1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

شب برات کی حقیقت :

Discussion in 'Islamic Events-ITU' started by IQBAL HASSAN, Jun 2, 2015.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Super Moderators


    [​IMG]

    [​IMG]

    شب برات کی حقیقت :
    [​IMG]
    (( انا انزلنہ فی لیلۃ مبارکۃ انا کنا منذرین فیھا یفرق کل امر حکیم ))( الدخان : 3,4 )
    ” تحقیق ہم نے وہ کتاب بابرکت رات میں اتاری ہے ۔ بے شک ہم لوگوں کو ڈرائیں گے ۔ اسی رات میں تمام باحکمت امور کی تفصیل کی جائے گی ۔ “

    لیلۃ مبارکہ کی تشریح :
    [​IMG]
    اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کے دو قول ہیں ۔ بعض کے نزدیک لیلۃ مبارکہ سے مراد لیلۃ القدر ( جو رمضان میں آتی ) ہے اور بعض کے نزدیک شب برات ہے :
    (( قیل سمیت لیلۃ البراۃ لان براتین براۃ الاشقیاءمن الرحمن وبراۃ الاولیاءمن الخذلان ))( غنیۃ الطالبین : 192/1 )

    شب برات اس لئے نام رکھا گیا کہ اس میں دو نجاتیں ہیں ۔ ایک نجات بدبختوں کی عذاب الٰہی سے ، دوسری نجات اولیاءاللہ کی رسوائی و ذلت سے ۔
    (( قال قتادۃ وابن زید ھی لیلۃ القدر انزل اللہ القرآن فی لیلۃ القدر قیل ھی لیلۃ النصف من شعبان ))( معالم خازن : 143/5 )
    [​IMG]
    (( وعن بعض ھی لیلۃ النصف من شعبان ))( جامع البیان : 420 )

    (( ھی لیلۃ القدر او لیلۃ النصف من شعبان نزل فیھا من ام الکتاب من السماءالسابعۃ الی السماءالدنیا والجمھور علی الاول کذا فی المدارک ))( جلالین : 410 )

    مذکورہ عبارات میں بعض نے لیلۃ مبارکۃ سے مراد لیلۃ القدر بھی لیا ہے اور بعض نے شب برات ( پندرہ شعبان ) مراد لیا ہے ۔ تفسیر صاوی میں ہے :
    (( ھی لیلۃ النصف من شعبان ھو قول عکرمۃ وطاتفۃ وجہ بامور منھا ان لیلۃ النصف من شعبان لھا اربعۃ اسماءلیلۃ المبارکۃ ولیلۃ البراۃ ولیلۃ الرحمۃ ولیلۃ الصک ومن افضل العبادۃ فیھا ))( حاشیہ جلالین : 410 )

    تفسیر صاوی میں ہے کہ لیلۃ سے مراد شب برات ہے ۔ یہ مسلک عکرمہ اور ایک دوسرے گروہ کا ہے ۔ اس کی توجیہ یہ بیان فرمائی ہے کہ لیلۃ مبارکۃ کے چار نام ہیں :
    [​IMG]
    1 لیلۃ مبارکہ ۔
    [​IMG]
    2 لیلۃ الرحمۃ ۔
    [​IMG]
    3 لیلۃ البراۃ ۔
    [​IMG]
    4 لیلۃ الصک ۔
    [​IMG]
    اور اس میں عبادت کی بڑی فضیلت ہے ۔
    [​IMG]
    امام شوکانی فتح القدیر میں رقمطراز ہیں کہ لیلۃ مبارکہ سے مراد لیلۃ القدر ہے اور اس کے چار نام ہیں ۔ لیلۃ مبارکہ ، لیلۃ البراۃ ، لیلۃ الصک ، لیلۃ القدر ۔ امام شوکانی فرماتے ہیں کہ : جمہور کا مسلک بالکل صحیح ہے ۔ کہ لیلہ مبارکہ سے مراد لیلۃ القدر ہے ، شب براۃ نہیں ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس جگہ اجمال سے بیان فرمایا اور سورۃ القدر میں بیان فرمایا کہ : انا انزلنہ فی لیلۃ القدر یعنی قرآن مجید رمضان المبارک میں لیلۃ القدر کو نازل کیا گیا ، جس کو اس جگہ لیلۃ مبارکۃ سے تعبیر فرمایا ہے ۔ اس وضاحت کے بعد کوئی شبہ باقی نہیں رہا ۔

    فتح القدیر میں ہے کہ
    : ” حضرت عطیہ ابن اسود رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ میرے دل میں ان تین آیتوں کے بارے میں شک ہے کہ اس سے کیا مراد ہے ؟

    1 رمضان کا وہ مہینہ جس میں قرآن مجید نازل کیا گیا ۔
    [​IMG]
    2 بے شک ہم نے قرآن کو لیلۃ القدر میں نازل کیا ہے ۔
    [​IMG]
    3 بے شک ہم نے قرآن کو لیلۃ مبارکہ میں نازل کیا ہے ۔
    [​IMG]
    حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ قرآن رمضان میں لیلۃ القدر کو نازل کیا گیا اور اسی کا نام لیلۃ مبارکہ ہے ۔ تفسیر کبیر میں ہے :
    (( القائلون بان المراد من اللیلۃ المذکورۃ فی ھذہ الایۃ ھی لیلۃ النصف من شعبان فما رایت لھم دلیلا یقول علیہ ))
    یعنی جو لوگ کہتے ہیں کہ لیلۃ مبارکۃ سے مراد شب برات ہے ۔ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے ۔

    تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ :
    (( من قال انھا لیلۃ النصف من شعبان فقد ابعد النجحۃ فان نص القرآن انھا فی رمضان ))
    جس نے کہا کہ لیلۃ مبارکہ سے مراد شب برات ہے اس نے دور کی بات کہی ۔ کیونکہ نصِ قرآن سے ثابت ہے کہ وہ رمضان میں ہے ۔ ( تفسیر ابن کثیر137/2 )

    تحفۃ الاحوذی میں ہے کہ تو جان لے بے شک آیت :
    (( انا انزلنہ فی لیلۃ مبارکۃ ))
    لیلۃ مبارکہ سے مراد جمہور کے نزدیک لیلۃ القدر ہے ۔ بعض اسے شب برات سمجھتے ہیں ۔ جمہور کا مسلک صحیح ہے ۔

    بعض اسلاف کا خیال ہے کہ لیلۃ مبارکہ سے مراد شب برات ہے ۔ لیکن یہ قول نصوص قرآن کے مخالف ہے ۔ کیونکہ قرآن کا نزول رمضان میں لیلۃ القدر میں ہے ۔ لہٰذا لیلۃ مبارکہ سے مراد بھی لیلۃ القدر ہے ۔ اس طرح آیات میں کوئی اختلاف نہیں ہے ۔

    شبِ برات کی احادیث اور ان کی حیثیت :

    1 حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا :

    جامع ترمذی میں ہے ۔ ( ترجمہ )
    بے شک اللہ تعالیٰ شب برات کو آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور بنی کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ گناہ گاروں کو معاف فرماتے ہیں ۔ امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ سے سنا وہ اس حدیث کو ضعیف قرار دیتے ہیں ۔ کیونکہ حجاج سے یحییٰ اور یحییٰ سے عروہ کا سماع ثابت نہیں ہے ۔ لہٰذا حدیث منقطع ہے ۔

    2 حدیث حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ :
    [​IMG]
    (( یطلع اللہ الی جمیع خلقہ لیلۃ النصف من شعبان فیغفرہ لجمیع خلقہ الا لمشرک او مشاحن ))( طبرانی ، ابن ماجہ ، صحیح ابن حبان فی سندہ عند ابن ماجہ ابن لہیعۃ وھو ضعیف ) ” شب برات کو اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق کی طرف دیکھتے ہیں ، مشرک و کینہ پرور کے ماسوا ہر ایک کو معاف فرماتے ہیں ۔ اس روایت میں ابن لہیعۃ راوی ضعیف ہے ۔ “

    3 : حدیث عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ :

    (( یطلع اللہ عزوجل الی عامۃ لیلۃ النصف من شعبان فیغفر لعبادہ الا اثنین مشاحن وقاتل النفس ، قال المنذری رواہ احمد باسنادہ )) شب برات کو اللہ تعالیٰ کینہ پرور اور قاتل کے سوا ہر ایک کو معاف فرماتے ہیں ۔ علامہ امام منذری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ امام احمد رحمہ اللہ نے اس کو ضعیف سے روایت کیا ہے ۔

    4 حدیث کثیر بن مرۃ رضی اللہ عنہ :

    ” فی لیلۃ النصف من شعبان یغفراللہ عزوجل لاھل الارض الا مشرک او مشاحن قال المنذری رواہ البیھقی وقال ھذا مرسل جید “امام منذری رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ امام بیہقی نے روایت کر کے فرمایا کہ یہ روایت بہت مرسل ہے ۔
    [​IMG]
    5 حدیث حضرت علی رضی اللہ عنہ : ابن ماجہ

    جب شب پندرہ شعبان ( شب برات ) ہوتی ہے تو رات کو قیام کرو اور دن کو روزہ رکھو بے شک اللہ تعالیٰ غروب شمس کے وقت آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے کہ ہے کوئی بخشش مانگنے والا ، اس کو بخش دوں گا ، کوئی رزق لینے والا ہے اسے میں رزق دوں گا ، کوئی مصیبت زدہ ہے اس کی مصیبت کو دور کروں گا ، کوئی فلاں فلاں حاجت والا ہے ؟ طلوع صبح صادق تک اللہ تعالیٰ یہی ندا دیتے رہتے ہیں ۔

    تحفۃ الاحوذی : 53/2 میں ہے کہ :
    حدیث علی رضی اللہ عنہ کی سند میں ابوبکر بن عبداللہ راوی ہے جس پر وضع روایت کا الزام ہے ۔ امام بکاری رحمہ اللہ نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے اور امام نسائی نے متروک الحدیث کہا ہے ۔ مولانا عبدالرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ روزہ شبِ برات کے بارہ میں کوئی حدیث صحیح مرفوع میں نے نہیں پائی ۔ باقی حدیث حضرت علی رضی اللہ عنہ جس کو ابن ماجہ نے روایت کیا ہے وہ بہت ضعیف ہے ۔ امام جوزی رحمہ اللہ نے موضوعات میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایک روایت نقل کی ہے جو کہ پندرہ شعبان کا روزہ رکھے گا اس کے ساٹھ سال گذشتہ اور ساٹھ سال آئندہ کے گناہ معاف کئے جائیں گے ۔ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث موضوع ہے اور اس کی سند تاریک و سیاہ ہے ۔

    احادیث مذکورہ بالا میں چند اخلاقی و اعتقادی گناہ ایسے بھی ہیں جن کا ارتکاب کرنے والے اس رحمت بھری رات میں بخشش و مغفرت سے محروم رہتے ہیں ۔ جیسے مشرک ، کینہ روی ، قتل نفس ، زنا و شراب نوشی ، قطع رحمی وغیرہ ۔ اگر کبائر کا مرتکب خلوصِ دل سے توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو معاف کر دیتے ہیں ۔

    قرآن میں ہے :
    یا عبادی الذین اسرفوا علی انفسھم لا تقنطوا من رحمۃ اللہ( الزمر : 52 )
    فرمایا اے میرے بندے گناہ کر کے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے میری رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ ۔

    حدیث میں ہے :
    ” التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ “
    جو صد دل سے توبہ کرتا ہے ، گناہ سے پاک ہو جاتا ہے ۔


    [​IMG]
    6 حدیث مغیرہ بن اخنس رضی اللہ عنہ :

    (( تقطع الرجال من شعبان الی شعبان حتی ان الرجل ینکح ویولد لہ وقد اخرج اسمہ فی الموتی فھو حدیث مرسل ، ومثلہ لا یعارض بہ النصوص ))( تفسیر ابن کثیر : 137/4 )
    اس رات شعبان سے شعبان تک لوگوں کی عمریں لکھی جاتی ہیں ، یہاں تک کہ ایک آدمی نکاح کرے گا اس کے ہاں بچہ پیدا ہو گا اور اس کا نام مردوں میں لکھا جا چکا ہے ۔ ( یہ حدیث مرسل ہے اس کا نصوص سے مقابلہ نہیں کیا جاسکتا )

    نمازِ شب برات :

    1 قال القاری فی المرقاۃ ان مائۃ رکعۃ فی نصف شعبان او الصلوٰۃ الف رکعۃ الم یات بھا خبر ولا اثر .... الخ( تحفۃ الاحوذی : 53/2 )
    حضرت ملا علی قاری رحمہ اللہ نے مرقاۃ مشکوٰۃ میں بیان کیا ہے کہ شب برات میں سو رکعت نماز اور ہزار رکعت نماز باجماعت یا انفرادی ، اس کا ثبوت کسی بھی صحیح حدیث میں نہی ہے ۔ جو امام دیلمی اور صاحب احیاءوغیرہ نے نقل کیا ہے یہ ضعیف وموضوع ہے ۔
    [​IMG]
    2 علامہ عبدالحئی لکھنوی رحمہ اللہ ” آثار مرفوعہ “ میں فرماتے ہیں ۔

    ” ان تمام احادیث قولیہ و فعلیہ سے معلوم ہوا کہ اس رات عبادت زیادہ کرنا مستحب ہے لیکن لوگوں کو نماز اور غیر نماز میں فرق رہے جو چاہیں عبادت کریں لیکن اس رات عبادت مخصوصہ کیفیت مخصوصہ کے ساتھ اس کا کوئی ثبوت نہیں ۔ مطلق نماز نفلی شب برات اور اس کے علاوہ راتوں میں جائز ہے ۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں ۔ شیخ ابراہیم جلی ” منیۃ المصلیٰ “ کی شرح ” غنیۃ المستملی “ میں فرماتے ہیں : ” اس سے معلوم ہوا کہ صلوٰۃ الرغائب جو رجب کے پہلے جمعہ کو پڑھی جاتی ہے اور پندرہویں شعبان کی رات اور رمضان کی ستائیسویں رات ( لیلۃ القدر ) کی جو نماز باجماعت ادا کی جاتی ہے ۔ ان راتوں میں نماز باجماعت پڑھنا بدعت اور مکروہ ہے ۔ ( یہ وعید نماز تراویح کے علاوہ نفلی نماز باجماعت کے لئے ہے ) یعنی بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ضعیف روایت کو فضائل اعمال میں قبول کرنے پر تمام کا اتفاق ہے ۔ اس کے متعلق علامہ عبدالحئی فرماتے ہیں :

    ” فضائل اعمال میں بھی قبول نہیں کی جائیگی ۔ یعنی فضائل اعمال میں ضعیف حدیث پر عمل کرنے سے متعلق اتفاق کا دعویٰ باطل ہے ۔ ہاں جمہور کا مذہب ہے بشرطیکہ وہ حدیث ضعیف نہ ہو ، زیادہ ضعیف نہ ہو ۔ ( آثار مرفوعہ : 73 )
    [​IMG]
    ان دلائل سے واضح ہوا کہ شب برات کا ذکر نہ قرآن مجید میں ہے اور نہ احادیث صحیحہ میں ہے ۔ ان تمام روایات کے پیشِ نظر زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر کوئی شخص انفرادی طور پر اس رات ذکر و عبادت میں مشغول ہوتا ہے کہ اس کے عقائد کی تطہیر اور اخلاقی رفعت کا باعث بنے ، صحیح نہیں ہے ۔ ستم یہ ہے کہ ہم سربسجود ہونے کی بجائے حلوہ ، بارود ، آتشبازی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ خالق کائنات اہل زمین پر فضل و کرم کی بارش فرماتے ہیں اور ہم آتش بازی سے اس کا استقبال کرتے ہیں ۔
    ببین تفاوت راہ از کجا بہ کجا

    علامہ اقبال مرحوم نے خوب فرمایا :
    ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں
    راہ دکھلائیں کسے کوئی راہرو منزل ہی نہیں

    شب برات پر فضول رسمیں :

    شب برات پر تین کام بڑی دھوم دھام سے کئے جاتے ہیں :

    1 حلوہ پکانا ۔

    2 آتش بازی ۔

    3 مردوں کی روحوں کا حاضر ہونا ۔
    [​IMG]
    بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس رات حلوہ پکانا سنت ہے ۔ اس سے متعلق شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ کتاب ما ثبت فی السنۃ : 214 ” بیان فضائل شعبان “ کے ضمن میں رقطمراز ہیں : ” عوام میں مشہور ہے کہ اس رات سیدنا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تھے ۔ اور اسی رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک شہید ہوئے تھے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شب حلوہ تناول فرمایا تھا ۔ بالکل لغو اور بے اصل ہے ۔ کیونکہ غزوہ احد تو بالاتفاق مؤرخین شوال 2 ہجری کو واقع ہوا تھا ۔ لہٰذا یہ عقیدہ رکھنا کہ آج حلوہ ہی واجب اور ضروری ہے ۔ بدعت ہے ۔ البتہ یہ سمجھ کر حلوہ اور مطلقاً میٹھی چیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو محبوب تھی حلوہ پکا لیا جائے تو کوئی حرج نہیں ۔

    ” کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یحب الحلوۃ والعسل “
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم حلوہ اور شہد پسند فرماتے تھے ۔ اسی طرح بعض لوگ مسور کی دال ، چنے کی دال پکانے کا اہتمام کرتے ہیں ۔ یہ بھی حلوہ کی طرح بدعت ہوگی ۔ بس صحیح بات یہ ہے کہ حسب معمول کھانا پکانا چاہئیے ۔ شب برات کو تہوار نہیں بنانا چاہئے ۔ کیونکہ اسلامی تہوار دو ہیں : عیدالفطر ، عیدالاضحی ، علامہ عبدالحئی حنفی لکھنوی نے آثار مرفوعہ : 108, 109 میں ستائیس رجب المرجب اور پندرہ شعبان ( شب برات ) کو بدعات میں شامل کیا ہے ۔ کیونکہ یہ اسلامی تہوار نہیں ہیں ۔
    ومنھا صلوٰۃ لیلۃ السابع والعشرین من رجب ومنھا صلوٰۃ لیلۃ النصف من شعبان

    شب برات کے حلوہ سے متعلق مولانا عبدالحئی حنفی کا فتویٰ ہے کہ اس بارہ میں کوئی نص اثبات یا نفی کی صورت میں وارد نہیں ۔ حکم شرعی یہ ہے کہ اگر پابندی رسم ضروری سمجھے گا تو کراہت لازمی ہوگی ۔ ورنہ کوئی حرج نہیں ۔ ( فتاویٰ عبدالحئی مترجم : 110 )
    [​IMG]
    آتشبازی :

    ملت اسلامیہ کا ایک طبقہ اس رات آتش بازی و چراغاں میں جس اسراف و تبذیر کا مظاہرہ کرتا ہے ۔ ایک طرف اس سے قوم کو بار بار جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے دوسری طرف شرعاً یہ افعال مذموم و قبیح ہیں ۔

    محدث شیخ عبدالحق رحمہ اللہ دہلوی ” ما ثبت فی السنۃ “ میں فرماتے ہیں کہ ہندوستان کیا اکثر شہروں میں جو اس وقت بلا ضرورت کثرت سے چراغاں کرتے ہیں اور آتش بازی اور دیگر لہو و لعب میں مشغول ہوتے ہیں ۔ یہ رسم بدسوائے ہندوستان کے اور ملکوں میں نہیں ہے ۔ اصل میں یہ رسم بد ان لوگوں کی ہے جو آتش پرست تھے ۔ اسلام لانے کے بعد یہ لوگ اپنی رسوم جاہلیت پر قائم رہے ۔ ان کی دیکھا دیکھی دوسرے مسلمان بھی اس بلائے عظیم میں مبتلا ہوگئے ۔

    تحفۃ الاحوذی میں ہے سب سے پہلے چراغاں و آتشبازی کا مظاہرہ کرنے والے برامکہ آتش پرست تھے ۔ جب وہ مسلمان ہوئے تو انہوں نے ملمع سازی کر کے ان رسوم کو اسلام میں داخل کردیا ۔ لوگوں کے ساتھ رکوع و سجود کرتے لیکن مقصود آگ کی پوجا تھا ۔ شریعت میں ضرورت سے زیادہ کسی جگہ کو بھی روشن کرنا جائز نہیں ہے ۔ قرآن مجید میں ہے : ( بنی اسرائیل : 27 )

    ” اور بے جا خرچ نہ کرو ۔ تحقیق بے جا خرچ کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا ناشکر گزار ہے ۔ “ اس آیت میں لفظ ” تبذیر “ استعمال فرمایا ہے ۔ تبذیر اور اسراف میں فرق ہے ۔ حلال مقام پر حد اعتدال سے زیادہ خرچ کرنا اسراف ہے اور ناجائز و حرام مقام پر خرچ کرنے کا نام تبذیر ہے ۔ اس جگہ پر ایک پیسہ بھی خرچ کرے تو حرام ہو گا اور شیطان کا بھائی ٹھہرے گا ۔

    شب برات کے موقع پر دن کو حلوہ اور رات کو چراغاں و آتش بازی کا مظاہرہ دین حق کے ساتھ مذاق ہے ۔ اسی طرح پہلی قوموں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنایا تو اللہ تعالیٰ کے عذاب میں مبتلا ہوئیں ۔ ان سے ہمیں عبرت حاصل کرنی چاہئے وگرنہ ہم سے بھی اللہ کا عذاب دور نہیں ۔

    ارشاد خداوندی ہے :
    (( وذر الذین اتخذوا دینھم لعبا ولھوا وغرتھم الحیوۃ الدنیا ))( الانعام : 70 )
    اور چھوڑ دو ( اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) ان لوگوں کو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا رکھا ہے اور ان کی دنیاوی زندگی نے دھوکہ میں ڈال رکھا ہے ۔

    مردوں کی روحوں کا آنا :

    بعض لوگوں کا خیال ہے کہ میت کی روح چالیس دن تک گھر آتی ہیں ۔ مومنین کی روحیں جمعرات اور شب برات کو آتی ہے ۔ حالانکہ مردے برزخی زندگی سے وابستہ ہیں ۔ عالم برزخ کا عالمِ دنیا سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔

    ارشاد خداوندی ہے :
    ومن وراءھم برزخ الی یوم یبعثون( مومنون : 100 )
    ان ( مردوں ) کے ورے ایک پردہ ہے جو قیامت تک رہے گا ۔

    بعض لوگ روح کے آنے کا مغالطہ آیت تنزل الملائکۃ والروحسے دیتے ہیں ۔ اس روح سے مراد مردوں کی روحوں کا اترنا نہیں ہے بلکہ اس روح سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہیں ۔ دوسری آیت میں بھی جبرئیل علیہ السلام روح سے تعبیر کیا گیا ہے ۔

    1 اذ ایدتک بروح القدس( المائدہ : 110 )
    [​IMG]
    2 قل نزلہ روح القدس من ربک( النحل : 102 )
    [​IMG]
    3 نزل بہ الروح الامین( الشعراء: 193 )
    [​IMG]
    4 تعرج الملائکۃ والروح( المعارج : 4 )
    [​IMG]
    5 یقوم الروح والملائکۃ صفا( النباء: 38 )
    [​IMG]
    مندرجہ بالا آیات میں بھی روح سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہیں ۔ مردوں کی روح مراد نہیں ہے ۔ اس سے مردوں کی روح مراد لینا ۔ تحریف فی القرآن ہے ۔

    فقہاءکا فتویٰ :
    [​IMG]
    من قال ارواح المشائخ حاضرۃ تعلم یکفر( مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ، فتاویٰ قاضی خاں )
    جو کہے کہ اولیاءو بزرگوں کی روحیں حاضر و ناظر ہیں ۔ وہ کافر ہو جاتا ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی شب برات آئی ، صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا زمانہ بھی گزر گیا ۔ تابعین و ائمہ اربعہ کا زمانہ بھی گزر گیا ، لیکن کسی سے بھی شب برات کا حلوہ ، آتش بازی ، مردوں کی فاتحہ خوانی وغیرہ ثابت نہیں ۔ لہٰذا مسلمانوں کو بدعات سے اجتناب کرنا چاہئے اور سنت صحیحہ کو مشعل راہ بنانا چاہئے جو راہ نجات ہے اللہ تعالیٰ بدعات سے محفوظ فرمائے ۔ آمین
    [​IMG]
     
  2. کاش ہمیں سمجھ آ جائے
    جزاک الله خیرا
     
  3. UmerAmer

    UmerAmer VIP Member

    JazakAllah
     
  4. جزاک اللہ خیراً
    بہت عمدہ شئیرنگ کی ہے برادر
    آپ کی ایسی مزید شئرینگ کا انتظار رہے گا
     

Share This Page