1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے

Discussion in 'Library' started by Adeel Ch, Feb 1, 2016.

  1. Adeel Ch

    Adeel Ch Newbi

    ایک شخص نے بہتر گھر خریدنے کیلئے اپنا پہلے والا گھر بیچنا چاہا.. اس مقصد کیلئے وہ اپنے ایک ایسے دوست کے پاس گیا جو جائیداد کی خرید و فروخت میں اچھی شہرت رکھتا تھا..
    اس شخص نے اپنے دوست کو مُدعا سنانے کے بعد کہا کہ وہ اس کے لئے گھر برائے فروخت کا ایک اشتہار لکھ دے..
    اس کا دوست اِس گھر کو بہت ہی اچھی طرح سے جانتا تھا.. اشتہار کی تحریر میں اُس نے گھر کے محل وقوع ' رقبے ' ڈیزائن ' تعمیراتی مواد ' باغیچے ' سوئمنگ پول سمیت ہر خوبی کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا..
    اعلان مکمل ہونے پر اُس نے اپنے دوست کو یہ اشتہار پڑھ کر سُنایا تاکہ تحریر پر اُسکی رائے لے سکے.. اشتہار کی تحریر سُن کر اُس شخص نے کہا.. " برائے مہربانی اس اشتہار کو ذرا دوبارہ پڑھنا.. "
    اُس کے دوست نے اشتہار دوبارہ پڑھ کر سُنا دیا.. اشتہار کی تحریر کو دوبارہ سُن کر یہ شخص تقریباً چیخ ہی پڑا.. " کیا میں ایسے شاندار گھر میں رہتا ہوں..؟ اور میں ساری زندگی ایک ایسے گھر کے خواب دیکھتا رہا جس میں کچھ ایسی ہی خوبیاں ہوں مگر یہ کبھی خیال ہی نہیں آیا کہ میں تو رہ ہی ایسے گھر میں رہا ہوں جس کی ایسی خوبیاں تم بیان کر رہے ہو..
    مہربانی کر کے اس اشتہار کو ضائع کر دو.. میرا گھر بکاؤ ہی نہیں ہے.. "
    ایک منٹ ٹھہریئے.. مضمون ابھی پورا نہیں ہوا..
    ایک بہت پرانی کہاوت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ نعمتیں تمہیں دی ہیں ان کو ایک کاغذ پر لکھنا شروع کر دو.. یقیناً اس لکھائی کے بعد تمہاری زندگی اور زیادہ خوش و خرم ہو جائے گی..
    اصل میں ہم اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا ہی بھلائے بیٹھے ہیں کیوں کہ جو کچھ برکتیں اور نعمتیں ہم پر برس رہی ہیں ہم اُن کو گننا ہی نہیں چاہتے.. ہم تو صرف اپنی گنی چنی چند پریشانیاں یا کمی اور کوتاہیاں دیکھتے ہیں اور برکتوں اور نعمتوں کو بھول جاتے ہیں..
    " میں اپنے ننگے پیروں کو دیکھ کر کُڑھتا رہا.. پھر ایک ایسے شخص کو دیکھا جس کے پاؤں ہی نہیں تھے تو شکر کے ساتھ اللہ کے سامنے سجدے میں گر گیا.. "
    اب آپ سے سوال..
    کتنے ایسے لوگ ہیں جو آپ جیسا گھر ' گاڑی ' ٹیلیفون ' تعلیمی سند ' نوکری وغیرہ وغیرہ وغیرہ کی خواہش کرتے ہیں..
    کتنے ایسے لوگ ہیں جب آپ اپنی گاڑی پر سوار جا رہے ہوتے ہو تو وہ سڑک پر ننگے پاؤں یا پیدل جا رہے ہوتے ہیں..
    کتنے ایسے لوگ ہیں جن کے سر پر چھت نہیں ہوتی جب آپ اپنے گھر میں محفوظ آرام سے سو رہے ہوتے ہیں..
    کتنے ایسے لوگ ہیں جو علم حاصل کرنا چاہتے تھے اور نا کر سکے.. اور آپ کے پاس تعلیم کی سند موجود ہے..
    کتنے بے روزگار شخص ہیں جو فاقہ کشی کرتے ہیں اور آپ کے پاس ملازمت اور منصب موجود ہے..
    ہزاروں باتیں لکھی اور کہی جا سکتی ہیں..
    کیا خیال ہے.. ابھی بھی اللہ کی نعمتوں کے اعتراف اور اُنکا شکر ادا کرنے کا وقت نہیں آیا کہ ہم کہہ دیں..
    " یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے.. میں نادان ہوں ' مجھے معاف کر دے..​
     
  2. sahil_jaan

    sahil_jaan Guest

    Hello guest, Thank you for Register or you log to see the links!

    ایک شخص نے بہتر گھر خریدنے کیلئے اپنا پہلے والا گھر بیچنا چاہا.. اس مقصد کیلئے وہ اپنے ایک ایسے دوست کے پاس گیا جو جائیداد کی خرید و فروخت میں اچھی شہرت رکھتا تھا..
    اس شخص نے اپنے دوست کو مُدعا سنانے کے بعد کہا کہ وہ اس کے لئے گھر برائے فروخت کا ایک اشتہار لکھ دے..
    اس کا دوست اِس گھر کو بہت ہی اچھی طرح سے جانتا تھا.. اشتہار کی تحریر میں اُس نے گھر کے محل وقوع ' رقبے ' ڈیزائن ' تعمیراتی مواد ' باغیچے ' سوئمنگ پول سمیت ہر خوبی کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا..
    اعلان مکمل ہونے پر اُس نے اپنے دوست کو یہ اشتہار پڑھ کر سُنایا تاکہ تحریر پر اُسکی رائے لے سکے.. اشتہار کی تحریر سُن کر اُس شخص نے کہا.. " برائے مہربانی اس اشتہار کو ذرا دوبارہ پڑھنا.. "
    اُس کے دوست نے اشتہار دوبارہ پڑھ کر سُنا دیا.. اشتہار کی تحریر کو دوبارہ سُن کر یہ شخص تقریباً چیخ ہی پڑا.. " کیا میں ایسے شاندار گھر میں رہتا ہوں..؟ اور میں ساری زندگی ایک ایسے گھر کے خواب دیکھتا رہا جس میں کچھ ایسی ہی خوبیاں ہوں مگر یہ کبھی خیال ہی نہیں آیا کہ میں تو رہ ہی ایسے گھر میں رہا ہوں جس کی ایسی خوبیاں تم بیان کر رہے ہو..
    مہربانی کر کے اس اشتہار کو ضائع کر دو.. میرا گھر بکاؤ ہی نہیں ہے.. "
    ایک منٹ ٹھہریئے.. مضمون ابھی پورا نہیں ہوا..
    ایک بہت پرانی کہاوت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ نعمتیں تمہیں دی ہیں ان کو ایک کاغذ پر لکھنا شروع کر دو.. یقیناً اس لکھائی کے بعد تمہاری زندگی اور زیادہ خوش و خرم ہو جائے گی..
    اصل میں ہم اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا ہی بھلائے بیٹھے ہیں کیوں کہ جو کچھ برکتیں اور نعمتیں ہم پر برس رہی ہیں ہم اُن کو گننا ہی نہیں چاہتے.. ہم تو صرف اپنی گنی چنی چند پریشانیاں یا کمی اور کوتاہیاں دیکھتے ہیں اور برکتوں اور نعمتوں کو بھول جاتے ہیں..
    " میں اپنے ننگے پیروں کو دیکھ کر کُڑھتا رہا.. پھر ایک ایسے شخص کو دیکھا جس کے پاؤں ہی نہیں تھے تو شکر کے ساتھ اللہ کے سامنے سجدے میں گر گیا.. "
    اب آپ سے سوال..
    کتنے ایسے لوگ ہیں جو آپ جیسا گھر ' گاڑی ' ٹیلیفون ' تعلیمی سند ' نوکری وغیرہ وغیرہ وغیرہ کی خواہش کرتے ہیں..
    کتنے ایسے لوگ ہیں جب آپ اپنی گاڑی پر سوار جا رہے ہوتے ہو تو وہ سڑک پر ننگے پاؤں یا پیدل جا رہے ہوتے ہیں..
    کتنے ایسے لوگ ہیں جن کے سر پر چھت نہیں ہوتی جب آپ اپنے گھر میں محفوظ آرام سے سو رہے ہوتے ہیں..
    کتنے ایسے لوگ ہیں جو علم حاصل کرنا چاہتے تھے اور نا کر سکے.. اور آپ کے پاس تعلیم کی سند موجود ہے..
    کتنے بے روزگار شخص ہیں جو فاقہ کشی کرتے ہیں اور آپ کے پاس ملازمت اور منصب موجود ہے..
    ہزاروں باتیں لکھی اور کہی جا سکتی ہیں..
    کیا خیال ہے.. ابھی بھی اللہ کی نعمتوں کے اعتراف اور اُنکا شکر ادا کرنے کا وقت نہیں آیا کہ ہم کہہ دیں..
    " یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے.. میں نادان ہوں ' مجھے معاف کر دے..​
    Click to expand...
    یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکرہے کہ ہمیں ایسی اچھی اچھی پوسٹنگ کرنے والے ممبر فراہم کیے
    بہت شکریہ عدیل بھائی بہت ہی پیاری شئیرنگ کی ہے آپ نے
     

Share This Page