1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice
  3. Dismiss Notice

Arrow Khaleefa Chaharam Hazrat Ali Murtaza Radhay Allah Anho(خلیفہ چہارم حضرت علی مرت


آئی ٹی استاد کی ںئی ایپ ڈاونلوڈ کریں اور آئی ٹی استاد ٹیلی نار اور ذونگ نیٹ ورک پر فری استمال کریں

itustad

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by MALIK__G, Oct 18, 2015.

General Topics Of Islam"/>Oct 18, 2015"/>

Share This Page

  1. MALIK__G
    Offline

    MALIK__G Regular Member
    • 36/49

    خلیفہ چہارم
    حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ

    آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کانام نامی علی،کنیت ابوالحسن، ابو تراب ہے۔ آپ کے والد حضور سرورعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے چچا ابو طالب ہیں۔ آپ نو عمروں میں سب سے پہلے اسلام لائے۔ اسلام لانے کے وقت آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر شریف کیا تھی اس میں چند اقوال ہیں:ایک قول میں آپ کی عمر پندرہ سال کی، ایک میں سولہ کی، ایک میں آٹھ کی،ایک میں دس کی،اگرچہ عمر کے باب میں چند قول ہیں مگر اس قدر یقینی ہے کہ ابتدائے عمر میں بلوغ کے متصل ہی آپ دولت ایمان سے مشرف ہوئے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کبھی بت پرستی نہیں کی جس طرح کہ حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کبھی بت پرستی کے ساتھ ُملَوَّث نہ ہوئے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ عشرۂ مبشرہ میں سے ہیں جن کے لیے جنت کا وعدہ دیا گیا اور علاوہ چچا زاد ہونے کے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضور ِاکرم نبئ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں عزت مُواخات بھی ہے اور سیدۂ نساء عالمین خاتون جنت حضرت بتول زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ آپ کا عقد نکاح ہوا۔ آپ سابقین اولین اور علماء ِربانیین میں سے ہیں۔ جس طرح شجاعت بَسالَت میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نامِ نامی شہرۂ عالم ہے، عرب و عجم بر و بحر میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زور و قوت کے سکے بیٹھے ہوئے ہیں، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہیبت و دبدبہ سے آج بھی جوان مردانِ شیر دل کانپ جاتے ہیں اسی طرح آ پ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ز ہد و ریاضت اَطراف واَکنافِ عالم میں وظیفۂ خاص و عام ہے۔ کروڑوں اولیا رحمہم اللہ تعالیٰ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سینۂ نور گنجینہ سے مستفیض ہیں اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ارشاد ہدایت نے زمین کو خدا پرستوں کی طاعت و ریاضت سے بھر دیاہے۔ خوش بیان فصحا اور معروف خطبا میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بلند پایہ ہیں۔ جامعینِ قرآنِ پاک میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کانام نامی نورانی حرفوں کے ساتھ چمکتا ہے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بنی ہاشم میں پہلے خلیفہ ہیں اور سبطین کریمین حسنین جمیلین سعیدین شہیدین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے والد ِماجد ہیں۔ سادات کرام اور اولادِ رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام کا سلسلہ پروردگار عالم عزوجل نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جاری فرمایا، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تبوک کے سوا تمام مَشاہِد میں حاضر ہوئے۔ جنگ ِتبوک کے موقع پر حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مدینہ پر خلیفہ بنایا تھا اور ارشاد فرمایا تھا کہ تمہیں ہماری بارگاہ میں وہ مرتبہ حاصل ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بارگاہ میں حضرت ہارون کو۔(علیہ الصلوٰۃ والسلام
    (تاریخ الخلفاء،علی بن ابی طالب رضی اﷲ تعالٰی عنہ،ص۱۳۲۔۱۳۳ماخوذاً)
    حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے چند مقاموں میں آپ کو لوا(جھنڈا) عطافرمایا خصوصاً روز ِخیبر اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے خبردی کہ ان کے ہاتھ پر فتح ہوگی۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس روز قلعۂ خیبر کا دروازہ اپنی پشت پر رکھا اور اس پر مسلمانوں نے چڑھ کر قلعہ کو فتح کیا۔ اس کے بعد لوگوں نے اسے کھینچنا چاہا تو چالیس آدمیوں سے کم اس کو نہ اٹھا سکے۔ جنگوں میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کارنامے بہت ہیں۔
    (تاریخ الخلفاء، علی بن ابی طالب رضی اﷲ تعالٰی عنہ، ص۱۳۲۔۱۳۳ملخصاً)
    آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے ناموں میں ابو تراب بہت پیارا معلوم ہوتا تھا اور اس نام سے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت خوش ہوتے تھے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ ایک روز آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد شریف کی دیوار کے پاس لیٹے ہوئے تھے۔ پشتِ مبارک کو مٹی لگ گئی تھی، حضور ِاقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اورآپ کی پشتِ مبارک سے مٹی جھاڑ کر فرمایا:اِجْلِسْ اَبَا تُرَابٍ۔
    (تاریخ الخلفاء، علی بن ابی طالب رضی اﷲ تعالٰی عنہ، ص۱۳۳)
    یہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا عطافرمایا ہوا خطاب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ہرنام سے پیارا معلوم ہوتا تھا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس نام سے سلطانِ کو نین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے لطف و کرم کے مزے لیتے تھے۔
    آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل و محامد بہت زیادہ ہیں۔ حضرت سعد ابن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے غزوۂ تبوک کے موقعہ پر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مدینہ طیبہ میں اہل بیت کی حفاظت کیلئے چھوڑا حضرت مولیٰ علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا :یارسول اللہ!عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں خلیفہ بناتے ہیں۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم راضی نہیں ہوکہ تمہیں میرے دربارمیں وہ مرتبت حاصل ہو جو حضرت ہارون کو دربار حضرت موسیٰ میں تھی (علیہما الصلوٰۃ و السلام) بجز اس بات کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آیا۔
    (صحیح مسلم،کتاب فضاہل الصحابۃ رضی اﷲعنہم، باب من فضاہل علی بن ابی
    طالب رضی اﷲ عنہ، الحدیث:۲۴۰۴،ص۱۳۱۰)
    حضرت سہل ابن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے روز ِخیبر فرمایا کہ میں کل جھنڈا اس شخص کو دوں گا جس کے ہاتھوں پر اللہ تعالیٰ فتح فرمائے گا اور وہ اللہ و رسول عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو محبوب رکھتا ہے اور اللہ و رسول عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس کو محبوب رکھتے ہیں۔ اس مثردۂ جانفزا نے صحابہ کرام علیہم الرضوان کو تمام شب امید کی ساعتیں شمار کرنے میں مصروف رکھا۔ آرزو مند دلوں کو رات کاٹنی مشکل ہوگئی اور مجاہدین کی نیندیں اڑگئیں۔ہردل آرزو مند تھا کہ اس نعمت عظمیٰ وکبریٰ سے بہرہ مند ہو اور ہر آنکھ منتظر تھی کہ صبح کی رو شنی میں سلطان دارین فتح کاجھنڈا کس کو عطا فرماتے ہیں۔صبح ہوتے ہی شب بیدارتمنائی امیدوں کے ذخائر لئے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور ادب کے ساتھ دیکھنے لگے کہ کریم ذرہ پرور کا دستِ رحمت کس سعادت مند کو سرفراز فرماتاہے۔ محبوب ِخدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے لب ِمبارک کی جنبش پر ارمان بھری نگاہیں قربان ہورہی تھیں، رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :اَیْنَ عَلِیُّ ابْنُ اَبِیْ طَالِبٍ علی ابن ابی طالب کہاں ہیں؟عرض کیا گیا :وہ بیمار ہیں، ان کی آنکھوں پر آشوب ہے۔ بُلانے کاحکم دیا گیا اور علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم حاضر ہوئے۔حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دہن مبارک کے حیات بخش لعاب سے ان کی چشمِ بیمار کا علاج فرمایا اور برکت کی دعا کی، دعا کرناتھا کہ نہ درد باقی رہا نہ کھٹک نہ سرخی نہ ٹپک ، آن کی آن میں ایسا آرام ہوا کہ گویا کبھی بیمار نہ ہوئے تھے اسکے بعد ان کو جھنڈا عطا فرمایا۔
    (صحیح البخاری،کتاب فضائل اصحاب النبی صلّی اﷲ علیہ وسلم، باب مناقب
    علی بن ابی طالب...الخ،الحدیث:۳۷۰۱، ج۲،ص۵۳۴)
    ترمذی ونسائی وابن ماجہ نے حبشی بن جنادہ سے روایت کی،حضورسیّدعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: عَلِیٌّ مِّنِّیْ وَاَنَا مِنْ عَلِیٍّ
    (سنن الترمذی،کتاب المناقب،باب مناقب علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ،
    الحدیث:۳۷۴۰،ج۵،ص۴۰۱
    علی مجھ سے ہے اور میں علی سے) اس سے حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کا کمالِ قرب بارگاہِ رسالت مآب سے ظاہر ہوتا ہے۔
    امام مسلم نے حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اس کی قسم کہ جس نے دانہ کو پھاڑا اور اس کو روئیدگی عنایت کی اور جانوں کو پیدا کیا بے شک مجھے نبی امی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے بتایاکہ مجھ سے ایماندار محبت کریں گے اور منافق بغض رکھیں گے۔
    (صحیح مسلم،کتاب الایمان،باب الدلیل علی ان حب الانصار وعلی رضی اﷲ
    عنہم...الخ،الحدیث:۷۸،ص۵۵)
    ترمذی میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ ہمارے نزدیک علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بغض رکھنا منافق کی علامت تھی اسی سے ہم منافق کو پہچان لیتے تھے۔
    (سنن الترمذی،کتاب المناقب،باب مناقب علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ،
    الحدیث:۳۷۳۷،ج۵،ص۴۰۰)
    حاکم نے حضرت مولیٰ علی مرتضی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ سے روایت کی فرماتے ہیں: مجھے رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے یمن کی طرف قاضی بناکر بھیجا، میں نے عرض کیا: حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میں کم عمر ہوں قضا جانتا نہیں،کام کس طرح انجام دے سکوں گا۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنادستِ مبارک میرے سینہ میں مار کر دعا فرمائی، پروردگارعزوجل کی قسم! معاملہ کے فیصل کرنے میں مجھے شبہہ بھی تو نہ ہوا۔
    (المستدرک للحاکم،کتاب معرفۃ الصحابۃ،کان اقضی اہل المدینۃ علی بن ابی طالب،
    الحدیث:۴۷۱۴،ج۴،ص۱۰۸
    وتاریخ الخلفاء،علی بن ابی طالب رضی اﷲ تعالٰی عنہ،فصل فی الاحادیث الواردۃ
    فی فضلہ،ص۱۳۵)
    صحابۂ کبارعلیہم الرضوان حضرت امیر المومنین علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اَقضا جانتے تھے۔ سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا یہ فیض ہے کہ حضرت امیرالمومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سینہ میں دست مبارک لگایا اور وہ علمِ قضا میں کامل اور اقران میں فائق ہوگئے۔ جسکے ہاتھ لگانے سے سینے علوم کے گنجینے بن جائیں اس کے علوم کا کوئی کیا بیان کرسکتا ہے۔
    ابن عساکر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے حق میں بہت سی آیتیں نازل ہوئیں۔
    (تاریخ الخلفاء،علی بن ابی طالب رضی اﷲ تعالٰی عنہ،فصل فی الاحادیث الواردۃ
    فی فضلہ،ص۱۳۶)
    طبرانی وحاکم نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ کو دیکھنا عباد ت ہے۔
    (المستدرک للحاکم،کتاب معرفۃ الصحابۃ، النظر الی علی عبادۃ، الحدیث:۴۷۳۷،
    ج۴،ص۱۱۸
    وتاریخ الخلفاء،علی بن ابی طالب رضی اﷲ تعالٰی عنہ،فصل فی الاحادیث الواردۃ
    فی فضلہ،ص۱۳۶)
    ابو یعلی و بزار نے حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:جس نے علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی۔
    (مسند ابی یعلٰی، مسند سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ، الحدیث:۷۶۶، ج۱،ص۳۲۵)
    بزار اور ابو یعلی اور حاکم نے حضرت امیر المومنین علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا کہ مجھ سے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں حضرت عیسیٰ علی نبیناوعلیہ الصلوٰۃ والسلام سے ایک مناسبت ہے ان سے یہود نے یہاں تک بغض کیا کہ ان کی والدہ ماجدہ پر تہمت لگائی۔ نصاریٰ محبت میں ایسے حد سے گزرے کہ ان کی خدائی کے مُعْتَقِد ہوگئے۔ ہوشیار ہوجاؤ میرے حق میں بھی دو گروہ ہلاک ہوں گے ایک محب مُفْرِط جو مجھے میرے مرتبہ سے بڑھائے اور حد سے تجاوز کرے، دوسرا مُبْغِض جو عداوت میں مجھ پر بہتان باندھے۔
    (مسند ابی یعلٰی، مسند علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ، الحدیث:۵۳۰،ج۱،ص۲۴۷)
    حضرت امیر المومنین علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس ارشاد سے معلوم ہوا کہ رافضی و خارجی دونوں گمراہ ہیں اور ہلاکت کی راہ چلتے ہیں، طریق قویم اور صراط مستقیم پر اہلسنت ہیں جو محبت بھی رکھتے ہیں اور حد سے تجاوز بھی نہیں کرتے۔
    وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ.
     

Share This Page