1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

جمے گی کیسے بساطِ یاراں کہ شیشہ و جام بُجھ گ&#

Discussion in 'Poetry' started by *Shan Jee*, Oct 27, 2015.

  1. *Shan Jee*

    *Shan Jee* Designer

    جمے گی کیسے بساطِ یاراں کہ شیشہ و جام بُجھ گئے ہیں

    سجے گی کیسے شبِ نگاراں کہ دل سر شام بُجھ گئے ہیں​
    وہ تیرگی ہے رہِ بُتاں میں چراغِ رُخ ہے نہ شمعِ وعدہ​
    کرن کوئی آرزو کی لاؤ کہ سب در و بام بُجھ گئے ہیں​
    بہت سنبھالا وفا کا پیماں مگر وہ برسی ہے اب کے برکھا​
    ہر ایک اقرار مٹ گیا ہے تمام پیغام بُجھ گئے ہیں​
    قریب آ اے مہِ شبِ غم ، نظر پہ کُھلتا نہیں کچھ اس دم​
    کہ دل پہ کس کس کا نقش باقی ہے ، کون سے نام بُجھ گئے ہیں​
    بہار اب آکے کیا کرے گی کہ جن سے تھا جشنِ رنگ و نغمہ​
    وہ گل سرِ شاخ جل گئے ہیں ، وہ دل تہِ دام بُجھ گئے ہیں​
     

Share This Page