1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

"روزہ" حقیقت اور مقصدیت

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by IQBAL HASSAN, Sep 5, 2015.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Super Moderators



    "روزہ" حقیقت اور مقصدیت

    روزہ کو عربی میں ’’صوم‘‘کہے ہیں،اور’’ صوم‘‘ کے معنی شریعت میں نیت کے ساتھ‘ اپنے نفس کو کھانے، پینے اور جماع سے‘ صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک روکنے کے ہیں۔

    روزہ اسلام کا تیسرا رکن ہے۔ مدینہ منورہ میں ہجرت کے ڈیڑھ برس بعد رمضان کے روزے فرض ہوئے۔

    اللہ تعالی نے کئی عظیم فائدوں کی وجہ سے روزہ کو فرض کیا ہے۔ منجملہ ان فوائد کے ایک تو نفس امارہ کی اصلاح ہے؛ کیوں کہ جب روزہ کی وجہ سے نفس کو بھوکا رکھا جاتا ہے تو تمام اعضاء جسمانی سیر رہتے ہیں۔ ہر عضو اپنی اپنی خواہشات سے رک جاتا ہے اور اللہ تعالی کی اطاعت پر مائل ہوجاتا ہے۔ مثلاً :آنکھ دیکھنے کے گناہ سے، زبان بولنے کے گناہ سے اور کان سننے کے گناہ سے اور فرج(شرمگاہ) شہوت کے گناہ سے محفوظ رہتے ہیں، جس سے دل کی صفائی حاصل ہوتی ہے۔

    اس کے برخلاف جب نفس ‘روزہ نہ رکھنے کی وجہ سے کھا پی کر سیر رہتا ہے تو سارے اعضاء بھوکے ہوجاتے ہیں، اور گناہ کے کاموں پر مائل ہوجاتے ہیں، جس سے دل سیاہ ہونے لگتا ہے۔

    روزہ کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ روزہ رکھنے سے روزہ دار میں غرباء پر شفقت اور مہربانی کرنے کی صفت پیدا ہوتی ہے، اس لئے کہ روزہ دار‘ روزہ کی حالت میں بھوک کی جو تکلیف محسوس کرتا ہے تو اس کا یہ احساس روزہ نہ رکھنے کی حالت میں عام دنوں میں بھی باقی رہتا ہے، اس احساس کی وجہ سے وہ غریبوں سے اچھا سلوک کرتا ہے، جس کا اجر اس کو اللہ تعالی کے پاس مل جاتا ہے۔

    روزہ کا ایک اور فائدہ یہ بھی ہے کہ روزہ دار کو روزہ کی وجہ سے فقراء کے حال سے موافقت پیدا ہوجاتی ہے۔ فقراء تو اکثر بھوکے ہی رہتے ہیں اور بھوک کی تکلیف برداشت کرتے ہیں اور روزہ دار‘ روزہ رکھ کر بھوک کی تکلیف کو برداشت کرکے فقراء کے حال سے مشابہت پیدا کرلیتا ہے ،اور اس سے اللہ تعالی کے پاس اس کا درجہ بلند ہوتا ہے، چنانچہ حضرت بشر حافی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں ایک شخص سخت سردی کے موسم میں حاضر ہوا، اس نے دیکھا کہ آپ کے جسم پر کپڑے نہیں ہیں اور سردی سے کانپ رہے ہیں، اُس نے دریافت کیا کہ آپ نے ایسی سردی میں اپنے کپڑے کیوں اتار دیئے ہیں، تو حضرت بشر رحمۃ اللہ علیہ نے جواب دیا: بھائی! فقراء بہت ہیں اور میں ان کو کپڑے نہیں دے سکتا ہوں، تو اس لئے میں کپڑے اتار کر سردی کو برداشت کررہا ہوں تاکہ ان کی اس تکلیف میں شریک ہوجاؤں۔
     
  2. Mehtab Ali

    Mehtab Ali Super Moderators

Share This Page