1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

زور اسلام کردار کے زور سے پھیلا ہے یا تلوار &

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by IQBAL HASSAN, Apr 28, 2015.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Management


    Hello guest, Thank you for Register or you log to see the links!



    زور اسلام کردار کے زور سے پھیلا ہے یا تلوار کے

    اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے۔ یہ کردار سے پھیلا ہے تلوار کے زور سے نہیں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کفار و مشرکین کو ایمان کی دعوت دیتے ہوئے اپنے کردار کو پیش کیا تھا۔ قرآن حکیم میں ہے :

    فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِّن قَبْلِهِ أَفَلاَ تَعْقِلُونَO

    ’’بیشک میں اس (قرآن کے اترنے) سے قبل (بھی) تمہارے اندر عمر (کا ایک حصہ) بسر کرچکا ہوں، سو کیا تم عقل نہیں رکھتےo‘‘

    يونس، 10 : 16

    لوگوں میں عمر گزارنا سیرت و کردار کا پتا دیتا ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صادق اور امین جانے جاتے تھے اور کفار و مشرکین کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسن اخلاق اور حسن کردار کا اس حد تک اعتراف تھا کہ بت پرستی پر قائم رہنے کے عوض وہ وہ آپ کی ساری باتیں ماننے پر تیار تھے۔ جب وہ اس پر سمجھوتہ نہ کرنے کے حوالے سے مکمل طور پر مایوس ہو گئے تو انہوں نے مسلمانوں پر ظلم و ستم کی انتہاء کر دی۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں مسلمان حاضر ہوتے تو کوئی زخمی حالت میں ہوتا، کسی کو کوڑوں سے مارا گیا ہوتا، تو کسی کو تپتی ریت پر گھسیٹا گیا ہوتا۔ یہ درد ناک صورتحال دیکھ کر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کو صبر کی تلقین فرماتے۔

    تبيان القرآن، 5 : 762

    بیعت عقبہ اولیٰ کے موقعہ پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو مدینہ روانہ فرمایا۔ ان کی دعوت اس قدر پر اثر ثابت ہوئی کہ اگلے سال حضرت مصعب رضی اللہ عنہ 75 مسلمانوں کو بیعت عقبہ ثانیہ کے لئے مکہ لے کر آئے۔ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کے ہمراہ 12 انصار صحابہ کو نقباء مقرر فرما کر مدینہ رخصت کیا اور جب ہجرت مدینہ ہوئی تو مدینہ کے لوگوں کی غالب اکثریت اس حال میں مسلمان ہو چکی تھی کہ نہ تلوار اٹھائی گئی اور نہ ہی اذن قتال نازل ہوا تھا۔

    قرآنی تعلیمات اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی 63 سالہ انقلابی جدوجہد سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں جتنے بھی معرکے ہوئے، ان میں کسی کو زبردستی مسلمان بنانے کی ایک بھی مثال نہیں ملتی۔ اگرچہ ضرورت کے وقت دفعِ شر اور فتنہ و فساد کو روکنے کے لئے جنگ میں پہل کی گئی لیکن زیادہ تر معرکوں کی نوعیت دفاعی رہی۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب بھی مخالفین نے سرِ تسلیم خم کیا یا راہِ فرار اختیار کی، صلح کے لئے ہاتھ بڑھایا یا ہتھیار ڈال دیئے تو پھر مسلمانوں نے بھی ان پر ہتھیار نہ اٹھائے۔ اسلام میں جنگ محض برائے جنگ نہیں بلکہ قیامِ امن کا ذریعہ ہے۔ محمد بن قاسم نے سندھ فتح کیا تو سندھ دار السلام بن گیا۔ یہ محض مسلمانوں کے کردار اور ان کے ثقافتی غلبہ کا اثر تھا کہ غیر مسلم حلقہ بگوش اسلام ہوتے گئے اور دنیا میں ہر طرف اسلام کا ڈنکا بجنے لگا۔


    واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

    Hello guest, Thank you for Register or you log to see the links!

     
  2. sahil_jaan

    sahil_jaan Guest

    جزاک اللہ
    سچ کہا ہے اسلام کردار کے ذور پر ہی پھیلا ہے
     

Share This Page