1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

Ghazal

Discussion in 'Urdu Shair or Qita' started by Ghayyas, Jul 25, 2015.

  1. Ghayyas

    Ghayyas Regular Member

    کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے
    کہ زندگی تیری زلفوں کی نرم چھاؤں میں
    گزرنے پاتی تو شاداب ہو بھی سکتی تھی
    یہ رنج و غم کی سیاہی جو دل پہ چھائی ہے
    تیری نظر کی شعاعوں میں کھو بھی سکتی تھی
    عجب نہ تھا کہ میں بیگانئہ الم ہو کر
    تیرے جمال کی رعنائیوں میں کھو رہتا
    تیرا گداز بدن، تیری نیم باز آنکھیں
    انہی حسین فسانوں میں محو ہو رہتا
    پکارتی مجھے جب تلخیاں زمانے کی
    تیرے لبوں سے حلاوت کے گھونٹ پی لیتا
    حیات چیختی پھرتی برہنہ سر اور میں
    گھنیری زلفوں کی چھاؤں میں جی لیتا
    مگر یہ ہو نہ سکا اور اب یہ عالم ہے
    کہ تُو نہیں تیرا غم جستجُو بھی نہہں
    گزر رہی ہے کچھ اس طرح زندگی جیسے
    اسے کسی سہارے کی آرزو بھی نہیں
    زمانے بھر کے دکھوں کو لگا چکا ہوں گلے
    گزر رہا ہوں کچھ انجانی راہگزاروں سے
    محیط سائے میری سمت بڑھتے آتے ہیں
    حٰیات و موت کے پر ہول خار زاروں سے
    نہ کوئی جگہ نہ منزل نہ روشنی کا سرغ
    بھٹک رہی خیالوں میں زندگی میری
    انہی خیالوں میں رہ جاؤں گا کبھی کھو کر
    میں جانتا ہوں میری ہم نفس مگر یونہی
    کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے​
     
  2. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

  3. Smart Azhar

    Smart Azhar Cruise Member

    واہ کیا بات ہے زبردست
     
  4. Mehtab Ali

    Mehtab Ali Super Moderators

    بہت ہی اچھے جناب
     
  5. UmerAmer

    UmerAmer VIP Member

    بہت خوب
    شئیر کرنے کے لئے شکریہ​
     

Share This Page