1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

Ta'if Ka Safar ( طائف کا سفر)

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by MALIK__G, Oct 26, 2015.

  1. MALIK__G

    MALIK__G Senior Member

    طائف کا سفر

    وہ ہادی جو نہ ہوسکتا غَیْرُ اللہ سے خائف چلا اک روز مکے سے نکل کر جانبِ طائف
    دیا پیغام حق طائف میں طائف کے مکینو ں کو دکھائی جنسِ روحانی کمینوں کو خسیسوں کو

    نبیِّ کریم، رء وف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دعوت ِاسلام کے لئے جب طائف گئے تو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے غلام حضرتِ سَیِّدُنا زید بن حارثہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہمراہ تھے۔ طائف میں بڑے بڑے اُمرا اور مالدار رہتے تھے۔ ان میں ’’عَمْرو‘‘ کا خاندان تمام قبائل کا سردار سمجھا جاتا تھا۔ یہ تین بھائی تھے عَبْدیالِیْل،مَسْعُوْد،حَبِیْب۔ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان تینوں کے پاس تشریف لے گئے اور انہیں اِسلام کی دعوت دی۔ ان تینوں نے اِسلام قبول نہیں کیا بلکہ انتہائی بیہودہ اور گستاخانہ جواب دیا۔ ان بدنصیبوں نے اسی پر بس نہیں کیابلکہ طائف کے شریر غنڈوں کو ابھارا کہ یہ لوگ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ برا سلوک کریں۔چنانچہ، شریروں کا یہ گروہ ہر طرف سے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر ٹوٹ پڑا اور یہ شرارتوں کے مجسمے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر پتھر برسانے لگے یہاں تک کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مقدس پاؤں زخموں سے لہولہان ہو گئے اور آپ کے موزے اور نعلین مبارک خون سے بھر گئے۔ جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم زخموں سے بے تاب ہو کر بیٹھ جاتے تو یہ ظالم انتہائی بے دردی کے ساتھ آپ کا بازو پکڑ کر اُٹھاتے اورجب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم چلنے لگتے تو پھر پتھروں کی بارش کرتے ۔طعنہ زنی کرتے،گالیاں دیتے اور تالیاں بجاتے ہوئے ہنستے ۔

    بڑھے اَنبوہ در اَنبوہ پتھرلے کے بیگانے لگے مِینہ پتھروں کا رحمت عالَم پہ برسانے
    وہ اَبرِ لطف جنکے سائے کو گلشن ترستے تھے یہاں طائف میں اس کے جسم پر پتھر برستے تھے
    وہ بازو جو غریبوں کو سہارا دیتے رہتے تھے پیاپے آنے والے پتھروں کی چوٹ سہتے تھے
    وہ سینہ جس کے اندر نورِحق مستور رہتا تھا وہی اب شق ہوا جاتا تھا اس سے خون بہتا تھا
    جگہ دیتے تھے جن کو حاملانِ عرش آنکھوں پر وہ نعلین مبارک ہائے خوں سے بھر گئیں یکسر
    حضور اس جَور سے جب چُور ہو کر بیٹھ جاتے تھے شقی آتے تھے بازو تھام کر اوپر اٹھاتے تھے

    حضرتِ سَیِّدُنا زید بن حارثہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ دوڑ دوڑ کر حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر آنے والے پتھروں کو اپنے بدن پر لیتے اور حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بچاتے تھے یہاں تک کہ وہ بھی خون میں نہا گئے ۔
    (شرح المواہب، ۲/۵۰ ، ۵۱)
    آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم زخموں سے نڈھال ہوکر انگور کے ایک باغ میں داخل ہوئے ۔ یہ باغ مکۂ مکرمہ کے ایک مشہور کافر عُتْبَہ بِنْ رَبِیْعَہ کا تھا۔ جب عُتْبَہ بِنْ رَبِیْعَہ اور اس کے بھائی شَیْبَہ بِنْ رَبِیْعَہ نے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی یہ حالت دیکھی تو کافر ہونے کے باوجود انہوں نے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اپنے باغ میں ٹھہرالیا اور اپنے نصرانی غلام عَدَّاس کے ہاتھ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں انگور کا ایک خوشہ بھیجا۔ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بِسْمِ اﷲ پڑھ کر خوشہ کو ہاتھ لگایاتو عَدَّاس تعجب سے کہنے لگا : یہاں کے لوگ تو یہ کلمہ نہیں بولا کرتے! یہ سن کر حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس سے دریافت فرمایا: تمہارا وطن کہاں ہے؟ کہا :میں ’’شہر نِیْنَوَی‘‘ کا رہنے والا ہوں۔فر مایا: وہ حضرتِ یُوْنُس بِنْ مَتَی عَلَیْہِ السَّلَام کا شہر ہے۔ وہ بھی میری طرح خدا عَزَّوَجَلَّ کے رسول تھے ۔ یہ سن کر عَدَّاس آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہاتھ پاؤں چومنے لگا اور فوراً ہی کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گیا۔
    (شرح المواہب، ۲/۵۴،۵۶ )
    اس سفر کے مدتوں بعد ایک مرتبہ اُمُّ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدَتُناعائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے نبیِّ کریم، رء وف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے دریافت کیا: یَا رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیا جنگ اُحُد کے دن سے بھی زیادہ سخت کوئی دن آپ پر گزرا ہے؟ فرمایا : ہاں !اے عائشہ !(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا) وہ دن میرے لئے جنگ اُحُد کے دن سے بھی زیادہ سخت تھا جب میں نے طائف میں وہاں کے ایک سردار’’عَبْد یَالِیْل‘‘ کو اسلام کی دعوت دی۔ اس نے دعوت اسلام کو حقارت کے ساتھ ٹھکرا دیا اور اہل طا ئف نے مجھ پر پتھربرسائے ۔ میں اس رنج و غم میں سرجھکائے چلتا رہایہاں تک کہ مقام ’’قَرْنُ الثَّعَالِب‘‘ میں پہنچ کر مجھے کچھ آرام ملا وہاں جب میں نے سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بادَل مجھ پر سایہ کئے ہوئے ہے اس بادل میں سے جبریل (عَلَیْہِ السَّلَام) نے مجھ سے کہا: اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کی قوم کی باتوں سے باخبر ہے اور اب آپ کی خدمت میں مَلَکُ الْجِبَال( پہاڑوں پر مؤکل فرشتہ) حاضر ہے ۔ وہ آپ کے حکم کی تعمیل کرے گا ۔چنانچہ، مَلَکُ الْجِبَال نے سلام کیا اور عرض کی : اے محمد(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)!اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کی قوم کی باتیں سن لیں ہیں اب مجھے آپ کی خدمت میں بھیجا گیا ہے آپ جو چاہیں حکم فرمائیں میں آپ کا حکم بجا لاؤں گا ،اگر آپ حکم دیں تو میں ان دو پہاڑوں کو ان پر اُلٹ دوں تاکہ کچل جائیں اور ہلاک وبرباد ہوجائیں ؟ رحمت عالَم، شافِعِ اُمَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا: میں امید کرتا ہوں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کی نسلوں سے اپنے ایسے بندوں کو پیدا فرمائے گا جو صرف اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ہی عبادت کریں گے اور شرک نہیں کریں گے۔
    (شرح المواہب، ۲/ ۵۱)

    اگر یہ لوگ آج اسلام پر ایمان نہیں لاتے خدائے پاک کے دامان وحدت میں نہیں آتے
    مگر نسلیں ضرور ان کی اسے پہچان جائیں گی درِ توحید پر اک روز آکر سر جھکائیں گے

    ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دو جہاں کے لئے رحمت بن کر تشریف لائے۔ کفارِ نا ہِنجار آپ کو بہت ستاتے کبھی سَرِ اَقدس پر کُوڑا کَرکَٹ ڈال دیا جاتا ، راستے میں کانٹے بجھائے جاتے ،سجدے کی حالت میں پُشْتِ مبارک پر اونٹ کی اوجھڑی ڈال دی جاتی علاوہ اَزیں کفارِ بد اَطْوار آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شانِ عظمت نشان میں گستاخانہ جملے بکتے پھَبْتِیاں کَستے مَعَاذَ اللہ آپ کو کاہن وجادو گر کہتے۔ مگرآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم صبر سے کام لیتے کوئی جوابی کاروائی نہ کرتے وَرنہ اگر چاہتے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دشمنوں کا نام نشان تک مٹ جاتا لیکن آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں دعائیں دیں۔

    پیمبرد عوتِ اسلام دینے کو نکلتا تھا نویدِ راحت وآرام دینے کو نکلتا تھا
    نکلتے تھے قریش اس راہ میں کانٹے بچھانے کو وجودِ پاک پرسو سو طرح کے ظلم ڈھانے کو
    خدا کی بات سن کر مُضحِکَے میں ٹال دیتے تھے نبی کے جسمِ اَقدس پر نجاست ڈال دیتے تھے
    تَمَسْخُرْ کرتا تھاکوئی ،کوئی پتھراُٹھاتاتھا کوئی توحید پر ہنستاتھا کوئی منہ چِڑاتا تھا
    قریشی مرد اُٹھ کرراہ میں آواز کَستے تھے یہ ناپاکی کے چھَرَّے چار جانب سے برستے تھے
    کلامِ حق کوسن کر کوئی کہتا تھا شاعر ہے کوئی کہتا تھا کاہن ہے کوئی کہتا تھاساحِر ہے
    مگر وہ مَنْبعِ حِلم وحیا خاموش رہتا تھا دعائے خیر کرتا تھا جفا و ظلم سَہتا تھا

    اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں بھی اپنے پیارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صدقے دینِ اسلام کی راہ میں آنے والی مصیبتوں پر صبرکرنے کی توفیق عطا فرمائے
    اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
     
  2. *Ameer*

    *Ameer* Senior Member

    جزاک اللہ خیرا
    سلسلہ جاری وساری رکھیں ​
     

Share This Page