1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice

Ba Haya Nojawan (با حیا نوجوان)

Discussion in 'History aur Waqiat' started by Najam Mirani, Feb 16, 2016.

Share This Page

  1. Najam Mirani
    Offline

    Najam Mirani Management Staff Member
    • 28/33

    :salam
    :bismillah1
    باحیا نوجوان

    بَصرہ میں ایک بُزُرگ رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ ''مِسکی'' کے نام سے مشہُور تھے۔''مُشک'' کو عَرَبی میں ''مِسْک'' کہتے ہیں۔ لہٰذا مِسکی کے معنیٰ ہوئے ''مُشکبار'' یعنی مُشک کی خوشبُو میں بَسا ہوا۔ وہ بُزُرگ رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ ہر وَقْت مُشکبار و خوشبودار رہا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ جس راستے سے گُزر جاتے وہ راستہ بھی مَہَک اُٹھتا! جب داخِلِ مسجِد ہوتے تو اُن کی خوشبُو سے لوگوں کو معلوم ہوجاتا کہ حضرتِ مِسکی رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ تشریف لے آئے ہیں۔ کسی نے عرض کی، حُضُور! آپ کو خوشبو پر کثیر رقم خرچ کرنی پڑتی ہوگی؟ فرمایا: ''میں نے کبھی خوشبو خریدی، نہ لگائی۔ میرا واقِعہ بڑا عجیب و غریب ہے میں بغدادِ مُعَلّٰی کے ایک خوشحا ل گھرانے میں پیدا ہوا۔ جس طرح اُمَراء اپنی اولاد کو تعلیم دِلواتے ہیں میری بھی اسی طرح تعلیم ہوئی۔ میں بَہُت خوبصورت اور با حیا تھا۔ میرے والِد صاحِب سے کسی نے کہا: ''اسے بازار میں بٹھاؤ تاکہ یہ لوگوں سے گھُل مِل جائے اور اس کی حیا کچھ کم ہو۔'' چُنانچِہ مجھے ایک بَزّاز (یعنی کپڑا بیچنے والے) کی دکان پر بٹھادیا گیا۔ ایک روز ایک بُڑھیا نے کچھ قیمتی کپڑے نکلوائے، پھر بَزّاز (یعنی کپڑے والے) سے کہا: ''میرے ساتھ کِسی کو بھیج دو تاکہ جو پسَند ہوں انہیں لینے کے بعد قیمت اور بقیّہ کپڑے واپَس لائے۔'' بَزّاز (بَزْ۔زَاز) نے مجھے اس کے ساتھ بھیج دیا۔ بُڑھیا مجھے ایک عظیمُ الشّان مَحَل میں لے گئی اور آراستہ کمرے میں بھیج دیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک زیوارت سے آراستہ خوش لباس جوان لڑکی تَخْت پر بچھے ہوئے مُنَقَّش (مُ۔ نَقْ۔ قَشْ ) قالین پر بیٹھی ہے، تخت و فرش سب کے سب زَرِّیں ہیں اور اس قَدَر نفیس کہ ایسے میں نے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی اُس لڑکی پر شیطان غالِب آیا اور وہ ایک دم میری طرف لپکی اور چھیڑ خانی کرتے ہوئے ''منہ کالا'' کروانے کے دَر پَے ہوئی۔ میں نے گھبرا کر کہا: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈر!'' مگر اُس پر شیطان پوری طرح مُسَلَّط تھا۔ جب میں نے اُس کی ضِد دیکھی تو گناہ سے بچنے کی ایک تجویز سوچ لی اور اُس سے کہا: مجھے اِستِنجاء خانے جانا ہے۔ اُس نے آواز دی تو چاروں طرف سے لَونڈیاں آگئیں، اُس نے کہا: ''اپنے آقا کو بیتُ الْخَلاء میں لے جاؤ۔'' میں جب وہاں گیا تو بھاگنے کی کوئی راہ نظر نہیں آئی، مجھے اس عورت کے ساتھ ''منہ کالا'' کرتے ہوئے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے حَیا آ رہی تھی اور مجھ پر عذابِ جہنَّم کے خوف کا غَلَبہ تھا۔ چُنانچِہ ایک ہی راستہ نظر آیا اور وہ یہ کہ میں نے اِستِنجا خانے کی نَجاست سے اپنے ہاتھ منہ وغیرہ سان لئے اور خوب آنکھیں نکال کر اُس کنیز کو ڈرایا جو باہَر رومال اور پانی لئے کھڑی تھِی، میں جب دیوانوں کی طرح چیختا ہوا اس کی طرف لپکا تو وہ ڈر کر بھاگی اور اس نے پاگل، پاگل کا شور مچا دیا۔ سب لونڈیاں اکٹّھی ہوگئیں اور انہوں نے ملکر مجھے ایک ٹاٹ میں لپیٹا اور اٹھا کر ایک باغ میں ڈال دیا۔ میں نے جب یقین کرلیا کہ سب جاچکی ہیں تو اٹھ کر اپنے کپڑے اور بدن کو دھو کر پاک کر لیا اور اپنے گھر چلا گیا مگر کسی کو یہ بات نہیں بتائی۔ اُسی رات میں نے خواب میں دیکھا کہ کوئی کہہ رہا ہے: ''تم کو حضرت سیِّدُنا یوسُف علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کیا ہی خوب مُناسَبَت ہے'' اور کہتا ہے کہ کیا تم مجھے جانتے ہو؟ میں نے کہا: نہیں۔ تو اُنہوں نے کہا: میں جِبرئیل علیہ الصلوٰۃ والسلام ہوں۔ اس کے بعد اُنہوں نے میرے منہ اور جِسْم پر اپنا ہاتھ پَھیر دیا۔ اُسی وَقْت سے میرے جِسْم سے مُشک کی بہترین خوشبو آنے لگی۔ یہ حضرت سیِّدُنا جبرئیل علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دستِ مبارَک کی خوشبو ہے۔
    (رَوْضُ الرَّیاحِین ص۳۳۴ دار الکتب العلمیۃ بیروت)
    حیاء کسے کہتے ہیں؟​

    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آپ نے دیکھا! با حیا نوجوان،اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خَشِیَّت (خَ۔ شِیْ۔ یَت) اور گناہوں سے نفرت کی بَرَکت سے معصیَت سے اپنی حفاظت میں کامیاب ہوگیا۔ معلوم ہوا کہ گناہوں سے بچنے میں حیاء بَہُت ہی مُؤَثِّرہے۔ حیاء کے معنیٰ ہیں ـــ''عیب لگائے جانے کے خوف سے جَھینپنا۔'' اس سے مُراد ''وہ وَصْف ہے جو ان چیزوں سے روک دے جواللہ تعالیٰ اور مخلوق کے نزدیک ناپسندیدہ ہوں۔'' لوگوں سے شرما کر کسی ایسے کام سے رُک جانا جو ان کے نزدیک اچّھانہ ہو ''مخلوق سے حياء'' کہلاتا ہے۔
    یہ بھی اچھی بات ہے کہ عام لوگوں سے حیا ء کرنا دنیاوی برائیوں سے بچائے گا اور عُلَماء وَ صُلَحاء سے حیا کرنا دینی بُرائیوں سے باز رکھے گا۔ مگر حَیاء کے اچھّا ہونے کے لئے ضَروری ہے کہ مخلوق سے شرمانے میں خالق عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی نہ ہوتی ہو اور نہ کسی کے حُقُوق کی ادائیگی میں وہ حیا رُکاوٹ بن رہی ہو۔ ''اللہ تعالیٰ سے حیاء '' یہ ہے کہ اُس کی ہَیبت و جلال اور اس کا خوف دل میں بٹھائے اور ہر اُس کام سے بچے جس سے اُس کی ناراضی کا اندیشہ ہو۔ حضرتِ سیِّدُنا شَہابُ الدّین سُہروردی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عظمت و جلال کی تعظیم کے لئے روح کو جُھکانا حیاء ہے۔'' اور اِسی قَبِیل (قِسم) سے حضرتِ سیِّدُنا اِسرافیل علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حیاء ہے جیسا کہ وارِد ہوا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے حیا کی وجہ سے اپنے پَروں سے خود کو چُھپائے ہوئے ہیں۔
    (مرقَاۃُ الْمَفَاتِيْح ج۸ ص۸۰۲ ،تحت الحدیث ۵۰۷۱ دارُالفِکْر بیروت)
    سب سے بڑا باحیاء اُمّتی​

    حضرتِ سیِّدُنا عثمانِ غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی حیاء بھی اِسی قسم سے ہے،جیسا کہ آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا فرمان ہے: ''میں بند کمرے میں غُسل کرتا ہوں تواللہ عَزَّوَجَلَّ سے حیاء کی وجہ سے سِمَٹ جاتا ہوں۔"(اَیْضاً
    ابنِ عساکِر نے حضرت سیِّدُنا ابوہُریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے رِوایت کیا کہ آقائے دو جہاں صلی اﷲ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: ''حیا ایمان سے ہے اور عثمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ میری اُمّت میں سب سے بڑھ کر حیا کرنے والے ہیں۔
    (اَ لْجامِعُ الصَّغِیر لِلسُّیُوْطِی ص۲۳۵حدیث ۳۸۶۹دار الکتب العلمیۃ بیروت)
    یا الٰہی! دے ہمیں بھی دولتِ شرم و حیا حضرتِ عثماں غنی با حیا کے واسِطے​
     
  2. Ghulam Rasool
    Offline

    Ghulam Rasool Super Moderators
    • 18/33

    jazak allah nice sharing​
     

Share This Page