1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

Hazrat Ameer Muaviya Radhay Allah Anho Ki Wafat Aur Yazeed Ki Sultanat

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by MALIK__G, Oct 20, 2015.

  1. MALIK__G

    MALIK__G Senior Member

    حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات اور یزید کی سلطنت

    حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ نے رجب 60 ھ؁ میں بمقامِ دِمَشْق لَقْوَہ میں مبتلاہوکر وفات پائی۔ آپ کے پاس حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے تبرکات میں سے ازار شریف، ردائے اقدس، قمیص مبارک، موئے شریف اور ترا شہائے ناخن ہُمَایوں تھے، آپ نے وصیت کی تھی کہ مجھے حضو ر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ازار شریف و ردائے مبارک و قمیص اقدس میں کفن دیا جائے اور میرے ان اعضا پر جن سے سجدہ کیا جاتا ہے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے موئے مبارک اور تراشۂ ناخنِ اقدس رکھ دئیے جائیں اور مجھے اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْن کے رحم پر چھوڑ دیاجائے۔
    کورِباطن یزید نے دیکھا تھا کہ اس کے باپ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے تبرکات اور بدنِ اقدس سے چھو جانے والے کپڑوں کو جان سے زیادہ عزیز رکھا تھا اور دمِ آخر تمام زر و مال ثروت و حکومت سب سے زیادہ وہی چیزپیاری تھی اور اسی کو ساتھ لے جانے کی تمنا حضرت امیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دل میں تھی۔ اس کی برکت سے انہیں امید تھی کہ اس ملبوس پاک میں بوئے محبوب ہے۔ یہ مقام غربت میں پیارا رفیق اور بہترین مونس ہوگا اور اللہ تعالیٰ اپنے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے لباس اور تبرکات کے صدقے میں مجھ پر رحم فرمائے گا۔ اس سے وہ سمجھ سکتا تھا کہ جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے بدن پاک سے چھو جانا ایک کپڑے کو ایسا بابرکت بنا دیتا ہے تو حسنین کریمین اور آلِ پاک علیہم الرضوان جو بدنِ اقدس کا جزو ہیں ان کا کیا مرتبہ ہوگا اور ان کا کیااحترام لازم ہے۔ مگر بد نصیبی اور شقاوت کا کیا علاج۔
    امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کے بعد یزید تختِ سلطنت پر بیٹھا اور اس نے اپنی بیعت لینے کیلئے اطراف و ممالک سلطنت میں مکتوب روانہ کئے، مدینہ طیبہ کا عامل جب یزید کی بیعت لینے کے لئے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے اس کے فسق و ظلم کی بنا پر اس کو نااہل قراردیا اور بیعت سے انکار فرمایا اسی طرح حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی۔
    (الاکمال فی اسماء الرجال،حرف المیم،فصل فی الصحابۃ،ص۶۱۷
    وتاریخ الخلفاء،باب یزید بن معاویۃ...الخ،ص۱۶۴)
    حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ جانتے تھے کہ بیعت کا انکار یزید کے اِشْتِعال کا باعث ہوگا اور نابکار جان کا دشمن اور خون کا پیاسا ہوجائے گا لیکن امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دیانت و تقویٰ نے اجازت نہ دی کہ اپنی جان کی خاطر نا اہل کے ہاتھ پر بیعت کرلیں اور مسلمانوں کی تباہی اور شرع و احکام کی بے حرمتی اور دین کی مَضَرَّت کی پرواہ نہ کریں اور یہ امام جیسے جلیلُ الشَّان فرزند ِرسول (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم) سے کس طرح ممکن تھا؟ اگر امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس وقت یزید کی بیعت کرلیتے تو یزید آپ کی بہت قدر و منزلت کرتا اور آپ کی عافیت و راحت میں کوئی فرق نہ آتا بلکہ بہت سی دولت دنیا آپ کے پاس جمع ہوجاتی لیکن اسلام کا نظام درہم برہم ہوجاتا اور دین میں ایسا فساد برپا ہوجاتا جس کادور کرنا بعد کو ناممکن ہوتا۔ یزید کی ہر بدکاری کے جواز کے لئے امام حسین رضی اللہ عنہ کی بیعت سند ہوتی اور شریعت اسلامیہ و ملت حنفیہ کا نقشہ مٹ جاتا۔ بد دینوں کو بھی آنکھیں کھول کر دیکھ لینا چاہیے کہ امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنی جان کو خطرہ میں ڈال دیا اور تَقَیَّہ کا تصور بھی خاطِرِ مبارک پر نہ گزرا، اگرتَقَیَّہ جائز ہوتا تو اس کیلئے اس سے زیادہ ضرورت کا اور کون وقت ہوسکتا تھا؟ حضرت امام حسین و ابنِ زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے بیعت کی درخواست اسی لئے پہلے کی گئی تھی کہ تمام اہلِ مدینہ ان کا اتباع کریں گے، اگر ان حضرات نے بیعت کرلی تو پھر کسی کو تأمُّل نہ ہوگا لیکن ان حضرات کے انکار سے وہ منصوبہ خاک میں مل گیا اور یزیدیوں میں اسی وقت سے آتش عِنادبھڑک اٹھی اور بضرورت ان حضرات کو اسی شب مدینہ سے مکہ مکرمہ منتقل ہوناپڑا۔ یہ واقعہ چوتھی شعبان 60ھ ؁ کا ہے۔
    (سوانح کربلا، صفحہ 115-113)
     
  2. Ghulam Rasool

    Ghulam Rasool Super Moderators

    nice sharing janab tahnks u​
     

Share This Page