1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

بے عمل واعظ و خطیب کے بارے میں وعید

Discussion in 'Hadess Mubarak' started by *Shan Jee*, Oct 27, 2015.

  1. *Shan Jee*

    *Shan Jee* Designer

    حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ معراج کی رات میں میرا گزر کچھ ایسے لوگوں پر ہو جن کی زبانیں آگ کی قینچیوں سے کاٹی جا رہی تھیں، میں نے یہ دیکھ کر پوچھا کہ جبرائیل علیہ السلام یہ کون لوگ ہیں۔ جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ یہ آپ کی امت کے واعظ و خطیب ہیں جو ایسی باتیں کہتے ہیں جن پر خود عمل نہیں کرتے۔ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ترمذی

    تشریح

    اس حدیث میں ان واعظوں اور خطیبوں کے لیے سخت تنبیہ وعید ہے جو دوسروں کو نیک کام کرنے کو کہتے ہیں لیکن خود نیک کام نہیں کرتے تاہم واضح رہے کہ یہ حدیث ان واعظوں اور خطیبوں کی بے عملی کی مذمت کو ظاہر کرتی ہے نہ کہ اس ارشاد کا مقصد اس بات کی برائی کو بیان کرنا ہے کہ وہ نیک کام کے لیے کیوں کہتے ہیں اگرچہ وہ خود نیک کام نہیں کرتے اسی بنیاد پر علماء لکھتے ہیں کہ امر بالمعروف میں فعل شرط نہیں ہے یعنی یہ ضروری نہیں ہے کہ نیک کام کے لیے وہی شخص کہہ سکتا ہے جو خود بھی اس پر عمل کرے البتہ یہ بہتر ہے کہ امر بالمعروف کرنے والا اپنے کہے پر خود بھی عمل کرے ، کیوں کہ جس امر بالمعروف کی بنیا د محض قول پر ہوتی ہے عمل پر نہیں ہوتی اس کا اثر نہیں ہوتا۔
     
  2. sahil_jaan

    sahil_jaan Guest

    جزاک اللہ برادر
    بہت شکریہ ہمارے ساتھ شئیر کرنے کے لیے
     
  3. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

    :salam1:‎
    [​IMG]
    [​IMG]
    [​IMG]
    [​IMG]
    ‎ماشا اللہ بہت عمدہ اشتراک کیا ہے۔ ‏آپکی اور عمدہ تھریڈ کا انتطار رہے گا۔شکریہ‎
     

Share This Page