1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

ہر اک نیکی کی جڑ یہ اتقا ہے

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by IQBAL HASSAN, May 20, 2015.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Super Moderators

    Hello guest, Thank you for Register or you log to see the links!


    ہر اک نیکی کی جڑ یہ اتقا ہے


    ہر اک نیک کی جڑ یہ اتقا ہے
    اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے

    یہی اک فخر شان اولیاء ہے

    بجز تقویٰ زیادت ان میں کیا ہے

    مجھے تقویٰ سے اس نے یہ جزا دی

    فسبحان الذی اخزی الاعادی

    قرآن مجید اور احادیث میں باربارارشاد ہوتا ہے کہ تقویٰ اختیار کیا جائے۔ دراصل تقویٰ ایک ایسی سیڑھی ہے جس پر چڑ ھ کر انسان اپنے معبود حقیقی کے قرب کو پا لیتا ہے اور اپنی پیدائش کے مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے تقویٰ پر بہت زور دیا ہے اورخدا تعالیٰ کے ہاں متقی کو سب سے زیادہ معزز اور مکرم قرار دیا ہے۔ (ان اکرمکم عنداللہ اتقٰکم) (الحجرات: ۱۴) کی آیت اسی مضمون پر دلالت کرتی ہے اور (ھدیً للمتقین) کے الفاظ اس کی ضرورت بیان کرتے ہیں۔

    تقویٰ پر ہی ساری زندگی کا دارو مدار ہے ۔ تقویٰ اختیار کرنے سے انسان اللہ تعالیٰ کو ڈھال بنا لیتاہے۔ ہر قسم کے خطرات ، ہر قسم کے ظاہری و باطنی شر اور فساد اور نقصان سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آ جاتا ہے۔ کیونکہ صرف اللہ ہی کی ذات ہے جو کہ ہر قسم کے نقصانات سے بچا سکتی ہے اور وہی ہے جس کی امان میں آ کر انسان ہر قسم کی راحت اور سرور حاصل کر سکتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔( اِنّ اللّہَ مَعَ الذینَ اتّقوا) (النحل:۱۲۹) یعنی خدا ان کے ساتھ ہے جو متقی ہیں۔ اور جن کو اللہ کی معیت حاصل ہو جائے وہ دنیا کی ہر چیز سے بے نیاز ہو جاتے ہیں۔

    *۔۔۔ تقویٰ اختیار کرنے سے خدا اپنے قرب کے نشانات انسان پر ظاہر کرتا ہے جیسا کہ آیت کریمہ (لھم البشریٰ فی الحیوۃ الدنیا و فی الآخرۃ) ( سورہ یونس: ۶۵) کی تشریح میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:

    ’’ جو متقی ہوتے ہیں ان کو اسی دنیا میں بشارتیں سچے خوابوں کے ذریعہ ملتی ہیں بلکہ اس سے بڑھ کر وہ صاحب مکاشفات ہو جاتے ہیں ۔ مکالمۃ اللہ کا شرف حاصل کرتے ہیں ۔ وہ بشریت کے لباس میں ہی ملائکہ کو دیکھ لیتے ہیں‘‘(ملفوظات جلد اول صفحہ ۱۵)
    *۔۔۔ اسی موضوع پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام مزید فرماتے ہیں:

    ’’ ہماری جماعت کو چاہئے کہ تقویٰ کی راہوں پر قدم ماریں اور اپنے دشمنوں کی ہلاکت سے بے جا خوش نہ ہوں ۔ تورات میں لکھا ہے بنی اسرائیل کے دشمنوں کے بارے میں کہ میں نے ان کو اس لئے ہلاک کیا کہ وہ بد ہیں، نہ اس لئے کہ تم نیک ہو۔ پس نیک بننے کی کوشش کرو۔ میرا ایک شعر ہے
    ؂

    ہر اک نیکی کی جڑ یہ اتقا ہے

    اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے

    ہمارے مخالف جو ہیں وہ بھی متقی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر ہر چیز اپنی تاثیرات سے پہچانی جاتی ہے ۔ نرا زبانی دعویٰ ٹھیک نہیں ۔ اگر یہ لوگ متقی ہیں تو پھر متقی ہونے کے جو نتائج ہیں وہ ان میں کیوں نہیں؟ نہ مکالمہ الٰہی سے مشرف ہیں ، نہ عذاب سے حفاظت کا وعدہ ہے۔ تقویٰ ایک تریاق ہے جو اس کو استعمال کرتا ہے وہ تمام زہروں سے نجات پاتا ہے۔ مگر تقویٰ کامل ہونا چاہئے ۔۔۔ کسی ایک شاخ پر عمل موجب ناز نہیں۔ پس تقویٰ وہی ہے جس کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (انّ اللّہ مع الّذین اتّقوا) ( ا لنّحل: ۲۹) خدا تعالیٰ کی معیت بتا دیتی ہے کہ یہ متقی ہے‘‘۔(ملفوظات جلد ۹ صفحہ ۲۶۱،۲۶۲)

    *۔۔۔ تقویٰ کی یہ علامت ہے کہ اس سے انسان خدا تعالیٰ کی حفاظت میں آ جاتا ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:

    ’’ لوگ بہت سی مصائب میں گرفتار ہوتے ہیں لیکن متقی بچائے جاتے ہیں۔ بلکہ ان کے پاس جو آتا ہے وہ بھی بچایا جاتا ہے۔ مصائب کی کوئی حد نہیں۔ انسا ن کا اپنا اندر اس قدر مصائب سے بھرا ہوا ہے کہ اس کا کوئی اندازہ نہیں۔امراض کو ہی دیکھ لیا جاوے کہ ہزار ہا مصائب کے پیدا کرنے کو کافی ہیں۔ لیکن جو تقویٰ کے قلعے میں ہوتا ہے وہ ان سے محفوظ ہے اور جو اس سے باہر ہے وہ ایک جنگل میں ہے جو درندہ جانوروں سے بھرا ہوا ہے‘‘۔(ملفوظات جلد ۱ صفحہ ۱۵)
    *۔۔۔ تقویٰ سے انسان اللہ تعالیٰ کی کفالت میں چلا جاتاہے جہاں اللہ تعالیٰ اس کا خود کفیل و ذمہ دار بن جاتا ہے چنانچہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام آیات قرآنیہ کے حوالے سے فرماتے ہیں:

    ’’(مَن یتّقِ اللّہ یَجعَل لَہُ مُخرِجا)(الطلاق:۳)۔ جو خدا کے آگے تقویٰ اختیار کرتا ہے خدا اس کے لئے ہر ایک تنگی اور تکلیف سے نکلنے کی راہ بنا دیتا ہے۔ اور فرمایا (و یرزقہ من حیث لا یحتسب) (الطلاق:۴)۔ وہ متقی کو ایسی راہ سے رزق دیتا ہے جہاں سے رزق آنے کا خیال و گمان بھی نہیں ہوتا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے وعدے ہیں۔ وعدوں کے سچا کرنے میں خدا سے بڑھ کر کون ہے۔ پس خدا پر ایمان لاؤ۔ خدا سے ڈرنے والے ضائع نہیں ہوتے۔ ’یجعل لہ مخرجا ‘ یہ ایک وسیع بشارت ہے۔ تم تقویٰ اختیار کرو خدا تمہارا کفیل ہوگا‘‘۔(ملفوظات جلد ۲ صفحہ ۳۹۲)
    مزید فرمایا :

    ’’اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے ۔۔۔ جو شخص تقویٰ اختیار کرتا ہے اس کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہر ایک بلا اور اَلَم سے نکال لیتا ہے او ر اس کے رزق کا خود کفیل ہو جاتا ہے۔ اور ایسے طریق سے دیتا ہے کہ جو وہم و گمان میں بھی نہیں آ سکتا‘‘۔(ملفوظات جلد ۷ صفحہ ۵۴)
    *۔۔۔ متقی کا ایک اہم وصف استقامت ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس نکتہ پر یوں روشنی ڈالی ہے کہ:

    ’’ حقیقی متقی وہ شخص ہے کہ جس کی خواہ آبرو جائے، ہزار ذلت آتی ہو، جان جانے کا خطرہ ہو ، فقر و فاقہ کی نوبت آئی ہو تو وہ محض اللہ تعالیٰ سے ڈر کر ان سب نقصانوں کو گوارا کر ے لیکن حق کو ہرگز نہ چھپائے ۔۔۔ تقویٰ کے بھی مراتب ہوتے ہیں اور جب تک یہ کامل نہ ہوں تب تک انسان پورا متقی نہیں ہوتا ۔۔۔ جب تک انسان خدا تعالیٰ کو مقدم نہیں رکھتا اور ہر ایک لحاظ کو خواہ برادری کا ہو ، خواہ قوم کا، خواہ دوستوں اور شہر کے رؤسا کا خدا تعالیٰ سے ڈر کر نہیں توڑتا اور خدا تعالیٰ کے لئے ہر ایک ذلت برداشت کرنے کو تیار نہیں ہوتا تب تک وہ متقی نہیں ہے ۔۔۔ اللہ تعالیٰ کے خوف سے اوراس کو راضی کرنے کے لئے جو شخص ہر ایک بدی سے بچتا ہے اس کو متقی کہتے ہیں‘‘۔(ملفوظات جلد ۷ صفحہ ۷۴، ۷۵)
    ’’ متقی وہی ہیں کہ خدا تعالیٰ سے ڈر کر ایسی باتوں کو ترک کر دیتے ہیں جو منشاء الٰہی کے خلاف ہیں ۔ نفس اور خواہشات نفسانی کو اور دنیا و مافیھاکو اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں ہیچ سمجھیں‘‘۔(ملفوظات جلد ۱۰ صفحہ ۱۳۷)
    *۔۔۔ انسان کی بڑی سے بڑی خواہش دنیا میں یہی ہے کہ اس کو سکھ اور آرام ملے اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک ہی راہ مقرر کی ہے جو تقویٰ کی راہ کہلاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ متقی کو مکروہات زمانہ سے بچاتا اور ہر ایک مصیبت میں اس کے لئے نجات کاراستہ نکال دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ متقی کو نابکار ضرورتوں کا محتاج نہیں کرتا بلکہ متقی کو آئندہ زندگی یہیں دکھلا دی جاتی ہے۔ انہیں اس دنیا میں خدا ملتا ہے، نظر آتا ہے، اور ان سے باتیں کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہمیشہ ان کے شامل حال ہوتا ہے ۔ ان کو جو مصائب و تکالیف آتی ہیں وہ ان کی ترقی کا باعث بنتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے وہ نزدیک سے نزدیک تر ہوتے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ متقی کی دعاؤں کو شرف قبولیت بخشتا ہے۔ جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ( انّما یتقبّل اللّہ مِنَ المُتّقِین) (المائدہ:۲۸) یعنی اللہ تعالیٰ کے حضور ان کی دعائیں قبولیت کے مرتبہ تک پہنچتی ہیں۔ پھر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ باتیں یہاں تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ان کی عاقبت بھی سنواری جاتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ( العاقبۃ للمتقین) (الاعراف: ۱۲۹) وہ اللہ تعالیٰ کے حضور سرخرو ہونگے اور جنت میں ان کا قیام ہوگا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلا م نے فرمایا :

    ’’ حضرت داؤد ؑ زبور میں فرماتے ہیں کہ میں بچہ تھا ، جوان ہوا، جوانی سے اب بڑھاپا آیا مگر میں نے کبھی کسی متقی اور خدا ترس کو بھیک مانگتے نہیں دیکھا اور نہ اس کی اولاد کو دربدر دھکے کھاتے اور ٹکڑے مانگتے دیکھا۔
    یہ بالکل سچ اور راست ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو ضائع نہیں کرتا اور ان کو دوسروں کے آگے ہاتھ پسارنے سے محفوظ رکھتاہے ۔۔۔ میرا تو اعتقادہے کہ اگر ایک آدمی با خدا اور سچامتقی ہو تو اس کی سات پشت تک بھی خدا رحمت اور برکت کا ہاتھ رکھتا اور ان کی خود حفاظت فرماتا ہے‘‘۔(ملفوظات جلد ۵ صفحہ ۲۴۴،۲۴۵)

    حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تقویٰ کے مختلف پہلوؤں کو بڑ ی وضاحت سے بیان فرمایا ہے۔ مثلاً آپ فرماتے ہیں:

    ’’ تقویٰ کے دو درجے ہیں بدیوں سے بچنا اور نیکیوں میں سرگرم ہونا‘‘۔(ملفوظات جلد ۶ صفحہ ۲۵۱)
    ’’ تقویٰ اس کا نام نہیں کہ موٹی موٹی بدیوں سے پرہیز کرے بلکہ باریک در باریک بدیوں سے بچتا رہے‘‘۔( ملفوظات جلد ۸ صفحہ ۳۷۷)

    ’’ تقویٰ تو یہ ہے کہ باریک در باریک پلیدگی سے بچے اور اس کے حصول کا یہ طریق ہے کہ انسان ایسی کامل تدبیر کرے کہ گناہ کے کنارے تک نہ پہنچے‘‘۔(ملفوظات جلد ۶ صفحہ ۳۳۷، ۳۳۸)

    ’’عجب، خود پسندی، مال حرام سے پرہیز اور بداخلاقی سے بچنا بھی تقویٰ ہے‘‘۔(ملفوظات جلد ۱ صفحہ ۸۱)

    ’’ ؒ تقویٰ اس بات کا نام ہے کہ جب دیکھے کہ میں گناہ میں پڑتا ہوں تو دعا اور تدبیر سے کام لیوے‘‘۔ (ملفوظات جلد ۶ صفحہ ۲۱۸)

    اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ متقی کس طرح بنا جا سکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے بے شمار ذرائع تقویٰ کے حصول کے بتائے ہیں۔ ان ذرائع میں سے ایک ذریعہ روزے رکھنا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ( یآ یھا الذین آمنوا کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون) (سورہ البقرہ : ۱۹۴) اے لوگو جو ایمان لائے ہو تم پر بھی روزوں کا رکھنا(اسی طرح) فرض کیا گیا ہے جس طرح ان لوگوں پر فرض کیا گیا تھا جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں تاکہ تم (روحانی اور اخلاقی کمزوریوں سے) بچو۔

    *۔۔۔ عبادات انسان میں تقویٰ کی روح کو پیدا کرتی ہیں اور اسے جلا بخشتی ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

    (یاایھا الناس اعبدوا ربکم الذی خلقکم والذین من قبلکم لعلکم تتقون) ( سورہ البقرہ : ۲۲) اے لوگو اپنے (اس) رب کی عبادت کروجس نے تمہیں بھی اور انہیں بھی جو تم سے پہلے گزرے ہیں پیدا کیا ہے تا کہ تم تقویٰ اختیار کرو۔

    *۔۔۔ تقویٰ کے حصول کے ذرائع میں یہ بھی ہے کہ حدود اللہ کا خیال رکھا جائے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : (تِلکَ حُدود اللّہِ فلا تَقرَبوُھا ۔ کذٰلک یُبیّن اللّہ اٰیٰتہ للنّاس لعلّھُم یتقون) (سورہ البقرہ : ۱۸۸) یہ اللہ (تعالیٰ) کی (مقرر کردہ) حدود ہیں اس لئے تم ان کے قریب (بھی) مت جاؤ اللہ اسی طرح لوگوں کے لئے اپنے احکامات بیا ن کرتا ہے تا کہ وہ تقویٰ اختیار کریں۔

    حضرت خاتم الانبیاء ، فخر موجودات، سرور کائنات ﷺنے جو کہ خدا ئی احکامات کی عملی تصویر تھے ،ایک دفعہ صحابہ کو اس امر کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ دیکھو حلال بھی ظاہر ہے اور حرام بھی لیکن ان دونوں کے درمیا ن کچھ مشتبہ امور بھی ہیں جنہیں اکثر لوگ نہیں جانتے ۔ پس جو شخص ان مشتبہ امور سے بچا اس نے اپنے دین اور اپنی آبرو کو بچانے کے لئے بڑ ی احتیاط سے کام لیا۔ لیکن جو شخص مشتبہ امور میں جا پڑا وہ اس چرواہے کی مانند ہے جو رکھ کے آر پار اپنا ریوڑ چرا رہا ہے اور قریب ہے کہ اس کا ریوڑ رکھ کے اندر چلا جائے پھر آپ نے فرمایا ! کان کھول کر سنو! ہر بادشاہ کی ایک رکھ ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی زمین میں اس کی رکھ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں۔(بخاری کتاب الایمان باب من استبرا لدینہ)

    *۔۔۔ پھر نکاح بھی تقویٰ کا ایک ذریعہ ہے ۔ قرآن کریم میں شادی شدہ مرد کو محصن اور عورت کو محصنہ کہا گیا ہے جس کے معنی قلعہ بند ہو جانے کے ہیں۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ نکاح کا مقصد مرد اور عورت کو شیطانی وساوس اور شہوانی حملوں سے محفوظ رکھنا ہے گویا تحفظ عفت اور تقویٰ شعار زندگی کا حصول نکاح کے اہم مقاصد میں سے ہے۔

    *۔۔۔تقویٰ کا حصول شعائراللہ کی عظمت بجا لانے سے بھی ہوتا ہے۔ ( و من یعظم شعآئراللہ فانھا من تقوی القلوب) (سورہ الحج: ۳۳) کی آیت اس طرف اشارہ کر رہی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ا حکامات پر چلنا، اس کے شعائر کی عظمت بجا لانا اور اس کی مقرر کردہ عزت والی جگہوں کی تعظیم کرنا اور اس کے نشانات کی حرمت کو قائم رکھنا تقوی القلوب میں داخل ہے ۔ یعنی متقی ہونے کے لئے اللہ تعالیٰ کے شعائر کی عزت و توقیر کرنا ضروری ہے۔

    *۔۔۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ایک موقعہ پر احباب جماعت کو تلقین کرتے ہوئے فرمایا:

    ’’ تقویٰ کا مضمون باریک ہے۔ اس کو حاصل کرو ۔ خدا کی عظمت دل میں بٹھاؤ۔ متقی ہونا مشکل ہے ۔ جس کے اعمال میں کچھ بھی ریاکاری ہو خدا اس کے عمل کو واپس الٹا کر اس کے منہ پر مارتا ہے۔۔۔ جب تک واقعی طور پر انسان پر بہت سی موتیں نہ آ جائیں وہ متقی نہیں بنتا‘‘۔(ملفوظات جلد ۲ صفحہ ۳۰۱ ، ۳۰۲)

    *۔۔۔پھر فرمایا: ’’تقویٰ ایک ایسی دولت ہے کہ اس کے حاصل ہونے سے انسان خدا تعالیٰ کی محبت میں فنا ہو کر نقش وجود مٹا سکتا ہے۔ کمال تقویٰ کا یہی ہے کہ اس کا اپنا وجود ہی نہ رہے۔ ‘‘ (ملفوظات جلد ۲ صفحہ ۳۴۷

    Hello guest, Thank you for Register or you log to see the links!

     
  2. جزاک اللہ خیرا
    آپ سدا خوش رہئے


    Hello guest, Thank you for Register or you log to see the links!

     
  3. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

    ماشااللہ بہت اچھا اشتراک کیا ہے۔شکریہ​
     

Share This Page