1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

خلیفۂ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ 

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by MALIK__G, Oct 18, 2015.

  1. MALIK__G

    MALIK__G Senior Member

    خلیفہ اوّل
    حضرت ابو بکر صدّیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ

    حضرت ابو بکر صدّیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اسم گرامی عبداللہ ہے۔ آپ کے اجداد کے اسماء یہ ہیں: عبداللہ (ابو بکر صدیق) بن ابی قحافہ عثمان بن عامر بن عمروبن کعب بن سعد بن تَیم بن مرّہ بن کعب بن لوی بن غالب قرشی۔ حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نسب حضور سیّد عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے نسب پاک سے مرّہ میں ملتا ہے ۔ آپ کا لقب عتیق و صدیق ہے۔ ابو یعلی نے اپنی مسند میں اور ابن سعد و حاکم نے ایک حدیثِ صحیح ام المؤمنین حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ہے وہ فرماتی ہیں کہ ایک روز میں مکان میں تھی اوررسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے اصحاب صحن میں تھے میرے ان کے درمیان پردہ پڑا تھا حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے حضور اقدس نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کو ''عَتِیْقُ مِّنَ النَّار''(یعنی آتشِ دوزخ سے آزاد)کا دیکھنا اچھا معلوم ہو وہ ابوبکر کودیکھے۔ اس روزسے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا لقب عتیق ہوگیا۔ آپ کا ایک لقب صدیق ہے۔ ابن اسحق حسن بصری اور قتادہ سے راوی کہ صبحِ شبِِ معراج سے آپ کا یہ لقب مشہور ہوا۔
    (مسند ابی یعلٰی، مسند عائشۃ، الحدیث:۴۸۷۸،ج۴، ص۲۸۲)
    مستدرک میں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس مشرکین پہنچےاور واقعہ معراج جو انہوں نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے سناتھا۔حضر ت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سنا کر کہنے لگے کہ اب حضور کی نسبت کیا کہتے ہو؟ آپ نے فرمایا: لَقَدْ صَدَقَ اِنِّیْ لَاُصَدِّقُہٗ (حضور نے یقیناً سچ فرمایا، میں حضور کی تصدیق کرتا ہوں) اسی وجہ سے آپ کا لقب صدیق ہوا۔
    (المستدرک للحاکم،کتاب معرفۃ الصحابۃ رضی اللہ عنہم، الاحادیث المشعرۃ
    بتسمیۃ ابی بکر صدیقاً، الحدیث:۴۴۶۳، ج۴،ص۴)
    حاکم نے مستدرک میں نزال بن سبرہ سے باسناد جید روایت کی کہ ہم نے حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حضرت ابوبکررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نسبت دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ وہ شخص ہیں جن کا نام اللہ تعالیٰ نے بزبان جبریلِ امین و بزبانِ سرورِانبیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم صدیق رکھا ، وہ نمازمیں حضور کے خلیفہ تھے۔حضور نے انھیں ہمارے دین کے لیے پسند فرمایا تو ہم اپنی دنیا کے لئے ان سے راضی ہیں۔ (یعنی خلافت پر
    (المستدرک للحاکم،کتاب معرفۃ الصحابۃ رضی اللہ عنہم، الاحادیث المشعرۃ
    بتسمیۃ ابی بکرصدیقاً، الحدیث:۴۴۶۲ ،ج۴،ص۴)
    دار قطنی وحاکم نے ابو یحییٰ سے روایت کیا کہ میں شمار نہیں کرسکتا کتنی مرتبہ میں نے علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو برسرِمنبر یہ فرماتے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی زبان پر ابو بکر کا نام صدیق رکھا۔
    (تاریخ الخلفاء، ابوبکر الصدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ، فصل فی اسمہ ولقبہ،ص۲۳ )
    طبرانی نے بسندِجید صحیح حکیم بن سعد سے روایت کی ہے کہ میں نے علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بحلف فرماتے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر کا نام صدیق آسمان سے نازل فرمایا۔
    (المعجم الکبیر للطبرانی،الحدیث:۱۴،ج۱،ص۵۵)
    حضرت صدیق رضی اللہ عنہ حضور انور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت مبارکہ سے دو سال چندماہ بعد مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے یہی صحیح ہے اور یہ جومشہور ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت صدیق رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا کہ ہم بڑے ہیں یاتم؟ انہوں نے عرض کیا کہ بڑے حضور ہیں، عمر میر ی زیادہ ہے۔ یہ روایت مرسل و غریب ہے اور واقع میں یہ گفتگو حضرت عباس سے پیش آئی تھی۔
    (تاریخ الخلفاء،ابوبکر الصدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ،فصل فی مولدہ ومنشئہ،ص۲۴ )
    آپ مکہ مکرمہ میں سکونت رکھتے تھے۔ بسلسلہ تجارت باہر بھی تشریف لے جاتے تھے۔ اپنی قوم میں بہت بڑے دولت مند اور صاحبِِ مُرَوَّت واحسان تھے۔ زمانہ جاہلیت میں قریش کے رئیس اور ان کی مجلس شوریٰ(مجلس ِشوریٰ کی رکنیت ایک بڑا منصب تھاعرب میں کوئی بادشاہ تو تھا نہیں، تمام امور ایک کمیٹی کے
    متعلق تھے جس کے دس ممبر تھے۔کوئی جنگ کا ،کوئی مالیات کا،کوئی کسی اور کام کا اور ہر ممبراپنے محکمہ کی ولایتِ عامہ اور اختیارِ کامل رکھتاتھا) کے رکن تھے۔ معاملہ فہمی و دانائی میں آپ شہرت رکھتے تھے اسلام کے بعد آپ بالکل اسی طرف مصروف ہوگئے اور سب باتوں سے دل ہٹ گیا۔ زمانہ جاہلیت میں بھی آپ کا چال چلن نہایت پاکیزہ اور افعال نہایت متین و شائستہ تھے۔
    (تاریخ الخلفاء،ابوبکر الصدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ،فصل فی مولدہ ومنشئہ،ص۲۴)
    ابن عساکر نے ابو العالیہ ریاحی سے نقل کیا ہے کہ مجمعِ اصحاب میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ آپ نے زمانہ جاہلیت میں کبھی شراب پی ہے ؟فرمایا:پناہ بخدا ، اس پر کہاگیا:یہ کیوں؟ فرمایا:میں اپنی مُرَوَّت و آبرو کی حفاظت کرتا تھا اورشراب پینے والے کی مروت و آبرو برباد ہوجاتی ہے۔ یہ خبرحضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کوپہنچی تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایاکہ ابوبکرنے سچ کہا
    (تاریخ الخلفاء،ابوبکر الصدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ،فصل کان ابوبکر اعف الناس
    فی الجاہلیۃ،ص۲۴ )
     

Share This Page