1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

عظمت اہل بیت کرام وصحابہ عظام رضي اللہ تعا&#16

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by IQBAL HASSAN, May 29, 2015.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Super Moderators

    Hello guest, Thank you for Register or you log to see the links!


    عظمت اہل بیت کرام وصحابہ عظام رضي اللہ تعالی عنہم

    Hello guest, Thank you for Register or you log to see the links!


    حضرات اہل بیت وصحابۂ کرام کی مبارک زندگیاں امت مسلمہ کے لئے معیار رشد وہدایت ہيں،قرآن وسنت سے اہل بیت کی شان وعظمت اور صحابہ کی شان وعظمت دونوں ثابت ہیں،ان کے دل ہر قسم کی آلائش وآلودگی سے پاک ہیں، حضرات اہل بیت کرام کو اللہ تعالی نے ہر قسم کی فکری ،عملی اور اعتقادی گندگی سے محفوظ رکھا ،ان کی پاکیزگی وطہارت کا بیان قرآن میں نازل فرمایا،ارشاد الہی ہے:
    إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ۔
    ترجمہ:اے نبی کے اہل بیت!بیشک اللہ تعالی تو یہی چاہتاہے کہ وہ تم سے ہر قسم کی گندگی کو دور رکھے اور تمہیں مکمل پاک وصاف بنادے-(سورۃ الاحزاب:33)
    اسی طرح اللہ تعالی نے قرآن کریم میں پیکر ادب صحابۂ کرام کے قلوب کی طہارت وپاکیزگی کا اعلان کیا ،ارشاد الہی ہے:
    أُولَئِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَى لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ۔
    ترجمہ:یہ وہ حضرات ہیں جن کے قلوب کو اللہ تعالی نے تقوی کے لئے مختص کردیا،ان کے لئے بخشش ومغفرت اور اجر عظیم ہے-(سورۃ الحجرات:3)
    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امت مسلمہ کو محفوظ کشتی بھی عطا فرمائی اوردرخشاں ستارے بھی عطا فرمائے ،آپ نے حضرات اہلبیت کرام کو سفینۂ نوح کی مانند قرار دیا،ارشاد مبارک ہے:مثل أهل بيتي مثل سفينة نوح من ركبها نجا ، ومن تخلف عنها هلك۔
    بیشک تم میں میرے اہل بیت کی مثال حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کی طرح ہے،جو اس میں سوار ہوگیا نجات پالیا اورجو اس سے دور رہا ہلاک ہوگیا-(مسندا ما م احمد- المستدرك على الصحيحين للحاكم-حدیث نمبر:3270)
    اور حضرات صحابۂ کرام کی بابت ارشاد فرمایا:إنما أصحابي كالنجوم ، فبأيهم اقتديتم اهتديتم۔
    میرے صحابہ ہدایت کے درخشاں ستاروں کی مانند ہیں،تم ان میں جس کسی کی پیروی کروگے ہدایت پالوگے۔(الإبانة الكبرى لابن بطة- حدیث نمبر709)
    دنیا کے سمندر میں راستہ طئے کرنے کے لئے سورای کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور راستہ دیکھنے کے لئے چمکتے ستاروں کی بھی، ان حضرات سے وابستگی کے ذریعہ انسان منزل مقصود کو پہنچ سکتا ہے-انہوں نےامام رازی کے حوالہ سے کہا کہ اہل سنت وجماعت کا بیڑا پار ہے کیونکہ وہ حضرات اہل بیت کی کشتی میں سوار ہیں اور صحابۂکرام سے روشنی حاصل کررہےہیں۔
    اللہ تعالی نے تمام صحابۂ کرام سے جنت کا وعدہ فرمایا اور انہیں اپنی رضا وخوشنودی کا مژدۂ جاں فزا عطا فرمایا،ارشاد الہی ہے:وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى ۔
    ترجمہ:اور اللہ تعالی نے ان تمام(صحابہ)سے جنت وعدہ کرلیا ہے-(سورۃ الحدید:10)
    عقیدہ قرآن کریم اور حدیث شریف سے بنتا ہےتاریخی روایات نہیں، اس میں شک نہیں کہ تاریخی روایات کو نقل کرنے میں ناقلین سے فروگزاشت بھی ہوئی ہےاور بہت سے الحاقیات بھی،اس لئےتاریخ کی کتابوں میں کہيں اہل بیت وصحابہ کی عظمت کا پہلو ملتا ہے تو کہیں کوئی ایسی بات بھی ملتی ہے جو ان کی قدرو منزلت اور پاکیزہ کردار کے منافی ہے،اسی لئے مکمل دیانت داری کے ساتھ اس بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے تاریخ کا مطالعہ کرناچاہئیے کہ اہل بیت اطہار وصحابۂ کرام دونوں معیار حق وصداقت ہيں۔
    ان بزرگ حضرات کے درمیان جو مشاجرات ہوئے ہيں ان سے متعلق کسی قسم کی لب کشائی یا خامہ فرسائی نہيں کرنی چاہئیے ،ہمارے لئے یہی نجات وسلامتی کا طریقہ ہے۔
    حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طرف غلط روایتیں منسوب کی گئی ہيں اسی طرح صحابہ اور اہل بیت کی طرف بھی غلط باتیں منسوب کی گئی ہیں،اہل اسلام کے لئے قرآن وسنت کسوٹی ہيں،اگر کسی تاریخی روایت سے ان سے متعلق کوئی نامناسب بات ثابت ہوتی بھی ہو تو اسے غلط اور باطل قرار دیا جائے گا اور قرآن وسنت میں مذکور ان کی شان وعظمت ،طہارت وپاکیزگي ہی پر ایمان واعتقاد رکھا جائے گا۔
    جب کسی مسئلہ میں مجتہد اجتہاد کرے اور وہ حق کو پالے تو اسے دوہراثواب دیا جاتا ہے اور اگر وہ خطا کرجائے تو اسے ایک ثواب دیا جاتا ہے،جب عام مجتہد کا اجتہادی خطا پر مؤاخذہ نہیں کیا جاتا بلکہ ایک ثواب دیا جاتا ہے تو پھر کوئی باعظمت صحابی اگراپنے اجتہاد میں حق کو نہ پائيں تو کسی کو یہ اجازت نہیں کہ ان کے خلاف اپنی زبان کھولے،صحابۂ کرام کے مابین جو مشاجرات ہوئیں ان میں کسی کو خوض کرنے اور کلام کرنے کی اجازت نہیں،ائمۂ دین اور علماء اعلام نے امت کو یہی تعلیم دی کہ ہم تمام صحابۂ کرام سے محبت کرتے ہیں اورہمیشہ خیر وبھلائی کے ساتھ ہی ان کا ذکر کریں گے۔

    Hello guest, Thank you for Register or you log to see the links!

     
  2. UmerAmer

    UmerAmer VIP Member

    جزاک اللہ خیرا​
     
  3. جزاک اللہ خیرا
    آپ سدا خوش رہئے

     

Share This Page