1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

بساطِ رقص پہ صد شرق و غرب سے سرِ شام​

Discussion in 'Poetry' started by *Shan Jee*, Oct 27, 2015.

  1. *Shan Jee*

    *Shan Jee* Designer

    بساطِ رقص پہ صد شرق و غرب سے سرِ شام​
    دمک رہا ہے تری دوستی کا ماہِ تمام​
    چھلک رہی ہے ترے حُسنِ مہرباں کی شراب​
    بھرا ہوا ہے لبالب ہر اِک نگاہ کا جام​
    گلے میں تنگ ترے حرفِ لطف کی راہیں​
    پسِ خیال کہیں ساعتِ سفر کا پیام​
    ابھی سے یاد میں ڈھلنے لگی ہے صُحبتِ شب​
    ہر ایک روئے حسیں ہوچلا ہے بیش حسیں​
    ملے جو کچھ ایسے ، جُدا یوں ہوئے کہ فیض اب کے​
    جو دل پہ نقش بنے گا وہ گُل ہے ، داغ نہیں
     

Share This Page