1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice
  3. Dismiss Notice

جہنم کے لیے دو سانس ہیں اور جہنم


آئی ٹی استاد کی ںئی ایپ ڈاونلوڈ کریں اور آئی ٹی استاد ٹیلی نار اور ذونگ نیٹ ورک پر فری استمال کریں

itustad

Discussion in 'Hadess Mubarak' started by *JAMALIBABA*, Jun 9, 2016.

Hadess Mubarak"/>Jun 9, 2016"/>

Share This Page

  1. *JAMALIBABA*
    Online

    *JAMALIBABA* Guest

    حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ الْكُوفِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ " اشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا،‏‏‏‏ وَقَالَتْ:‏‏‏‏ أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا، ‏‏‏‏‏‏فَجَعَلَ لَهَا نَفَسَيْنِ:‏‏‏‏ نَفَسًا فِي الشِّتَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَنَفَسًا فِي الصَّيْفِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَّا نَفَسُهَا فِي الشِّتَاءِ فَزَمْهَرِيرٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا نَفَسُهَا فِي الصَّيْفِ فَسَمُومٌ "،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏قَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُفَضَّلُ بْنُ صَالِحٍ لَيْسَ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ بِذَلِكَ الْحَافِظِ.
    ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم نے اپنے رب سے شکایت کی کہ میرا بعض حصہ بعض حصے کو کھائے جا رہا ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے دو سانسیں مقرر کر دیں: ایک سانس گرمی میں اور ایک سانس جاڑے میں، جہنم کے جاڑے کی سانس سے سخت سردی پڑتی ہے۔ اور اس کی گرمی کی سانس سے لو چلتی ہے“۔
    امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے۔

    تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المواقیت ۹ (۵۳۷)، وبدء الخلق ۱۰ (۳۲۶۰)، صحیح مسلم/المساجد ۳۲ (۶۱۷)، سنن ابن ماجہ/الزہد ۳۸ (۴۲۱۹) (تحفة الأشراف : ۱۲۴۶۳)، وط/وقوت ۸ (۲۸)، و مسند احمد (۲/۲۳۸، ۲۷۷، ۴۶۲، ۵۰۳)، وسنن الدارمی/الرقاق ۱۱۹ (۲۸۸۷) (صحیح)۔
    __________________
     
  2. PakArt
    Offline

    PakArt ITUstad dmin Staff Member
    • 83/98

    [FONT=&quot]:salam1:

    [FONT=&quot][​IMG]

    [FONT=&quot][​IMG][/FONT]
    [FONT=&quot][​IMG][/FONT]
    [FONT=&quot][​IMG][/FONT]
    [FONT=&quot]ماشا اللہ بہت عمدہ اشتراک کیا ہے۔ آپکی اور عمدہ تھریڈ کا انتطار رہے گا۔شکریہ[/FONT]​
    [/FONT]
    [/FONT]
     
  3. *Shan Jee*
    Offline

    *Shan Jee* Designer
    • 38/49

    جزاک اللہ خیر۔۔
    :welcome::
     

Share This Page