانور زمین میں پھیلا دیئے اور آسمان سے پانی برسایا اور زمین میں قسم قسم کی عمدہ چیزیں اُگا دیں۔ یہ تو ہے اللہ کی تخلیق، اب ذرا مجھے دکھائو، اِن لوگوں نے کیا پیدا کیا ہے؟ .... اصل بات یہ ہے کہ یہ ظالم لوگ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں“۔
     
  2. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Management



    قرآن اسی سادہ طریقے سے عقیدے کو راسخ کرتا ہے۔

    آخرت کے وقوع پذیر ہونے پر جن لوگوں کو شبہ ہے قرآن نہایت آسان منطق سے اُن کا ایسا رد پیش کرتا ہے کہ جس کا جواب نہیں دیا جا سکتا۔ (سورہ ق: ٦۔١١)

    کیا دوسری بار کی زندگی بخشنا پہلی بار کی زندگی بخشنے سے مشکل ہے۔

    انسان جس غفلت، سرکشی، ناشکری اور ہٹ دھرمی میں پڑا ہے، قرآن اُسے اس طرح جھنجھوڑتا ہے۔ (سورہ ذاریات آیت 47-50

    نظارہ کائنات ایمان کی سوغات کو مہمیز دیا کرتا ہے۔ کائنات جو ایک خالق کی ترجمان ہے۔

    اللہ کی حمد اور اُسے پکارنے کا ایک ادب قرآن نے یہ بھی سکھا دیا ہے کہ دُعا مانگنے سے پہلے کائنات کی چند نشانیوں کا تصور قلب ذہن میں لایا جائے۔ زمین کا قابل حیات ہونا، زندگی کا قائم ہونا اور بڑھنا، انسان کی جسمانی اور روحانی تخلیق، سورہ مومن میں دُعاءکے لئے ہاتھ پھیلانے سے پہلے ان نعمتوں کا ذکر یوں ہوا ہے:

    ترجمہ: وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو جائے قرار بنایا اور اوپر آسمان کا گنبد بنا دیا، جس نے تمہارے صورت بنائی اور بہت خوب بنائی، جس نے پاکیزہ چیزوں کی فراوانی نے تمہیں بہرہ مند کیا، وہی اللہ تمہارا رب ہے بے حساب برکتوں والا، پوری کائنات کا رب، زندہ وجاوداں۔ اُس کے سوا کوئی معبود نہیں، اُسی کو تم پکارو اپنے دین کو اس کے لئے خالص کرکے۔ ساری تعریف اللہ رب العالمین ہی کے لئے ہے۔

    افروز ایمان کا ذریعہ جب کائنات نہ رہی تو اس کا نتیجہ کیا نکلا، قرآن نے جس نظر سے کائنات کے مشاہدے پر ابھارا تھا اُسے چھوڑ کر دوسرے نظریات سے کائنات کی توجیہ ہوئی تو کیا نتیجہ نکلا؟ کائنات کی توجیہ مبہم، فلسفیانہ ہو کر رہ گئی جو آزادی فکر کو ہی کھا گئی یا پھر محض اندھے قوانین کی کارستانی قرار پائی۔

    ہم نے بجائے کائنات کی ورق گردانی کے یونانی فلسفے کے دبیز اوراق میں اس کون ومکاں کی توجیہ تلاش کی۔ قرآن کی پکار ہمارے گوش گراں سے ٹکڑا ٹکڑا کر پلٹ گئی۔ بس ہم اُس تصور سے آگے نہ بڑھ سکے جہاں تک ہمارے اسلاف اپنی صاف فطرت کے ساتھ پہنچ گئے تھے، غیر مسلم نے وہ میراث لے کر آزاد مطالعے سے وہ ترقی کی کہ ہم ان کی گرد کو بھی نہ پہنچ سکے۔

    سائل پوچھتا ہے: اگر غیر مسلم نے کائنات کا مشاہدہ خوب خوب کیا ہے بلکہ ان کے تہذیب وتمدن کے سارے رنگ اسی مطالعے کا نتیجہ ہیں تو اس کائناتی مشاہدے سے وہ ایمان کیوں نہیں لاتے؟

    اس کا جواب یہ ہے کہ ترقی یافتہ اقوام کے بیشتر علماءایمان کی ایک قسم پر پہنچے ہوئے ہیں مگر یہ نہایت سطحی ایمان ہے جس کا خلاصہ یہ ہے اور اس کائنات کا ایک خالق ہے اور وہ بہت عظیم وشان والا ہے۔ لیکن یہ ادراک انہیں عبادات کی طرف نہیں لا سکا کہ وہ نماز پڑھیں استغفار اور تسبیح کریں یا دوسری عبادات بجا لاتے۔ عبادات کے لئے شریعت سے راہنمائی لی جاتی ہے اور شریعت کا ماخذ وحی ہے۔ جو ان کی طرف وحی کیا گیا تھا اسے وہ فراموش کر چکے اور جو وحی بعد میں نازل ہوئی اس سے وہ انکاری ہیں۔

    دوسری وجہ ہم مسلمان ہیں جنہوں نے اسلام کو اپنی زندگیوں میں نافذ نہیں کیا۔ نیز ہم تبلیغ اسلام سے تہی دست ہو کر بے فکرے ہو گئے۔ اسلام کا چلن ہماری زندگی میں نہ ہونا اور اس کا درخشاں نممونہ پیش نہ کر سکنے سے یہ نقصان ہوا کہ اسلام پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ انسانی فطرت، آزادی اور عقل کے استعمال پر پابندی لگاتا ہے۔

    تبلیغ اسلام سے غفلت کے نتیجے میں دنیا کی بیشتر اقوام اسلام کے بارے میں قطعی لاعلم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ قومیں ایمان نہ لا سکیں۔

    رب ذوالجلال نے زمین سے استفادہ لینے میں آزادی کو عام رکھا ہے خواہ مومن ہو، اس سے استفادے میں کافر محنت کرے اور مسلمان سست ہو جائے۔ تصور کریں کہ کافر بہترین کاشتکار ہو، کامیاب صنعت کار، نفع بخش کاروبار کا مالک اور بہترین انتظامی امور انجام دینے والا ہو، دوسری طرف ہم ان تمام میدانوں میں بس ادنی درجے کی کارکردگی دکھلانے والے ہوں۔

    بتائیے کیا ایمان کی یہ زبردست فتح قرار دی جائے، دانش اور لیاقت کو چھوڑ دینا مادی ترقی اور فنون لطیفہ میں کم ہمتی، ایمان کی ترقی ہوا کرتی ہے یا پھر ہر مرتبہ ہمیں ایک نئی قسم کی شکست اٹھانی ہوتی ہے۔ اس کا جواب ہم زباں سے نہیں زمینی حقائق میں تلاش کرتے ہیں۔

    انبیاءکرام کو آلات حرب بنانے اور لوہے پر قدرت حاصل کرنے کی خوبی کو قرآن نے کتنی آیات میں سراہا ہے۔ انبیاءکا یہ فرمان کتنا بامعنی ہے کہ نیکوکار نشانہ بازی، قلعوں کی تعمیر اور فن سپاہ گری میں مہارت تامہ پیدا کریں۔ ایک طرف صالح انسان کی یہ خوبیاں گنوائی جاتی ہیں اور دوسری طرف ہمارے ہاں صالح مومن وہ کہلاتا ہے جو ان تمام مہارتوں سے یکسر خالی ہو۔

    عسکری مہارت اور تکنیک کا تصور کریں۔ زمین سے زمین اور زمین سے فضا میں کسی چیز کو ہدف بنا کر میزائل داغنا یا پھر سمندر سے زمینی ہدف کو نشانہ بنانا موجودہ دور کی مہارت ہے۔ اس علم کو پانے میں کتنے دوسرے علوم کی مدد درکار ہوگی، فضا میں پائے جانے والے طبقات، زمین کی ساخت، آہن سازی، طبیعات، کیمیا، علم فلکیات اور نہ جانے کتنی اور سائنسیں۔

    کیا حضرت داؤد علیہ السلام آہن سازی میں مہارت محض وقت کاٹنے کیلئے حاصل کرتے تھے اور قرآن اُسے اپنی آیات سے درخشاں کر دیتا ہے۔ ان اعمل سابغات وقدر فی السرد (سباء: ١١) کیا ایک صالح انسان ذوالقرنین لوہا پگھلانے اور مختلف دھاتیں بنانے میں مہارت بلاوجہ رکھتے تھے، اسی طرح عسکری طرز پر قلعے تعمیر کرنے کی مہارت رکھنا۔ محض ان کا پیشہ رہا ہوگا۔

    کیا ایک کامیاب قائد محمد فاتح نے بغور تماشا یہ کارنامہ انجام دیا تھا کہ خشکی پر بحری بیڑا چلا کر دشمن کو گھیرا اور شکست دی۔

    جن لوگوں کے گمان میں کائنات کا علم حاصل کرنا اور زندگی سے شناسائی بچگانہ افعال ہیں اللہ کے دین سے ان کا کوئی تعلق نہیں اور عبادت تو بس بڑی بڑی تسبیحوں کے منکے الٹنا پلٹنا اور چند کلمات جن کا ورد زباں پر رواں دواں ہو وہ الفاظ جو زندگی سے خالی ہوتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جنہیں کوتاہ بیں کہا جاتا ہے اور یہی بے وقار لوگ ہوتے ہیں۔

    جب تک ہم قرآن کے بتلائے ہوئے طریقے پر کائنات کو درس گاہ نہیں بناتے ہم اسی طرح فراموش کئے جاتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

    (الحدید: ٥٢)

    ترجمہ ”ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا، اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں۔ اور لوہا اتارا جس میں بڑا زور ہے اور لوگوں کے لئے منافع ہیں۔ یہ اس لئے کیا گیا ہے کہ اللہ کو معلوم ہو جائے کہ کون اُس کو دیکھے بغیر اُس کی اور اُس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے۔ یقینا اللہ بڑی قوت والا اور زبردست ہے“۔

    محول بالا آیات کے اختتامی الفاظ اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے دو ناموں پر ختم ہوتے ہیں۔ قوی، عزیز، صاحب بصیرت کے لئے اس میں ایک اشارہ ہے قوت والا اور غالب و برتر ناقابل شکست۔ ان اسماءوصفات کے ذکر میں یہ اشارہ ہے کہ ان تمام وسائل کا حصول جو طاقت اور غلبے کے لئے ضروری ہوں۔ دوسری طرف ان آیات میں یہ اشارہ بھی پنہاں ہے کہ فتح محض جذبات سے حاصل نہیں ہوتی جب تک اس کے لئے مناسب سازوسامان میسر نہ کر لیا جائے۔

    جس طرح زمین سے استفادہ لینے میں کافر اور مومن برابر ہیں اسی طرح خدائی نعمتوں سے متمتع ہونے میں بھی دونوں کے پاس یکساں امکانات ہیں۔ میں اس آزادی حصول نعمت پر سوچ وبچار کرتا رہا۔ میں اس نتیجے پر پہنچا کہ کائنات سے صرف نظر کرکے نہ صرف ہم نے ایمان گنوایا بلکہ دنیاوی نعمتیں بھی ہمارے حصے میں بہت کم آئی ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ دنیا غیر مسلم کے رہنے کے لئے بنائی گئی ہو قرآن ہمیں اس طرف توجہ دلاتا رہا مگر ہم سنتے کب ہیں۔

    (النحل: 80۔81)

    ترجمہ ”اللہ نے تمہارے لئے تمہارے گھروں کو جائے سکون بنایا۔ اس نے جانوروں کی کھالوں سے تہارے لئے ایسے مکان پیدا کئے جنہیں تم سفر اور قیام، دونوں حالتوں میں ہلکا پکاتے ہو۔ اس نے جانوروں کے صوف اور اون اور بالوں سے تمہارے لئے پہننے اور برتنے کی بہت سی چیزیں پیدا کر دیں جو زندگی کی مدت مقررہ تک تمہارے کام آتی ہیں۔ اس نے اپنی پیدا کی ہوئی بہت سی چیزوں سے تمہارے لئے سائے کا انتظام کیا، پہاڑوں میں تمہارے لئے پناہ گاہیں بنائیں، اور تمہیں ایسی پوشاکیں بخشیں جو تمہیں گرمی سے بچاتی ہیں اور کچھ دوسری پوشاکیں جو آپس کی جنگ میں تمہاری حفاظت کرتی ہیں۔ اِس طرح وہ تم پر اپنی نعمتوں کی تکمیل کرتا ہے۔ شاید کہ تم فرمانبردار بنو“۔

    یہ نعمتیں تمام اولاد آدم کے لئے میسر تھیں مگر مسلمانوں کے حصہ میں ان نعمتوں کا کتنا حصہ آیا ہے۔ نہایت کم اور گھٹیا درجے کا حصہ۔ مں دیکھتا ہوں کہ ہم اپنی روزمرہ ضروریات کے لئے دوسرے غیر مسلموں کے محتاج ہیں اور ہمارے اپنے ہاتھ یا پھیلانے کے لئے ہیں یا ہاتھ پر ہاتھ دھر کر اپنی قسمت کوسنے کے لئے ہیں۔

    دنیا بھر میں جتنی بلند پایاں اور انوکھی عمارتیں ہیں۔ اُس کی تعمیر مسلمانوں نے نہیں کی بلکہ غیر مسلموں نے کی ہے۔ مشرقی ممالک ہوں یا مغربی ممالک ہوں۔ سڑکوں کی تعمیر پلوں کا بڑے بڑے کے دریائوں پر کھڑے کرنا، آسمان سے باتیں کرتی ہوئی سینکڑوں منزلیں بین الاقوامی ہوائی اڈے، ریلوے لائنیں، خوبصورت اور گراں قیمت رہائشی عمارتیں، یہ عمارت سازی غیر ہی جانتے ہیں ہم ان کی کاری گری پر بس داد دے کر رہ جاتے ہیں۔ بعید نہیں کہ ہم میں سے بیشتر غیر کی کاری گری پر فخر بھی کرتے ہوں کہ اس کی عمارت فلاں نے بنائی ہے ذلت کا اس سے بڑھ کر اور کیا درجہ ہوگا۔

    کائنات کا مطالعہ کرنا اسے قرآن نے ہمارا نصاب بنایا تھا تاکہ یہ مطالعہ ایمان کا پہلا مرحلہ ہو اور دوسرے مرحلے میں اسی علم کی بدولت حملہ آوروں سے ہمارے بچائو کا بھی سبب بنے اور تیسری جانب اُن کے لئے دُنیا میں رہنے کے لئے ضروریات بھی فراہم ہوں۔ افسوس ہم نسل در نسل اس نصاب کو پس پشت ڈال رہے ہیں۔

    قرآن دعوت دیتا ہے کہ باغات اور ان کے پھلوں کے پکنے میں گہری نظر کی ضرورت ہے۔ انظروا الی

    ”یہ درخت جب پھلتے ہیں تو ان میں پھل آنے اور پھر ان کے پکنے کی کیفیت ذرا غور کی نظر سے دیکھو“۔

    میں سوچتا ہوں کہ کیا ہم نے اللہ کے اس حکم کی اطاعت کی ہے؟ علم فاکھہ اور باغ بانی میں غیر مسلم کا مشاہدہ کیوں گہرا اور بارآور ہے۔

    دوسری جگہ قرآن پھلوں کو عقل کی کلید بناتا ہے۔

    (الرعد: ٤)

    ترجمہ ”اور دیکھو، زمین میں الگ الگ خطے پائے جاتے ہیں جو ایک دوسرے سے متصل واقع ہیں۔ انگور کے باغ ہیں، کھیتیاں ہیں، کھجور کے درخت ہیں جن میںسے کچھ اکہرے ہیں اور کچھ دوہرے۔ سب کو ایک ہی پانی سیراب کرتا ہے، مگر مزے میں ہم کسی کو بہتر بنا دیتے ہیں اور کسی کو کمتر۔ اِن سب چیزوں میں بہت سی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں“۔

    کیا واقعی ہم نے اس مشاہدے سے عقل مندی کا درس سیکھا ہے۔

    ہمارے ممالک میں ابلاغ عامہ کے ذریعے پیداوار میں اضافے، جدید ذرائع پیداوار کا استعمال، قومی وسائل کا بہترین اور جدید استعمال پر بڑے بڑے پروگرام سنائے جاتے ہیں۔ لیکن یہ محض نعرے ہیں جن میں حقیقت پسندی نہیں اور نہ ہی ان نعروں کا استعمال اس وجہ سے ہے کہ ہمارا ایمان ہمیں ان وسائل سے مستفید ہونے کا حکم دیتا ہے بلکہ ہمارا قومی دیوالیہ پن، بے روزگاری بھوک اور افلاس ایسے خوش نما نعرے کہلواتا ہے۔ یہ بھوک وافلاس اُس وقت تک ہم سے جدا نہیں ہو گا جب تک ہم اس مظہر کو حقیقی مرتبے پر نہیں لے آتے ایمان کا مرتبہ، خدائی احکام کی اطاعت۔

    اگر یورپ اور امریکہ محض عقل سے پابندی اٹھا لینے سے اتنی ترقی کر گئے ہیں جس کا مظاہرہ ہم شب وروز کرتے ہیں اگر ہم اسی فطرت پر رہتے ہوئے قرآنی نقطہ نظر سے عقل کا استعمال کرتے تو اس وقت ہماری ترقی کی کیا حد ہوتی۔ ہماری عقول پر یونانی فلسفے کی دبیز تہہ چڑھی رہی اور وہ آزادی فکر سے کہاں پہنچ گئے!

    قرآن کی رو سے ایمان وہ قوت ہے جو کائنات کو تسخیر کرتی ہے اور اپنے رب کے فرمان پر عمل پیرا ہوتی ہے تاکہ اس کی خوشنودی حاصل ہو۔

    وسائل کو دفاع کا ذریعہ نہ بنانے والے ہمارے برہنہ بدن افراد اسلام کے نفاذ کا مطالبہ پرجوش انداز سے جب کر رہے ہوتے ہیں تو عین اُسی وقت کسی دور افتادہ براعظم سے دشمن کا میزائیل انہیں خاموش کر دیتا ہے کیا یہی لوگ قرآن پر ایمان لائے تھے جنہیں بھیڑ بکری اور گاجر مولی کی طرح دشمن کاٹ کر رکھ دیتا ہے۔

    اس موضوع پر تفصیلی بحث ہم اگلے شمارے تک اُٹھا رکھتے ہیں۔

    ....................................

     
  3. sahil_jaan

    sahil_jaan Guest

    جزاک اللہ
    بہت پیاری شئرینگ کی ہے بہت عمدہ معلومات فراہم کی ہیں
     

Share This Page