1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice

گناہ اور إِیمان والے نفس کی جنگ ، کون کیسے جیتتا ہے؟

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by IQBAL HASSAN, Nov 9, 2016.

Share This Page

  1. IQBAL HASSAN
    Offline

    IQBAL HASSAN Designer
    • 83/98

    [​IMG]

    :::::: گناہ اور إِیمان والے نفس کی جنگ ، کون کیسے جیتتا ہے؟ :::::::
    :::::: اللہ کی خشیئت وہ صِفت ہے جو گناہوں کو مات کرتی ہے :::::::
    بِسّمِ اللہ الرّ حمٰنِ الرَّحیم
    بِسّم اللہِ و الحَمدُ لِلَّہِ وحدہُ و الصَّلاۃُ و السَّلامُ عَلٰی مَن لا نَبی بَعدَہُ والذی لَم یَتکلم مِن تِلقاء نَفسہِ و لَم یَکن کَلامُہ اِلَّا مِن وَحی رَبہُ ::: اللہ کے نام سے آغاز ہے اور تمام سچی تعریف صرف اللہ کے لیے ہے اور اللہ کی رحمت اور سلامتی ہو اُس پر جس کے بعد کوئی نبی نہیں اور جس نے نفس کی خواہش کے مطابق بات نہیں کی اور جس کی بات سوائے اُس کے رب کی وحی کے اور کچھ نہ ہوتی تھی
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
    گناہ کو ظاہر ہونے کا موقع اُسی وقت ملتا ہے جب سوچیں بے قابو ہوتی ہیں ، اور نفسانی خواھشات اُن پر حاوی ہوجاتی ہیں ، اور شیطان اُن کو خوب سجا سنوار کر رکھ دیتا ہے ، اُس وقت نفس اللہ کے ذِکر ، اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی تابع فرمانی سے غافل ہو جاتاہےاور معاشرتی زندگی میں بحیثیت مُسلمان اور بحیثیت اِنسان اپنی شرم و حیاءاور عِزت کو بھی بھول جاتا ہے ،
    ابو عبدالرحمٰن إحمد بن الحسین رحمہ ُ اللہ نے اپنی کتاب ‘‘‘‘‘ عیوب النفس ’’’’’ میں امام ابو بکر الرازی رحمہ ُ اللہ سے اُن کی سند کے مطابق سن کر اِبراھیم الخواص رحمہُ اللہ کا ایک بہت ہی حکمت بھرا قول نقل کیا ہے ، جِس کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ‘‘‘‘‘ گناہ کی ابتداء شائبہ کی صُورت میں ہوتی ہے ، جس کی سوچ میں ایسا کوئی شائبہ آئے اور وہ (گناہ کے لیے)کراہیت (کے احساس)کے ساتھ اس کو دُور کر دے تو وہ بچ جائے گا ، اور اگر ایسا نہیں کرے گا تو وہ شائبہ ، مخالف بن کر سامنے آئے گا ، اور اب اگر وہ شخص اُس مخالف کو (اِیمانی اور عِلمی)رَد کے ذریعے دُور کر دے تو وہ بچ جائے گا ، اور اگر ایسا نہیں کرے گا تو وہ مخالف ، وسوسہ بن جائے گا ، اور پھر اگر وہ شخص جسے یہ وسوسہ درپیش ہو ، اپنے نفس کو مضبوطی کے ساتھ اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اطاعت پر قائم رہنے کے مجاھدے کے ساتھ اُس وسوسے کو دُور کر دے تو وہ شخص بچ جائے گا ، اور اگر ایسا نہیں کرے گا تو اُس وسوسے میں سے شہوات اور گمراہیاں اُبل کر باہر نکل پڑیں گی اور اُس شخص کے اپنے پاس موجود ، اور اُس کے اِرد گِرد اُسے دکھائی دینے اور ملنے والے عِلم ،عقل اورسمجھ داری سب ہی کچھ کو اپنے اندر ڈھانپ لیں گی ( یعنی وہ شخص ایک شائبے کی صُورت میں شروع ہونے والے گناہ کا شِکار ہو ہی جائے گا )’’’’’ ،
    اچھے اِنسان کے ضمیر میں برے کاموں کے لیے اِنکار موجود ہوتا ہے ، اور مُسلمان کے اندر یہ اِنکار اللہ تبارک وتعالیٰ پر اِیمان اور اللہ کے خوف کی بنا پر کسی غیر مُسلم کی نسبت کہیں زیادہ مضبوط اور مستقل ہوتا ہے ، ایسے لوگوں کے اندر گناہوں اور برائیوں کی جاذبیت اور اُن کے لیے اِس اِنکار کے درمیان ایک مسلسل جنگ ہوتی رہتی ہے ، دونوں میں سے جس کی طرف دِل و دِماغ کا میلان اور توجہ زیادہ ہوتی ہے وہ دُوسرےپر غالب آجاتا ہے ،
    پس جب کسی مُسلمان کے دِل میں اللہ کی خشیئت کمزور پڑتی ہے گناہوں اور برائیوں کی جاذبیت اُسے لے ڈوبتی ہے اور وہ گناہوں کا شکار ہو جاتا ہے ، جِس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ گناہوں اور برائیوں کی جاذبیت اور اُن کی طرف توجہ کو کمزور کرتے کرتے اُنہیں بالکل ہی ختم کرنے کے لیے دِل و دِماغ میں اللہ تبارک تعالیٰ کے خوف کا قوی وجود دائمی طور پر لازم ہے ،کیونکہ اللہ جلّ و عُلا کے خوف کا غائب ہونا ، یا کمزور ہونا شیطان کے لیےبہترین موقع ہوتا ہے پس وہ اِس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اِنسان کے نفس کی بری خواہشات کو خوب مضبوطی کے ساتھ اُبھارتا ہے اور مزید نئی خواہشات بھی داخل کرتا ہے ،اور اُسے گناہ کرنے پر مائل کرتے کرتے اُس سے گناہ کروا ہی لیتا ہے ،
    علامہ محمد عبدالروؤف المناوی رحمہُ اللہ نے ‘‘‘‘‘ فیض القدیر شرح الجامع الصغیر/حدیث رقم 1505 ’’’’’کی شرح میں لکھا ہے ‘‘‘‘‘(اللہ کے)خوف کی قلت کے مطابق ہی گناہوں کی طرف مائل ہوا جاتا ہے ، اور اگر یہ خوف بالکل ہی کم ہو جائے اور غفلت اِنسان پر حاوی ہوجائے ، تو یہ اُس انسان کی بد بختی کی علامت ہے ، اور اِسی لیے کہا جاتا ہے کہ [ گناہ کفر کی پیش آمد ہوتے ہیں ] ’’’’’،
    یاد رکھیے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ سے خوف میں کمی کا نتیجہ صرف یہی نہیں ہوتاکہ اِنسان کا نفس گناہ سے جنگ ہار جاتا ہے اور گناہ اُس پر غالب آ جاتا ہے اور وہ اِنسان کوئی گناہ کر لیتا ہے ، اور آخرت میں اُس کے کھاتے میں ایک گناہ پڑ جاتا ہے ، جی نہیں ، معاملہ صرف اتنا ہی نہیں رہتا ، بلکہ اُس اِنسان کے سارے ہی اچھے اعمال غارت ہوجانے والے بن جاتے ہیں ،
    ثوبان رضی اللہ عنہ ُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا ﴿لأَعْلَمَنَّ أَقْوَامًا مِنْ أُمَّتِى يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِحَسَنَاتٍ أَمْثَالِ جِبَالِ تِهَامَةَ بِيضًا فَيَجْعَلُهَا اللہُ عَزَّ وَجَلَّ هَبَاءً مَنْثُورًا:::میں اپنی اُمت میں سے یقینی طور پر ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو قیامت والے دِن اِس حال میں آئیں گے کہ اُن کے ساتھ تہامہ پہاڑ کے برابر نیکیاں ہوں گی ،تو اللہ عزّ و جلّ ان نیکیوں کو (ہوا میں منتشر ہوجانے والا) غُبار بنا(کر غارت کر)دے گا﴾،
    تو ثوبان رضی اللہ عنہ ُ نے عرض کیا ‘‘‘‘‘يَا رَسُولَ اللَّهِ صِفْهُمْ لَنَا جَلِّهِمْ لَنَا أَنْ لاَ نَكُونَ مِنْهُمْ وَنَحْنُ لاَ نَعْلَمُ ::: اے اللہ کے رسول ، ہمیں اُن لوگوں کی نشانیاں بتائیے ،ہمارے لیے اُن لوگوں کا حال بیان فرمایے ، تا کہ ایسا نہ ہو کہ ہمیں انہیں جان نہ سکیں اور ان کے ساتھ ہوں جائیں’’’’’
    تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا ﴿ أَمَا إِنَّهُمْ إِخْوَانُكُمْ وَمِنْ جِلْدَتِكُمْ وَيَأْخُذُونَ مِنَ اللَّيْلِ كَمَا تَأْخُذُونَ وَلَكِنَّهُمْ أَقْوَامٌ إِذَا خَلَوْا بِمَحَارِمِ اللہِ انْتَهَكُوهَا:::وہ لوگ تُم لوگوں کے (دینی)بھائی ہوں گے اور تُم لوگوں کی جِلد (ظاہری پہچان اِسلام )میں سے ہوں گے ، اور رات کی عبادات میں سے اُسی طرح (حصہ)لیں گے جس طرح تم لوگ لیتے ہو(یعنی تُم لوگوں کی ہی طرح قیام اللیل کیا کریں گے)لیکن اُن کا معاملہ یہ ہوگا کہ جب وہ لوگ اللہ کی حرام کردہ چیزوں اور کاموں کو تنہائی میں پائیں گے تو اُنہیں اِستعمال کریں گے﴾سُنن ابن ماجہ /حدیث/4386کتاب الزُھد/باب29، امام الالبانی رحمہُ اللہ نے صحیح قرار دِیا ،
    لہذا یاد رکھیے کہ اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ سے خوف کا فقدان صرف ایک یا چند ایک گناہوں کے اِرتکاب اور اُن گناہوں کی سزا کا ہی سبب نہیں ہوتا بلکہ ساری ہی نیکیوں کے ضائع ہوجانے کا سبب بھی بن سکتا ہے ،
    اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ سے خوف میں کمی یا اُس کا فُقدان یقیناً ایک بیماری ہے جو اِیمان کو خاتمے تک لے جاتی ہے ،




    [​IMG]
     
  2. IronMan
    Offline

    IronMan My Name is Zain Khan from Islambad Staff Member
    • 28/33

Share This Page