1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

رات والا اجنبي

Discussion in 'Library' started by PRINCE SHAAN, May 5, 2015.







  1. رات والا اجنبي


    
 بس پل بھر ميں جيسے سب كچھ هوگيا ۔
    
 كهر اور دھند ميں چھپي هوئي رات كے آخري زينے سے كوئي آهسته آهسته اتر رها تھا ۔ اس نے اپنے دبلے پتلے منحني جسم كووولن كے گرم كوٹ ميںاس طرح چھپاليا تھا جيسے اگر سرد هوا كا ايك جھونكا بھي اس كے جسم كو چھولے تو وه وهيں ڈھير هوكر ره جائے گا ۔ اس نے سستے داموں خريدے هوئے مفلر كو كانوں اور گلے سے كچھ اس طرح جوڑ ليا تھا كه اس كے چهرے اور ناك كے علاوه
    كوئي چيز ننگي نه تھي ۔ اس پر هول سناٹے ميں گھري هوئي رات كے سينے پر وه كسي فاتح سپه سالار كي طرح چل رها تھا۔ اس كے هاتھ ميں خون سے بھرا ايك لمبا چاقو تھا ۔ چاقو كي دھار پر پھيلے هوئے خون كے قطروں كو وه احتياط سے سنبھالے هوئے تھا ۔ گويا وه اس رات كا تنها مسافر تھا جس كے دائيں بائيں آگے پيچھے كوئي اور آدمي نه تھا ۔ كوئي اور هوتا بھي كيوں ؟ قاتل كے آگے بھلا كوئي سر اونچا كركے چلا
    بھي هے ۔

    
 سنسان اور خاموش سڑك پر وه بے خوف و خطر چل رها تھا ۔ اس كے هاتھ ميں چاقو ابھي تك تھما هوا تھا ليكن وه سردي سے گھبرا رها تھا ۔ اس نے يكبارگي محسوس كيا جيسے موٹے موٹے گم بوٹوں كي دھما دھم سے زمين تڑخ رهي هے ۔ اس كے سامنے دو پوليس كے جوان هاتھ ميں هاتھ ڈالے آگے بڑھ رهے تھے ۔ اس كے هاتھ ميں خون سے بھرا چھرا ديكھ كر بھي وه چپ تھے ۔ پوليس كو سامنے سے
    جاتا هوا ديكھ كر بھي اسے ذرا خوف نه آيا۔

    
 اس كے ليے بس ايك خون هي كافي تھا ۔۔۔ ايك قتل ۔۔۔ جو هزاروں لاكھوں قتل پر بھاري تھا ۔ كتنا ارمان تھا اسے اس قتل كا ۔
    
 قاتل كتنا پيارا اور خوبصورت لفظ هے۔اس كے دبلے پتلے جسم پر چڑھے هوئے ملگجے اووركوٹ پر جب قاتل كا تمغه لگ جائے گا تو وه كتنا خوش هوگا ۔
    
 اس كي يه كتني خواهش تھي كه يه رات اچانك دن ميں تبديل هوجائے اور لوگ اسے اس عالم ميں ديكھ كر چونك پڑيں۔ خاص طور پر اس كے دوست ، اس كے چاهنے والے عزيز ۔

    
 ليكن رات كي ٹھٹھرتي هوئي سيڑھي سے اترنے والا يه آخري مسافر تھا،اور سارا شهر گهري نيند كے پنگوڑے ميں پڑا موت كي نيند سو رها تھا ۔
    
 وه سوچنے لگا ۔ يه لوگ كروٹ بدل كر اپنے خوابيده كواڑوں كو اس ليے وا نهيں كرسكتے كه وه اس سے بے پناه خوف كھاتے هيں ۔ جيسے ذرا كسي نے دريچے سے جھانكا تو وه ان پر حمله آور هوجائے گا، مگر اس نے جو قتل كيا تھا وه هزاروں قتل كے برابر تھا ۔ اب اگر كوئي اس كا پيچھا بھي كرے تو وه اپنے هاتھ خون ميں رنگنا نهيں چاهتا تھا ۔ وه تو صرف اتنا چاهتاتھا كه اچانك كوئي اس كے سامنے
    آكر اس كارنامے پر اس كي پيٹھ ٹھونكے اور كهے ۔ ٫٫ يار تو نے تو آج كمال كرديا ۔٬٬ مگر رات كي تاريكي نے جيسے سب كو ڈس ليا تھا ۔ يهاں تك كه پوليس كے ان جوانوں كوبھي جو اسے ديكھ كر چپكے سے كھسك گئے تھے ۔

    
 لمبے لمبے وحشيانه بوٹوں كي گھن گرج سے زمين لرز سكتي هے،زمين سے چمٹے هوئے ذرے موت سے گھبرا كر پناه گاهوں كي طرف بھاگ سكتے هيں ليكن وه تو سينه تانے قاتل هونے كے باوجودسڑك پر فاتحانه انداز سے چل رها تھا ۔ سڑك نيند كي گهري چادر ميں لپٹي هوئي تھي ۔ سڑك پر آواره گھومنے والے بے گھر كتے دور هي دور سے اسے آتا ديكھ كر بھونك رهے تھے ۔ بھوں بھوں ۔۔۔ مگر آواره
    كتوں كے بھونكنے كي آواز ميں جو خوف كے بطن سے جنم لينے والي لرزش تھي وه هر قدم ناپتا هوا محسوس كررها تھا ۔ اب توكتّے بھي اسے قريب آتا ديكھ كر دم دبا كر بھاگ رهے تھے ۔ سردي هولے هولے بڑھ رهي تھي ۔ اب اسے علانيه محسوس هورها تھا جيسے گرم اووركوٹ كو پھلانگتے هوئے سرد هوا كے چبھتے هوئے جھونكے اس كے بدن ميں سرايت كرتے جارهے هيں۔ پته نهيں رات كا طلسم ٹوٹنے كي خواهش اب
    اس كي ذات ميں كيوں باقي نهيں رهي تھي ۔ اس نے جو ابھي تھوڑي دير پهلے اپني معصومانه خواهش كا اظهار آپ هي آپ كرتے هوئے سوچا تھا كه يه رات اچانك دن ميں تبديل هوجائے۔ كهر ميں ڈوبي هوئي صبح ميں لوگ اسے ديكھ كر ۔۔۔
    
 مگر يه كيا وه تو رات كے زينے سے اترنے والا آخري مسافر تھا ۔ وه تو شكست كے لبادے كو تار تار كركے فاتح بن چكا تھا ۔ زندگي كو موت كي وادي ميں دھكيل آنے ولا مسافر ۔
    
 وه سوچ رها تھا ۔

    
 يه رات آگے جارهي هے يا پيچھے ۔ كوئي اس كا تعاقب كيوں نهيں كرتا ۔ كيا زندگي نے پھر ايك بار موت پر فتح پالي هے يا پھر موت نے زندگي كا منه نوچ ليا هے ۔

    
 اس لمبي سڑك پر چلتے چلتے وه تھك سا گيا تھا ۔
    
 اچانك بے اراده جب وه سامنے والي گلي ميں مڑ گيا تو اسے سامنے سے ايك جنازه آتا هوا دكھائي ديا۔ جنازے كے ساتھ چار خسته حال آدمي ڈولے كو سهارے منه هي منه ميںكچھ پڑھتے هوئے گلي پار كررهے تھے ۔ رات كے سناٹے ميں وه اسے بھوتوں كي مانند لگ رهے تھے ۔
    
 اسے يه ديكھ كر حيرت هوئي كه چاروں آدمي آنكھيں بند كيے سڑك پار كررهے تھے جيسے وه پيدائشي نابينا هوں ۔
    
 يه منظر اسے بڑا عجيب لگا ۔ وه سوچنے لگا ۔ اس كي جگه كوئي اور هوتا تو شايد چيخ ماركر وهيں ڈھير هوجاتا ۔ مگر وه بزدل نهيں هے ۔۔۔ وه بزدل نهيں تھا ۔
    
 وه تو رات كے زينے سے اترنے والا ۔۔۔ وه آپ هي آپ مسكرايا ۔ كتنے دنوں بعد اس كے هونٹوں نے مسكراهٹ كا مزه چكھا تھا ۔ زندگي كا چهره كيا اتنا حسين بھي هوسكتا هے ۔ كيا رات كے زينے سے اترنے والا مسافر مسكرا بھي سكتا هے ، ليكن رات كي بانهيں سمٹ رهي تھيں اور اس كے ساتھ ساتھ اس كے لبوں پر آتي هوئي مسكراهٹ مٹ رهي تھي ۔
    
 اب اسے يهي خوف تھاكه كهيں سرما كي يه طويل تھرتھراتي هوئي رات صبح كي روشني كو گلے سے نه لگا لے، مگر سڑك پر پھيلے هوئے اونچے نيچے مكانوں كے كمرے بند تھے ۔ كھڑكيوں پر گهرے كالے رنگ كے ماتمي پردے لهرا رهے تھے ليكن يه اس كي بدبختي تھي كه رات سسكتي هوئي مررهي تھي اور صبح كي سپيدي كے آثار آهسته آهسته ظاهر هورهے تھے۔آسمان سے سياهي كا غلاف دھيرے
    دھيرے اتر رها تھا ۔ كهيں كهيں آسماني كلس پر دو ايك مدھم ستارے رات كے خاتمے كا جيسے اعلان كررهے تھے۔و ه صبح كي سپيدي سے بغل گير هونے سے پهلے موت كو ترجيح دينا چاهتا تھا ۔
    
 اب تو رات واقعي ڈھل رهي تھي اور فيكٹريوں ميں كام كرنے والے لوگ سڑك پر تيزتيز چلنے لگے تھے ۔ وه اپني دھن ميں مست تھے ۔ انھيں ذرا بھي فرصت نهيں تھي كه وه اس كي طرف ديكھتے۔ وه سڑك كے بيچوں بيچ تيزي سے چل رها تھا ۔ اسے يه جان كر شديد صدمه هوا كه خون ميں بھرا هوا ننگا چاقو هاتھ ميں تھامے رهنے كے باوجود كسي كو اپني طرف متوجه نه كرسكا تھا ۔ لوگ اس كے سامنے يوں
    گزر رهے تھے جيسے اس كا وجود ان كے ليے كوئي اهميت نه ركھتا هو ۔ لوگوں كا اس طرح خاموشي سے گزرجانا اس كے ليے حد درجه اذيت ناك تھا ۔ اس كا وجود اب اسے گندي نالي ميں پرورش پانے والے حقير كيڑے كي طرح لگ رهاتھا ۔ سڑك پر لوگوں كا ايك جال سا پھيلتا جارها تھا ۔۔۔ رات بھاگ رهي تھي اور وه لوگوں كے هجوم ميںبھي خود كو تنها محسوس كررها تھا ۔ اسے كچھ سجھائي نهيں دے رهے تھا ۔ كهر ميں لپٹي
    هوئي رات كي آغوش بھي اب اس كے ليے خالي تھي ۔۔۔ وه ديوانه وار سڑك پر بھاگ رها تھا ۔
    
 ٫٫ارے اس آدمي كو تو ديكھو ، كيسے تيز بھاگ رها هے جيسے ريل چھوٹنے هي والي هو ۔
    
 اب سارے لوگوں كي توجه اسي طرف منعطف هوچكي تھي ۔

    
 اب اپني عقل اور بساط كے مطابق هر آدمي كوئي نه كوئي فقره اس پر كس رها تھا ۔ يكبارگي اُسے ايسا لگا جيسے اس كا بكھرا هوا وجود تكميل پاچكا هو

     
  2. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Management

    Hello guest, Thank you for Register or you log to see the links!


    very nice and good sharing
    thank you shaan bhai

    Hello guest, Thank you for Register or you log to see the links!

     

Share This Page