1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice
  3. Dismiss Notice

Hazrat Abu Bakr Radhay Allah Anho Ki Wafaat(حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ ع


آئی ٹی استاد کی ںئی ایپ ڈاونلوڈ کریں اور آئی ٹی استاد ٹیلی نار اور ذونگ نیٹ ورک پر فری استمال کریں

itustad

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by MALIK__G, Oct 18, 2015.

General Topics Of Islam"/>Oct 18, 2015"/>

Share This Page

  1. MALIK__G
    Offline

    MALIK__G Regular Member
    • 36/49

    حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات

    آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کا اصلی سبب حضور انور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہے جس کا صدمہ دمِ آخر تک آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قلب مبارک سے کم نہ ہوا اور اس روز سے برابر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جسم شریف گھلتا اور دبلا ہوتا گیا ۔
    سات جمادی الاخر ی 13 ھ؁ روز دو شنبہ کو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے غسل فرمایا ، دن سرد تھا ، بخار آگیا۔ صحابہ کرام عیادت کے لئے آئے۔ عرض کرنے لگے: اے خلیفۂ رسول! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم و رضی اللہ تعالی عنہ اجازت ہوتو ہم طبیب کو بلائیں جو آپ کو دیکھے۔ فرمایا کہ طبیب نے تو مجھے دیکھ لیا۔ انہوں نے دریافت کیا کہ پھر طبیب نے کیا کہا؟ فرمایا کہ اس نے فرمایا: اِنِّیْ فَعَّالٌ لِّمَا اُرِیْدُ۔ یعنی میں جو چاہتا ہو ں کرتاہوں۔ مراد یہ تھی کہ حکیم اللہ تعالیٰ ہے اس کی مرضی کو کوئی ٹال نہیں سکتا، جو مشیت ہے ضرور ہوگا۔یہ حضرت کاتوکلِ صادق تھا اور رضائے حق پر راضی تھے۔
    اسی بیماری میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عبدالرحمٰن عوف اور حضرت علی مرتضیٰ اور حضرت عثمان غنی وغیر ہم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مشورے سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے بعد خلافت کے لئے نامزد فرمایااور پندرہ روز کی علالت کے بعد 22 جمادی الاخری 13 ھ؁ شب ِسہ شنبہ کو تریسٹھ سال کی عمر میں اس دارِ ناپائیدار سے رحلت فرمائی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔
    حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جنازہ کی نماز پڑھائی اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی وصیت کے مطابق پہلوئے مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میں مدفون ہوئے۔
    آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دو سال اور سات ماہ کے قریب خلافت کی۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات سے مدینہ طیبہ میں ایک شور برپا ہوگیا۔ آپ کے والد ابو قحافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جن کی عمر اس وقت ستانوے برس کی تھی۔ دریافت کیا کہ یہ کیسا غوغا ہے؟ لوگوں نے کہا کہ آپ کے فرزند رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رحلت فرمائی۔ کہا بڑی مصیبت ہے ان کے بعد کارِ خلافت کو ن انجام دے گا؟ کہا گیا: حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ آپ کی وفات سے چھ ماہ بعد آپ کے والد ابو قحافہ نے بھی رِحْلَت فرمائی۔
    (تاریخ الخلفاء، ابوبکر الصدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ، فصل فی مرضہ ووفاتہ...الخ،
    ص۶۲۔۶۶ملتقطاً)
    کیسا خوش نصیب گھرانہ ہے خود صحابی، والد صحابی ، بیٹے صحابی ، پوتے صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہم و رضواعنہ۔
     
  2. MALIK__G
    Offline

    MALIK__G Regular Member
    • 36/49

    :confused:
     
  3. Ghulam Rasool
    Offline

    Ghulam Rasool Super Moderators
    • 18/33

    nice sharing janab tahnks u​
     

Share This Page