1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

سورة البقرة

Discussion in 'Quran e Kareem' started by IQBAL HASSAN, Jun 3, 2015.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Management




    [​IMG]

    [​IMG]

    خلاصۃ القرآن الكريم

    سورة البقرة

    بقرہ گائے کو کہتے ہیں۔ بنی اسرائیل میں جرم و سزا اور سراغ رسانی کا ایک انوکھا واقعہ پیش آیا تھا جس میں مجرم کی نشاندہی معجزانہ طریقہ پر کی گئی تھی، جو بنی اسرائیل کے لئے اعزاز و افتخار کا باعث ہے۔ اس سورت میں دوسرے مضامین کے علاوہ زیادہ تر روئے سخن بنی اسرائیل کی طرف ہے۔ ان کے دلوں میں اسلام کے لئے نرم گوشہ پیدا کرنے کے لئے اس معجزانہ واقعہ کی طرف اشارہ کے طور پر پوری سورت کو بقرہ سے موسوم کردیا گیا۔ سورئہ بقرہ قرآن کریم کی طویل ترین سورت ہے جس میں متنوع اور مختلف مضامین کا بیان ہے۔ حروف مقطعات سے سورت کی ابتداءکرکے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ قرآنی علوم و معارف سے استفادہ کے لئے اپنی جہالت اور کم علمی کا اعتراف اور علمی پندار کی نفی پہلا زینہ ہے، کلام الٰہی پر غیر متزلزل یقین اور اسے ہر قسم کے شکوک و شبہات سے بالاتر سمجھنا دوسرا زینہ ہے۔ نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سورئہ فاتحہ میں جس صراط مستقیم کی درخواست کی گئی تھی وہ قرآن کریم کی شکل میں آپ کو عطا کررہے ہیں۔
    ابتدائی بیس آیتوں میں انسان کی تین قسموں کا بیان ہے: پہلی قسم ان لوگوں کی ہے جو اپنی زندگیوں میں انقلابی تبدیلیاں لانے کے لئے اپنے مالی و جسمانی اعمال کو قرآنی نظام کے تابع لانے کے لئے تیار ہیں۔ یہ لوگ قرآن کریم اور اس سے پہلی آسمانی کتابوں پر پختہ یقین رکھتے ہیں۔ دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو کافر ہیں، وہ اپنی زندگی کی اصلاح اور اس میں قرآنی نظام کے مطابق تبدیلی کے لئے بالکل تیار نہیں ہیں۔ تیسری قسم ان خطرناک لوگوں کی ہے جو دلی طور پر قرآنی نظام کے منکر ہیں مگر ان کی زبانیں ان کے مفادات کے گرد گھومتی ہیں۔ قرآن کریم کو ماننے میں اگر کوئی مفاد ہے تو اسے تسلیم کرنے میں دیر نہیں لگاتے اور اگر اس سے مفادات پر چوٹ پڑتی ہے تو اس کا انکار کرنے میں بھی دیر نہیں لگاتے۔ ان کے دل و زبان میں مطابقت نہیں ہے، اسے منافقت کہتے ہیں۔ منافقت کے ذریعہ انسانوں کو تو دھوکہ دیا جاسکتا ہے مگر دلوں کے بھید جاننے والے اللہ کو دھوکہ دینا ممکن نہیں ہے۔ یہ لوگ اصلاح کے نام پر دنیا میں فساد برپا کرتے ہیں اور قرآنی نظام کے وفادار اہلِ ایمان کو عقل و دانش سے محروم سمجھتے ہیں۔ حالانکہ یہ لوگ خود شعور و آگہی سے بے بہرہ اور محروم ہیں۔ یہ لوگ ہدایت و روشن خیالی کے مقابلہ میں تاریک خیالی اور گمراہی کی تجارت کررہے ہیں اور یہ بڑے خسارہ کا کاروبار ہے۔ قرآن کریم نے دو مثالوںکے ذریعہ منافقت کی دو قسموں کو واضح کیا ہے۔
    ۱: کسی شخص نے ٹھٹھرتی، اندھیری رات میں سردی سے بچنے اور روشنی حاصل کرنے کے لئے آگ جلائی اور جیسے ہی چاروں طرف روشنی پھیلی تو وہ آگ ایک دم بجھ گئی اور وہ گھپ اندھیرے میں کچھ بھی دیکھنے کے قابل نہ رہا۔
    ۲: رات کے وقت اندھیرے کے اندر کھلے میدان میں موسلادھار بارش میں کچھ لوگ پھنس کر رہ گئے، بجلی کی کڑک ان کے کانوں کو بہرہ کئے دے رہی ہو اور چمک سے ان کی آنکھیں خیرہ ہورہی ہوں اور اس ناگہانی آفت سے وہ موت کے ڈرسے کانوں میں انگلیاں ٹھوسے ہوئے ہوں۔ بجلی کی چمک سے انہیں راستہ دکھائی دینے لگے مگر جیسے ہی وہ چلنے کا ارادہ کریں تو اندھیرا چھا جائے اور انہیں کچھ بھی سجھائی نہ دے۔ یہ لوگ اندھے اور بہرے ہیں کیونکہ آیات خداوندی کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتے۔
    اس کے بعد انسانیت سے پہلا خطاب کیا گیا اور ایک وحدہ لاشریک لہ رب کی عبادت کا پہلا حکم دیا گیا۔ پھر توحید باری تعالیٰ پر کائناتی شواہد کو بطور دلیل پیش کیا گیا ہے۔ جس میں انسان کو عدم سے وجود بخشنا اور اس کی زندگی کی گزر بسر کے لئے آسمان و زمین کی تخلیق اور بارش اور سبزیوں اور پھلوں کی پیدائش کا تذکرہ ہے۔ پھر قرآن کریم کے کلام الٰہی ہونے کی عقلی دلیل دی گئی ہے کہ اگر تم اسے بشر کا کلام سمجھتے ہو تو تم بھی بشر ہو۔ ایسا کلام بنا کر دکھا دو ورنہ جہنم کا ایندھن بننے کے لئے تیار ہوجاﺅ۔ قرآن کریم کی ایک سورت بلکہ ایک آیت بنانے سے بھی عاجز آجانا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ محمد علیہ السلام کا کلام نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ اس کے بعد قرآنی نظام کے منکرین کے لئے جہنم کے بدترین عقوبت خانہ کی سزا اور اس کے ماننے والوں کے لئے جنت کی بہترین نعمتوں اور پھلوں کے انعام کا تذکرہ ہے۔ قرآن کتاب ہدایت ہے، انسانی ہدایت و رہنمائی کے لئے کوئی بھی اسلوب بیان اپنا سکتا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لئے مکھی یا مچھر یا کسی دوسرے چھوٹے یا بڑے جانور کی مثال دے سکتا ہے، مسئلہ مثال کا نہیں اس سے حاصل ہونے والے مقصد کا ہے۔
    تخلیق انسانی کی ابتداءکا تذکرہ آیت نمبر ۰۳ سے ۹۳ تک ۹ آیتوں میں ہے۔ انسان اس سرزمین پر اللہ تعالیٰ کا نائب اور خلیفہ ہے اور اس کی وجہ انسان کا حصول علم کی صلاحیت رکھنا ہے۔ انسانی بلندی و عظمت کی بنا پر اسے سجود ملائک بنایا گیا۔ ناپاک نطفہ سے تخلیق دے کر عظمت و بلندی کے تمام مراحل آناً فاناً طے کراکے اسے سجود ملائک بنادیا۔ پستی سے عظمت کے بام عروج تک پہنچا دیا۔ آدم سے حوا کی پیدائش سے نر اور مادہ کے ملاپ کے بغیر ایک انسان سے دوسرا انسان پیدا کرنے (CLOAN) کا امکان ثابت ہوسکتا ہے بلکہ آدم کی مٹی سے تخلیق سے یہ نکتہ بھی واضح ہوتا ہے کہ جس مٹی سے سبزیوں اور پھلوںکی شکل میں ”مادہ حیات“ انسانوںمیں منتقل ہوتا ہے اس سے براہِ راست وہ مادہ لے کر بھی انسان کو وجود میں لایا جاسکتا ہے۔ انسان اس سرزمین پر بطور سزا نہیں بلکہ بطور امتحان بھیجا گیا ہے۔ قرآن کریم کی شکل میں آسمانی ہدایت کی پیروی اس کی کامیابی کی علامت اور اس کی مخالفت اور کفر اس کی ناکامی و نامرادی کی علامت قرار دی گئی۔ اس کے بعد بنی اسرائیل کا تذکرہ ہے جو آیت نمبر ۰۴ سے شروع ہوکر نمبر ۳۲۱ تک ۳۸۱ آیات پر مشتمل ہے۔ بنی اسرائیل دنیا کی ایک منتخب قوم تھی۔ انبیاءکی اولاد تھی، اللہ تعالیٰ نے انہیں اس دور کی سیاسی اور مذہبی قیادت و سیادت سے نوازا ہوا تھا مگر ان کی نا اہلی اور اپنے منصب کے منافی حرکات کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں معزول کرنے کا فیصلہ کرلیا کہ اس منصب کے اہل او رحقیقی وارث امت محمدیہ کی شکل میں اس سرزمین پر تیار ہوچکے ہیں۔ تقریباً آدھے سیپارے پر محیط اس قوم کے جرائم اور عادات بد کی ایک طویل فہرست ہے جو چالیس نکات پر مشتمل ہے۔ یہ وہ ”فرد جرم“ ہے جو بنی اسرائیل کے اس منصب عالی سے معزولی کا سبب ہے۔ آیت نمبر ۰۴ سے نمبر۶۴ تک سات آیتوں میں ان ذمہ داریوں کا ذکر ہے جو بنی اسرائیل کو سونپی گئی تھیں۔ انعامات خداوندی کا استحضار، عہد الٰہی کی پاسداری، خوفِ خدا، تقویٰ، آسمانی تعلیمات پر یقین کامل، اپنے مفادات کو دین کا تابع بنا کر زندگی گزارنے کی تلقین، حق و باطل کو خلط ملط کرنے کی بجائے حق کی پیروی اور باطل سے دوٹوک انداز میں برات کا اظہار، نماز کی ادائیگی کے ذریعہ اللہ سے اپنی وفاداری کا اظہار اور زکوٰة کی ادائیگی کے ذریعہ غرباءو مساکین سے تعاون، خیر اور شر میں تمیز کرکے نیکی پر کاربند رہتے ہوئے دوسروں کو نیکی کی تلقین اور آسمانی تعلیمات کی روشنی میں عقل و دانش کا استعمال، بنی اسرائیل ان ذمہ داریوں کو پورا کرنے سے قاصر رہے جس کی تفصیل ۶۷ آیتوں میں مذکور ہے۔
    بنی اسرائیل کو دریا میں معجزانہ طریقہ پر راستہ بنا کر فرعونی مظالم سے نجات دی۔ دشمن کو ان کی آنکھوں کے سامنے غرق کیا، موسیٰ علیہ السلام کو کتاب دینے کے لئے چالیس دن کے لئے کوہ طور پر بلایا تو یہ لوگ بچھڑے کی عبادت میں مصروف ہوگئے۔ اس مشرکانہ حرکت پر سزا کے طور پر انہیں باہمی قتل کا حکم دے کر ان کی توبہ قبول کی گئی۔ ان کے بے جا مطالبے پورے کئے۔ اللہ تعالیٰ سے گفتگو اور بالمشافہہ ملاقات کرائی گئی مگر یہ پھر بھی اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے۔ تیہ کے چٹیل اور کھلے میدان میں انہیں بادل کے ذریعہ سایہ اور ”من و سلویٰ“ کی شکل میں کھانا فراہم کیا گیا مگر انہوںنے اس نعمت کی قدر نہ کی۔ پتھر سے معجزانہ طریقہ پر بارہ چشمے جاری کرکے ان کے بارہ خاندانوں کے سیراب کرنے کا انتظام کیا گیا مگر یہ سرزمین پر فساد پھیلانے سے باز نہ آئے۔ اللہ کی عظیم الشان نعمتوں کے مقابلہ میں لہسن پیاز اور دال روٹی کا مطالبہ کرکے ذہنی پستی اور دیوالیہ پن کا مظاہرہ کیا۔ اللہ کے احکام کا کفر کرنے اور انبیاءعلیہم السلام (اپنے مذہبی پیشواﺅں) کو قتل کرنے کے عظیم جرم کا ارتکاب کیا، جس پر انہیں ذلت و رسوائی اور غضبِ خداوندی کا مستحق قرار دیا گیا۔ قرآنی ضابطہ ہے کہ اللہ کے نزدیک کامیابی قومی یا مذہبی تعصب کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایمان اور عمل صالح کی بنیاد پر ملتی ہے، خوف اور غم سے نجات حاصل ہوتی ہے۔ ان کے سروں پر پہاڑ بلند کرکے تجدید عہد کرایا گیا، مگر انہوں نے اس کی پاسداری نہ کی۔ دل جمعی اور یکسوئی کے ساتھ عبادت کرنے کے لئے ہفتہ کے دن کی چھٹی دی گئی ، مگر اس کی پابندی نہ کرنے پر عبرتناک انجام کے مستحق ٹھہرے اور ان کی شکلیں بگاڑ کر ذلیل و قابل نفرت بندر بنادیا گیا۔
    جرم و سزا اور سراغ رسانی کا انوکھا واقعہ
    بنی اسرائیل میں ایک شخص بے اولاد تھا۔ وراثت حاصل کرنے کے لئے اس کے بھتیجے نے اسے قتل کرکے دوسروں پر الزام لگایا اور قصاص کا مطالبہ کیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے قاتل کا پتہ چلانے کے لئے اللہ تعالیٰ کے حکم سے گائے ذبح کرنے کا حکم دیا۔ بڑی پس و پیش کے بعد یہ لوگ ذبح پر آمادہ ہوئے۔ گائے کے گوشت کا ایک ٹکڑا جب میت کے جسم سے لگایا گیا تو وہ زندہ ہوگیا اور اپنے قاتل کا نام بتاکر پھر مرگیا۔ اس طرح اصل مجرم گرفت میں آگیا اور سزا کا مستحق قرار پایا اور کسی بے گناہ کی ناجائز خونریزی سے وہ لوگ بچ گئے۔ عقل و دانش کے نام پر کلام الٰہی میں تحریف اور رد و بدل کی بدترین عادت کے مریض تھے۔ اپنے مفادات اور دنیا کی عارضی منفعت کے لئے اللہ کی آیتوں کو بیچ ڈالتے تھے اور اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ ہم جو چاہےں کریں ہمیں آخرت میں کوئی عذاب نہیں ہوگا اور ہم جہنم میں نہیں جائیں گے۔ قرآن کریم نے ضابطہ بیان کردیا کہ جو بھی جرائم اور گناہوں کا مرتکب ہوگا وہ جہنم سے بچ نہیں سکے گا اور ایمان و اعمال صالحہ والے دائمی جنتوں کے حقدار قرار پائیں گے۔
    بنی اسرائیل سے عہد لیا گیا کہ وہ ایک اللہ کی عبادت کریں۔ والدین، عزیز و اقارب، غرباءو مساکین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں۔ لوگوں سے خوش اخلاقی کے ساتھ معاملہ کریں۔ دنیا میں فساد پھیلانے اور خونریزی کرنے سے باز رہیں، مگر یہ لوگ تخریب کار اور جنگ کے ذریعہ لوگوں کو قتل کرنے، ان کے گھروں سے بے گھر کرنے اور انہیں گرفتار کرکے ان کی آزادی سلب کرنے جیسی بدترین حرکات کے مرتکب پائے گئے۔ تورات کی جو باتیں ان کے مفادات کے مطابق ہوتیں انہیں مان لیتے اور جو مفادات کے خلاف ہوتیں انہیں رد کردیتے۔ اس لئے دنیا میں ذلت و رسوائی اور آخرت کے بدترین عذاب کے مستحق ٹھہرے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ آخرت میں تمام نعمتیں اور جنت صرف ہمارے ہی لئے ہے۔ قرآن کریم نے کہا کہ پھر تو تمہیں موت کی تمنا کرنی چاہئے تاکہ وہ نعمتیں تمہیں جلدی سے حاصل ہوجائیں۔ یہ لوگ جبریل علیہ السلام کے مخالف تھے کہ وہ عذاب اور سزا کے احکام لے کر کیوں آتے ہیں؟ وہ لوگ یہ سمجھنے سے قاصر رہے کہ جبریل تو ایک قاصد اور نمائندہ ہے۔ جزا یا سزا کے احکام اللہ تعالیٰ نازل کرتے ہیں۔ کسی کے نمائندہ کی مخالفت دراصل اس کی مخالفت شمار ہوتی ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جبریل تو میرے حکم سے قرآن کریم نازل کررہے ہیں، لہٰذا جبریل کی دشمنی درحقیقت اللہ، اس کے رسول اور تمام فرشتوں کے ساتھ دشمنی کے مترادف ہے۔ یہودیوں کی عادات بد میں جادوگروں کی اطاعت اور ان کی اتباع بھی تھی۔ اس کی مذمت آیت ۲۰۱ میں کی گئی ہے۔ مسلمانوں کی زبانی کلامی دل آزاری اور گستاخی رسول بھی یہودیوں کی گھٹی میں داخل ہے۔ آیت ۴۰۱ میں اسی بات کی مذمت ہے۔ قرآنی تعلیمات میں انسانی نفسیات، ماحول اور معاشرتی ضرورتوں کے پیش نظر جس طرح تدریجی احکام اور مرحلہ وار تبدیلیاں کی گئی ہیں آیت ۶۰۱ میں ان کا بیان ہے۔
    یہود و نصاریٰ اپنے کفر اور حسد کی بناءپر مسلمانوں کو ایمانی تقاضوں پر کاربند دیکھنا پسند نہیں کرتے۔ یہ ان کی فطرتی خباثت ہے لہٰذا انہیں نظر انداز کرکے اپنے کام سے کام رکھیں۔ دلائل کو نظر انداز کرکے محض اپنے مذہب یا نظریہ کی بنیاد پر کسی بات کو اختیار کرنا تعصب کہلاتا ہے۔ اس کی مذمت آیت ۳۱۱ میں بیان ہوئی ہے۔ مسجدیں اللہ کے گھر ہیں ان میں اللہ کی بات کرنے سے روکنا ظلم کی بدترین مثال ہے۔ ایسی حرکت کے مرتکب افراد دنیا میں بھی ذلیل و خوار ہوں گے اور آخرت میں بھی بدترین عذاب کے مستحق ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کے لئے اولاد کے عقیدہ کی مذمت آیت ۶۱۱ میں ہے اور اللہ کی قدرت کا بیان ہے۔ یہود و نصاریٰ کے تعصب کی بدترین شکل کو بیان کیا کہ اس وقت تک مسلمانوں سے خوش نہیں ہوں گے جب تک مسلمان اسلام سے دستبردار ہوکر یہودیت یا عیسائیت کو اختیار نہ کریں۔ آسمانی کتاب کی تلاوت کا حق ادا کرنے کی تلقین کے ساتھ بنی اسرائیل پر انعامات کا ایک مرتبہ پھر تذکرہ اور یوم احتساب کی یاد تازہ کرکے یہودیوں کے بارے میں گفتگو پوری کردی۔ پھر انسانیت کے لئے مثالی شخصیت حضرت ابراہیم کا تذکرہ شروع ہوتا ہے۔ ان کی آزمائش و ابتلاءاور اس میں کامیابی کی شہادت کے ساتھ ہی انہیں امامتِ انسانیت کے منصب پر فائز کرنے کا اعلان اور ابراہیمی زندگی اپنانے والے ہر شخص کو اس عہدہ کا اہل قرار دینے کا فیصلہ۔ ابراہیم علیہ السلام کی دینی خدمات خاص طور پر تعمیر کعبہ کا کارنامہ جو انسانوں کے لئے مرکز وحدت ہے۔ پھر دعاءابراہیمی جس کے نتیجہ میں بعثت نبوی اور امت مسلمہ کو وجود ملا۔
    پھر اس مثالی شخصیت کے مثالی خاندان کا تذکرہ اور بیان کہ اگر آباءو اجداد حق و انصاف کے علمبردار ہوں تو ان کی اتباع و تقلید ہی کامیابی کی اصل کلید ہے۔ آخر میں اس ضابطہ کا اعلان کہ ”وہ لوگ جو گزر چکے، ان کے اعمال کے مطابق ان کے ساتھ معاملہ ہوگا اور تمہارے اعمال کے مطابق تمہارے ساتھ معاملہ ہوگا۔“ ع
    عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
     
  2. sahil_jaan

    sahil_jaan Guest

    جزاک اللہ
    سورہ البقرہ کے حوالے سے بہت پیاری شئیرنگ کی ہے
    قرآن کریم کی معلومات سے استفادہ کرانے کا شکریہ
     

Share This Page