1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

سورۃ الملک کی فضیلت

Discussion in 'Quran e Kareem' started by PRINCE SHAAN, Jun 16, 2016.

  1.  
    Last edited by a moderator: Dec 21, 2017
  2. Mindful

    Mindful Super Moderators

    Allahu Akbar.............
     
  3. Moona

    Moona Senior Member Staff Member

    مجھے امیج شو نہیں ہو رہے؟
     
  4. UrduLover

    UrduLover Work hard. Dream big. Staff Member

    Hello guest, Thank you for Register or you log to see the links!

    مجھے امیج شو نہیں ہو رہے؟
    Click to expand...
    یہ ایمیج
    Discussion in '

    Hello guest, Thank you for Register or you log to see the links!

    ' started by

    Hello guest, Thank you for Register or you log to see the links!


    ا سکےبعد وی بلٹین سے فورم کو ایکژینفورو پر منتقل کرنے کی وجہ سے اپلوڈ فائل بالکل ضائع ہو گیئں
     
  • Moona

    Moona Senior Member Staff Member

    میرا فرض تھا آپ کو آگاہ کیا جاتا تاکہ اپ ڈیٹ کر دیں
     
  • UrduLover

    UrduLover Work hard. Dream big. Staff Member

    اسکی جگہ میں ویڈیو لگا دیتا ہوں
     
  • UrduLover

    UrduLover Work hard. Dream big. Staff Member

    سورۃ الملک مسلمان کو عذاب قبرسے بچاتی ہے لیکن اسے کتنی مرتبہ پڑھنا ضروری ہے ، دن میں ایک مرتبہ یا ایک سے زیادہ مرتبہ پڑھنی چاہیۓ ؟

    الحمد للہ
    ابوھریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
    قرآن مجید میں ایک ایسی سورۃ ہے جس کی تیس آیات ہیں وہ آدمی کی سفارش کرے گی حتی کہ اسے بخش دیا جاۓ گا ، اوروہ سورۃ تبارک الذی بیدہ الملک ہے ۔ سنن ترمذی حدیث نمبر ( 2891 ) سنن ابو داود حدیث نمبر ( 1400 ) سنن ابن ماجۃ حدیث نمبر ( 3786 ) ۔

    امام ترمذی رحمہ اللہ تعالی اس حدیث کے بارہ میں کہتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے اور شیخ الاسلام ابن تیمیۃ رحمہ اللہ نے مجموع فتاوی ( 22 / 277 ) میں اور محدث عصر علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح ابن ماجۃ ( حدیث نمبر 3053 ) میں اسے صحیح قرار دیا ہے ۔

    اس حديث سے مراد اور مقصود یہ ہے کہ انسان اس سورۃ کو ہررات پڑھے اور اس کے احکام پر عمل کرے اوراس میں پائ‏ جانے والی اخبار پرایمان لاۓ ۔

    عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہما کہتے ہیں کہ جس نے ہررات تبارک الذی بیدہ الملک پڑھی اللہ تعالی اس کی وجہ سے اسے عذاب قبر سے نجات دے گا ، ہم اس سورۃ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں المانعۃ بچاؤ کرنے والی سورۃ کہتے تھے ، کتاب اللہ میں یہ ایسی سورۃ ہے جو بھی اسے ہررات پڑھے گا اس نے بہت اچھا اور زيادہ کام کیا ۔ سنن النسائ ( 6 / 179 ) الترغیب و الترھیب 1475 میں علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے اسے حسن کہا ہے ۔

    مستقل فتاوی کمیٹی کے علماء کا کہنا ہے کہ :

    تو اس بنا پر یہ امید رکھی جاسکتی ہے کہ اللہ تعالی کی رضا کےلیے جو بھی اس سورۃ پرایمان رکھے اور اسے پڑھے گا اور اس میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس سے عبرت ح
     
    Moona likes this.
  • UrduLover

    UrduLover Work hard. Dream big. Staff Member

    نیک اعمال اور ان کے فضائل (کلام ہادی عالم) 502
    نیک اعمال اور ان کے فضائل
    کلام ہادیٔ عالمﷺ (شمارہ 502)

    حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی کریمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ جس نے سورۃ کہف کے شروع سے تین آیات پڑھ لیں (تو) دجال کے فتنے سے اس کی حفاظت کی جائے گی۔( ترمذی)

    ف:روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ سورۃ کہف کے یادرکھنے کو دجال کے فتنہ سے محفوظ ہونے میں خاص دخل ہے کسی روایت میں ہے کہ اول کی دس آیات یاد کرنے سے مذکورہ فائدہ ہوگا اور کسی روایت میں اس کے آخر سے دس آیات کایاد کرنا اس کے لئے مفید ہوگا اور بعض روایات میں اول کی تین آیات پڑھنے سے دجال کے فتنہ سے حفاظت ہوگی۔لہٰذا کم ازکم شروع کی تین آیات سب کو یاد کرلینا چاہئیںبلکہ اور زیادہ ہمت کریں تو اول اور آخر کی دس دس آیات یا د کرلیں۔

    سورۃ یٰسین کا بیان
    حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: بلاشبہ ہر چیز کا ایک دل ہوتا ہے اور قرآن مجید کادل سورت یٰسین ہے اور جس شخص نے سورت یٰسین پڑھی( تو اللہ تعالیٰ ( اس کے لئے) دس مرتبہ پورا قرآن پڑھنے کا( ثواب) لکھ دیں گے۔( ترمذی)

    حضرت معقل بن یساررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:اپنے مردوں پر سورۃ یٰسین پڑھا کرو۔( ابو دائود، ابن ماجہ ،نسائی)

    سورۃ دخان کا بیان
    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے سورت دخان رات کو پڑھی( تو اس پر اس حال میں صبح ہوگی کہ ستر ہزار فرشتے اس کے لئے استغفار کررہے ہوں گے۔(ترمذی)

    ف:سورۃ دخان پچیسویںپارہ کے نصف اور آخری پائو کے درمیان ہے۔

    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے جمعہ کی رات کو سورۃ حم دخان پڑھی تو اس کی بخشش کردی جائے گی۔( ترمذی)

    سورۃ حشر کی آخری آیات کا ذکر
    حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے صبح کے وقت تین مرتبہ اعوذ باللّٰہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم پڑھا اور اس کے بعد سورۃ حشر کی آخری تین آیات پڑھیں تو اللہ تعالیٰ ستر ہزار فرشتوں کو مقرر فرمادیں گے جو شام تک اس کے لئے رحمت کی دعا کرتے رہیں گے اوراگر وہ اس دن میں مرگیا تو شہید مرے گا اور جس شخص نے شام کے وقت ان کو پڑھا تو اس کے لئے بھی یہی فضیلت ہے۔( ترمذی)

    سورۃ مُلک کا بیان
    حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ کے بعض اصحاب نے ایک قبر میں اپنا خیمہ لگادیا۔ اور ان کو پتہ نہ تھا کہ یہ قبر ہے پس اچانک وہاں ایک انسان کی قبر تھی( جس میں) وہ سورۃ ملک پڑھ رہا تھا یہاں تک کہ اس کو ختم کرلیا یہ ماجرادیکھ کر وہ صحابی نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے ایک قبر پر اپنا خیمہ لگا دیا اور مجھے پتہ نہ تھا کہ یہ قبر ہے پس اچانک اس میں ایک انسان تھا جو سورۃ ملک پڑھ رہا تھا یہاں تک کہ اس نے اس کو ختم کرلیا، رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ( سورۃ) عذاب روکنے والی ہے۔ یہ نجات دینے والی ہے، عذاب قبر سے نجات دیتی ہے۔(ترمذی)

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: قرآن مجید میں تیس آیتوں والی ایک سورت ہے جس نے آدمی کے لئے سفار ش کی اور اس کی شفاعت پر (قیامت کے دن) اس کی مغفرت کردی گئی اور وہ سورۃ تبارک الذی بیدہ الملک ہے۔ (ابودائود، ترمذی، نسائی)

    سورۃ اذازلزلت اورسورۃ الکافرون کا بیان
    حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ارشاد فرمایا رسول اللہﷺ نے کہ جس شخص نے سورۃ اذازلزلت پڑھی(تو) وہ ثواب میں نصف قرآن مجید کے برابر ہوگی اورجس شخص نے قل یا ایھا الکافرون پڑھی تو وہ( اجر و ثواب کے لحاظ سے) چوتھائی قرآن مجید کے برابر ہوگی۔( ترمذی)

    ف: مطلب یہ ہے کہ ایک دفعہ اذازلزلت پڑھنے پر نصف قرآن مجید پڑھنے کا ثواب ملے گا اور ایک دفعہ قل یاایھا الکافرون پڑھنے پر چوتھائی قرآن مجید پڑھنے کا ثواب ملے گا۔

    حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: اذازلزلت( ایک دفعہ پڑھنا) نصف قرآن مجید( پڑھنے) کے برابر ہے اور قل یاایھاالکافرون ( ایک دفعہ پڑھنا) چوتھائی قرآن مجید (پڑھنے ) کے برابر ہے۔(ترمذی)

    حضرت نوافل اشجعی رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیجئے کہ جب میں اپنے بستر پر(سونے کے لئے) آئوں تو اس کو پڑھ لیا کروں۔ آپﷺ نے فرمایا: قل یاایھاالکافرون(پوری سورۃ) پڑھ لیا کرو ، بلاشبہ ( یہ سورۃ) شرک سے براء ت ہے۔( ابودائود، ترمذی، نسائی)

    ف: شرک سے برأت ہے یعنی اس میں شرک سے بری ہونے کا اعلان ہے حکم دیا گیا ہے کہ کافروں سے کہہ دو کہ تمہارا دین اور ہے اور میرا دین اور ہے۔

    سونے کے وقت قرآن مجید کی کوئی سورۃ پڑھنے کی فضیلت
    حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: جو کوئی مسلمان اپنے لیٹنے کی جگہ پر جاتے وقت اللہ کی کتاب میں سے کوئی سورۃ پڑھ لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ ( اس کی حفاظت کے لئے) ایک فرشتہ مقرر فرما دیتے ہیں پس کوئی تکلیف دینے والی چیز اس کے قریب نہیں آتی یہاں تک کہ وہ جاگ جائے، جب بھی جاگے۔ (ترمذی، نسائی)

    سورۃ اخلاص کی فضیلت
    حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے اپنے اصحاب کو ارشاد فرمایا کہ کیا تم میں سے کوئی ایسا نہیں کر سکتا کہ وہ رات کو تہائی قرآن پڑھ لے؟ یہ بات حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم کو مشکل معلوم ہوئی اور عرض کیا: یارسول اللہ! ہم میں سے کون اس کی طاقت رکھتا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا:( ایک دفعہ) قل ھواللّٰہ احد( کا پڑھنا اجر وثواب میں) ایک تہائی قرآن ( پڑھنے کے برابر) ہے۔(بخاری)

    حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہﷺ کے زمانہ میں سحری کے وقت کھڑے ہو کر قل ھو اللہ احد پڑھنا شروع کیا( اور) اس کو بار بار پڑھتا رہا اور اس میں کوئی اور زیادتی نہ کی ( یعنی اور کوئی سورت اس کے سوا نہ پڑھی) چنانچہ جب ہم نے صبح کی( تو) ایک آدمی نبی کریمﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! بے شک فلاں شخص نے اس حال میں رات گذاری کہ سحری کے وقت (صرف) قل ھو اللہ احد پڑھتا رہا اور اس کو اس نے بار بار پڑھا اس میں کوئی اور زیادتی نہ کرتا تھا( جس شخص نے آکر یہ بات کہی) گو یا اس نے ( قل ھو اللہ احد کے بار بار پڑھنے کو) معمولی عمل سمجھا، نبی کریمﷺ نے اس کی بات سن کر ارشاد فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے،بلاشبہ قل ھو اللہ احد ( کا ایک دفعہ پڑھنا) تہائی قرآن مجید پڑھنے کے برابر ہے۔( بخاری)

    ٭…٭…٭
     
    Moona likes this.
  • Moona

    Moona Senior Member Staff Member

    سبحان اللہ
    بڑی اچھی معلومات ہیں سب کو ان کے فضائل کے بارے میں معلوم ہونا چاہیئے
    جزاک اللہ
     
    UrduLover likes this.
  • UrduLover

    UrduLover Work hard. Dream big. Staff Member

    بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ

    مکمل سورت
    سورت نمبر 67
    آیت نمبر 1
    تَبَارَكَ الَّـذِىْ بِيَدِهِ الْمُلْكُۖ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ
    (1
    وہ ذات با برکت ہے جس کے ہاتھ میں سب حکومت ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
    اَلَّـذِىْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۚ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُ (2)
    جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کس کے کام اچھے ہیں اور وہ غالب بخشنے والا ہے۔
    اَلَّـذِىْ خَلَقَ سَبْعَ سَـمَاوَاتٍ طِبَاقًا ۖ مَّا تَـرٰى فِىْ خَلْقِ الرَّحْـمٰنِ مِنْ تَفَاوُتٍ ۖ فَارْجِــعِ الْبَصَرَ هَلْ تَـرٰى مِنْ فُطُوْرٍ (3)
    جس نے سات آسمان اوپر تلے بنائے، تو رحمان کی اس صنعت میں کوئی خلل نہ دیکھے گا، تو پھر نگاہ دوڑا کیا تجھے کوئی شگاف دکھائی دیتا ہے۔
    ثُـمَّ ارْجِــعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنْقَلِبْ اِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّهُوَ حَسِيْرٌ (4)
    پھر دوبارہ نگاہ کر تیری طرف نگاہ ناکام لوٹ آئے گی اور وہ تھکی ہوئی ہوگی۔
    وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَآءَ الـدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ وَجَعَلْنَاهَا رُجُوْمًا لِّلشَّيَاطِيْنِ ۖ وَاَعْتَدْنَا لَـهُـمْ عَذَابَ السَّعِيْـرِ (5)
    اور ہم نے دنیا کے آسمان کو چراغوں سے آراستہ کیا ہے اور ہم نے انہیں شیطانوں کو مارنے کے لیے آلہ بنا دیا ہے اور ہم نے ان کے لیے بھڑکتی آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
    وَلِلَّـذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِـمْ عَذَابُ جَهَنَّـمَ ۖ وَبِئْسَ الْمَصِيْـرُ (6)
    اور جنہوں نے اپنے رب کا انکار کیا ہے ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے۔
    اِذَآ اُلْـقُوْا فِيْـهَا سَـمِعُوْا لَـهَا شَهِيْقًا وَّهِىَ تَفُوْرُ (7)
    جب اس میں ڈالے جائیں گے تو اس کے شور کی آواز سنیں گے اور وہ جوش مارتی ہوگی۔
    تَكَادُ تَمَيَّـزُ مِنَ الْغَيْظِ ۖ كُلَّمَآ اُلْقِىَ فِيْـهَا فَوْجٌ سَاَلَـهُـمْ خَزَنَتُهَآ اَلَمْ يَاْتِكُمْ نَذِيْرٌ (8)
    ایسا معلوم ہوگا کہ جوش کی وجہ سے ابھی پھٹ پڑے گی، جب اس میں ایک گروہ ڈالا جائے گا تو ان سے دوزخ کے داروغہ پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا۔
    قَالُوْا بَلٰى قَدْ جَآءَنَا نَذِيْرٌ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّـٰهُ مِنْ شَيْءٍۚ اِنْ اَنْتُـمْ اِلَّا فِىْ ضَلَالٍ كَبِيْـرٍ (9)
    وہ کہیں گے ہاں بے شک ہمارے پاس ڈرانے والا آیا تھا پر ہم نے جھٹلا دیا اور کہہ دیا کہ اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا، تم خود بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔
    وَقَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْـمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِىٓ اَصْحَابِ السَّعِيْـرِ (10)
    اور کہیں گے کہ اگر ہم نے سنا یا سمجھا ہوتا تو ہم دوزخیوں میں نہ ہوتے۔
    فَاعْتَـرَفُوْا بِذَنْبِهِـمْ فَسُحْقًا لِّاَصْحَابِ السَّعِيْـرِ (11)
    پھر وہ اپنے گناہ کا اقرار کریں گے سو دوزخیوں پر پھٹکار ہے۔
    اِنَّ الَّـذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّـهُـمْ بِالْغَيْبِ لَـهُـمْ مَّغْفِرَةٌ وَّّاَجْرٌ كَبِيْرٌ (12)
    بے شک جو لوگ اپنے رب سے بن دیکھے ڈرتے ہیں ان کے لیے بخشش اور بڑا اجر ہے۔
    وَاَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ ۖ اِنَّهٝ عَلِـيْمٌ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ (13)
    اور تم اپنی بات کو چھپاؤ یا ظاہر کرو بے شک وہ سینوں کے بھید خوب جانتا ہے۔
    اَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ ؕ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْـرُ (14)
    بھلا وہ نہیں جانتا جس نے (سب کو) پیدا کیا وہ بڑا باریک بین خبردار ہے۔
    هُوَ الَّـذِىْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِىْ مَنَاكِبِـهَا وَكُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ ۖ وَاِلَيْهِ النُّشُوْرُ (15)
    وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو نرم کر دیا سو تم اس کے راستوں میں چلو پھرو اور اللہ کے رزق میں سے کھاؤ، اور اسی کے پاس پھر کر جانا ہے۔
    اَاَمِنْتُـمْ مَّنْ فِى السَّمَآءِ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِىَ تَمُوْرُ (16)
    کیا تم اس سے ڈرتے نہیں جو آسمان میں ہے کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسا دے پس یکایک وہ لرزنے لگے۔
    اَمْ اَمِنْتُـمْ مَّنْ فِى السَّمَآءِ اَنْ يُّرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ۖ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَيْفَ نَذِيْـرِ (17)
    کیا تم اس سے نڈر ہو گئے ہو جو آسمان میں ہے وہ تم پر پتھر برسا دے، پھر تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ میرا ڈرانا کیسا ہے۔
    وَلَقَدْ كَذَّبَ الَّـذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِـمْ فَكَـيْفَ كَانَ نَكِيْـرِ (18)
    اور ان سے پہلے لوگ بھی جھٹلا چکے ہیں پھر ہماری ناراضگی کا کیا نتیجہ ہوا۔
    اَوَلَمْ يَرَوْا اِلَى الطَّيْـرِ فَوْقَهُـمْ صَآفَّاتٍ وَّّيَقْبِضْنَ ۚ مَا يُمْسِكُـهُنَّ اِلَّا الرَّحْـمٰنُ ۚ اِنَّهٝ بِكُلِّ شَىْءٍ بَصِيْرٌ (19)
    اور کیا انہوں نے اپنے اوپر پرندوں کو پر کھولتے اور سکیڑتے ہوئے نہیں دیکھا، جنہیں رحمان کے سوا کوئی نہیں تھام رہا، بے شک وہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔
    اَمَّنْ هٰذَا الَّـذِىْ هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ يَنْصُرُكُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْـمٰنِ ۚ اِنِ الْكَافِرُوْنَ اِلَّا فِىْ غُرُوْرٍ (20)
    بھلا وہ تمہارا کون سا لشکر ہے جو رحمنٰ کے مقابلہ میں تمہاری مدد کرے گا، کچھ نہیں کافر تو دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں۔
    اَمَّنْ هٰذَا الَّـذِىْ يَرْزُقُكُمْ اِنْ اَمْسَكَ رِزْقَهٝ ۚ بَلْ لَّجُّوْا فِىْ عُتُوٍّ وَّنُفُوْرٍ (21)
    بھلا وہ کون ہے جو تم کو روزی دے گا اگر وہ اپنی روزی بند کر لے، کچھ نہیں بلکہ وہ سرکشی اور نفرت میں اڑے بیٹھے ہیں۔
    اَفَمَنْ يَّمْشِىْ مُكِـبًّا عَلٰى وَجْهِهٓ ٖ اَهْدٰٓى اَمَّنْ يَّمْشِىْ سَوِيًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِـيْمٍ (22)
    پس کیا وہ شخص جو اپنے منہ کے بل اوندھا چلتا ہے وہ زیادہ راہِ راست پر ہے یا وہ جو سیدھے راستے پر سیدھا چلا جاتا ہے۔
    قُلْ هُوَ الَّـذِىٓ اَنْشَاَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْئِدَةَ ۖ قَلِيْلًا مَّا تَشْكُـرُوْنَ (23)
    کہہ دو اسی نے تم کو پیدا کیا ہے اور تمہارے لیے کان اور آنکھ اور دل بھی بنائے ہیں، (مگر) تم بہت ہی کم شکر کرتے ہو۔
    قُلْ هُوَ الَّـذِىْ ذَرَاَكُمْ فِى الْاَرْضِ وَاِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ (24)
    کہہ دو اسی نے تمہیں زمین میں پھیلایا ہے اور اسی کے پاس جمع کر کے لائے جاؤ گے۔
    وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُـمْ صَادِقِيْنَ (25)
    اور وہ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب ہوگا اگر تم سچے ہو۔
    قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّـٰهِ ۖ وَاِنَّمَآ اَنَا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ (26)
    کہہ دو اس کی خبر تو اللہ ہی کو ہے اور میں تو صاف صاف ڈرانے والا ہوں۔
    فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِيٓـئَتْ وُجُوْهُ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا وَقِيْلَ هٰذَا الَّـذِىْ كُنْتُـم بِهٖ تَدَّعُوْنَ (27)
    پھر جب وہ اسے قریب دیکھیں گے تو ان کی صورتیں بگڑ جائیں گی جو کافر ہیں اور کہا جائے گا یہ وہی ہے جسے تم دنیا میں مانگا کرتے تھے۔
    قُلْ اَرَاَيْتُـمْ اِنْ اَهْلَكَنِىَ اللّـٰهُ وَمَنْ مَّعِىَ اَوْ رَحِمَنَا ۙ فَمَنْ يُّجِيْـرُ الْكَافِـرِيْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِـيْمٍ (28)
    کہہ دو بھلا دیکھو تو سہی اگر اللہ مجھے اور میرے ساتھ والوں کو ہلاک کرے یا ہم پر رحم کرے، پھر وہ کون ہے جو منکروں کو دردناک عذاب سے بچا سکے۔
    قُلْ هُوَ الرَّحْـمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا ۖ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ فِىْ ضَلَالٍ مُّبِيْنٍ (29)
    کہہ دو وہی رحمان ہے ہم اس پر ایمان لائے اور اسی پر ہم نے بھروسہ بھی کر رکھا، پس عنقریب تم جان لو گے کون صریح گمراہی میں ہے۔
    قُلْ اَرَاَيْتُـمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ يَّاْتِيْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِيْنٍ (30)
    کہہ دو بھلا دیکھو تو سہی اگر تمہارا پانی خشک ہو جائے تو وہ کون ہے جو تمہارے پاس صاف پانی لے آئے گا۔
     
  • Share This Page