1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

خواتین اب یخ بستگی اور ٹھٹھرنے سے بچ سکتی ہ&am

Discussion in 'Health & Diet' started by PariGul, Jan 4, 2016.

  1. PariGul

    PariGul Guest

    تھوڑی سی ورزش بھی آپ کے جسم کو گرما سکتی ہے۔ ہلکے سوتی موزے گرم جرابوں کے نیچے پہنیں تاکہ پائوں گرم رہیں۔ ایک بھاری موٹے سویٹر سے بہتر دو ہلکے سویٹر ہیں یہ آپ کو سردی سے بچائیں گے۔ آپ موسمی سبزیوں اور پھلوں سے بھی سردی کا مقابلہ کرسکتی ہیں۔
    ماہ دسمبرموسم سرما کے عنفوان شباب کا زمانہ ہوتا ہے۔ گرم مشروبات اور گرم غذاؤں کا زور بڑھ جاتا ہے۔ نحیف سے نحیف معدہ بھی شدت اشتہا کا اشتہار بن جاتا ہے اور جسمانی نظام قوت پذیری کی طرف مائل ہونے لگتا ہے۔
    اس مہینے میں جہاں ایک اوسط درجہ کی صحت رکھنے والا آدمی زندگی کے تمام تر مادی تقاضوں میں ایک غیرمعمولی انقلاب محسوس کرتا ہے وہاں اس کی صحت کا معیار بھی روبہ تغیر ہونے لگتاہے۔ ہر ذی روح اپنے اپنے طور پر خدشات اور احتیاطوں کے مختلف النوع سانچوں میں ڈھلنے لگتا ہے۔ کیونکہ اس ماہ کی خنک تابی اور انجمادی کیفیت کسی وقت بھی کسی بھی ذی روح کو اپنی گرفت میں لینے پرکمربستہ رہتی ہے۔ یخ بستگی اور ٹھٹھراؤ کا دہانہ کسی وقت بھی کھل سکتا ہے اور موسمی تقاضوں کے مطابق نہ چلنے والے افراد اچانک اور غیرمتوقع طور پر سردی کی لپیٹ میں آکر زکام‘ سردرد‘ اعصابی ٹھٹھراؤ‘ پسلیوں کے سکیڑپن‘ سرسام دماغی‘ نخاع دماغی کے جمود‘ نمونیہ ایسے عوارض میں مبتلا ہوجایا کرتے ہیں۔
    امراء وصاحب حیثیت افراد تو موسم سرما کے اس شدید زمانے میں حسب ضرورت گرم ملبوسات‘ حفاظتی تدابیر اور انڈہ‘ مچھلی‘ مرغ اور میوہ جات پر مشتمل اعلیٰ غذاؤں سے اپنے نظام صحت کے گرد مناسب حفاظتی حصار استوار کئے رہتے ہیں لیکن غریب اور مزدور پیشہ افراد اپنی اقتصادی و معاشی ناہمواریوں کے تحت شدید سردی کے ان ایام میں موسم کے برفیلے تھپیڑے سہنے پرمجبور ہوتے ہیں۔ ناکافی لباس اور مطلوبہ لوازم میسر نہ آسکنے کی وجہ سے ایسے افراد موسمی شدائد میں گھرے رہتے ہیں اور سوائے مصنوعی طور پر پیدا کردہ جسمانی قوت مدافعت‘ محنت و مشقت کے کام اور گلابی دھوپ سینکنے اور رات کو کمبل یا لحاف میں منہ لپیٹ کر سو رہنے کے ان کو اور کوئی اطمینان بخش لازمہ حیات اور ذریعہ سکون نہیں ہوتا ہے۔ خاص کر اس موسم کا سب سے زیادہ جو شکار ہوتی ہیں وہ گھریلو خواتین ہیں اور آج میں گھریلو خواتین کیلئے کچھ ٹوٹکے لائی ہوں جنہیں آزما کر وہ اس شدید ٹھنڈ کا مقابلہ بڑی آسانی سے کرسکتی ہیں۔ گرم دودھ کے کپ میں ایک چمچ شہد‘ مونگ کی گرم پتلی دال کا سوپ‘ چنوںکا شوربہ‘ ہڈیوں کی یخنی‘ آپ کو سردی سے محفوظ رکھے گی۔ تھوڑی سی ورزش بھی آپ کے جسم کو گرما سکتی ہے۔ ہلکے سوتی موزے گرم جرابوں کے نیچے پہنیں تاکہ پائوں گرم رہیں۔ ایک بھاری موٹے سویٹر سے بہتر دو ہلکے سویٹر ہیں یہ آپ کو سردی سے بچائیں گے۔ آپ موسمی سبزیوں اور پھلوں سے بھی سردی کا مقابلہ کرسکتی ہیں۔ آج کل چقندر‘ پالک‘ ساگ‘ شلجم سستے داموں دستیاب ہیں۔ بڑے گوشت کے ساتھ ہڈیاں ہوتی ہیں آپ ان ہڈیوں کا سوپ بنا سکتی ہیں جو سستے داموں پورے گھر کی ضرورت پوری کرسکتا ہے آپ ایسی چند چیزیں بناکر خود بھی استعمال کریں اور دوسری خواتین کو بھی بتائیے۔ ہڈیوں کا سوپ ہڈیاں 250 گرام‘ پیاز درمیانہ ایک عدد‘ لہسن درمیانہ چھیل کر ڈالیں‘ نمک حسب ذائقہ‘ گرم مصالحہ ثابت ایک چاول والا چمچ‘ ادرک ایک چھوٹا ٹکڑا‘ دھنیا پسا ہوا آدھا چائے کا چمچ ترکیب: ہڈیاں دھو کر اس میں خاصا پانی ڈالیں‘ تیار ہوکر وہ ہڈیوں سے ایک انچ اوپر رہے (اتنا اندازہ کرلیں) پیاز کے چار ٹکڑے کریں اور سب چیزیں چڑھا دیں۔ سوپ پریشر ککر میں اچھا بنتا ہے۔ دیگچی میں بنانا ہو تو اسے دو تین گھنٹے ہلکی آنچ پر پکائیں۔ پانی کم ہوجائے تو اور ڈال لیں۔ اسے گرم گرم پئیں تاکہ آپ کے جسم میں توانائی آئے اور سردی سے محفوظ رہیں۔ ہری سبزی کا سوپ: پالک کاٹا ہوا ایک گٹھی‘ آلو درمیانہ ایک عدد‘ مٹر پوناکپ‘ ہری پیاز ایک عدد‘ ہرا لہسن ایک ایک عدد‘ ہڈیاں 250 گرام‘ ثابت گرم مصالحہ ایک بڑا چمچ‘ نمک حسب ذائقہ‘ ادرک ایک چھوٹا ٹکڑا۔ ترکیب: ہری پیاز‘ ہرا لہسن چھیل کر موٹا موٹا کاٹ لیں۔ آلو کے چار ٹکڑے کرلیں۔ پالک ڈنٹھل کے ساتھ کاٹیں۔ سب چیزوں کو ملا کر پکائیں۔ جب تیار ہوجائیں تو چھلنی میں چھان لیں۔ آپ اس میں ڈبل روٹی کے توس سینک کر ڈال سکتی ہیں اسے سوپ کی طرح سادہ بھی استعمال کرسکتی ہیں۔ بچوں کیلئے اس میں آدھا کپ نوڈلز ابال کر پلاسکتی ہیں۔ گاجر کا سوپ: ایک عدد بڑا چقندر لے کر پتوں اور ڈنٹھل کے قریب حصے سمیت چوکور ٹکڑے کاٹ لیں‘ ایک بڑی گاجر کے لمبے ٹکڑے کرلیں‘ پیاز ایک عدد‘ لہسن ایک عدد‘ ادرک ایک چھوٹا ٹکڑا‘ گوشت لگی ہوئی ہڈیاں 200گرام‘ بند گوبھی 2پتے‘ نمک حسب ذائقہ‘ گرم مصالحہ پسا ہوا پونا چائے کا چمچ۔ ترکیب: چقندر‘ گاجر‘ بندگوبھی‘ لہسن‘ پیاز‘ ادرک‘ ہڈیاں ڈال کر ہلکی آنچ پر پکائیں۔ تیار ہوجائے تو چھان لیں۔ گرم مصالحہ چھڑک کر سوپ استعمال کریں۔ یہ سوپ بڑا مقوی اور صحت بخش ہوتا ہے۔ پیشاب کھل کر آتا ہے جسم سے زہریلے مادے خارج ہوجاتے ہیں۔ چقندر کے پتوں میں غذائی اجزا زیادہ ہوتے ہیں۔ پالک سے زیادہ فولاد اور دیگر غذائی اجزاءچقندر کے اوپری حصہ میں پائے جاتے ہیں۔ جن لوگوں کو پتھری کی شکایت ہو انہیں زیادہ مقدار میں چقندر یا اس کے پتے نہیں کھانے چاہئیں اس میں اوگزیلک ایسڈ زیادہ ہوتا ہے۔ سردیوں کے موسم میں چقندر ضرور پکانے چاہئیں۔ چقندر خون کی کمی کو دور کرتا ہے۔ تازہ خون بناتا ہے۔ قبض کو دور کرتا ہے۔ جن خواتین کے چہرے پر کیل مہاسے بہت نکلتے ہوں ان کیلئے مفید ہے۔ گومڑیاں‘ رسولیاں بھی اس سے دور ہوتی ہیں۔ یہاں تک کہ لیوکیمیا جیسے موذی مرض میں کچے چقندر کدوکش کرکے کھانا مفید ثابت ہوتا ہے۔ ڈاکٹر سے پوچھ کر استعمال کریں۔ جن خواتین کو کی شکایت ہو ان کو چقندر کھانے چاہئیں۔ سردیوں میں پائوں کی انگلیاں سوج جاتی ہیں۔ اس کیلئے آپ دو شلجم مع چھلکوں کے کاٹ لیں اور پانی میں خوب ابالیں۔ کسی تسلے یا ٹب میں یہ گرم پانی ڈالیں اس میں تھوڑا سا سادہ پانی ملائیں۔ پونا چمچ نمک ڈالیں اور دس منٹ کیلئے اس پانی میں پائوں ڈال کر بیٹھ جائیں۔ تین چار روز شلجم کے پانی میں پائوں بھگونے سے سوجے ہوئے پائوں ٹھیک ہوجاتے ہیں۔ ایڑیاں پھٹ جائیں تب بھی شلجم کے پانی میں پائوں ڈالیں۔)
    پائوں میں کالے نشان پڑجائیں تو جھانوے سے صاف کرکے شلجم کے ابلے قتلے پائوں پر ملیں۔ شلجم کے پانی میں پائوں بھگوئیں پندرہ منٹ بعد پائوں دھو کر پٹرولیم جیلی یا زیتون کا تیل ملیں۔ پائوں میں چیر یا شگاف گہرے ہوں تو پائوں بھگو کر صاف کرکے ایک چمچ موم بتی کا موم یا سادہ موم 3 چمچ زیتون یا سرسوں کے تیل میں گرم کریں۔ موم پگھل کر تیل میں مل جائے تو ہلکا گرم گرم پائوں کے چیر میں انگلی سے بھردیں۔ سوتی موزے پہنیں۔ دوچار دن ایسا کرنے سے پائوں کے چیر صحیح ہوجائیں گے۔
     
  2. UmerAmer

    UmerAmer VIP Member

    اچھی شئیرنگ کی ہے
    شئیر کرنے کے لئے شکریہ​
     
  3. Akram Naaz

    Akram Naaz BuL..BuL Staff Member

    بہت پیاری شیئرنگ کی ھے
    شکریہ
     
  4. danialraza

    danialraza Newbi

    Women should follow these tips to avoid coldness. You are doing a great job by sharing these useful tips and helping others. Nice Post.
     

Share This Page