1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

ملکی حالات کس کیلئے کیسے، کتنے اچھےہیں۔

Discussion in 'Baat Cheet' started by *Shan Jee*, Nov 17, 2015.

  1. *Shan Jee*

    *Shan Jee* Designer

    گاما نائی روزانہ بادشاہ سلامت کی حجامت بنانے کیلئے آتا تو بادشاہ ادھر ادھر کی باتوں کے ساتھ ساتھ گامے سے ملکی حلات بھی پوچھ لیتا۔ گامے کا لگ بھگ روزانہ ایک جیسا جواب ہوتا کہ
    بادشاہ سلامت:آپ کی سلطنت میں ہر طرف امن و امان ہے، لوگ بہت خوش ہیں، دودھ مکھن کی کمی نہیں، مال اسباب بہت زیادہ ہے، لوگ مزے سے جی اور چین سے سو رہے ہیں۔ امن و امان کا کوئی خطرہ نہیں، لوگ آپ کو اور آپ کے ماں باپ کو دعائیں دیتے ہیں۔
    بادشاہ نے اپنے وزیر سے پوچھا؛ تو کہتا ہے ملک ابتری کا شکار ہے، امن و امان مخدوش، رعایا بے چین اور مال و اسباب کا قحط پڑا ہوا ہے، جبکہ گاما مجھے روزانہ کچھ اور قصہ سنا کر جاتا ہے۔
    وزیر نے کہا؛ بادشاہ سلامت، میں آج رات گامے کی اکلوتی اور کل کائنات بھینس کھلوا لیتا ہوں، کل جب جب گاما آئے تو اس سے ملک کے حالات دوبارہ پوچھ لیجیئے گا۔
    رات کو وزیر نے چند لوگ بھیج کر گامے کی بھینس چوری کرالی، مزاحمت کرنے پر گامے کو دو چار تھپڑ بھی لگ گئے۔
    دوسری صبح جب گاما آیا تو بادشاہ نے پھر وہی سوال پوچھا؛ سنا گامے کیا حال ہے میری رعایا کا؟
    گامے نے کہا: بادشاہ سلامت کیا پوچھتے ہو، ملک میں چوروں اور ڈاکوؤں کا راج چھایا ہوا ہے، لوگوں کی عزت آبرو، مال اسباب اور ڈھور ڈنگر تک محفوظ نہیں، چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال ہو رہا ہے، عزت دار لوگوں کی پگڑیاں اچھالی جا رہی ہیں اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ لوگوں کے پاس دودھ مکھن تک نہیں جس سے وہ اپنا گزارہ چلا سکیں۔ بادشاہ سلامت، خواب غفلت سے جاگیئے اور کچھ کیجیئے کہ لوگ آپ کو اور آپ کے ماں باپ کو جھولیاں اٹھا اٹھا کر بد دعائیں دینا شروع ہو گئے ہیں۔
     
  2. Mehtab Ali

    Mehtab Ali Super Moderators

    بہت اچھی شیئر کرنے کا شکریہ
     

Share This Page