1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

Democracy in the light of Holy Quran and scholars

Discussion in 'Islamic Events-ITU' started by T@nHA.D!L, Apr 20, 2013.

  1. T@nHA.D!L

    T@nHA.D!L Regular Member

    جمہوريت' قرآن کريم اور علماء کرام کي نظر ميں:ـ


    [font=_pdms_saleem_quranfont]وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ[font=_pdms_saleem_quranfont] ۚ
    [/font]
    [font=_pdms_saleem_quranfont]إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ[/font]
    [font=_pdms_saleem_quranfont](الانعام : آيت 116)۔[/font]
    [font=_pdms_saleem_quranfont] ۔"اور اگر آپ زمين والوں کي اکثريت کي اطاعت کريں گے۔ تو وہ آپ کو اللہ تعالٰي کے راستے سے گمراہ کرديں گے۔"۔[/font]


    ٭تفسير روح المعاني، جلد نمبر 4، صفحہ 11 پر علامہ آلوسي رحمہ اللہ لکھتے ہيں:۔



    ۔"يہ خود بھي گمراہ ہونا ہے اور دوسروں کو بھي گمراہ کرنا ہے، اور فاسد شکوک ہيں جو جہالت اور اللہ تعالٰي پر جھوٹ گھڑنے سے پيدا ہوتي ہے۔ (ان يتبعون) وہ پيروي کرتے ہيں شرک اور گمراہي کي۔"۔






    [font=_pdms_saleem_quranfont]وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ* ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
    (الأعراف: آيت 187
    [/font]



    ۔"اور ليکن اکثر آدمي علم نہيں رکھتے۔"۔




    ٭شاہ ولي اللہ رحمہ اللہ نے حجۃ اللہ البالغہ ميں وان تطع اکثر من في الارض کي تشريع ميں جمہوريت کا رد فرمايا۔

    ٭قاري طيّب قاسمي رحمہ اللہ "فطري حکومت" ميں لکھتے ہيں:۔


    ۔"يہ (جمہوريت) رب تعالٰي کي صفت 'ملکيت' ميں بھي شرک ہے اور صفتِ علم ميں بھي شرک ہے۔"۔


    ٭مولانا ادريس کاندھلوي رحمہ اللہ "عقائدِ اسلام" صفحہ 330 ميں لکھتے ہيں:۔


    ۔"جو لوگ يہ کہتے ہيں کہ يہ مزدور اور عوام کي حکومت ہے ايسي حکومت بلاشبہ حکومتِ کافرہ ہے۔"۔


    ٭مفتي محمود رحمہ اللہ نے مينگورہ سوات ميں ايک وکيل کے سوال کے جواب ميں فرمايا:۔


    ۔"ہم جمہوريت پر لعنت بھيجتے ہيں۔ اس ميں تو دو مردوں کي آپس ميں شادي کي اجازت ہے۔ جيسا کہ برطانيہ نے اس کا بل کثرتِ رائے سے پاس کياہے۔" (اسلامي خلافت ،صفحہ 177)۔

    مفتي محمود رحمہ اللہ کے اس آفاقي شان والے جملے کو بھلا کون بھُلا سکتا ہےکہ:۔


    ۔"ميں اسلام کے علاوہ ہر اِزم کو کفر سمجھتا ہوں"۔

    ٭مولانا محمود الحسن گنگوہي رحمہ اللہ "فتاويٰ محموديہ"، جلد 20، صفحہ 415 ميں لکھتے ہيں:۔

    ۔"اسلام ميں اس جمہوريت کا کہيں وجود نہيں (لہذا يہ نظامِ کفر ہے) اور نہ ہي کوئي سليم العقل آدمي اس کے اندر خير تصور کر سکتا ہے۔"۔




    ٭مولانا اشرف علي تھانوي رحمہ اللہ "ملفوظاتِ تھانوي"، صفحہ 252 پر لکھتے ہيں:۔





    ۔"ايسي جمہوري سلطنت جو مسلم اور کافر ارکان سے مرکّب ہو۔ وہ تو غير مسلم (سلطنتِ کافرہ) ہي ہو گي۔"۔




    ايک وعظ ميں فرماتے ہيں:۔




    ۔"آج کل يہ عجيب مسئلہ نکلا ہے کہ جس طرف کثرتِ رائے ہو وہ بات حق ہوتي ہے۔ صاحبو! يہ ايک حد تک صحيح ہے مگر يہ بھي معلوم ہے کہ رائے سے کس کي رائے مراد ہے؟ کيا ان عوام کالانعام کي؟ اگر انہي کي رائے مراد ہے تو کيا وجہ ہے کہ حضرت ہود عليہ السّلام نے اپني قوم کي رائےپر عمل نہيں کيا، ساري قوم ايک طرف رہي اور حضرت ہود عليہ السّلام ايک طرف۔ آخر اُنہوں نے کيوں توحيد کو چھوڑ کر بُت پرستي اختيار نہيں کي؟ کيوں تفريقِ قرم کا الزام سر ليا؟ اسي لئے کہ وہ قوم جاہل تھي۔ اس کي رائے جاہلانہ رائے تھي۔" (معارفِ حکيمُ الامّت، صفحہ 617)۔







    ايک اور موقع پر ارشاد فرماتے ہيں:۔




    ۔"مولانا محمد حسين الٰہ آبادي رحمہ اللہ نے سيد احمد خان سے کہا تھا کہ آپ لوگ جو کثرتِ رائے پر فيصلہ کرتے ہيں، اس کا حاصل يہ ہے کہ حماقت کي رائے پر فيصلہ کرتے ہو، کيونکہ قانونِ فطرت يہ ہے کہ دنيا ميں عقلاء کم ہيں اور بيوقوف زيادہ، تو اس قاعدے کي بنا پر کثرتِ رائے کا فيصلہ بيوقوفي کا فيصلہ ہوگا۔" (معارفِ حکيمُ الامّت، صفحہ 626)۔





    ايک اور موقع پر ارشاد فرماتے ہيں:۔




    ۔"(غزوۃ الاحد ميں) ان پچاس آدميوں ميں جو پہاڑ کي گھاٹي پر متعين تھے، اختلاف ہوا، بعض نے کہا کہ ہمارے بھائيوں کو فتح حاصل ہوگئي ہے، اب ہم کو گھاٹي پر رہنے کي ضرورت نہيں، حضور ﷺ نے جس غرض کے لئے ہم کو يہاں متعين کيا تھاوہ غرض حاصل ہوچکي ہے، اس لئے حکمِ قرار بھي ختم ہوگيا، اب يہاں سے ہٹنے ميں رسول ﷺ کے مقصود کي مخالفت نہ ہوگي، اور ہم نےاب تک جنگ ميں کچھ حصّہ نہيں ليا تو کچھ ہم کو بھي کرنا چاہيے۔ ہمارے بھائي کفار کا تعاقب کررہے ہيں، ہم کو مالِ غنيمت جمع کر لينا چاہيے، بعض نے اس رائے کي مخالفت کي اور کہا کہ حضور ﷺ نے صاف فرماديا تھا کہ بدون ميري اجازت کے يہاں سے نہ ہٹنا۔ اس لئے ہم کو بدون آپ کي اجازت کے ہرگز نہ ہٹنا چاہيے، مگر پہلي رائے والوں نے نہ مانا اور چاليس آدمي گھاٹي سے ہٹ کر مالِ غنيمت جمع کرنے ميں مشغول ہوگئے، يہ ان سے اجتہادي غلطي ہوئي اور گھاٹي پر صرف دس آدمي اور ان کے ايک افسر رہ گئے۔ اس واقعے ميں کثرتِ رائے غلطي پر تھي قلتِ رائے صواب پر تھي، جو لوگ کثرتِ رائے کو علامتِ حق سمجھتے ہيں، وہ اس سے سبق حاصل کريں۔" (معارفِ حکيمُ الامّت، صفحہ 618)۔








    ٭مفتي رشيد احمد رحمہ اللہ "احسن الفتاويٰ"، جلد 6، صفحہ24 تا 26 ميں لکھتے ہيں:۔

    ۔"اسلام ميں مغربي جمہوريت کا کوئي تصّور نہيں، اس ميں متعدد گروہوں کا وجود(حزبِ اقتدار و حزبِ اختلاف) ضروري ہے، جبکہ قرآن اس تصّور کي نفي کرتا ہے:۔

    [font=_pdms_saleem_quranfont]وَٱعْتَصِمُو
    [/font]
    [/font]
     
  2. Jazak Allah....
     
  3. ~TANHA~

    ~TANHA~ ITU Friend

    جزاک اللہ۔۔۔۔
     
  4. ~Asad~

    ~Asad~ Management

    جزاک اللہ بہت اچھے
     

Share This Page