1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice
  3. Dismiss Notice

کامیاب کون؟


آئی ٹی استاد کی ںئی ایپ ڈاونلوڈ کریں اور آئی ٹی استاد ٹیلی نار اور ذونگ نیٹ ورک پر فری استمال کریں

itustad

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by IQBAL HASSAN, Sep 5, 2015.

General Topics Of Islam"/>Sep 5, 2015"/>

Share This Page

  1. IQBAL HASSAN
    Offline

    IQBAL HASSAN Designer
    • 63/65



    کامیاب کون؟

    ہر انسان کی دلی آرزو وقلبی تمنا یہی ہوتی ہے کہ کامیابی اس کا مقدر بن جائے ،دنیا میں باعزت وباوقار زندگی گزارے اور آخرت میں بامراد اور سرخرو ہوجائے،کامیابی وفلاح کے حصول کے لئے وہ تگ ودو کرتا ہے،صبح ومساء اپنی تمام تر توانائیاں اسی کے حصول کے لئے صرف کرتا ہے،لیکن حقیقی طور پر فلاح اس وقت محقق ہوگی ،کامیابی اس وقت مقدر بنے گی جبکہ قرآن کریم کے بیان کردہ اصول کے موافق عمل کیا جائے۔

    کامیابی وکامرانی ،فلاح ونجاح کے حصول کے اصول بیان کرتے ہوئے اللہ نے ارشاد فرمایا:

    فَالَّذِينَ آَمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنْزِلَ مَعَهُ أُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ .

    ترجمہ:پس وہ لوگ جو اس(نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ) پر ایمان لائیں،اور ان کی تعظیم کریں،اور ان کی نصرت ودفاع کریں اور اس نور کی اتباع کریں جو ان کے ساتھ نازل کیا گيا ہے تو یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں-(سورۃ الاعراف:157)۔

    فلاح وکامیابی کے حصول کی شرائط میں "ایمان"شرط اول ہے،"حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تعظیم وتوقیر"شرط دوم ہے،"آپ کا دفاع اور آپ کے دین کی نصرت "شرط سوم ہے اور "آپ کی اتباع وپیروی " کوشرط چہارم قرار دیا گياہے۔

    کامیابی وفلاح کی ان شرا‏ئط پر عمل آوری کے لئے حضرات صحابۂ کرام رضي اللہ تعالی عنہم کی بابرکت زندگی،ان کا ایمان راسخ،پاکیزہ کردار،اور ان کی 'ذات رسالت مآب صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے بے انتہاء محبت ،والہانہ عقیدت ،آپ کی پیروی وفرمانبرداری،اطاعت واتباع بہترین نمونہ اور امت کے لئے مشعل راہ ہے۔

    سورۂ بقرہ کی آیت نمبر "137"میں اللہ تعالی نے صحابۂ کرام کے ایمان کو امت کے لئے معیار اور کسوٹی قرار دیا ہے،ارشاد الہی ہے:

    فَإِنْ آَمَنُوا بِمِثْلِ مَا آَمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا .

    ترجمہ:اگر وہ لوگ بھی اس طرح ایمان لائیں جیساکہ (ائے صحابہ)تم ایمان لائے ہو تو وہ ہدایت پالینگے-(سورۃ البقرۃ:137)

    صحابۂ کرام نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی عظمت وتوقیر ،ادب وتکریم کا ایسا اعلی نمونہ پیش کیا کہ تاریخ میں جس کی نظیر نہيں ملتی۔

     
  2. PakArt
    Online

    PakArt ITUstad dmin Staff Member
    • 83/98

    FONT="Jameel Noori Nastaleeq"]
    :salam1:‎
    [​IMG]
    [​IMG]
    [​IMG]
    [​IMG]
    ‎ماشا اللہ بہت عمدہ اشتراک کیا ہے۔ ‏آپکی اور عمدہ تھریڈ کا انتطار رہے گا۔شکریہ‎
     

Share This Page