1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

Buhtaan ki tareef

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by IQBAL HASSAN, Apr 28, 2015.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Super Moderators




    اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ عَلیٰ سیدِ الْمُرْسَلِیْنَ
    اَمّابَعْدُ فَاَ عُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشّیطٰنِ الرَّجِیْم ؕ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ؕ

    بہتان کی تعریف

    کسی شخص کی موجودگی یا غیرموجودگی میں اُس پر جھوٹ باندھنا بہتان کہلاتا ہے ۔ (اَلْحَدِیْقَۃُ النَّدِیَّۃ ج۲ ص۲۰۰) اس کو آسان لفظوں میں یوں سمجھئے کہ بُرائی نہ ہونے کے باوُجُود اگر پیٹھ پیچھے یا رُوبَرو وہ برائی اُس کی طرف منسوب کردی تو یہبُہتان ہوا مثلاً پیچھے یا منہ کے سامنے ریا کار کہہ دیا اور وہ ریا کار نہ ہو یااگر ہو بھی تو آپ کے پاس کو ئی ثُبُوت نہ ہو کیوں کہ ریا کاری کا تعلُّق باطِنی امراض سے ہے لہٰذااس طرح کسی کو ریاکار کہنابہتان ہوا۔

    بہتان سے توبہ کاطریقہ

    بہتان سے توبہ کرے اس توبہ میں تین باتوں کاپایاجاناضَروری ہے:(1)آئندہ بہتان کوترک کرنے کاپکاارادہ کرنا(2)جس کاحق ضائع کیا،ممکن ہوتواس سے مُعافی چاہنا مَثَلاًصاحبِ حق زندہ اورموجود ہے نیزمُعافی مانگنے سے کوئی جھگڑایاعداوت پیدانہیں ہوگی(3)(جن)لوگوں(کے سامنے بہتان لگایا ان )کے سامنے اپنے جھوٹ (یعنی بہتان)کااقرارکرنایعنی یہ کہناکہ جومیں نے بہتان لگایاتھااس کی کوئی حقیقت نہیں۔ (اَلْحَدِیْقَۃُ النَّدِیَّۃ وَ الطَّرِیْقَۃُ الْمُحَمَّدِ یَّۃ ج ۲ ص ۲۰۹) دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 312 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ''بہارِ شریعت''حصّہ 16 صَفْحَہ 181پرصدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:بُہتان کی صورت میں توبہ کرنا اور مُعافی مانگنا ضَروری ہے بلکہ جن کے سامنے بہتان باندھا ہے ان کے پاس جا کر یہ کہنا ضَروری ہے کہ میں نے جھوٹ کہا تھا جو فُلاں پر میں نے بہتان باندھا تھا۔ (بہارِ شریعت حصّہ ۱۶ ص۱۸۱) نفس کے لئے یقینا یہ سخت گِراں ہے مگر دنیا کی تھوڑی سی ذلّت اٹھانی آسان مگر آخِرت کا مُعامَلہ انتِہائی سنگین ہے، خدا عَزَّوَجَلَّ کی قَسم !دوزخ کا عذاب برداشت نہیں ہو سکے گا۔ لہٰذاپڑھئے اور لرزئیے :
    بُہتان کا عذاب

    نبیِّ رَحمت ،شفیعِ امّت،شَہَنْشاہِ نُبُوَّت ، تاجدارِ رسالت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:جو کسی مسلمان کی بُرائی بیان کرے جو اس میں نہیں پائی جاتی تو اس کو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس وقت تک دوزخیوں کے کیچڑ ،پیپ اور خون میں رکھے گا جب تک کہ وہ اپنی کہی ہوئی بات سے نہ نکل آئے۔

    (سُنَنِ ابوداو،د ج۳ ص۴۲۷ حدیث ۳۵۹۷)

    صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

    میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو! بدگُمانی کی ہلاکت خیزیوں سے بچنے کے لئے ہمیں چاہے کہ اس باطِنی مرض کے علاج کے لئے عملی کوششوں کا آغاز کردیں ۔

    پہلا علاج:

    ہمیں چاہے کہ اپنے مسلمان بھائیوں کی خوبیوں پر نظر رکھیں ۔ جو اپنے مسلمان بھائیوں کے بارے میں حسنِ ظن رکھتا ہے اسے سکونِ قلب نصیب ہوتا اور جو بدگُمانی کی بُری عادت میں مبتلاہواس کے دِل میں وحشتوں کا بسیرا رہتا ہے ۔

    دوسرا علاج:

    اپنی اِصلاح کی کوشش جاری رکھئے کیونکہ جو خود نیک ہوتا ہے وہ دوسروں کے بارے میں بھی اچھے گُمان رکھتا ہے ۔جو خود بُرے کاموں میں مشغول رہتا ہے اسے دوسرے بھی اپنے جیسے دکھائی دیتے ہیں ۔عربی مقولہ ہے : اذَا سَاءَ فِعْلُ الْمَرْءِ سَاءَ تْ ظُنُوْنُہُ یعنی جب کسی کے کام برے ہوجائیں تو اس کے گُمان بھی بُرے ہوجاتے ہیں۔ (فیض القدیر ،ج۳،ص۱۵۷)

    تیسراعلاج:

    بُری صحبت سے بچتے ہوئے نیک صحبت اِختِیار کیجئے،جہاں دوسری بَرَکتیں ملیں گی وہیں بدگُمانی سے بچنے میں بھی مدد ملے گی ۔روح المعانی میں ہے : ''صُحْبَۃُ الْاَشْرَارِ تُوْرِثُ سُوْءَ الظَّنِّ بِالْاَخْیَارِ یعنی بُروں کی صحبت اچھوں سے بدگُمانی پیدا کرتی ہے ۔(روح المعانی ،پ ۱۶،مریم :تحت الآیۃ ۹۸،ج۱۶،ص۶۱۲)

    چوتھا علاج:

    جب بھی دِل میں کسی مسلمان کے بارے میں بدگُمانی پیدا ہوتواپنی توجہ اس کی طرف کرنے کے بجائے بدگُمانی کے شرعی احکام کو پیشِ نظر رکھئے اور بدگُمانی کے انجام پر نگاہ رکھتے ہوئے خود کو عذابِ الہٰی سے ڈرائیے ۔میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو!یقیناہم جہنم کا ہلکے سے ہلکا عذاب بھی برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم،نورِ مجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ''دوزخیوں میں سب سے ہلکا عذاب جس کو ہو گا اسے آگ کے جوتے پہنائے جائیں گے جن سے اس کا دماغ کھولنے لگے گا۔''

    ( صحیح البخاری ،باب صفۃ الجنۃ والنار ، الحدیث ۶۵۶۱ ،ج۴،ص۲۶۲)

    پانچواں علاج:

    اپنے مالک ومولاعَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں دستِ دُعا دراز کر دیجئے اور یوں عرض کیجئے:''اے میرے مالک عَزَّوَجَلَّ! تیرا یہ کمزور وناتواں بندہ دُنیا وآخرت میں کامیابی کے لئے اس بدگُمانی سے اپنے دِل کو بچانا چاہتاہے۔ اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ! میری مدد فرمااور میری اس کوشش کو کامیابی کی منزل تک پہنچادے۔ اے اللہ عَزَّوَجَلَّ!مجھے اپنے خوف سے معمور دِل، رونے والی آنکھ اور لرزنے والا بدن عطا فرما ۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم
    صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
     
  2. sahil_jaan

    sahil_jaan Guest

    جزاک اللہ برادر
     

Share This Page