1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice

دو صحابی کی قبریں

Discussion in 'History aur Waqiat' started by INNOCENT BOY, May 10, 2013.

Share This Page

  1. INNOCENT BOY
    Offline

    INNOCENT BOY Champ
    • 16/16


    دو صحابی کی قبریں

    عراق کا بادشاہ ملک فیصل (اول) گہری نیند میں تھا۔ اس نے خواب میں دیکھا کہ کوئی اس سے کہہ رہا تھا۔ ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو صحابی دریائے دجلہ کے کنارے دفن ہیں۔ دریا کا رخ تبدیل ہورہا ہے۔ پانی ہماری طرف بڑھ رہا ہے۔ حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر مبارک میں پانی آچکا ہے جبکہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر بھی نم ہونے لگی ہے ہمیں یہاں سے نکال کر دریا کے کنارے سے کچھ فاصلے پر دفن کیا جائے۔“

    عراق کے بادشاہ نے یہ الفاظ خواب میں سنے لیکن ان کی طرف کوئی توجہ نہ دی۔ دوسری رات پھر یہی الفاظ سنائی دئیے لیکن اس نے اب بھی توجہ نہ دی۔

    تیسری رات یہ خواب عراق کے مفتی اعظم ”نوری السعید پاشا‘ ‘ کو دکھائی دیا۔ انہوں نے اسی وقت وزیراعظم کو ساتھ لیا اور بادشاہ کی خدمت میں پہنچ گئے جب انہوں نے بادشاہ سے اپنا خواب بیان کیا تو بادشاہ چونکا اور بولا: ”یہ خواب تو میں بھی دوبار دیکھ چکا ہوں“

    اب انہوں نے مشورہ کیا آخر بادشاہ نے مفتی اعظم سے کہا پہلے آپ قبروں کو کھولنے کا فتویٰ دیں تب میں اس خواب کے مطابق عمل کروں گا۔

    مفتی اعظم نے اسی وقت قبروں کو کھولنے اور اس میں سے نعشوں کو نکال کر دوسری جگہ دفن کرنے کا فتویٰ جاری کردیا اب یہ فتویٰ اور شاہی فرمان اخبارات میں شائع کردئیے گئے اور اعلان کیا گیا کہ عیدقربان کے دن دونوں اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی قبریں کھولی جائیں گی۔

    اخبارات میں جوں ہی یہ خبر شائع ہوئی تو دنیائے اسلام میں بجلی کی طرح پھیل گئی۔ اخبارات کی دنیا اس خبر کو لے اڑی اور مزے کی بات یہ کہ یہ حج کے دن تھے۔ تمام دنیا سے مسلمان حج کیلئے مکہ اور مدینہ میں پہنچے ہوئے تھے۔ انہوں نے درخواست کی کہ قبریں حج کے چند روز بعد کھولی جائیں تاکہ وہ سب بھی اس پروگرام میں شرکت کرسکیں۔ اسی طرح حجاز‘ مصر‘ شام ‘ لبنان‘ فلسطین‘ ترکی‘ ایران‘ بلغاریہ‘ روس‘ ہندوستان وغیرہ ملکوں سے شاہ عراق کے نام سے بے شمار تار پہنچے کہ ہم بھی اس موقع پر شرکت کرنا چاہتے ہیں‘ مہربانی فرما کر مقررہ تاریخ چند روز آگے بڑھا دی جائے۔

    چنانچہ دنیا بھر کے مسلمانوں کی خواہش پر دوسرا فرمان یہ جاری کیا گیا کہ اب یہ کام حج کے دس دن بعد کیا جائے گا۔

    آخر کار وہ دن بھی آگیا جب قبروں کو کھولنا تھا‘ دنیا بھر سے مسلمان وہاں جمع ہوچکے تھے۔ پیر کے دن دوپہر بارہ بجے لاکھوں انسانوں کی موجودگی میں قبروں کو کھولا گیا۔ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر میں کچھ پانی آچکا تھا جبکہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر میں نمی پیدا ہوچکی تھی اگرچہ دریائے دجلہ وہاں سے دو فرلانگ دور تھا۔

    تمام ممالک کے سفیروں‘ عراقی حکومت کے تمام ارکان اور شاہ فیصل کی موجودگی میں پہلے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جسم مبارک کو کرین کے ذریعے زمین سے اس طرح اوپر اٹھایا گیا کہ ان کا جسم کرین پر رکھے گئے سٹریچر پر خودبخود آگئی۔ اب کرین سے سٹریچر کو الگ کرکے شاہ فیصل‘ مفتی اعظم‘ وزیر جمہوریہ ترکی اور شہزادہ فاروق ولی عہد مصر نے سٹریچر کو اپنے کندھوں پر اٹھایا اور نہایت احترام کے ساتھ ایک شیشے کے تابوت میں رکھ دیا۔پھر اسی طرح حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جسم کو نکالا گیا۔ دونوں جسموں کے کفن بالکل محفوظ تھے یہاں تک کہ ڈاڑھی مبارک کے بال بھی صحیح سلامت تھے۔ جسموں کو دیکھ کر قطعاً یہ احساس نہیں ہوتا تھا کہ وہ تیرہ سو سال پہلے کی ہیں بلکہ یوں گماں گزرتا تھا انہیں وفات پائے ابھی مشکل سے دو تین گھنٹے ہوئے ہیں۔ سب سے عجیب بات یہ ہے کہ دونوں کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں۔ ان میں اس قدر تیز چمک تھی کہ دیکھنے والے ان آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ نہ سکے۔بڑے بڑے ڈاکٹر یہ منظر دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ اس منظر کو دیکھ کر بہت سے عیسائی‘ یہودی‘ ہندو وغیرہ مسلمان ہوگئے۔
     
  2. Ali
    Offline

    Ali ITU Lover
    • 38/49

    SubhaAllah

    ..


    Buat umdaa sharing ke ha apne m bhaiiii Sukriaaa
     
  3. Zulfiqar Ali
    Online

    Zulfiqar Ali Guest

    Beautiful Sharing...

    Jazak Allah

     

Share This Page