1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

آج کا عنوان : بلاگ کیا ہے

Discussion in 'General Discussion information dowloading Etc' started by PakArt, Sep 8, 2016.

  1. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

    آج کا عنوان : بلاگ کیا ہے
    لفظ ”بلاگ(Blog)“ ویب لاگ(Web Log) سے بنا ہے۔ بلاگ ایک قسم کی ذاتی ڈائری ہی ہے جو آپ انٹرنیٹ پر لکھتے ہیں۔ ذاتی ڈائری اور بلاگ میں ایک فرق یہ ہے کہ ذاتی ڈائری آپ تک یاچند ایک لوگوں تک محدود ہوتی ہے جبکہ بلاگ پوری دنیا کے سامنے کھلی کتاب کی مانند ہوتا ہے۔ جہاں آپ اپنی سوچ اور شوق کے مطابق اپنے خیالات، تجربات اور معلومات لکھتے ہیں اور قارئین سے تبادلہ خیال کرتےہیں۔ آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ بلاگ آپ کی شخصیت کی عکاسی کرتا ہے۔ جیسے آپ ہوں گے ویسا ہی آپ کا بلاگ ہو گا۔ اس کے علاوہ جیسے آپ ذاتی ڈائری میں شاعری اور اچھی باتیں لکھتے ہیں اسی طرح بلاگ پر بھی آپ شاعری، اچھی باتیں ، تصاویر اور ویڈیوز شیئرکرسکتےہیں۔ ساری بات کا خلاصہ یہ کہ اگر آپ سوچتے اور سمجھتے ہیں کہ آپ کو اپنی سوچ اور معلومات دوسروں تک پہنچانی چاہئے تو اس کے لئے بہترین چیز بلاگ ہے۔ آسان الفاظ میں اسی کام کو بلاگنگ کہا جائے گا۔ یاد رہے بلاگ ، ویب سائیٹ کی ہی ایک قسم کا نام ہے۔
    بلاگ کئی قسم کے ہوتے ہیں مثلا ڈاکٹر لوگ میڈیکل کے متعلق معلومات کے لئے بلاگ لکھتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے لوگ ٹیکنالوجی پر لکھتے ہیں۔ حالات کے ستائے حالات پر لکھتے ہیں، ادیب ادب پر لکھتے ہیں، شاعر شاعری لکھتے ہیں، فوٹو گرافر تصاویر شیئر کرتا ہے تو ویڈیوز کے شیدائی ویڈیوز شیئر کرتے ہیں۔ حتی کہ جو جو ہوتا ہے وہ بلاگ پر وہی کچھ لکھتا اور شیئر کرتا ہے اور کئی میرے جیسے بھی ہوتے ہیں جو ایک سے زیادہ موضوعات پر لکھنا اور شیئر کرنا پسند کرتے ہیں۔

    بلاگنگ کے فوائد
    کسی کام کے مثبت نتائج تب ہی برآمد ہوتے ہیں جب آپ اس کام کو مثبت انداز میں کرتے ہیں۔ بلاگنگ کے مثبت نتائج اور حقیقی فوائد حاصل کرنے کے لئے آپ کو مثبت انداز میں بلاگنگ کرنا ہو گی۔
    میری نظر میں اس تیز رفتار دور میں بلاگنگ کے بے شمار فوائد ہیں جن میں سے چند ایک بیان کرتا ہوں۔
    بلاگنگ سے انسان کو بہت کچھ سیکھنے، اپنی آواز دوسروں تک پہنچانے اور دوسروں کی رائے کا پتہ چلتا ہے جس سے انسان کا ذہن کافی وسیع سوچنا شروع کر دیتا ہے۔ بلاگ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ فی الحال یہ سب سے آسان اور سستا طریقہ ہے جس کے ذریعہ آپ اپنی آواز، سوچ، تجزیات اور تجربات منٹوں میں دوسروں تک پہنچا سکتے ہیں اور کسی موضوع پر دوسروں کی رائے حاصل کر سکتے ہیں۔ بلاگ کے اتنے فائدے ہیں کہ لکھنا شروع کروں تو کئی گھنٹے اسی میں نکل جائیں۔ چند ایک باتوں کی تھوڑی سی تفصیل بیان کرتا ہوں۔
    بلاگنگ سے بلاگر کی زندگی میں تبدیلیاں واقعہ ہونا شروع ہو جاتی ہیں یعنی بلاگر کی سوچ پہلے سے وسیع، سوال و جواب کرنے کا حوصلہ اور بات کرنے کے انداز میں پختگی آ جاتی ہے۔ شروع میں جیسا بھی لکھا جائے لیکن آہستہ آہستہ بہتر لکھنا آ جاتا ہے۔ معلومات میں بے شمار اضافہ ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ جب کسی تحریر پر قارئین تبصرے یا رائے دیتے ہیں تو کئی ایسے بھی تبصرے ہوتے ہیں جن سے تصویر کے کئی دوسرے رخ نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں اور معلومات میں بہت زیادہ اضافہ ہوتا ہے۔
    بلاگنگ کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ بلاگ بلاگر کو لکھنے پر مجبور کرتا ہے۔ اور لکھنے کے بہت فوائد ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ کبھی کبھی کسی موضوع پر دماغ بہت چل رہا ہوتا ہے۔ ایک سوچ کے بعد دوسری سوچ اور موضوع کہاں کا کہاں پہنچ جاتا ہے۔ سوچ منتشر ہو کر رہ جاتی ہے۔ اگر ایسے میں اس موضوع پر لکھنا شروع کریں اور موضوع کو نہ بھولیں تو سوچ ایک نقطہ پر ہی مرکوز رہتی ہے اور اس موضوع کے بارے میں منتشر سوچ کو ایک راہ، ایک منزل مل جاتی ہے۔ بلاگنگ کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ ویسے تو شاید ہی کوئی بندہ تحریر لکھتا ہو لیکن اگر بلاگنگ کر رہے ہوں گے تو پھر کوشش ہو گی کہ بلاگ کے لئے ہی تحریر لکھ دیتے ہیں یوں جو موضوع ذہن میں ہو گا، اسے کئی حوالوں سے سوچیں گے، کئی سنی سنائی باتوں کی تصدیق کرنے کے لئے معلومات اکٹھی کریں گے اور پھر تحریر لکھ دیں گے۔ یوں دماغ کی پرورش بھی ہوتی رہتی ہے اور اس طرح ڈپریشن کم ہونے کے ساتھ ساتھ انسان کی مایوسی بھی کم ہوتی ہے۔
    دل و دماغ کی بات، سوالات اور بہت کچھ جب آپ دوسروں سے کہہ دیتے ہیں تو من ہلکا ہو جاتا ہے۔ بلاگ کا ایک چھوٹا سا فائدہ بتاتا ہوں۔ بجلی گئی ہوئی تھی، ہر کام رکا ہوا تھا، برا حال تھا، بس غصہ آیا لیکن نکال کسی پر نہیں سکتا تھا تو بس ایک تحریر بلاگ پر لکھ دی۔ اپنی آواز دوسروں تک پہنچا دی۔ دل ہلکا ہو گیا۔ ویسے بھی ظلم کے خلاف چپ رہنے کی بجائے بولنا بہتر ہے چاہے بلاگ کے ذریعے ہی کیوں نہ بولا جائے۔ ایک بندہ جس کی کوئی نہ سنے لیکن پھر بھی وہ حق کی صدا لگاتا رہے تو اس کی بات ایک نہ ایک دن اثر ضرور کرے گی اور بلاگنگ ایک ایسی چیز ہے جس کے ذریعے آپ حق کی آواز آسانی سے دوسروں تک پہنچا سکتے ہیں۔
    بلاگنگ رائے عامہ ہموار کرنے میں بڑا اہم کردار ادا کرتی ہے۔ کم از کم پچھلی ایک صدی میں دنیا میں سب سے زیادہ تبدیلیاں قلم کے زور پر ہوئیں۔ سائنس کے اس دور میں جہاں دنیا ایک گلابل ویلیج بن گئی ہے وہاں قلم کا سب سے آسان اور مؤثر استعمال بلاگنگ ہی ہے۔ بلاگنگ جہاں بڑے بڑے لکھاریوں کو آسانیاں دیتی ہے وہیں پر ایک عام بندے کو اپنے جوہر دیکھانے اور لکھنے کے ہنر کو مزید بہتر کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔
    کئی بندے لکھنا چاہتے ہیں، اپنی سوچ اور تجربات دوسروں تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ لیکن ہر بندہ کتاب، اخبارات یا رسائل میں لکھ نہیں سکتا لیکن بلاگنگ کے ذریعے بہت کچھ، بڑی آسانی سے اور آزادی کے ساتھ لکھا جا سکتا ہے اور تھوڑے سے بھی تھوڑے علم کو دوسروں تک آسانی سے پہنچایا جا سکتا ہے۔
    بلاگنگ صرف اپنی سوچ کو دوسروں تک پہنچانے کا نام نہیں بلکہ دوسروں کی سوچ جاننے کے لئے بھی بلاگنگ ہوتی ہے۔ جیسے کوئی طالب علم کسی موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کر کے دوسروں سے مشورہ کرتا ہے کہ باقی اس موضوع پر کیا سوچتے ہیں یا پھر وہ جو علم رکھتے ہیں وہ اس تک پہنچا دیں۔ اس کے علاوہ کوئی محقق بلاگنگ کے ذریعے اپنی تحقیق دوسروں تک پہنچاتا ہے اور جواب میں اس کی حوصلہ افزائی ہونے کے ساتھ ساتھ دیگر رائے تحقیق کو مزید چار چاند لگا دیتی ہے۔
    ساری بات کا خلاصہ یہ کہ اگر آپ سوچتے اور سمجھتے ہیں کہ آپ کو اپنی سوچ اور معلومات دوسروں تک پہنچانی چاہئے اور دوسروں کی رائے جاننی چاہئے، تو اس کے لئے بہترین چیز بلاگ ہے۔ مثبت بلاگنگ کے دوران آپ کو خود اندازہ ہونا شروع ہو جائے گا کہ بلاگنگ آپ کی زندگی میں کیسی کیسی اور کتنی بڑی بڑی مثبت تبدیلیاں لاتی ہے اور آپ کو کیا کیا فوائد پہنچاتی ہے۔
    بلاگنگ ایک طرف بلاگر کی زندگی پر مثبت اثرات ڈالتی ہے اور معلومات میں بہت اضافہ کرتی ہے تو دوسری طرف قارئین کو بھی بے شمار تجزیات، تجربات اور معلومات سے نوازتی ہے۔

    بلاگ پر کیا اور کیسے لکھا جائے
    کچھ لوگوں کو سمجھ نہیں آتی کہ بلاگ پر لکھیں تو کیا لکھیں اور کہاں سے شروع کریں اس بارے میں میرا خیال ہے کہ بس پہلا قدم اٹھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ آگے آگے آپ کا اپنا بلاگ خود، دیگر بلاگز اور قارئین کے تبصرےیہ سمجھاتےجاتے ہیں کہ کیا لکھا جائے۔ سب سے پہلے تو آپ اپنے بلاگ پر اپنا تعارف کرائیں تاکہ قارئین کو آپ کے بارے میں پتہ چلے۔ اس کے بعد مزید اپنے شوق اور شعبہ کے مطابق لکھیں۔
    بلاگنگ شروع کرنے کابہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ جو دیکھتے ہیں، جو محسوس کرتے ہیں ان کو سادہ الفاظ کی شکل دیں اور بلاگ لکھ دیں۔ فرض کریں آپ نے کہیں کو حادثہ دیکھا یا کوئی منفرد چیز دیکھی اب آپ اس حادثہ یا منفرد چیز سے کیا نتیجہ نکالتے ہیں؟ ایسا کیوں ہوا؟اس کے پیچھے کیا محرکات تھے؟ اس سے آپ نے اور دوسروں نے کیا اثر لیا وغیرہ وغیرہ سوچیں اور پھر انہیں اپنے بلاگ پرلکھ کر دوسروں سے شیئر کر دیں۔ ایک تو آپ کی آواز دوسروں تک پہنچ جاتی ہے اور پھر دوسرے جب اپنی رائے دیتے ہیں تو آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ دوسرے اس بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ اس طرح آہستہ آہستہ آپ کو بلاگ لکھنے کا تجربہ ہوتا جاتا ہے۔ جو لوگ کسی نہ کسی شعبہ سے وابستہ ہیں وہ کوشش کریں کہ زیادہ تر اپنے شعبے سے متعلق لکھیں کیونکہ اس سے آپ کی تحریر میں جان بھی ہو گی اور آپ اپنا نقطہ نظر اچھی طرح بیان کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ جہاں تک میرا خیال ہے من گھڑت کہانیوں کی بجائے عام زندگی میں ہونے والے تجربات پر لکھیں۔ اس سے ایک تو آپ کے تجربات اور تجزیے دوسرے لوگوں تک پہنچیں گے اور جب قارئین تبصرے یا رائے دیں گے تو آپ کو تصویر کے کئی دوسرے رخ نظر آئیں گے۔ جس سے آپ کی سوچ مزید پختہ ہو گی۔ویسے میرا مشورہ یہ ہے کہ اپنا بلاگ شروع کرنے سے پہلے اپنی پسند کے چند بلاگز کو پڑھیں جس سے آپ کو بہتر اندازہ ہو جائے گاکہ بلاگنگ کیا ہے اور کیسے شروع کی جا سکتی ہے؟
    چند دیگر مشورے
    جو بھی لکھیں مکمل حوالے اور ٹھوس ثبوت کی بنا پر لکھیں تاکہ اگر کوئی کسی بات پر آپ سے بحث کرے تو آپ تسلی بخش جواب دیں سکیں۔ ہمیشہ مثبت سوچ کا مظاہرہ کریں۔ کبھی یہ نہ سوچیں کہ آپ بڑے تیس مار خاں ہیں کیونکہ آپ کا بلاگ پوری دنیا میں مختلف مقامات پر، مختلف ذہنیت کے لوگ پڑھیں گے جن میں کئی بلکہ بہت زیادہ آپ سے بھی قابل ہو سکتے ہیں۔ اس لئے اگر آپ سیکھنے، سیکھانے اور مشورے کے انداز میں بلاگنگ کریں گے تو آپ کو بے شمار فوائد حاصل ہوں گے اور اگر آپ نے اپنی سوچ دوسروں پر ٹھونسنے کی کوشش کی تو منہ کی بھی کھانی پڑ سکتی ہے کیونکہ اس دنیا میں صرف آپ ہی ذہین نہیں اور بھی بڑے بڑے لوگ موجود ہیں۔ اس لئے کبھی جارحانہ انداز اختیار نہ کریں۔ مثبت سوچ رکھتے ہوئے مکمل دلائل اور بہتر طریقہ سے اپنا نقطہ نظر بیان کریں اور اگر کوئی جواب میں آپ سے اختلاف کرے تو کم از کم اس کے جواب پر غور ضرور کریں کیونکہ ہو سکتا ہے آپ کسی جگہ غلطی کر رہے ہوں۔ اگر آپ کو محسوس ہو کہ آپ غلطی پر ہیں تو انا کی جنگ میں پڑنے کی بجائے اپنی اصلاح کریں تاکہ آپ مزید بہتر طریقے سے بلاگنگ کر سکیں۔ اگر آپ ذرا سی بھی ”انا“ یا ”میں نہ مانو“ کے فارمولے پر چلے تو بلاگنگ کے حوالے سے آپ کو اور آپ کی سوچ کو نقصان ہو سکتا ہے۔ اور اگر آپ کو پورا یقین ہو کہ دوسرا بندہ غلطی پر ہے تو اسے بحث برائے تعمیر کے انداز میں قائل کرنے کی کوشش کریں۔ اگر آپ کامیاب ہو جائیں تو بہت بہتر اور اگر کامیاب نہ ہو سکیں تو بحث کو زیادہ طول نہ دیں بلکہ اس معاملے پر خاموشی اختیار کریں۔ بلاگنگ میں اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ دنیا رنگ رنگ کی ہے اور ہر کسی کی اپنی ایک سوچ ہے اس لئے لازم نہیں کہ ہر کوئی آپ کی بات سے اتفاق کرے۔ آپ کی بات پر تنقید بھی ہو سکتی ہے اس لئے بلاگنگ کے حوالے سے اپنے اندر برداشت پیدا کریں۔ اگر آپ ایسا نہیں کر سکتے تو پھر سمجھ لیں کہ آپ بلاگنگ کی دنیا میں لڑائی تو کر لیں گے لیکن بلاگنگ کبھی نہیں پر پائیں گے۔
    دنیا متحرک ہے، آج کچھ ہے تو کل کچھ مختلف بھی ہو سکتا ہے۔انسان کی سوچ بھی متحرک ہے۔ اس لئے اپنی تحریر اور سوچ میں لچک رکھیں کیونکہ اگر وقت کی تبدیلی کے ساتھ آپ کی سوچ میں بھی تبدیلی ہو تو یہی لچک آپ کو فائدہ دے گی اور اگر واقعی آپ کی سوچ میں تبدیلی آئے تو اپنا پرانا لکھا سچ ثابت کرنے کے لئے اپنا آج خراب نہ کریں بلکہ اس بات کو تسلیم کریں کہ کل تک میں یہ سوچتا تھا جبکہ وقت کی تبدیلی کے ساتھ میری سوچ میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ ویسے بھی سوچ پر جمود کا تالا خرابی پیدا کرتا ہے۔
    بلاگ پر کبھی بھی کوئی ایسی ذاتی معلومات شیئر نہ کریں جس سے آپ کو اسی وقت یا آنے والے وقت میں نقصان ہونے کا خدشہ ہو۔ جو بھی لکھیں سوچ سمجھ کر لکھیں۔ یاد رہے آپ کا بلاگ آپ کی شخصیت کا عکاس ہوتا ہے۔ اپنی شخصیت کو دوسروں کے سامنے اچھے انداز میں پیش کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ اچھا رویہ اختیار کریں۔

    اردو بلاگرز کے لیے چند تکنیکی مشورے
    اردو بلاگنگ ابھی ابتدائی مراحل میں ہونے کے ساتھ ساتھ دن بدن ترقی بھی کر رہی ہے۔ نئے لوگ اس طرف آ رہے ہیں۔ ہمیں مشاورت کے ساتھ اردو بلاگنگ کو آسان بنانا ہو گا تاکہ بلاگ پڑھنے والوں کو اور خاص طور پر نئے آنے والوں کو مشکل پیش نہ آئے۔ آج کچھ باتوں کو مشوروں کے طور پر آپ لوگوں کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔ ہو سکتا ہے ان باتوں/مشوروں سے کسی کا بھلا ہو جائے اور میری طرف سے اردو بلاگنگ کی خدمت میں ایک اور قطرہ شامل ہو جائے۔
    عام طور پر ہر انسان کی اپنی ایک پسند ہوتی ہے اور وہ کرتا بھی وہی ہے جو اسے پسند ہوتا ہے۔ سافٹ ویئر، ویب سائیٹ یا کوئی بھی چیز جو بناتے آپ خود ہیں لیکن اس کا استعمال دوسرے لوگ کرتے ہیں تو ایسی چیز بناتے ہوئے آپ کو اپنی پسند نہیں بلکہ استعمال کرنے والے زیادہ لوگوں کی پسند کو دیکھنا پڑتا ہے۔ بلاگ یا ویب سائیٹ بناتے ہوئے یہ نہ دیکھئے کہ آپ کو کیا پسند ہے بلکہ یہ دیکھیئے کہ زیادہ لوگ کیا پسند کرتے ہیں۔ یہ دیکھئے کہ بلاگ پڑھنے والے مہمانوں کو آپ کتنی آسانی دیتے اور اُن کی کتنی مہمان نوازی کرتے ہیں۔ مہمان نوازی کے لئے درج ذیل چند چیزوں کا خیال رکھیں۔
    • سادگی اور ہلکے رنگوں کا انتخاب کریں کیونکہ سادگی فائدہ بھی دیتی ہے اور خوبصورت بھی ہوتی ہے۔
    • اہم اور ضروری روابط کو خاص اور نمایا جگہ پر رکھیں۔
    • ضرورت کے روابط کے علاوہ بے جا روابط اور دیگر غیر ضروری چیزوں کا استعمال آپ کے بلاگ کو جھنجال پورہ بنا دیتا ہے۔
    • مہمان یعنی قاری اپنا قیمتی وقت آپ کے بلاگ کو دیتا ہے، پڑھتا اور تبصرہ کرتا ہے۔ جواباً آپ بھی اس کی حوصلہ افزائی کریں۔
    • مہمان آپ کے بلاگ پر آتا ہے تو آپ بھی اس کی ضروریات کا خاص خیال رکھیں اور ضروری سہولیات مہیا کریں۔



    اب مندرجہ بالا نقاط کی تفصیل یعنی یہ کیوں ضروری ہیں۔
    سادگی اور ہلکے رنگوں کا انتخاب
    عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ بعض دوست بلاگ کو خوبصورت کرنے کے لئے بے شمار رنگوں کا استعمال کرتے ہیں جس سے ایک رنگ برنگا بلاگ تو بن جاتا ہے لیکن پڑھنے والوں کو مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔اگر آپ کو میری طرح رنگوں کا زیادہ استعمال پسند ہے تو ضرور زیادہ رنگ استعمال کریں لیکن اسے بلاگ کے ہیڈر یا چند ایک جگہ تک محدود رکھیں۔ جہاں عام طور پر مکمل پوسٹ ہوتی ہے وہاں کوشش کریں کہ بیک گراؤنڈ کا رنگ ہلکا یعنی سفید کے قریب ترین اور تحریر کا رنگ کالا رکھیں۔ کوئی چیز پڑھتے ہوئے اگر بیک گراؤنڈ کا رنگ گاڑھا ہو اور تحریر کا رنگ ہلکا ہو تو اس سے پڑھنے والے کو اکتاہٹ ہوتی ہے بلکہ کئی لوگوں کی نظر پر بھی فرق پڑتا ہے۔ اگر آپ انٹرنیٹ کی دنیا کی مشہور ویب سائیٹس دیکھیں تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ زیادہ تر سائیٹس بہت سادی بنائی گئی ہیں اور ہلکے رنگوں کا انتخاب کیا گیا ہے۔
    اہم روابط اور ان کا مقام
    میری نظر میں کسی بھی بلاگ کے لئے چار قسم کے روابط سب سے زیادہ ضروری اور اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ تازہ ترین تحریر، زمرہ جات (موضوعات)، صفحات اور تلاش کا ربط۔ عام طور پر بلاگ کے سانچوں کو بناتے ہوئے تازہ ترین تحریر تو بلاگ پر نمایا رکھی جاتی ہے اور کچھ پرانی اس کے ساتھ بالترتیب نیچے ہوتی ہیں اس لئے علیحدہ سے سائیڈ بار یا کسی اور جگہ تازہ ترین تحریروں کے روابط مہیا نہ ہی کئے جائیں تو بہتر ہوتا ہے۔ زمرہ جات کے روابط کسی بلاگ کے اہم ترین روابط ہوتے ہیں اس کو ہیڈر، سائیڈ بار یا جہاں بھی آپ کا دل ہو وہاں رکھیں لیکن ایسی جگہ پر رکھیں جہاں یہ نمایا نظر آئیں۔اس کے بعد ضروری روابط صفحات کے ہوتے ہیں جو عام طور پر کم ہی ہوتے ہیں۔ ان کو بھی کوئی اچھی جگہ دیں اور کوشش کریں کہ یہ بھی نمایا ہی ہوں۔تلاش کا ربط بھی اپنی ایک اہمیت رکھتا ہے اس کو بھی نمایا جگہ دی جانی چاہئے۔
    ان چار قسم کے روابط کے بعد کئی روابط ہوتے ہیں جیسے تازہ تبصروں کے روابط، آر ایس ایس، محفوظات اور دیگر روابط وغیرہ وغیرہ۔ یہ وہ روابط ہیں جن میں عام قاری یا پہلی دفعہ آنے والے قاری کو کوئی خاص دلچسپی نہیں ہوتی اور جن کو ان میں دلچسپی ہوتی ہیں وہ ان کو ڈھونڈ لیتے ہیں چاہے یہ کہیں بھی رکھے گئے ہوں۔ ویسے ان روابط کو استعمال کرنے والوں میں زیادہ لوگ وہ ہوتے ہیں جو عام طور پر آپ کے بلاگ کا دورہ کرتے ہیں اور پڑھتے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ آپ کے بلاگ کے کونے کونے سے واقف ہوتے ہیں اور انہیں کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔
    غیر ضروری روابط اور چیزوں کا استعمال
    اردو بلاگنگ میں نئے آنے والوں کے لئے آسانیاں پیدا کرنی ہوں گی تاکہ وہ اکتاہٹ کا شکار ہونے کی بجائے بلاگنگ کو آسان سمجھیں۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ بعض بلاگر دوست اپنے بلاگ پر طرح طرح کے روابط اور دیگر چیزیں لگائے ہوئے ہیں۔ اگر میں نے یہاں مثال کے طور پر بھی کوئی ربط یا چیز کہی تو کئی بلاگر دوستوں کی طرف سے فتوی آ جائے گا اس لئے میں یہاں مثال دینے سے پرہیز ہی کروں گا۔ آپ لوگ مجھ سے کئی گنا سمجھدار ہیں اس لئے خود ہی سمجھیں کیونکہ میری نظر میں بلاگ کے حوالے سے ان ربط اور چیزوں کی کوئی خاص ضرورت نہیں۔ کوشش کریں کہ ضرورت کے روابط اور چیزوں کے علاوہ بے جا روابط اور چیزوں کا استعمال نہ کریں اور اپنے بلاگ کو جھنجال پورہ بننے سے بچائیں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ فلاں فلاں ربط اور چیزوں کی بھی بلاگ پر ضرورت ہے اور ان کا استعمال آپ کے بلاگ کو جھنجال پورہ بھی بنا رہا ہے تو اس کا آسان حل یہ ہے کہ آپ ان کاموں کے لئے علیحدہ صفحہ بنائیں یا علیحدہ سائیڈ بار استعمال کریں۔ غیر ضروری چیزوں کے استعمال کا ایک نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ نئے بلاگر کے لئے بلاگ بنانے میں کئی مشکلات ہوتی ہیں اور جب وہ بلاگ بنا لیتا ہے تو لکھنے کی بجائے دوسروں کی دیکھا دیکھی فضول چیزوں کے حصول میں وقت ضائع کرتا ہے۔ کوشش کریں کہ سادگی کا سبق دیں اور نوجوانوں میں اپنا قیمتی وقت تعمیری کاموں میں لگانے کا جذبہ بیدار کریں۔
    تبصرہ کرنے والے کی حوصلہ افزائی
    قاری اپنا قیمتی وقت آپ کے بلاگ کو دیتا ہے، پڑھتا اور تبصرہ کرتا ہے جواباً آپ کو بھی چاہئے کہ اس کی حوصلہ افزائی کریں۔ قاری اگر کوئی سوال کرتا ہے تو کوشش کریں کہ جلد سے جلد اس کو جواب دیں۔ اس کے علاوہ جب چار پانچ تبصرے ہو جائیں یا ایک خاص وقت گزر جائے تو کوشش کریں کہ تمام تبصرہ کرنے والوں کا شکریہ ادا کریں۔ مزید تبصرہ کرنے والےکے بلاگ یا ویب سائیٹ کا ربط، اوتار اور اس کے بلاگ سے آخری تحریر کا عنوان بمعہ ربط اس کے تبصرے کے ساتھ ظاہر کرنے کا انتظام کریں۔ ان کاموں سے تبصرہ کرنے والے کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ آپ کے بلاگ کے ذریعے تبصرہ کرنے والے کے بلاگ کی تشہیر بھی ہو جائے گی۔
    قاری کے لئے سہولیات اور دیگر باتیں
    یوں تو بلاگ پر جتنی بھی سہولیات ہوتی ہیں ان میں زیادہ تر قاری اور تبصرہ کرنے والے کے لئے ہی ہوتی ہیں لیکن میرے خیال میں چند سہولیات ضرور دینی چاہئیں۔ جیسےبلاگ کو سادہ اور آسان فہم بنایا جائے تاکہ قاری اکتاہٹ کا شکار نہ ہو۔ ہر ربط اور چیز کو ایسے رکھا جائے کہ سب علیحدہ علیحدہ نظر آئیں نہ کہ ایک کے ساتھ دوسری ایسے ہو کہ لگے اسی کا ہی حصہ ہے۔ جن ٹیکسٹ باکس یا ایریا میں صرف انگریزی ہی لکھی جاتی ہو جیسے ای میل اور ویب سائیٹ کےٹیکسٹ باکس کے علاوہ ہر ٹیکسٹ ایریا میں اردو ویب ایڈیٹر کا استعمال ضرور کریں تاکہ اگر کسی کے کمپیوٹر پر اردو انسٹال نہ ہو تو وہ بھی آسانی سے اردو میں تبصرہ یا تلاش کر سکے۔ تحریر کی مناسبت سے اس کا فونٹ سائز بھی مناسب رکھیں تاکہ ایک عام قاری بھی آسانی سے پڑھ سکے۔تبصرے کا اقتباس دینے کے لئے ہر تبصرے کے ساتھ اقتباس دینے کے لنک کا انتظام کریں تاکہ تبصرہ کرنے والا اس کا آسانی سے استعمال کر سکے اور قاری کو آسانی سے پتہ چل سکے کہ کس تبصرے کا جواب دیا گیا ہے۔ کوشش کریں کہ تبصرہ کرنے والی جگہ پر جذبات ظاہر کرنے والی تصاویر کا بھی ایک حد تک انتظام کریں کیونکہ جو لوگ تحریر میں ان تصاویر کا استعمال کرتے ہیں وہ بھی خوش رہیں۔ بلاگ پر جس اردو فونٹ کا استعمال کر رہے ہیں اُس کا ڈاؤن لوڈ لنک ضرور اور نمایا جگہ پر دیں اور کوشش کریں کہ اردو کے عام طور پر استعمال ہونے والے فونٹس میں سے کوئی ایک یا چند فونٹ استعمال کریں۔ اپنے بلاگ پر یونیکوڈ اردو کی تنصیب کے حوالے سے کوئی نہ کوئی ربط ضرور دیں تاکہ یونیکوڈ اردو کا پیغام سب تک آسانی تک پہنچ سکے۔ میں نے اکثر دیکھا ہے کہ کئی ایسے لوگ ہیں جو انٹرنیٹ پر اردو تو لکھتے ہیں لیکن کمپیوٹر پر اردو کی تنصیب کے بارے میں کچھ نہیں جانتے اور انٹرنیٹ پر اردو لکھنے کے لئے اردو ویب ایڈیٹر کا ہی استعمال کرتے ہیں۔ مہربانی کر کے اگر ہو سکے تو اپنے بلاگ پر اردو کی تنصیب کا کوئی نہ کوئی ربط ضرور دیں۔
    مندرجہ بالا چند مشورے میری طرف سے اردو بلاگرز کے لئے ہیں۔ اگر آپ خود تھیم بنانا جانتے ہیں تو میرے خیال میں مندرجہ بالا مشوروں کو ضرور ذہن میں رکھیں اور اگر آپ خود سے تھیم نہیں بنا سکتے تو کسی ایسے تھیم کا انتخاب کریں جس میں مندرجہ بالا خصوصیات ہوں۔
    نوٹ:- یہ میرے چند مشورے ہیں اگر دل کرے تو اپنا لیں نہیں تو آپ رد کرنے کا پورا پورا اختیار رکھتے ہیں۔ یہ میری آج تک کی سوچ ہے۔ وقت اور ٹیکنالوجی کی تبدیلی کے ساتھ میری سوچ میں بھی تبدیلی آ سکتی ہے۔
     
  2. UmerAmer

    UmerAmer VIP Member

    بہت شاندار شئیرنگ کی ہے انکل
    شئیر کرنے کے لئے شکریہ​
     
    PakArt likes this.
  3. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

    Hello guest, Thank you for Register or you log to see the links!

    بہت شاندار شئیرنگ کی ہے انکل
    شئیر کرنے کے لئے شکریہ
    Click to expand...
    جی عمر لیکن ریپلائی بہت کم آئی ہین اتنی اہم پوسٹ پر۔۔۔۔
     

Share This Page