1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

حکومت کو دسمبر تک رخصت کرنے کی تیاری شروع ہ&#1

Discussion in 'News & Views' started by PRINCE SHAAN, May 5, 2015.

  1. [​IMG]
    کراچی (ڈنکا ڈاٹ کام) پاکستان مسلم لیگ ن کی بدقسمتی یا یوں کہیے کہ مملکت پاکستان کی بدقسمتی ہے یہاں جب جمہوری حکومتیں آتی ہیں تو وہ جمہوریت کے فروغ اور استحکام کی بجائے اپنے عزیز و اقارب اور خاندان کے افراد کو مالی استحکام دینے کی کوشش کرتی ہیں۔ ہر جمہوری حکومت اور سیاسی جماعت پاکستان میں جمہوری روایات کو فروغ نہ دیئے جانے اور جمہوریت کی ناکامی کا ذمہ دار عسکری اداروں اور آمریت کو ٹھہراتی ہیں لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت کی ناکامی کی ذمہ داری میں ہماری سیاسی جماعتیں برابر کی حصہ دار ہیں۔ ملکی حالات سے دلچسپی رکھنے والے قارئین نے یہ خبر یقینا پڑھ لی ہوگی کہ ایک بینک (کے اے ایس بی) کو سٹیٹ بینک آف پاکستان نے محض ایک ہزار روپے سکہ رائج الوقت کہ نصف جس کے صرف پانچ سو روپے ہوتے ہیں‘ کے عوض “بینک اسلامی” میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے پر ایک جانب تو معاشی ماہرین حیران اور پریشان ہیں تو دوسری جانب ڈنکا ڈاٹ کام کو موصول ہونے والی ذرائع کی اطلاعات کے مطابق اس فیصلے کے پیچھے جہانگیر صدیقی کا نام بھی لیا جا رہا ہے ۔ واضح رہے کہ جہانگیر صدیقی ملک کی معروف کاروباری شخصیت ہیں وہ نہ صرف “ہم” ٹی وی کے ڈائریکٹرز میں شامل ہیں بلکہ معروف صحافتی گروپ جنگ اور جیو کے مالک میر شکیل الرحمان کے سمدھی بھی ہیں۔ ذرائع کے مطابق کے اے ایس بی بینک کو ارادی طور پر دیوالیہ کیا گیا اور اس کے انضمام کیلئے موصول 50 ملین ڈالر کی پیشکش جو ایک چینی کمپنی نے دی تھی اسے بھی تکنیکی بنیادوں پر رد کردیا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ چینی کمپنی کی پیشکش میں تکنیکی بنیادوں پر کوئی خامی نہیں تھی بلکہ حکمران جماعت کی جانب سے منظور نظر افراد کو نوازے جانے کی کامیاب کوشش کے تحت پانچ ارب روپے کی بجائے صرف ایک ہزار روپے میں بینک اسلامی کے حوالے کیا جار ہا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ برس کے اختتام پر کے اے ایس بی بینک کی ملک بھر میں 105 شاخیں تھیں اور اس کے حصص کی مجموعی مالیت 1.3 ارب روپے تھی۔ اس بینک کو جس بینک میں ضم کیا جا رہا ہے اس کے حصص کی کل مالیت 6.2 ارب روپے ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ موجودہ حکومت کا پہلا مالیاتی سکینڈل نہیں ہے بلکہ اس سے قبل نندی پور پاور پراجیکٹ سے لے کر شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں تک اکثر جگہوں پر گھپلوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ذمہ دار ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ دنوں میں چین کے ساتھ ہونے والے سرمایہ کاری کے معاہدوں کے پس پردہ بھی نیب فیم سیف الرحمان کا پوشیدہ ہاتھ ہے جو اس سے قبل قطر سے درآمدی ایل این جی کے معاہدے میں بھی بھاری کمیشن حاصل کرنے کے الزامات کی زد میں ہیں۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت کی نااہلی‘ عوام کو سہولتیں فراہم کرنے میں ناکامی اور ملک میں امن و امان کے حالات درست کرنے میں کوتاہی ایک جانب اور اس طرح کے مالیاتی سکینڈل جن کی بعض خفیہ ادارے مکمل فائلیں ترتیب دے رہے ہیں‘ بہت جلد حکومت کے خلاف چارج شیٹ تیارکرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔ ذرائع نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ گزشتہ برس کے دھرنوں سے بگڑتے حالات سے جوڈیشل کمیشن کے قیام تک سیاسی حکومت کو مکمل طور پر دباﺅ میں لایا جاچکا ہے اور اب اس کی کرپشن کی فائلوں کو مرتب کیا جانا یہ ظاہر کر رہا ہے کہ مقتدر حلقے رواں سال کے اختتام سے قبل اس حکومت کو رخصت کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ میں ایسی خبریں تسلسل کے ساتھ شائع ہو رہی ہیں کہ مقتدر ادارے قدم بقدم اس خاموش انقلاب کی جانب بڑھ رہے ہیں جس کا خدشہ گزشتہ برس دھرنوں کے دوران ظاہر کیا جا رہا تھا۔ اگرچہ حکومت اس وقت کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی کے تحت یا یوں کہیے کہ دایاں ہاتھ کٹواکر بایاں ہاتھ بچانے میں کامیاب رہی تھی لیکن اس مرتبہ ایسا ہونا مشکل نظر آ رہا ہے کیونکہ اب حکومت کے پاس دینے کو کچھ بچا نہیں۔ اس وجہ صاف ظاہر ہے کہ جب حکومتوں کی ترجیح ملک و قوم کی بجائے ذاتی مفادات بن جائیں تو پھر عوامی حمایت کھونے کے بعد ان کے لیے مقتدر اداروں کے سامنے ٹھہرنا ممکن نہیں رہتا۔ اگر سیاسی جمہوری جماعتیں اپنا دامن صاف رکھیں تو ان کے خلاف کسی بھی غیر آئینی کارروائی کے لیے طالع آزماﺅں کو سو بار سوچنا پڑے گا لیکن اس قوم کی بد نصیبی یہ ہے کہ ہر دو جانب سے اس کے لیے کوئی اچھی خبر نہیں آتی۔



     

Share This Page