1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

شام ​

Discussion in 'Poetry' started by *Shan Jee*, Oct 27, 2015.

  1. *Shan Jee*

    *Shan Jee* Designer



    اس طرح ہے کہ ہر اِک پیڑ کوئی مندر ہے​
    کوئی اُجڑا ہوا ، بے نُور پُرانا مندر​
    ڈھونڈتا ہے جو خرابی کے بہانے کب سے​
    چاک ہر بام ، ہر اک در کا دمِ آخر ہے

    آسماں کوئی پروہت ہے جو ہر بام تلے​
    جسم پر راکھ ملے ، ماتھے پہ سیندور ملے​
    سرنگوں بیٹھا ہے چپ چاپ نہ جانے کب سے​
    اس طرح ہے کہ پسِ پردہ کوئی ساحر ہے​
    جس نے آفاق پہ پھیلایا ہے یوں سحر کا دام​
    دامنِ وقت سے پیوست ہے یوں دامنِ شام​
    اب کبھی شام بُجھے گی نہ اندھیرا ہوگا​
    اب کبھی رات ڈھلے گی نہ سویرا ہوگا​

    آسماں آس لئے ہے کہ یہ جادو ٹُوٹے​
    چُپ کی زنجیر کٹے ، وقت کا دامن چُھوٹے​
    دے کوئی سنکھ دہائی ، کوئی پایل بولے​
    کوئی بُت جاگے ، کوئی سانولی گھونگھٹ کھولے​
     

Share This Page