1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

قرآن کے پانچ بنیادی محور .

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by IQBAL HASSAN, Apr 27, 2015.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Management




    قرآن کے پانچ بنیادی محور
    ..........................
    .........................

    خدائے واحد
    ..........................
    ..........................

    قرآن مجید جن بنیادی موضوعات کو راسخ کرنا چاہتا ہے اُن میں سے ایک اِلَہ کا واضح اور درست تصور ہے۔ جس کی جستہ جستہ معرفت کرانا قرآن کے ہر صحفیے کا مرکزی مضمون ہے۔

    بلاشبہ زمانہ قدیم سے لوگ اِلہ کے تصور سے منسلک رہے ہیں۔ لیکن یہ ناقص اور غیر حقیقی معرفت تھی۔ وہ رب حقیقی کے ساتھ دوسرے معبودوں کی پرستش بھی کرنا ضروری سمجھتے تھے۔ اپنے تراشے ہوئے معبودوں سے ان کی وارفتگی اور خشیت، حقیقی معبود سے بڑھ کر ہوتی ان کی ان معبودوں کی عبادت کے جتن اس سے کہیں زیادہ ہوتے جتنا کہ وہ حقیقی معبود کے سامنے سربسجود ہوتے۔

    الوہیت کی حقیقت سے عدم معرفت کی بنا پر لوگوں نے انبیاءکرام سے مخاصمت اور شدید عداوت رکھی کیونکہ وہ صرف اور صرف اِلہ حق کی عبادت پر زور دیتے اور دلوں میں سمائے باقی تمام آلھہ کی عبادت کا انکار کرتے۔

    غور فرمائیے قوم ھود اپنے نبی پر سب سے بڑا اعتراض یہ کرتی ہے کہ وہ ایک اکیلے اِلٰہ کی عبادت پر کیوں مصر ہے! آجئتنا لنعبداﷲ وحدہ ونذر ما کان یعبد آباؤنا، فائتنا بما تعدنا ان کنت من الصادقین (الاعراف: ٧٠)

    ”کیا تو اس لئے آیا ہے کہ ہم ایک اکیلے اللہ کی عبادت کریں اور ہمارے بڑے جن کی عبادت کرتے رہے، ان کی عبادت ترک کر دیں۔ اگر تو اتنا ہی سچا ہے تو پھر لے آ وہ عذاب جس کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے“۔

    ہر نبی کے ساتھ اُس کی قوم نے یہی سلوک کیا۔

    جو لوگ الوہیت کی صحیح معرفت نہیں رکھتے تھے وہ دوسرے معبودوں کو شریک کر لیتے اور ایک گروہ ایسا بھی رہا ہے جو سرے سے الوہیت کا قائل ہی نہیں رہا اس گروہ کے نزدیک زندگی کا آغاز اچانک ہوا۔ اور مختلف اتفاقات سے اس میں ترقی ہوئی۔ ایک سے دوسرا مرحلہ بلا کسی حکمت وہدف کے طے ہو رہا ہے....

    پچھلے زمانوں میں یہ گروہ مشرکین کی نسبت بہت کم ہوا کرتا تھا۔ مگر موجودہ دور میں انہیں کی کثرت ہے۔ ان کی تعداد بڑھنے میں دوسرے عوامل موجودہ دور میں دستیاب ہو گئے تو اب تقریباً پوری دنیا کی زمام کار ایسے ہی ناشک لوگوں کے پاس ہے۔

    مشرق ومغرب میں ان کا ایک ہی تصور حیات ہے۔ إِنْ هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ

    ”مرنا جینا بس اسی دنیا پر موقوف ہے، اور ہم دوبارہ ہرگز نہیں جی اٹھیں گے“۔

    جب ان کا کسی خالق پر ایمان نہیں، وحی کے وجود پر ایمان کیا ہوگا۔

    ان حضرات کا کل علم یا تو ان مذاہب سے ماخوذ ہے جن کے پاس سرے سے نہ کوئی آسمانی کتاب ہے اور نہ وہ اس کا دعویٰ کرتے ہیں، یا پھر آسمانی ادیان میں سے ان کی نظر عمیق محض تحریف شدہ یا منسوخ کتابوں پر ٹکی ہے۔ ان خرافات کے مطالعے کے بعد ان حضرات کا ہر سچائی سے اعتبار اٹھ گیا۔ حق کے اصل سرچشمے تک ان کی رسائی نہ ہو سکی، خود ان کی فطرت اتنی شفاف نہ رہ سکی کہ کسی صحیح سمت میں انہیں لے جاتی۔

    اب ہم دیکھنا چاہیں گے کہ قرآن ان دونوں ذہنیتوں کا علاج کس طرح کرتا ہے۔

    قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا تعارف دو حیثیتوں سے کراتا ہے۔

    (الف) تمام مخلوقات لمحہ بہ لمحہ اس کی محتاج ہیں، اپنے وجود کے لئے اور اسے باقی رکھنے کے لئے، مخلوق کا تصور بلا خالق اور نظم کائنات بلا دانا ومدبر کے بھلا ممکن ہے۔

    (ب) مخلوقات کا خالق اور ان کا مدبر اکیلا ہے کوئی اور اس کے شریک کار نہیں، نہ اس کے جیسا نہ اس کے برخلاف، بجز اس ذات کے سب فانی ہیں۔ ساری مخلوقات، کیا انسان اور کیا جن، کیا بندہ اور کیا شاہ، اس کے آگے حقیر ترین ہستیاں ہیں۔ اپنی تخلیق کے لحاظ سے مٹی کے ایک ذرے سے لے کر سجدے میں پڑے ہوئے فرشتوں تک اس کے بنائے ہوئے قالب میں ڈھل کر اپنے عبد ہونے کا ثبوت دیتے ہیں۔

    دانے اور گٹھلی کو پھاڑ کر، کونپل سے باغات بنانے والا، پھلوں میں رس اور پھولوں میں رنگ بھرنے والا وہی ہے، جو اندھیرے کو پھاڑ کر اجالا نکالتا ہے۔ نور کو آفاق میں پھیلانے والا، آسمانوں پر تیرنے والے ستاروں کو محوری گردش میں جکڑنے والا، بغیر ایندھن یا پروں کے اپنے رب کے سہارے تارے محو پرواز ہیں۔

    کوتاہ بین فرعون نے بھی موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں سوال کیا تھا۔ وہ مخلوق ہو کر خالق کائنات کا ___ معاذ اﷲ ___ احاطہ کرنے پر تلا ہوا تھا۔

    موسیٰ علیہ السلام کا جواب بھی اپنی مثال آپ تھا۔ انہوں نے کہا اللہ اپنا تعارف اسماءوصفات کے ذریعے کراتا ہے، وہ خالق ہے، رازق ہے، اس کے اوامر سے مخلوقات روبہ کار ہوتی ہیں۔ ایسے کام کرنے والا جس کا کوئی اور دعویٰ نہیں کر سکتا۔ اِس تاریخی بحث کو قرآن نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔

    قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعَالَمِينَ

    فرعون نے پوچھا: ”جہانوں کا رب کون ہے“؟

    قَالَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا إن كُنتُم مُّوقِنِينَ

    حضرت موسیٰ نے کہا: ”اگر تم یقین کرنے والے ہو تو وہ پوری زمین اور تمام آسمانوں کا اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے ان سب کا رب ہے“۔

    قَالَ لِمَنْ حَوْلَهُ أَلَا تَسْتَمِعُونَ

    فرعون نے اپنے گرداگرد کھڑے لوگوں سے کہا، سنا تم نے

    قَالَ رَبُّكُمْ وَرَبُّ آبَائِكُمُ الْأَوَّلِينَ

    موسی نے کہا: تمہارا رب بھی اور تمہارے اُن آباءواجداد کا رب بھی جو گزر چکے ہیں۔

    قَالَ إِنَّ رَسُولَكُمُ الَّذِي أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ لَمَجْنُونٌ

    (فرعون نے) کہا: یہ جو رسول تمہاری طرف بھیجا گیا ہے نرا کودن ہے۔

    قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَمَا بَيْنَهُمَا إِن كُنتُمْ تَعْقِلُونَ

    (موسیٰ نے) کہا: اگر آپ عقل (اور سمجھ بوجھ) رکھتے ہیں تو وہ مشرق ومغرب اور جو کچھ ان کے بیچ ہے سب کا رب ہے۔

    قرآن مجید میں ایک دوسرے مقام پر بھی فرعون اور موسیٰ علیہ السلام کی بحث تفصیل سے بیان ہوئی ہے۔ اُس میں بھی موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کا تعارف اُس کے اچھے اچھے ناموں اور صفات وافعال سے کراتے ہیں۔

    فرعون نے پوچھا۔ فَمَن رَّبُّكُمَا يَا مُوسَى ، موسی، تم دونوں (بھائیوں) کا رب کون ہے؟ موسیٰ علیہ السلام نے کہا:

    قَالَ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَى

    ہمارا رب وہ ذات ہے جس نے ہر چیز کو اس کی ساخت بخشی، اور اس کے کام کرنے کا طریقہ بھی متعین کیا۔

    قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُونِ الْأُولَى : فرعون نے کہا، اور پہلے جو نسلیں گزر چکی ہیں ان کی پھر کیا حالت تھی۔

    موسیٰ علیہ السلام نے کہا: قَالَ عِلْمُهَا عِندَ رَبِّي فِي كِتَابٍ لَّا يَضِلُّ رَبِّي وَلَا يَنسَى

    اس کا علم میرے رب کے پاس ایک نوشتے میں محفوظ ہے، میرا رب نہ چوکتا ہے نہ بھولتا ہے۔

    الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ مَهْدًا وَسَلَكَ لَكُمْ فِيهَا سُبُلًا وَأَنزَلَ مِنَ السَّمَاء مَاء فَأَخْرَجْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِّن نَّبَاتٍ شَتَّى كُلُوا وَارْعَوْا أَنْعَامَكُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّأُوْلِي النُّهَى۔ مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى

    وہی ہے جس نے زمین کا فرش بچھایا اور اس میں تمہارے چلنے کو راستے بنائے، آسمان سے ایسا پانی برسایا، کہ اس سے ہم نے قسم قسم کی پیداوار نکالی، تم بھی کھائو اور اپنے مال مویشی بھی چرائو۔

    عقل رکھنے والوں کے لئے اس میں بڑی بڑی نشانیاں ہیں۔

    اسی (مٹی) سے ہم نے تمہیں پیدا کیا، اسی میں ہم تمہیں واپس لے جائیں گے اور اسی سے تم کو دوبارہ نکالیں گے۔

    اللہ تعالیٰ کی ذات یا اس کے وجود پر بحث، یہ مخلوقات کے بس کی بات نہیں، نہ انہیں زیب دیتی ہے۔ اس کا مقام اس سے بہت اونچا اور متبرک ہے۔ انسانوں میں اگر کچھ اندھے پائے جانے لگیں جو اس کی عظمت کو محسوس تک کرنے سے عاری اور اس کے شکر گزار ہونے تک سے انکاری ہیں تو ایسے کور چشموں کے ساتھ مغز کھپانے اور ان کے ’شبہات‘ کا جائزہ لینے پر وقت کیوں ضائع کیا جائے۔

    ہمارے لئے یہی مناسب تھا کہ رب العالمین اپنے افعال اور اسماءکا تعارف خود کرائے اور ہم اس کو دُھرا دُھرا کر حق عبودیت ادا کرتے رہیں۔ وہ خود ہی اپنی کبریائی، عظمت اور جلال بیان کر سکتا ہے۔ سورہءمومن میں وہ ادب بیان ہوا ہے جس کی پیروی کرنی ہے اور غلط سمت میں سوچنے پر تنبیہ اور اس سے بچنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ فرمایا:

    إِنَّ الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِي آيَاتِ اللَّهِ بِغَيْرِ سُلْطَانٍ أَتَاهُمْ إِن فِي صُدُورِهِمْ إِلَّا كِبْرٌ مَّا هُم بِبَالِغِيهِ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ

    حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ کسی مستند حوالے کے بغیر اللہ کی آیات میں بحث وجدال کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ وہ تکبر ہے جو ان کے اندر بھرا ہوا ہے۔

    وہ (رب) کی بڑائی کو پہنچنے والے نہیں ہیں، جس کا وہ گھمنڈ رکھتے ہیں، بس (ایسے وقت) اس کی پناہ مانگو، وہ سب کچھ دیکھتا اور سنتا ہے۔

    معاملہ تو یہ ہے کہ انسان اب تک اپنی ذات کی جستجو میں بھٹکتا پھر رہا ہے۔ میری جلد کے روئوں کو ہی دیکھو، سائنس دان کہتے ہیں: ”جسم پر پائے جانے والے ہزاروں بال، کوئی ان میں سے گر جاتا ہے اور اس کی جگہ دوسرا اُگ آتا ہے اور کوئی تادم مرگ جسم سے پیوستہ رہتا ہے، بھلا کیوں! حیرانی“۔

    ہماری ہڈیوں کے گودے میں کیا کاری گری ڈال دی گئی ہے کہ اس سے خون کے سفید اور سرخ جرثومے تشکیل پاتے ہیں۔ اب اگر ان کے افعال پر غور کرو تو سفید جرثومے ایک قسم کا کام کرتے ہیں تو سرخ جرثومے ایک اور ہی قسم کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ تحقیقات جاری ہیں، مزید نتائج متوقع ہیں۔ ان میں زندگی کیونکر پھوٹ پڑتی ہے، سب ششدر کر دینے والے سوالات ہیں۔

    علم کے نام پر الحاد کی راہ ہموار کرنا علمی دیانت داری نہیں ہے بلکہ ایک نفسیاتی بیماری ہے، جنہیں اشیاءکی کارکردگی میں خدائی ہاتھ نظر نہیں آتا۔

    ایک طرف الحاد نے الوہیت کے ادراک میں رکاوٹ ڈالی ہے تو دوسری طرف ایک اور انتہا شرک کرنے والوں کی ہے۔ دوسرے فریق کے نزدیک اللہ تعالیٰ موجود تو ہے مگر اسے مددگاروں کی ضرورت ہوتی ہے، اور یہ مددگار بھی قابل پرستش ہیں۔ ان کی آشیرواد کے بغیر سب سے بڑے اِلٰہ تک ہماری رسائی نہیں ہو سکتی۔

    اللہ فرماتا ہے: یہ دوسری بیج کی ہستیاں جن کی عبادت کرنے میں تم شدید رغبت رکھتے ہو، محض نام ہیں جو تم نے رکھے ہوئے ہیں، تمہارے خیالات ہیں، جن کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں، جھوٹے افسانے جو تم نے گھڑ رکھے ہیں۔ اللہ فرماتا ہے:

    وَاتَّخَذُوا مِن دُونِهِ آلِهَةً لَّا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ وَلَا يَمْلِكُونَ لِأَنفُسِهِمْ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا وَلَا يَمْلِكُونَ مَوْتًا وَلَا حَيَاةً وَلَا نُشُورًا (الفرقان: ٣)

    لوگوں نے اسے چھوڑ کر ایسے معبود بنا لئے جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ وہ خود مخلوق ہیں، ایسے کہ اپنے نفع ونقصان کے مالک بھی نہیں ہیں۔ جو نہ مار سکتے ہیں، نہ زندگی بخش سکتے ہیں اور نہ مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔

    کیا یہ حیرت انگیز بات نہیں کہ بے شمار لوگ اوھام کو پوجتے رہے ہیں۔ اس قدر سطحی سوچ، پھر ان آلھہ سے تعلق کی نوعیت محض ایک سفارش کرنے والے کی سی نہ تھی، بلکہ ان کااحترام اور ان سے محبت حقیقی معبود سے بھی بڑھ کر تھی۔

    ذرا ان پجاریوں کی علمی زقند ملاحظہ فرمائیں۔

    بدھ مت کا اِلٰہ مہاتما بدھ کے حالات زندگی کا مطالعہ کیجئے، ساری زندگی اس کے علم کا سرچشمہ زمین بنی رہی۔ کبھی اپنے اوپر آسمان تک اس کی نظر نہ اُٹھ سکی۔ بدھ مت کے پیروکار اُسے اِلٰہ سمجھتے ہیں۔ ہندوستان اور چین کے دوسرے آلھہ تو مہاتما بدھ سے بھی کہیں ادنی درجے کے ہیں۔

    سورہ انعام میں اس فریب نظر کا علاج قرآن اس طرح تجویز کرتا ہے۔

    اے نبی ان سے کہو، کبھی تم نے آنکھیں کھول کر دیکھا بھی کہ وہ ہستیاں ہیں کیا، جنہیں تم خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو، ذرا مجھے دکھائو تو سہی کہ زمین میں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے یا آسمانوں کی تخلیق وتدبیر میں اُن کا کیا حصہ ہے۔ اس سے پہلے آئی ہوئی کوئی کتاب یا علم کا کوئی بقیہ جو دلیل کے طور پر پیش کر سکو تو وہی لے آؤ اگر تم سچے ہو۔

    آخر اُس شخص سے زیادہ بہکا ہوا انسان اور کون ہوگا جو اللہ کو چھوڑ کر اُن ہستیوں کو پکارے جو قیامت تک اُسے جواب نہیں دے سکتے۔ بلکہ اس دعاءسے ہی بے خبر ہیں جو اُن سے مانگتے ہیں۔

    شرک کرنے کی کوئی دلیل نہیں ہوتی، یہی وجہ ہے کہ ہندوستان اور چین اشتراکی نظریہ کے سامنے دم بخود ہو گئے اورکئی خدائوں کو ماننے والے اب ایک خدا کو بھی نہیں مانتے، کیونکہ اشتراکی انقلاب نے عقلی دلیلوں سے ان جھوٹے خدائوں کی قلعی کھول کر رکھ دی۔ حقیقی خدا سے وہ پہلے ہی غیر آشنا تھے، آخر کو ملحد بنے۔
     
  2. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Management



    عیسائی مذہب میں معبود کا جو تصور ہے اس پر بھی ایک نظر ڈالتے ہیں:

    عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بندے اور پیغمبر، جبریل وحی پہنچانے والے اور خدا حقیقی معبود، یہ تھے اصل حقائق، نہ حضرت عیسیٰ نے خدائی کا دعویٰ کیا نہ جبریل امین نے، دونوں اپنے پیروکاروں سے زیادہ باشعور تھے کہ ایسا دعویٰ کرتے۔ ابتداءمیں عیسائی مذہب میں خالص توحید پائی جاتی تھی۔ جب صدیوں بعد اہل روم نے عیسائی مذہب اپنایا تو یونان کے تمام دیوتا اس مذہب میں گھس گئے، تین خدا جُدا جُدا رہتے ہوئے ایک معبود کہلائے۔ تثلیث میں توحید! عقل مات کھا گئی۔

    تثلیث کا فلسفہ کیا ہے۔ باپ (خدا) کی دلجوئی کے لئے آدم کی غلطی بیٹے (عیسیٰ) نے اپنے سر لے لی۔ کیا بوالعجمی ہے! اس پر عیسائی مذہب کے پیروکار مصر ہیں کہ وہ توحید پرست ہیں۔ اگر ان سے پوچھا جائے کہ کیا تین اِلٰہ تین قسم کی صفات ہیں جو ہر ایک کے حصے میں ایک تہائی پائی جاتی ہیں۔

    فرماتے ہیں، ہر ایک اقنوم مستقل الہ ہے!

    دراصل عیسائی قدیم عقیدے میں یونان کی بت پرستی شامل ہو گئی جس سے توحید پر چلنے والے تثلیث کا شکار ہو گئے۔ روما کے لئے کیا یہ بہتر نہ تھا کہ وہ اپنے بت پرستی والے عقیدے پر رہتے، ادھوری نصرانیت اپنا کر نہ وہ خالص بت پرست رہے نہ خالص توحید پرست۔

    عربوں نے خدا کے لئے بیٹیاں تخلیق کر رکھی تھیں، روما نے بیٹے بھی بنا ڈالے۔

    ضروری تھا کہ قرآن شرک کی اس نئی قسم کا بھی رد کرے، جو ایک رب میں مختلف اجزاءکی متلاشی ہو۔ سورہ اخلاص میں اِلٰہ کا اس طرح واضح تعارف ہے جو اِلٰہ کے سزاوار ہے۔

    کہو، وہ اللہ ہے، یکتا

    اللہ سب سے بے نیاز، سب اُس کے محتاج

    نہ اُس کی کوئی اولاد اور نہ وہ کسی کی اولاد

    دراصل اُس کے پاسنگ کوئی ہے نہیں۔

    اللہ فرماتا ہے۔ یخلق ما یشائُ جسے چاہے پیدا کرتا ہے۔

    اِلٰہ ایسا ہی ہونا چاہئے جو ہر قسم کے قانون اور ضابطے سے بلند وبالا ہو۔

    عیسیٰ بن مریم کا بلا باپ کے پیدا ہونا، کسی الٰہی صفت کے لئے مستلزم نہیں ہے اور نہ ہی انہیں بشریت کے درجے سے خارج کرتا ہے، وجود اور نظام حیات دونوں توحید کی بدولت ہیں۔

    کیا ایک برقی قمقمہ اپنے آپ روشن ہے یا اُسے کسی اور قوت سے روشن کیاجاتا ہے۔ اگر یہ قوت لمحہ بھر کے لئے منقطع ہو جائے تو روشنی ندارد۔ ہر متحرک چیز کے پیچھے کوئی محرک ہوتا ہے۔ ہمہ وقت حرکت کیلئے ہمہ وقتی محرک۔

    ہم سارے انسان مخلوقات ہیں، اگر خدا ہمیں تخلیق نہ کرتا، یا باقی رہنے کے انتظام نہ کرتا رہے تو ہمارا نام ونشان بھی نہ ہوتا۔

    هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ

    وہی اول ہے وہی آخر بھی ہے اور ظاہر بھی ہے اور مخفی بھی، اور وہ ہر چیز کا خوب خوب علم رکھنے والا ہے۔

    جب بادل گرجے یا بجلی کوندے تو اس کے پیچھے امر ربی، مینہ برسے یا رُت بدلے، اذن اللہ کا، سورہ رعد میں وہ فرماتا ہے:

    ”وہی ہے جو تمہارے سامنے بادلوں میں بجلی چمکاتا ہے، اسے دیکھ کر تم اُمید وبیم میں پڑ جاتے ہو، پانی سے لدے دل بادل وہی لاکھڑا کرتا ہے، بادلوں کی گھن گرج حمد کرتے ہوئے اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں، اور فرشتے الگ اس کی ہیبت سے لرزرتے ہوئے تسبیح کرتے ہیں۔ کڑکتی ہوئی بجلیاں جن پر چاہے عین حالت بحث میں اُن پر گرا دیتا ہے۔ فی الواقع اس کی چال بڑی زبردست ہوا کرتی ہے۔ (سورہءرعد)

    زندگی بخشنے میں یا جان لینے میں، زرخیزی لانے یا زمین کی پیداوار روکنے میں کسی کا دخل نہیں۔

    اللہ اپنی ذات اور افعال میں یکتا ہے، یہ ایک بدیہی اور ازلی حقیقت ہے، کل مخلوق، زمین تاثریا اس کی لمحہ بہ لمحہ محتاج

    لا قوہ اِلا باﷲ قوت کا ذریعہ اللہ کی استمداد سے ہے، وہی ہوتا ہے جو خدا چاہتا ہے۔ اللہ کی مشیت پر بحث ایک جاہل ہی کر سکتا ہے۔

    مخلوق کی یہ مجال کہ خالق جیسی ہو جائے، جو چیز ایجاد ہو وہ خود اپنی موجد ہو۔

    توحید کی صحیح پہچان ہمیں محمد نے کرائی اور اسلام کو ہمارے لئے دین بنایا، اسی دین پر چلتے رہنا انسان کی معراج کہلایا۔ پھیلتا آسمان اور زمین کی اتھاہ گہرائیاں ایک ہی سبق دہراتی ہیں۔

    اے ہمارے پاک اور متبرک رب۔ جس کی حمد وثنا میں پوری کائنات رطب اللسان ہے، ہم کیوں نہ اس نغمے کے بول بولیں۔ اس کائنات کے نظم سے نکلنا فطری ضابطے سے بغاوت ہوگا، من موہنے سروں میں بے سُرے آدھمکے۔ سرکشی چھوڑ کر اسلام کا چولا پہنیں، مخلوق سے متاثر ہونا چھوڑ دیں، خواہشات کو کھرچ کھرچ کر کھرا دل لے آئیں، اور جیسے جیسے الوہیت سے شناسا ہوں عبادات میں بڑھتے چلے جائیں۔ الوہیت کی وسعتوں کو پانے کے جتن کریں۔ اللہ تعالیٰ کے اسماءالحسنی ہی اس کی صفات کمال تک پہنچانے والے ہیں۔ انہیں اسماءوصفات سے وہ اپنا تعارف کراتا ہے۔ کلام اللہ میں جگہ جگہ اس کے اسماءالحسنی چمکتے موتیوں کی طرح منور ہوتے ہیں۔ کہیں یہ موتی لڑیوں کی شکل میں ملتے ہیں۔ مجھے دس سطروں میں سولہ نگینے ملے۔ ان ناموں سے وابستہ رہنا، انسان کی اتنی بڑی ضرورت ہے تب ہی قرآن کی اکثر آیات میں اسما و صفات کی تکرار ہے۔

    ان آیات مبارکہ میں ذرا اسما و صفات کا شمار تو کیجئے:

    وَالَّذِينَ هَاجَرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ قُتِلُوا أَوْ مَاتُوا لَيَرْزُقَنَّهُمُ اللَّهُ رِزْقًا حَسَنًا

    جن لوگوں نے اللہ کے راستے میں ہجرت کی، پھر وہ (اسی راہ میں) قتل کر دیئے گئے یا وفات پا گئے، ہم انہیں بالتاکید بیش قیمت رزق سے نوازیں گے۔

    وَإِنَّ اللَّهَ لَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ

    اور وہ اللہ ہی تو ہے جو ہر رزق دینے والے سے بڑھ کر رزق رساں ہے۔

    لَيُدْخِلَنَّهُم مُّدْخَلًا يَرْضَوْنَهُ

    ہم انہیں یقینا ایک ایسے مقام میں پہنچائیں گے جسے وہ بے حد پسند کریں گے۔

    وَإِنَّ اللَّهَ لَعَلِيمٌ حَلِيمٌ

    بلاشبہ اللہ بے حد علم رکھنے والا بردبار ہے۔

    ذَلِكَ: یہ تو رہی ایک بات۔

    وَمَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوقِبَ بِهِ ثُمَّ بُغِيَ عَلَيْهِ لَيَنصُرَنَّهُ اللَّهُ

    اور جو کوئی ادلے کا بدلہ لے مساوی، پھر اُس پر زیادتی کی گئی ہو تو اللہ ایسے (مظلوم) کی ضرور مدد کرے گا۔

    إِنَّ اللَّهَ لَعَفُوٌّ غَفُورٌ : ”بے شک اللہ درگزر بھی کرتا ہے اور مغفرت بھی قبول کرتا ہے“۔

    ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ

    ”وہ ایسا اس لئے کرتا ہے کہ اللہ ہی رات سے دن اور دن سے رات کو نکالتا ہے“۔

    وَأَنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ : ”اور اس لئے بھی کہ اللہ سمیع (خوب سنتا) ہے اور بصیر (خوب دیدہ ور) ہے۔

    ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ مَا يَدْعُونَ مِن دُونِهِ هُوَ الْبَاطِلُ

    ”یہ اس لئے کہ اللہ ہی سربسر حق اور وہ سب کے سب باطل، جنہیں اللہ کو چھوڑ کر یہ لوگ پکارتے ہیں“۔

    وَأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ : اور اللہ ہی بالادست معظم ہے۔

    أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ أَنزَلَ مِنَ السَّمَاء مَاء فَتُصْبِحُ الْأَرْضُ مُخْضَرَّةً

    کیا تم دیکھتے نہیں، اللہ آسمان سے پانی برساتا ہے، اور اس کی بدولت زمین سرسبز ہو جاتی ہے۔

    إِنَّ اللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ : حقیقت یہ ہے کہ وہ لطیف (نازک کام کرنے والا) اور خبیر (اس نازک کام پر پوری مہارت رکھنے والا) ہے۔

    لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ

    ”اُسی کا ہی تو ہے وہ سب کچھ جو آسمان میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے“۔

    وَإِنَّ اللَّهَ لَهُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ : خبردار، یہ خیال نہ کرنا کہ (اللہ کو کچھ اس سازوسامان کی حاجت ہے) وہ تو سب سے بے نیاز ہے مگر پھر بھی سب اسی کے ثناءخواں ہیں“۔

    أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ سَخَّرَ لَكُم مَّا فِي الْأَرْضِ وَالْفُلْكَ تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِأَمْرِهِ

    کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اس نے وہ سب کچھ تمہارے لئے مسخر کر رکھا ہے جو زمین میں ہے اور اسی کے حکم سے کشتی سمندر میں تیرتی ہے۔

    وَيُمْسِكُ السَّمَاء أَن تَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِهِ

    اور وہی آسمان کو تھامے ہوئے ہے کہ مبادا زمین پر آن پڑے، یہ اُسی کے حکم سے ہے (یہ اپنی جگہ قائم ہے)

    إِنَّ اللَّهَ بِالنَّاسِ لَرَؤُوفٌ رَّحِيمٌ: ”بے شک اللہ لوگوں کے حق میں بڑا مشفق اور رحیم ہے“۔

    ایسے رب کو چھوڑ کر ہمیں کہیں اور بھٹکنے کی کیا ضرورت ہے، کیا ان آیات کا تسلسل دل میں اس کی عظمت اور محبت کو پیدا نہیں کرتا۔ مخلوق کے کارہائے نمایاں اور میرے رب کی کاری گری، کشاں کشاں لذت عبادت کے ساتھ، بشری کارگری سے بے نیاز، مادہ اور اس کی عبادت سے دور، خالق مادہ کی جناب میں، حیرت ثناءخواں، پرامید اور خائف۔

    قرآن ہی عقیدے اور عمل کو آلائشوں سے پاک کرتا ہے۔

    جہاں قرآن عقائد میں شرک کا قلع قمع کرتا ہے وہاں انسانی رویے میں وہ خوبی پیدا کر دیتا ہے جو توحید کی حقیقت کو اپنا لیتا ہے۔ طرز عمل میں متانت تب ہی ممکن ہے جب باطن میں توحید کی حقیقت رچ بس گئی ہو۔ نفس اگر خواہشات کا قیدی رہا تو پھر حریت نفس کہاں سے آئے گی۔ کئی روحیں آزاد ہوتی ہیں، تو بہت سی خواہشات کی غلام بھی ہوتی ہیں۔

    غیر اللہ سے قرآن مجید بندوں کو ایسا مایوس کرتا ہے کہ وہ انتہائی حالات میں بھی اُسی کے در سے چمٹے رہیں۔ سورہ ملک میں ارشاد ہوتا ہے۔

    ”بتاؤ آخر وہ کون سا شکر ہے جو رحمان کے مقابلے میں تمہاری مدد کر سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ منکرین دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں“۔

    اچھا یہ بتائو اگر رحمان اپنا رزق روک لے تو تمہیں کون رزق دے سکتا ہے۔

    دراصل یہ لوگ سرکشی اور گریزی حق پر اڑے ہوئے ہیں۔ اس عقیدے سے جو عملی رویہ تیار ہو گا وہ اپنے رب پر کامل بھروسا کرنے والا، اور دوسرے کے آگے ہاتھ نہ پھیلانے والا ہوگا۔ تنگی میں بھی وہ قانع اور پرسکون ہوگا۔ لوگوں کو معمولی ضروریات مرتبہ سے گرا دیتی ہیں۔ ان کا رویہ ضروریات کے تحت روبکار ہوتا ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ نبی علیہ السلام بعد از نماز دعاءکرتے: ”اے پروردگار جو تو دیتا ہے وہ کوئی روک نہیں سکتا، جو تو روک لے وہ کوئی دے نہیں سکتا، کسی صاحب حیثیت کی ہستی تیرے مقابلے میں اسے نفع نہیں دے سکتی“۔

    اللہ اس طرح آزماتا ہے، کبھی رزق کی فراوانی سے، کبھی اس کی تنگی سے اور کبھی خوش بختی سے اور کبھی آزمائش میں ڈال کر۔ وہ دیکھتا ہے کہ اس کے رویے کا تعین گھڑی گھڑی بدلتے حالات کرتے ہیں یا عقیدہ توحید، یہی رویہ وہ جنس ہے جس کی اس کے ہاں قیمت لگتی ہے۔ ٹھاٹ باٹ اور زرق پوش وہاں دھجی کو ترستے ہوں گے۔

    ایک مسلمان بیم ورجاءدونوں حالات میں رب کا در نہیں چھوڑتا۔ قرآن مجید توحید کے نور سے دلوں کو منور کرتا رہتا ہے، جب سینے اس نور سے بھر جائیں، تب عمل میں استقامت پیدا ہوتی ہے، پھر ایک پکا مومن بھاگ کر نیکی اپناتا ہے اور بدی سے کوسوں دور بھاگتا ہے۔ ایسے تمام مومن مل کر ایک منظم تحریک بن جاتے ہیں جو اللہ کے کلمے کو سرفراز کرنے میں اپنی صلاحیتیں کھپا دیتی ہے۔

    بلاتوحید جو عملی رویہ سامنے آئے گا وہ بھیڑ چال ہوگا۔ ان کا رخ معدہ اور آنتیں متعین کرتی ہیں۔ ہر حرکت کے پیچھے خواہش نفس کارفرما ہوتی ہے۔

    ہم مسلمانوں کے طرز عمل میں کون سی قوت محرکہ ہے؟

    اس آیت مبارکہ کا کوئی اثر آپ دیکھتے ہیں۔ واحسنوا ان اﷲ یحب المحسنین اور احسان (ہر قسم کے کام میں خوبی پیدا کرنا) کیا کرو، بلاشبہ اللہ احسان کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے۔

    اس آیت کا مصداق یہ ہے کہ میں اپنے کاموں میں ایک نظم پیدا کروں، سستی اور بے دلی چھوڑ کر کام میں خوب دلچسپی لوں، دین ودنیا دونوں کے کام کرتے ہوئے ان میں ایک قسم کا حسن اور مہارت تامہ پیدا کروں۔

    میرا پروردگار بے مقصدیت، غیر سنجیدگی اور بدنظمی کو پسند نہیں کرتا، دیکھو تو میرے رب نے ہر چیز کو کتنا بے عیب (پرفیکٹ) بنایا ہے۔ خدا کی صناعت میرے لئے نمونہ ہو۔

    امت اسلامیہ جسے بین الاقوامی سطح پر ایک منظم اور پرشکوہ نمونہ بننا چاہئے تھا بہت سے امور میں ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہے۔

    اس رویے میں تبدیلی کب ہوگی۔ جب دلوں میں اللہ کی محبت بس جائے گی، اس کے بعد بخوشی کسی کام کو ہنرمندی اور خوبی حسن سے انجام دیں گے، اس لئے کہ میرا اللہ کاموں میں حسن کارکردگی کو پسند کرتا ہے۔

    وَاللّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ۔ پھر جب کارکردگی میں نکھار پیدا ہو جائے گا تو ہم اس پر اترانا بھی چھوڑ دیں گے، کیونکہ میرا اللہ اترانے کو ناپسند کرتا ہے۔ إِنَّ اللّهَ لاَ يُحِبُّ مَن كَانَ مُخْتَالاً فَخُورًا

    اترانا، ناموری اور سطح بینی، اخلاص کے پیدا ہونے سے دب جاتی ہیں۔ اس کے اندر ایک نیا ولولہ پیدا ہوتا ہے۔ وہ ایک انجان سپاہی ہو، ناموری سے کوسوں دور مقصد کی لگن لئے ہوئے، نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی۔ کلمہ تحسین سے ناواقف۔

    ریاءبھی شرک ہے، میں دیکھتا ہوں کہ یہ بیماری عملی کام کرنے والوں میں بہت زیادہ پائی جاتی ہے۔ قیادت میں یہ بیماری تو اور نمایاں ہے، عام کارکنان کو بھی مستثنیٰ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

    اسی لئے اسلام میں سب سے پہلے توحید کو دلوں میں راسخ کیا جاتا۔ جب توحید دلوں میں سما جاتی ہے تو پھر عملی میدان میں اُسے کوئی چیز لڑکھڑا نہیں سکتی۔ شریعت کی پاسداری بھی توحید اپنانے کے بعد ممکن ہے۔ دل اس طور پر ڈھل جائیں کہ اس میں عمل صالح کے سوتے پھوٹ سکیں۔

    ایک مومن کے دل پر خدا کا فرمان نافذ ہوتا ہے۔ کافر سرے سے اپنے آپ کو کسی امر ونہی کا پابند نہیں سمجھتا، نہ اپنے فیصلے شریعت سے کراتے ہیں۔

    مشرک کا معاملہ یہ ہے کہ وہ بھی معبود برحق کو چھوڑ کر غیر اللہ سے اپنے فیصلے کراتے ہیں، دنیاوی امور میں اپنی خواہش پر چلتے ہیں۔ دونوں فریق کافر باللہ اور مشرک اللہ کے احکام کو پس پشت ڈال کر دنیا میں بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ یہود ونصاری اس بچی کھچی شریعت کو بھی فراموش کر چکے ہیں جو ان کی کتابوں میں رہ گئی ہے۔

    واقعہ یہ ہے کہ پوری دنیا اب اس بات پر راضی ہوتی نظر آتی ہے کہ اگر مرد وعورت باہمی رضا مندی سے ناجائز تعلقات استوار کریں تو اس پر خاموش رہنا چاہیئے۔ دنیا میں سود کا کاروبار بھی قانونی شکل اختیار کر گیا ہے، مئے نوشی بھی کوئی اخلاقی گراوٹ نہیں سمجھی جا رہی۔

    شریعت کی حدود ایکٹ نافذ نہیں ہوتی، ان کی جگہ انسان ساختہ قوانین رائج ہو چکے ہیں۔ خدا کے احکام کو نافذ کرنا ایک جرم بن گیا ہے اور اس پر اصرار کرنا قابل مذمت ہے۔

    قرآن بار بار یہ اعلان کرتا ہے کہ اللہ اکیلا قانون سازی کا اختیار رکھتا ہے:

    أَفَغَيْرَ اللّهِ أَبْتَغِي حَكَمًا وَهُوَ الَّذِي أَنَزَلَ إِلَيْكُمُ الْكِتَابَ مُفَصَّلاً

    کیا میں اللہ کو چھوڑ کر کوئی اور (قانون بنانے والا) فیصلہ کرنے والا تلاش کرتا پھروں، حالانکہ اس نے پوری وضاحت سے تمہاری طرف کتاب نازل کر دی ہے۔

    ....................................
     
  3. sahil_jaan

    sahil_jaan Guest

    جزاک اللہ برادر بہت اچھے سے قرآن پاک کے پانچ محور بیان فرماے ہیں
     

Share This Page