1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

تعارف رب العالمین

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by IQBAL HASSAN, Nov 9, 2016.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Management


    تعارف رب العالمین

    انسان پیدا ہوا تو اس کی فطرت میں ایک نور بھرا گیا۔ یہی زمین پر زندگی اور ہدایت کا اصل سبب ہے۔ اس نور کی امانت انسان کی فطرت کو سونپی گئی۔ مگر چونکہ یہ انسان کی درماندگی کا تنہا علاج نہ تھا، سو اسے جلا دینے کو آسمان سے ایک اور نور اور ایک روح انبیاءکے جلو میں اتری، جسے فطرت اپنے سابقہ نور کی مدد سے پالیتی رہی۔ تب نبوت کی ضوفشانی سے فطرت کی مشعلیں جل اٹھیں۔

    فطرت کے نور پر وحی کا نور! نور علی نور!....پھر کیا تھا!؟ دل روشن ہوئے۔ چہرے دمکنے لگے۔ پثرمردہ روحوں کو زیست کی تازگی ملی۔ جبین نیاز میں تڑپتے سجدے حقیقت بندگی سے آشنا ہوئے۔ آسمان کی روشنی سے دل خیرہ ہوئے تو پھر زمین کے قمقمے جلنے نہ پائے۔ ایک بصیرت تھی کہ دل کی آنکھ چشم ظاہر سے آگے دیکھنے لگی۔ یقین کا نور ایمان کے سب حقائق منکشف کرنے لگا۔ پھر دل تھے گویا رحمن کے عرش کو پورے جہان سے اورپر دیکھتے ہیں۔ اس عرش کے اوپر انکے رب نے استوا فرما رکھا ہے۔ ہو بہو جیسے اسکی کتاب اور اسکے رسول نے خبر دی ہے۔ وہ اس عرش عظیم کے اوپر سے اپنے رب کو آسمان و زمین میں فرماں روا پاتے ہیں۔

    وہ وہیں سے حکم صادر فرماتا ہے۔ مخلوق کو چلاتا ہے۔ روکتا اور ٹوکتا ہے۔ بے حد و حساب خلقت کو وجود دئیے جاتا ہے۔ پھر ہر ایک کو کھلاتا اور رزق دیتا ہے۔ مارتا اور جلاتا ہے۔ فیصلے کرتا ہے جنکا کوئی حساب نہیں۔ کوئی فیصلہ نہیں جو اس عرش کے اوپر سے صادر ہو پھر دنیا میں لاگو نہ ہو پائے وہ کسی کو عزت و تمکنت دے۔ تو کسی کو ذلت و رسوائی۔ رات پلٹتا ہے تو دن الٹتا ہے۔ گردش ایام میں بندوں کے دن بدلتا ہے۔ تخت الٹتا ہے‘ سلطنتیں زیر و زبر کرتا ہے ایک کو لاتا ہے تو دوسرے کو گراتا ہے۔ فرشتے پروں کے پرے‘ حکم لینے کو اسکے حضور چڑھتے ہیں۔

    قطار اندر قطار حکم لے لے کر نازل ہوئے جاتے ہیں۔ احکامات ہیں کہ تانتا بندھا ہے۔ آیات اور نشانیوں کی بارش ہوئی جاتی ہے۔ اسکے فرمان کو اس کی مرضی کی دیر ہے کہ نافذ ہوا جاتا ہے۔ وہ جو چاہے‘ وہ جیسے چاہے۔ وہ جس وقت چاہے‘ جس رخ سے چاہے‘ ہو جاتا ہے۔ نہ کوئی کمی ممکن ہے نہ بیشی‘ تاخیر ہو سکتی ہے نہ تقدیم۔ اسی کا حکم چلتا ہے آسمانوں کی پنہائیوں میں زمین کی تنہائیوں میں۔ روئے زمین سے پا تال تک‘ وہ ہر لمحہ ہر نفس کا فیصلہ کرتا ہے۔ ہر سانس کا فیصلہ ہوتا ہے‘ ہر لقمے ہر نوالے کا فیصلہ ہوتا ہے۔ ہر نیا دن‘ ہر نئی صبح اور نئی شام‘ وہ چاہے تو دیکھنا نصیب ہوتی ہے۔ بحرو بر کا ہر ذی روح اسکا رہین التفات ہے۔

    جہان کے ہر کونے ہر ذرے کی قسمت ہر لمحہ طے ہوتی ہے۔ پورے جہان کو وہ جیسے چاہے الٹتا اور پلٹتا ہے۔ پھیرتا اور بدلتا ہے۔ ہر چیز کو علم سے محیط ہے۔ ہر چیز کو گن گن کے شمار رکھتا ہے۔ اسکی رحمت اور حکمت کو ہر چیز پہ وسعت ہے۔ وہ جہان بھر کی آوازیں بآسانی سن لیتا ہے۔ کیسی کیسی زبانیں ہونگی؟ کیسی کیسی فریادیں ہونگی؟ مگر وہ زمین و آسمان کے ہر کونے سے ہر لمحہ اٹھنے والا یہ مسلسل شور سنتا جاتا ہے۔ اس آہ وفغاں میں ہر ایک کی الگ الگ سنتا ہے اور صاف پہچان جاتا ہے ان سب کی بیک وقت سنتا ہے اور کسی ایک سے غافل نہیں!!۔

    پاک ہے اس سے کہ التجاؤں کے ازدحام میں اسکی سماعت کبھی چوک جائے۔ یا حاجتمندوں کی آہ و فریاد میں کبھی جواب دینا اسکو مشکل پڑ جائے۔ اسکی نگاہ محیط ہر چیز دیکھتی ہے۔ وہ رات کی تاریکی میں‘ اندھیری چٹان پر‘ سیاہ چیونٹی کے قدموں کی آہٹ پا لیتا ہے۔ ہر غیب اسکے لئے شہادت ہے۔ کوئی راز اس کے لئے راز نہیں وہ پوشیدہ سے پوشیدہ تر کو جان لیتا ہے۔ اسے وہ ہر راز معلوم ہے جو لبوں سے کوسوں دور ہو۔ جو دل کے گہرے کنویں میں دفن ہو یا خیال کی آہٹ سے بھی پرے ہو۔ بلکہ وہ راز وجود پانے سے پہلے اسے

    معلوم ہوتا ہے کہ کب اور کیسے وہ اس دل میں وجود پائے گا۔
     
  2. UrduLover

    UrduLover Work hard. Dream big. Staff Member

    [​IMG]
    Thank you
    اتنی اچھی پوسٹ کا شکریہ۔جزاک اللہ
     

Share This Page