1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice
  3. Dismiss Notice

شورشِ زنجیر بسم اللہ


آئی ٹی استاد کی ںئی ایپ ڈاونلوڈ کریں اور آئی ٹی استاد ٹیلی نار اور ذونگ نیٹ ورک پر فری استمال کریں

itustad

Discussion in 'Poetry' started by *Shan Jee*, Oct 27, 2015.

Poetry"/>Oct 27, 2015"/>

Share This Page

  1. *Shan Jee*
    Offline

    *Shan Jee* Designer
    • 38/49

    ​ہُوئی پھر امتحانِ عشق کی تدبیر بسم اللہ​
    ہر اک جانب مچا کہرامِ دار و گیر بسم اللہ​
    گلی کوچوں میں بکھری شورشِ زنجیر بسم اللہ​
    درِ زنداں پہ بُلوائے گئے پھر سے جُنوں والے​
    دریدہ دامنوں والے ،پریشاں گیسوؤں والے​
    جہاں میں دردِ دل کی پھر ہوئی توقیر بسم اللہ​
    ہوئی پھر امتحانِ عشق کی تدبیر بِسم اللہ​
    گنو سب داغ دل کے ، حسرتیں شوقیں نگاہوں کی​
    سرِ دربار پُرسش ہورہی ہے پھر گناہوں کی​
    کرو یارو شمارِ نالۂ شب گیر بسم اللہ​
    ستم کی داستاں ، کُشتہ دلوں کا ماجرا کہیے​
    جو زیر لب نہ کہتے تھے وہ سب کچھ برملا کہیے​
    مُصرِ ہے محتسب رازِ شہیدانِ وفا کہیے​
    لگی ہے حرفِ نا گُفتہ پر اب تعزیر بِسم اللہ​
    سرِ مقتل چلو بے زحمتِ تقصیر بِسم اللہ​
    ہُوئی پھر امتحانِ عشق کی تدبیر بِسم اللہ​
     

Share This Page