1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

شعر مکمل کریں

Discussion in 'Urdu Shair or Qita' started by PakArt, Jul 22, 2016.

  1. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

    بہت سے شعر ایسے ہیں*جن کا کوئی ایک مصرعہ ہر ایک کی زبان پر ہے لیکن مکمل شعر بہت کم لوگوں*کو معلوم ہے۔ یہاں*اسی طرح کے مصرعے دیے جائیں گے اور آپ ان کو مکمل کریں*گے۔اگر 48 گھنٹے تک کوئی بھی مکمل نہ کر سکے تو پوچھنے والا خود اسے مکمل کرے گا۔

    اس سلسلے کا پہلا مصرعہ یہ ہے

    دونوں طرف ہوآگ برابر لگی ہوئی​
     
  2. Ahsaaan

    Ahsaaan Senior Member

    ﺍُﻟﻔﺖ ﮐﺎ ﺟﺐ ﻣﺰﺍ ﮨﮯ ﮐﮧ
    ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﺑﮯ ﻗﺮﺍﺭ

    ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻃﺮﻑ ﮨﻮ ﺁﮒ
    ﺑﺮﺍﺑﺮ ﻟﮕﯽ ﮨﻮﺋﯽ
     
  3. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

    wow kieya baat hay .
    Ahsaaan sahib nice one.
    App ney iska jwaab dieya hay agley swaal kaa app ko haq hey.​
     
  4. Admin

    Admin Cruise Member Staff Member

    بہت خوب بہت اچھے
     
  5. Ahsaaan

    Ahsaaan Senior Member

    ﺍﺟﺎﻟﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﯾﺎﺩﻭﮞ ﮐﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﺭﮨﻨﮯ ﺩﻭ
     
  6. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan


    ﺍﺟﺎﻟﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﯾﺎﺩﻭﮞ ﮐﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﺭﮨﻨﮯ ﺩﻭ
    نہ جانے کل کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے​
     
  7. Ahsaaan

    Ahsaaan Senior Member

    بہت خوب زاہد بھائی
    نیکسٹ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
     
  8. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

    ہمارا دل سویرے کا سنہرا جام ہو جائے ​
     
  9. Ahsaaan

    Ahsaaan Senior Member

    ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺩﻝ ﺳﻮﯾﺮﮮ ﮐﺎ ﺳﻨﮩﺮﺍ ﺟﺎﻡ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ​

    ﭼﺮﺍﻏﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺟﻠﯿﮟ ﺟﺐ ﺷﺎﻡ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ​
     
  10. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan


    پوری غزل آپکے نام احسان صاحب۔لگتا ہے کوئی دلچسپی نہی رکھتا ہے
    اب میں آرام کرکے پھر حاضر ہوتا ہوں۔تب تک آپ بھی کچھ اور شغل فرما لیں۔شکریہ

    ہمارا دل سویرے کا سنہرا جام ہو جائے​
    چراغوں کی طرح آنکھیں جلیں جب شام ہو جائے​

    میں خود بھی احتیاطا" اُس طرف سے کم گزرتا ہوں​
    کوئی معصوم کیوں میرے لیئے بدنام ہو جائے​

    عجب حالات تھے یوں دل کا سودا ہو گیا آخر​
    محبت کی حویلی جس طرح نیلام ہو جائے​

    مجھے معلوم ہے اُس کا ٹھکانہ پھر کہاں ہو گا​
    پرندہ آسماں چھونے میں جب ناکام ہو جائے​

    سمندر کے سفر میں اس طرح آواز دے مجھ کو​
    ہوائیں تیز ہوں اور کشتیوں میں شام ہو جائے​

    اُجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو​
    نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے​​
     

Share This Page