1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

بے دم ہوئے بیمار دوا کیوں نہیں دیتے​

Discussion in 'Poetry' started by *Shan Jee*, Oct 27, 2015.

  1. *Shan Jee*

    *Shan Jee* Designer

    بے دم ہوئے بیمار دوا کیوں نہیں دیتے​
    تم اچھے مسیحا ہو شِفا کیوں نہیں دیتے​
    دردِ شبِ ہجراں کی جزا کیوں نہیں دیتے​
    خونِ دلِ وحشی کا صِلا کیوں نہیں دیتے​
    مِٹ جائے گی مُخلوق تو انصاف کرو گے​
    منصف ہو تو اب حشر اُٹھا کیوں نہیں دیتے​
    ہاں نکتہ ورو لاؤ لب و دل کی گواہی​
    ہاں نغمہ گرو ساز صدا کیوں نہیں دیتے​
    پیمانِ جُنوں ہاتھوں کو شرمائے گا کب تک​
    دل والو! گریباں کا پتا کیوں نہیں دیتے​
    بربادیِ دل جبر نہیں فیض کسی کا​
    وہ دشمنِ جاں ہے تو بُھلا کیوں نہیں دیتے​
     

Share This Page