1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

بچوں کی خراب لینگوئج! وجوہات و سدباب

Discussion in 'Roman Urdu' started by PariGul, Jan 4, 2016.

  1. PariGul

    PariGul Guest

    جب والدین اپنے چار سےدس برس کے بچوں کے منہ سے گالیاں‘ قسمیں اور معیوب زبان سنتے ہیں تو انہیں اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی بے خیالی یا نظر اندازی نے پانی سر سے اونچا کردیا ہے۔ اس کے سدباب کیلئے سب سے پہلے آپ کو اس خراب زبان کو روکنا ہوگا۔
    بچہ والدین کی پرچھائی ہوتا ہے۔ وہ زندگی کا ہر بنیادی طرز عمل گھر سے سیکھتا ہے، ہمارے مذہب میں بچے کے پیدا ہونے پر اس کے کان میں اذان یعنی اللہ کا نام پکارا جاتا ہے تاکہ بچہ زندگی کا پہلا لفظ سنے تو اپنے تخلیق کرنے والے کو یاد رکھے اس کے کان میں والدین کے جملے، باتیں اور گالم گلوچ بھی پڑتی ہے۔ یہ سب INPUT اور OUT PUTکا معاملہ ہے جو کچھ بچے کے کان میں Input ہوگا اس کے ہونٹوں سے Out put کی صورت سے باہر نکل آئے گا۔ بچہ جو کچھ اپنے بڑوں سے سنتا ہے اس کے ذہن پر نقش ہوجاتا ہے اور پھر موقع محل ہو یا نہ ہو وہ انہی الفاظ کو دہرادیتا ہے۔ خوف انسان کی جبلت میں شامل ہے، بچے کو بری باتوں اور برے کاموں سے روکنے کیلئے اوائل عمر سے اسے ڈرایا جاتا ہے ’’ یہ نہ کرو ورنہ اللہ آجائے گا‘ یا اگر تم یہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ ماریں گے‘‘ اسی طرح بچے سے کوئی سچ اگلوانا ہوتو اسے اللہ کی قسم دلوانا بھی بڑے یا والدین سکھاتے ہیں؟بچہ جوں جوں بڑا ہوتا ہے وہ اللہ کے خوف کو بھولتا جاتا ہے کیونکہ وہ سمجھ جاتا ہے کہ اس کی، کی گئی غلطیوں پر کبھی اللہ نہیں آیا لیکن وہ اللہ کی قسم کو اپنی حفاظت یا بچت کیلئے استعمال کرتا ہے۔ چھوٹی عمر میں بچے کو جھوٹ کے نقصان سمجھانا ایسا ہی ہےجیسا ہمالیہ کی چوٹی سرکرنا‘ لہٰذا کوئی بھی شرارت بچہ کرتا ہے وہ قسم کھاکر اس سے انکار کرتا اور جھوٹ کا سہارا لیتا ہے۔ گھر میں اگر زائد بچے ہوں اور ان کے درمیان عمر کا فرق ہوتو ان کی آپس کی لڑائی اور گالم گلوچ کا طرز عمل ان کے والدین کے برعکس بن کر سامنے آتا ہے اور جب والدین اپنے چار سے دس برس کے بچوں کے منہ سے گالیاں قسمیں اور معیوب زبان سنتے ہیں تو انہیں اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی بے خیالی یا نظر اندازی نے پانی سر سے اونچا کردیا ہے’’ اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت‘‘ کی مصداق اپنے بچوں کو بدگوئی سے بچانا عقدہ لایخل ہوتا ہے اور پھر یہ سو چ کر اس تربیت پر گامزن ہوجاتے ہیں جس میں دیر تو ہوگئی ہے لیکن بہت زیادہ دیر نہیں ہوئی۔ کیا آپ والدین نے اس رخ پرکبھی سوچاہے یا نہیں! تو آج ہی سے اپنے بچوں پر نظر رکھئے اور مشاہدہ
    کیجئے کہ آپ سے کوتاہی کہاں ہوئی۔کیا آپ کے بچے نے یہ بدگوئی آپ سے سیکھی ہے یا‘بچے کی گفتگو جیسا کہ پہلے ذکر ہوا ان کے ماحول اور ارد گرد موجود لوگوں، والدین یا بڑوں کی گفتگو کے برعکس ہوتی ہے بچے اس تناظر میں توجہ حاصل کرنے کیلئے بھی ان جملوں کا استعمال کرتے ہیں جو بڑے اکثر بولتے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ والدین انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں، وہ اپنے بچوں کی تربیت کے معاملے میں بہت فکر مند اور ذمہ دار ہوتے ہیں۔ والدین کی آپس میں نوک جھونک، طعنہ زنی، گالم گلوچ یا غصے کی حالت میںبرا بھلا کہنا بچوں کو نہ صرف سراسیمہ کرتا ہے بلکہ وہ دماغی تنائو کی صورت میں لاشعوری طور پر ان الفاظ کو دہراتے ہیں اور جب وہ کسی بات پر غصہ کرتے ہیں تو ان الفاظ کو دہرا دیتے ہیں۔ اس قسم کے روئیے کو ماہر نفسیات Conduct Disorder کہتے ہیں۔
    خراب رویے اور خراب زبان کا استعمال بچے، والدین یا اساتذہ کے بھرپور کنٹرول کے باوجود بھی کرتے ہیں اور کرسکتے ہیں۔ اس قسم کے کیس میں بچہ گالم گلوچ کے علاوہ دوسری خراب عادتیں بھی سیکھتا ہے۔ ریسرچ بتاتی ہے کہ اس قسم کے بچوں میں نیو کیمیکل کی سطح کم ہوتی ہے جو ان مسائل کو پیدا کرتی ہے۔ ذہنی دبائو اداسی اور عدم تحفظ بچوں کو تنگ مزاج بنادیتا ہے۔ ماہر نفسیات کے مطابق بچے کا یہ رویہ غیر صحت مندانہ ہوتا ہے اور وہ اس رویہ کو کسی صورتحال سے نمٹنے کیلئے استعمال کرتے ہیں جو ان کی شخصیت کو بگاڑنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ وہ اس شخصیت کے اس بگاڑ کو Tic Discorder کہتے ہیں۔ اس کی دو علیحدہ علیحدہ علامتیں ہیں۔ پہلی علامت میں بچہ جسمانی ردعمل کا تیز رفتاری سے مظاہرہ کرتا ہے یعنی ٹکر مارنا‘ تھپڑ مارنا وغیرہ اور دوسرا Vocaltics ہے جس میں بچہ ان باتوں کو بار بار دہراتا ہے جس کا مطلب اسے معلوم بھی نہیں ہوتا۔ وہ والدین جن میں ماہرنفسیات یا مشورہ سازوں کو بھاری بھر کم معاوضے دینے کی سکت نہیں ہوتی‘ ان کیلئے کچھ ہدایات ہیں لیکن پہلے بچوں میں بُری عادات پر نظر دوڑائیے آپ کو میڈیا کے بُرے اثرات کا بچے کے ذہن پر پڑنے کا بخوبی ادراک ہونا چاہیے۔ بچوں میں بڑوں کا یا اپنے پسندیدہ ہیروز کی نقل کرنے کا رحجان ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اپنے پسندیدہ کارٹون کرداروں کی نقل کرنا بھی پسند کرتے ہیں۔بچے گفتگو کا بہت سا حصہ اپنی آیائوں، سکول بس ڈرائیور گھر میں کام کاج کرنے والی نوکرانیوں یا ماسیوں سے سیکھتے ہیں اور اس طرح اپنے بڑوں یا پڑوسیوں سے بھی خراب الفاظ سیکھتے ہیں۔ بہت سے تہذیب یافتہ والدین بھی منہ پھٹ ہوتے ہیں، وہ نوکروں یا ڈرائیوروں کو گالم گلوچ سے نوازتے ہیں۔ جس سے بچے بھی ان الفاظ کا استعمال سیکھتے ہیں۔ اس کے سدباب کیلئے سب سے پہلے آپ کو اس خراب زبان کو روکنا ہوگا جو آپ دوسرے لوگوں کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔ یعنی ڈرائیور، نوکروں یا اپنے پڑوسیوں سے بھی۔ سب سے پہلے تو ان الفاظ کے معنی بچوں کو سمجھائیے انہیں بتائیے کہ یہ بہت غلط الفاظ ہیں، آئندہ اگر انہوںنے یہ الفاظ کہے تو ان کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ بچے کو محسوس کروائیے کہ غصہ کرنا چاہیے لیکن غصے کی حالت میں گالی یا دوسرے کو برے الفاظ یا القاب سے پکارنا نہیں چاہیے اس تناظر میں بچوں کو غصے کی حالت میں خود بھی عمل کرکے دکھانا چاہیے۔ اسے بتائیے کہ اس حالت میں بھی اچھی طرح صورتحال کو کیسے قابو کیا جاسکتا ہے، اسے یہ بھی بتائیے کہ بری باتوں اور برے الفاظ سے دوسروں کو دل ٹوٹتا ہے۔ اچھے اور پیار بھرے الفاظ خود بھی استعمال کیجئے، بچوں کا بھی سکھائیے بچے اگر کوئی خراب لفظ غصے کی حالت میں بول رہے ہیں تو آپ ٹھنڈے مزاج سے اسے روکئے اور سمجھائیے اسے پہلے پانی کا گلاس دیجئے اور سکون سے بٹھائیے اس سے اسے غصہ کنٹرول کرنے میں بھی مدد ملے گی اور پھر آہستہ آہستہ اس کے الفاظ پر اسے سرزنش کیجئے۔ ٹی وی پروگرام میں اگر کوئی بری بات یا خراب لینگوئج ہے تو فوراً اس پر سخت ردعمل کیجئے۔ بچے کو بتائیے کہ ٹی وی پر کہے گئے الفاظ غلط ہیں اور جو کردار ایسے الفاظ استعمال کررہے ہیں وہ انتہائی برے ہیں اور ان کی تقلید نہیں کرنی چاہیے۔ اس معاملے کو سکول انتظامیہ سے بھی ڈسکس کیجئے خاص طور پر وہاں جہاں بچے کی معاشرت متاثر ہے۔ بچے کی ٹیچر کو بچے کے متعلق بتائیے تاکہ وہ بچے اور دوسرے عوامل پر نظر رکھ سکے۔ بچے کو اچھی کتابیں پڑھنے کو دیجئے، نصیحت آموز کہانیاں اور قصے، بچوں کو بہت ساری اچھی باتیں سکھانے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔ بچوں کو اچھے رول ماڈل دیجئے وہ ان کی تقلید میں خود بھی اچھے رول ماڈل بننے کی کوشش کریں گے۔
     
  2. M.usama.g

    M.usama.g Regular Member

    Bohot umda maloomat share ki hen
    shukriya..
     
  3. Akram Naaz

    Akram Naaz BuL..BuL Staff Member

    جزاک اللہ
    بہت پیاری شیئرنگ
     
  4. UmerAmer

    UmerAmer VIP Member

    جزاک اللہ خیرا​
     

Share This Page