1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

اے روشنیوں کے شہر​

Discussion in 'Poetry' started by *Shan Jee*, Oct 27, 2015.

  1. *Shan Jee*

    *Shan Jee* Designer

    سبزہ سبزہ سوکھ رہی ہے پھیکی زرد دوپہر​
    دیواروں کو چاٹ رہا ہے تنہائی کا زہر​
    دور افق تک گھٹتی،بڑھتی ،اٹھتی،گرتی رہتی ہے​
    کہر کی صورت بے رونق دردوں کی گدلی لہر​
    بستا ہے اِس کُہر کے پیچھے روشنیوں کا شہر​
    اے روشنیوں کے شہر​
    اے روشنیوں کے شہر​
    کون کہے کس سمت ہے تیری روشنیوں کی راہ​
    ہر جانب بے نورکھڑی ہے ہجر کی شہر پناہ​
    تھک کر ہر سُو بیٹھ رہی ہے شوق کی ماند سپاہ​
    آج مرا دل فکر میں ہے​
    اے روشنیوں کے شہر​
    شبخوں سے منہ پھیر نہ جائے ارمانوں کی رو​
    خیر ہو تیری لیلاؤں کی ،ان سب سے کہہ دو​
    آج کی شب جب دیئے جلائیں اونچی رکھیں لو​
     

Share This Page