1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

امتحان میں نقل کرنا قرآن کی نظر میں

Discussion in 'حالاتِ حاضرہ' started by DilawerRizvi, Nov 5, 2016.

  1. DilawerRizvi

    DilawerRizvi Moderator

    کائنات کا کوئی ذرہ بھی ایسا نہیں ہے جہاں پر اﷲ کی نگاہ نہ ہو اﷲ ہر وقت دیکھتا ہے ہر حال میں دیکھتا ہے جب ہمارے بچے امتحان دیتے ہیں تو اُستاد ایک ہی بات کہتا ہے کے نقل نہ کرنا اﷲ دیکھ رہا ہے لیکن پھر بھی بچے امتحان میں نقل کرتے ہیں اس کی شاید یہ وجوہات ہوں:
    ۱)بچہ خوف زدہ ہے کے اگر میں فیل ہو گیا تو ماں باپ ماریں گے تا اُستاد سزا دے گا اس خوف سے بچہ نقل کرتا ہے اور پاس ہونے کی کوشش کرتا ہے یہاں پر ماں باپ اور اُستاد کو چاہئے جو بچے کلاس میں فیل ہیں اُن کو سمجھائیں اُن کو کامیاب افراد کی مثالیں دیں کے کس طرح انہوں نے پڑھ کر ملک و قوم کا نام روشن کیالیکن سختی نہ کریں کے بچہ گناہ کی طرف راغب ہو۔
    ۲)بچے دین سے دور ہوں تو امتحان میں نقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں یعنی گھر کا ماحول ایسا ہے کے بچے یہ سمجھ لیتا ہے کے بس دنیا ہی اچھی ہو دین کی خیر ہے اُس کے دل سے اﷲ کا خوف ختم ہونے لگتا ہے اور وہ امتحان میں نقل کرتا ہے اس لئے ہمیں چاہئے کے اپنے بچوں کو دین کی بنیادی معلومات فراہم کریں ،قرآن پاک کی تعلیم دلوائیں تا کہ اُس کے اثرات بچے کی زندگی پر ہوں اور وہ بہتر انداز میں اﷲ اور رسول ؐ کو سمجھ سکے۔
    ۳)کبھی ایسا بھی ہوتا ہے بچہ کلاس میں بے عزتی نہ ہو فیل ہونے پر بچے چھیڑیں نہیں تو نقل کرتا ہے یہ بات بھی غلط ہے کیوں کہ ایسی عزت کا کوئی فائدہ نہیں جو عزت اﷲ اور رسول ؐ کو ناراض کر کے حاصل کی جائے ،اور یاد رکھئے گا اگر امتحان میں نقل کر کے آپ پاس ہو بھی گئے تو کوئی بڑی بات نہیں کیوں کے آپ نے شیطان کو راضی کیا اور رحمن کو ناراض کیا۔اب یہ آپ کو سوچنا ہے کے کس کو راضی کرنا ہے رحمن کو یا شیطان کو۔

    اب ہم قرآن پاک کی طرف نگاہ کرتے ہیں امتحان میں نقل کرنے کے لئے اﷲ قرآن میں کیا کہتا ہے:
    ’’ان لوگوں نے ایک مکر کا ارادہ کیا تھا تو ہم نے بھی انہیں خسارہ والا اور ناکام قرار دے دیا‘‘(سورہ الانبیاء آیت ۷۰)
    ’’اور ان لوگوں کے لئے بد ترین عذاب ہے اور یہ آخرت میں خسارہ والے ہیں‘‘(نمل ۵)
    ’’پھر انہوں نے اپنے غلط کام کا مزہ چکھ لیا اور آخری انجام خسارہ ہی قرار پایا‘‘(سورہ طلاق آیت ۹)

    قرآن کی نگاہ میں ایسے لوگ خسارہ میں ہیں جو غلط کام کرتے ہیں (اور امتحان میں نقل کرنا بھی غلط کام ہے)اور یہ جو انسان مکر کر کے ادھر اُدھر دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کے اُستاد نہیں دیکھ رہا اﷲ قرآن میں فرما رہا ہے تم مکر کرنے کی بات کرتے ہو جب تم مکر کرنے کا ارادہ بھی کرتے ہو تو اﷲ کو پتا چل جاتا ہے اور تم کو خسارہ والوں(یعنی نقصان اُٹھانے والوں ) میں شمار کرتا ہے اب آپ کو فیصلہ کرنا ہے کے آپ کو رحمن والا بننا ہے یا شیطان والا۔​
     
  2. UrduLover

    UrduLover Work hard. Dream big. Staff Member

  3. BlackSoul

    BlackSoul Guest

Share This Page