1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice
  3. Dismiss Notice

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ خصائص وکمالات


آئی ٹی استاد کی ںئی ایپ ڈاونلوڈ کریں اور آئی ٹی استاد ٹیلی نار اور ذونگ نیٹ ورک پر فری استمال کریں

itustad

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by IQBAL HASSAN, May 29, 2015.

General Topics Of Islam"/>May 29, 2015"/>

Share This Page

  1. IQBAL HASSAN
    Offline

    IQBAL HASSAN Designer
    • 63/65

    View attachment 573
    حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ خصائص وکمالات
    View attachment 573
    حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی ذات بابرکت'ہدایت کامعیارہے اورآپ سے محبت ووابستگی'محبوبیت کی ضامن ہے۔ہرانسان کی عین تمنایہی رہتی ہے کہ وہ اللہ تعالی اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کامحبوب بن جائے۔یہ وہ عظیم نعمت ہے جس سے بندۂ مومن کے لئے دنیا میں بھی کامیابی ہے اورآخرت میں بھی سرخروئی ہے۔
    حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہماکی نسبت سے اس عظیم نعمت کا حصول' ہرامتی کے لئے آسان کردیاگیا۔
    حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا:حسن وحسین ( رضی اللہ عنہما )یہ دونوں میرے بیٹے اورمیری بیٹی کے بیٹے ہیں۔اے اللہ!میں ان سے محبت کرتاہوں؛توبھی ان سے محبت فرما،اورجو‘ان سے محبت کرے انہیں تواپنامحبوب بنالے!۔
    امام عالی مقام سید الشہداء رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوصاف وکمالات کے پرتوہیں۔آپ کی ولادت کے بعدحضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کانام"حسین"رکھا۔
    "حسین"حسن والے کوکہاجاتاہے،اورصیغہ تصغیرمیں پیاروالفت کامعنی بھی ہوتاہے،چنانچہ آپ سے نہ صرف مخلوق محبت کرتی ہے بلکہ خالق بھی محبت کرتاہے۔
    حلاوت،ملاحت،خوشبواورنورانیت’حسن‘کالازمہ ہے،اوریہ تمام چیزیں امام حسین رضی اللہ عنہ میں بدرجہ اتم موجودہیں۔
    حلاوت وخوشبوکایہ حال کہ آپ صاحب جمال اور جنتی پھول ہیں،اورحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کوچومابھی کرتے اورسونگھابھی کرتے۔
    چہرۂ مبارک کی نورانیت کایہ عالم تھاکہ کسی تاریک مقام پرآپ تشریف فرماہوتے تووہ مقام روشن ومنورہوجاتا۔
    غرض’حسن‘کاہرلازمہ آپ میں بدرجہ اتم موجودہے۔
    اللہ تعالی نے آیت تطہیرکے ذریعہ آپ کی طہارت وپاکیزگی کا اعلان فرمایا۔امام عالی مقام نہ صرف ظاہروباطن کے پاک ہیں بلکہ اپنے قول وفعل،گفتاروکردارکے بھی پاک ہیں،اورآپ کاہراقدام اورفیصلہ بھی پاک ہے؛لہذاکوئی آپ پردنیا طلبی اوراقتدارکی خواہش کاالزام نہ لگائے۔
    جس ذات گرامی کوجنت کی سرداری حاصل ہو‘وہ دنیوی اقتدارکاکیسے طالب ہوسکتی ہے؟۔
    حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما حق وصداقت کے پیکرہیں ،ان کا وجود حقانیت کی واضح دلیل ہے۔
    اہل نجران سے جب مباہلہ کی بات آئی تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میدان میں اس شان سے تشریف لائے کہ امام حسین رضی اللہ عنہ آپ کی گود میں ، اور امام حسن رضی اللہ عنہ آپ کی انگشت مبارک تھامے ہوئے ہیں،سیدۂ کائنات رضی اللہ عنہا آپ کے پیچھے اور حضرت علی مرتضی رضی اللہ عنہ ان کے پیچھے ہیں۔جب عیسائیوں کے پادری نے ان برگزیدہ حضرات کے چہروں کی نورانیت کو دیکھا تو پکار اٹھا:اے لوگو!میں ایسے نورانی چہروں کو دیکھ رہا ہوں،اگر یہ اللہ کے دربار میں معروضہ کریں کہ پہاڑ کو اس کے مقام سے ہٹادے تو اللہ تعالی ان کی دعا ء کے سبب ضرور پہاڑ کو اس کے مقام سے ہٹادے گا،ان سے مباہلہ نہ کرو؛ورنہ تم سب کے سب ہلاک ہوجاؤگے،اور قیامت تک روئے زمین پر کوئی عیسائی باقی نہیں رہیگا!چنانچہ وہ مصالحت کرکے واپس ہوگئے۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:قسم اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے!اہل نجران پر عذاب بالکل قریب آچکا تھا،اگر وہ مقابلہ کرتے تو ان کے چہروں کو مسخ کردیا جاتا،وہ بندر اور بدجانور بنادئے جاتے۔
    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی سراپا معجزہ ہے،اسلام کی حقانیت کو پیش کرنے کے لئے صرف آپ کی ذات گرامی ہی کافی تھی لیکن آپ نے حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہماکو بحکم خدا اپنے ساتھ میدان میں اس لئے لایا تاکہ امت کو معلوم ہوجائے کہ یہ حق وصداقت کے پیکر ہیں اور ان کا وجود باجود حقانیت اسلام کی واضح دلیل ہے۔
    بچپن میں شہزادوں کا میدان میں تشریف لانا حق وصداقت کی دلیل ہے تو جب وہ داعیٔ حق اور مصلح امت کی حیثیت سے تحفظ اسلام اور پاسداریٔ شریعت کی خاطر میدان میں آئیں تو ان کے اقدام کو کس طرح دنیوی اقدام کہا جاسکتا ہے؟
    حضرت امام عالی مقام سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے یہ عظیم قربانی‘اسلامی اقدارکے تحفظ،نظام اسلام کوبحال کرنے اوردین کی بقاء کے لئے پیش فرمائی۔امام عالی مقام نے یزیدکی بیعت کوقبول نہ کیا،باطل کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے،آپ نے حضرت حررضی اللہ عنہ سے اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ یزیدنے حدوداسلام کومعطل کردیا ہے،نفس وشیطان کی اطاعت کی جارہی ہے اورخداء رحمن کی برسرعام مخالفت کی جارہی ہے،فتنہ وفسادبپاکیاجارہاہے،قومی سرمایہ پرظالم‘قابض ہیں،اللہ تعالی کی حرام کردہ چیزوں کوحلال قراردیاجارہاہے،توایسے نازک وقت سب سے زیادہ میری ذمہ داری ہے کہ میں اس باطل نظام کوتبدیل کردوں۔چنانچہ آپ نے اپنافرض منصبی اداکرتے ہوئے جام شہادت نوش فرمایا۔
    از:مولانا مفتی حافظ سید ضياء الدین نقشبندی قادری دامت برکاتہم العالیہ
    View attachment 573
    [​IMG]
     
  2. UmerAmer
    Offline

    UmerAmer Regular Member
    • 38/49

    جزاک اللہ خیرا​
     
  3. PRINCE SHAAN
    Online

    PRINCE SHAAN Guest

    جزاک اللہ خیرا
    آپ سدا خوش رہئے

     

Share This Page