1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

موٹاپے سے چھٹکارے میں مدد

Discussion in 'Health & Diet' started by Rania, May 16, 2015.

  1. Rania

    Rania VIP Member

    بسم الله الرحمن الرحيم
    موٹاپے سے چھٹکارے میں مدد دینے والی 10 غذائیں
    موٹاپا کس کو پسند ہوتا ہے یہ نہ صرف ظاہری شخصیت کو تباہ کردیتا ہے بلکہ یہ امراض کی جڑ بھی ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس سے ذیابیطس، بلڈپریشر، امراض قلب اور فالج غرض کہ لاتعداد بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
    اور یہ تو سب کو ہی معلوم ہے کہ موٹاپا اب ایک عالمی وباءبن چکا ہے اور گزشتہ سال کی ایک رپورٹ کے مطابق موٹاپے سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں پاکستان نویں نمبر پر ہے۔وزن میں کمی کا کوئی جادوئی حل نہیں بلکہ طرز زندگی میں تبدیلی ہی سے آپ اپنی شخصیت کو بدل سکتے ہیں اور اس حوالے سے کچھ غذائیں بہت تیزی سے جسمانی وزن میں کمی لاتی ہیں جن کا استعمال آپ کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوگا۔
    پروٹین
    پروٹین جسمانی صحت کے لیے بہت اہمیت رکھتے ہیں یہ صحت مند جلد، بال، ناخنوں، ہڈیوں اور پٹھوں کی جمانت بنتے ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ جسمانی وزن میں تیزی سے بھی کمی لانے کے لیے بھی فائدہ مند ہیں۔ ایری زونا اسٹیٹ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق پروٹین کھانے کے بعد طبیعت سیر کرنے کا احساس بھی پیدا کرتے ہیں اور خوراک کے بعد کیلیوریز (حراروں) کو جلانے کا عمل بھی تیز کردیتے ہیں۔ آسان الفاظ میں کہا جائے تو پروٹین سے بھرپور خوراک کا استعمال پیٹ بھی بھرتا ہے، بھوک نہیں بڑھاتا اور چربی کو جلاتا ہے۔
    وٹامن سی
    وٹامن سی کے بارے میں کون نہیں جانتا، ترش پھلوں میں پائے جانے والا یہ وٹامن سردیوں میں نزلہ زکام سے بچاتا ہے جبکہ جلد کو جگمگا کر شخصیت کو پرکشش بناتا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ جسمانی وزن میں کمی لانے کے لیے بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ طبی تحقیق کے مطابق جسم میں وٹامن سی کی کمی ہوجائے تو اس کی جگہ بھرنے کا کام چربی کرتی ہے۔ کینیڈین تحقیق کے مطابق وٹامن س کی کمی موٹاپے کا باعث بنتی ہے جبکہ اس سے بھرپور اشیاءکا استعمال جسم میں چربی کو جمع نہیں ہونے دیتے یا آپ توند سے محفوظ رہتے ہیں۔
    شہد
    یہ قدرتی مٹھاس موٹاپے سے بچاﺅ کے لیے بھی بہترین ہے۔ مختلف طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق شہد کا استعمال جسمانی وزن اور چربی کو کم کرتا ہے جبکہ اس میں بیکٹریا کش، وائرس سے بچاﺅ وغیرہ جیسے اثرات مختلف طبی فوائد کا باعث بھی بنتے ہیں۔ یہ جسم میں بلڈ شوگر کو بھی بہتر کرتا ہے جبکہ جسمانی دفاعی نظام بھی بہتر ہوتا ہے اور کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ کھانسی پر قابو پانے کے لیے بھی موثر دوا ہے؟
    کوکا
    اگر تو آپ کو چاکلیٹ پسند ہے تو اچھی خبر یہ ہے کہ اس کا مستقل استعمال موٹاپے سے بھی تحفظ دیتا ہے۔ امریکا کی یالے یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق چاکلیٹ میں اینٹی آکسائیڈنٹس بیشتر غذاﺅں سے زیادہ ہوتی ہے اور اس میں شامل کوکا اعصاب کو انجری اور سوجن سے تحفظ دیتے ہیں جبکہ یہ میٹھی سوغات چربی کو گھلانے کا عمل بھی تیز کردیتی ہے۔
    سرکہ
    سننے میں حیران کن ضرور لگے گا مگر سرکے کا سلاد میں استعمال پیٹ بھرنے کا احساس پیدا کرتا ہے۔ طبی تحقیق کے مطابق کسی بھی کھانے میں سرکے کو شامل کیا جائے تو یہ ترش سیال بلڈ شوگر کو بڑھنے سے روکتا ہے اور ایسا ہونے کی صورت میں کچھ دیر بعد کچھ کھانے کی خواہش پیدا نہیں ہوتی۔ اسی طرح سرکہ جسمانی چربی کو جمع ہونے سے بھی روکتا ہے اور صاف ظاہر ہے توند کا تو امکان ہی نہیں ہوتا۔
    ناریل کا تیل
    ناریل کا تیل ذائقے میں میٹھا اور چکنائی سے بھرپور ہوتا ہے جو کہ خواتین میں توند بننے کے عمل کو روکتا ہے۔ برازیل میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق ناریل کا تیل جسم کے لیے نقصان دہ کولیسٹرول کو بھی بڑھنے سے روکتا ہے اور امراض قلب کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے، جبکہ اس کے استعمال سے خوراک سے مطلوبہ کیلوریز میں وزن میں اضافہ کیے بغیر جسم کا حصہ بن جاتی ہیں۔
    خشک میوہ جات
    خشک میوہ تو ہر ایک کو ہی پسند آتا ہے خاص طور پر بادام، پستے اور اخروٹ وغیرہ یہ سب فیٹی ایسڈز سے بھرپور ہوتے ہیں جو لوگوں کے اندر توند پیدا نہیں ہونے دیتے۔ ان کے استعمال سے پیٹ بھی نہیں بڑھتا جبکہ جسمانی توانائی کا ذخیرہ بڑھتا چلا جاتا ہے جبکہ ان کا استعمال دیگر کئی امراض جیسے بلڈ پریشر اور امراض قلب وغیرہ سے بھی تحفظ دیتے ہیں۔
    فائبر
    کئی برسوں سے سائسندان کہتے چلے آرہے ہیں کہ کسی کھانے کا آغاز سلاد سے کرنا بھوک کو کم کرتا ہے اور اس بات کو یقنی بناتا ہے کہ آپ زیادہ نہ کھائیں۔ مگر ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ اس کی وجہ ہے کہ سلاد فائبر سے بھرپور ہوتی ہے۔ گاجروں، ٹماٹروں اور اسی طرح کی دیگر سبزیوں میں یہ بہترین جز موجود ہوتا ہے۔ جب کبھی آپ کو احساس ہو کہ آپ کچھ زیادہ ہی کھانے لگے ہیں تو سلاد کا استعمال اس عادت کو روکنے کے لیے بہترین ثابت ہوتا ہے جبکہ اس میں شامل سبزیاں چربی جلانے کا عمل بھی تیز کردیتی ہیں جس کے نتیجے میں موٹاپے کا امکان ہی پیدا نہیں ہوتا۔
    کیلشیئم
    یہ تو سب کو معلوم ہے کہ کیلشیئم ہڈیوں کے لیے بہت اہم ہوتا ہے مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ کیلشیئم بھوک کو بھی کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ ہڈیوں کو مضبوط بنانے والے اس منزل کا زیادہ استعمال نہیں کرتے وہ موٹاپے کا بھی شکار ہوتے ہیں جبکہ کھانے کے دوران ان کے لی اپنا ہاتھ رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں کیلشیئم سے بھرپور غذا استعمال کرنے سے یہ امکان بہت کم ہوتا ہے۔
    دودھ یا اس سے بنی اشیاء
    دودھ کیلشیئم کے حصول کا اہم ذریعہ تو ہے ہی تاہم اس میں ایسے اجزاءکی بھی تعداد کم نہیں جو جسمانی چربی کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ دن میں تین بار دودھ یا اس سے بنی اشیاءکا استعمال توند وغیرہ سے چربی گھلانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے جبکہ موٹاپے کو کم کرنے کی رفتار کوبھی بڑھا دیتا ہے۔
     
  2. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Management

    :bis

    Hello guest, Thank you for Register or you log to see the links!

    Hello guest, Thank you for Register or you log to see the links!


    بہت زبردست ، دلچسپ اور بالکل نئی معلومات ہیں میرے لیے
    بہت شکریہ مفید شیئرنگ کے لیے

    Hello guest, Thank you for Register or you log to see the links!

    Hello guest, Thank you for Register or you log to see the links!

     
  3. Very nice sharing.........................
     
  4. Rania

    Rania VIP Member

    بہت بہت شکریہ
     
  5. danialraza

    danialraza Newbi

    Nice Post, but here i want mention that running is best practice to to remove fats in the body. If we do running daily, we can get rid of it. With running, we also have to avoid oily foods and should take balance diet.
     
  6. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

Share This Page