1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

بدزبانی

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by IQBAL HASSAN, Nov 10, 2016.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Super Moderators

    [​IMG]
    بدزبانی
    [​IMG]

    یہ خرابی اِس ملک میں بکثرت ہے۔ گھر ہو، یا بازار، جہاں دیکھو موجود ہے۔ اِس میں عورتیں مردوں سے بھی بڑھی ہوئی ہیں۔ محلّے یا گاؤں میں کوئی دن ایسا نہ ہوگا، کہ عورتیں ایک دوسرے کو گالی گلوج نہ کرتی ہوں۔
    بد زبانی کا نشانہ فقط اِنسان ہی نہیں۔ بلکہ بے زبان حیوانات کو بھی جاہل گاڑی بان ، یکّے والے، زمیندار وغیرہ وہ بے نقط سُناتے ہیں۔ کہ شیطان بھی پناہ مانگے۔ بہت سی گالیاں تو ایسی دیتے ہیں۔ کہ اُن کا مصداق وہ خود ہی ہوتے ہیں۔ کاش وہ اپنی زبان کو لگام دیکر رکھیں۔
    بد زبانی وہ بُری شے ہے، کہ اِس سے یارانِ قدیم ایک دوسرے سے جُدا ہو جاتے ہیں۔ بعض لوگ مذاق میں اِس کو جائز خیال کرتے ہیں، مگر یہ اُن کی سخت غلطی ہے۔ گالی کہیں جائز نہیں، اس کا نتیجہ ہمیشہ دشمنی ہوتا ہے۔
    بدزبانی کا علاج دو طرح سے ہوتا ہے۔ ایک علمی اور دوسرا عملی ۔ علمی علاج تو یہ ہے۔ کہ اِنسان سوچے کہ گالی دینے سے خدا نے منع فرمایا ہے۔ دنیا کا کوئی مذہب ایسا نہیں، جو اِسکی اجازت دیتا ہو، گالی دینے والا دو گناہ کرتا ہے۔ ایک تو گالی دینا جس کا خراب اثر خود اُس کے اخلاق پر پڑتا ہے۔ اوردوسرا غیر کو گالی سکھانا ، کیونکہ جب دوسروں کو گالی دی جائے، وہ بھی اس کے عوض میں گالی دیں گے۔
    عملی علاج یہ ہے۔ کہ بچپن ہی سے اِس خرابی کو روکا جائے۔ والدین بچے کے سامنے کبھی بد زبانی کو کام میں نہ لائیں۔ اور اُسے شریر بدزبانوں کی صحبت سے
    بچائیں۔ مدرسے میں اُستاد بھی اِس سے روکیں، اگر اِس طرح عمل کیا جائے۔ تو بچہ عمر بھر کے لئے بدزبانی سے محفوظ رہے گا۔
    ہمارے ملک میں بدزبانی کی کثرت کا باعث یہ ہے۔ کہ بچوں کی تربیت اچھی نہیں ہوتی۔ اگر بچہ والدین کے سامنے کسی کو گالی دے۔ تو وہ اُسے روکتے نہیں۔ بلکہ روکنے کو خلاف مقتضائے محبت سمجھتے ہیں۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے۔ کہ بعض دفعہ بچہ اپنی ماں کو بھی گالیاں دے دیتا ہے۔ مگر وہ اِس پر فقط ہنس دیتی ہے۔ اگر اُسے بچے کی نسبت کچھ کہا جائے۔ تو کہہ دیتی ہے، کہ بڑا ہو کر خود درست ہو جائے گا۔ افسوس! وہ نہیں جانتی، کہ جوں جوں بچہ بڑا ہو گا۔ یہ بُری عادت بھی زور پکڑتی جائے گی۔ پھر اِس کا دُور کرنا نہایت مشکل ہو گا۔ کاش! یہاں کی عورتیں اِن باتوں پر غور کریں۔


    [​IMG]
     
  2. UmerAmer

    UmerAmer VIP Member

    جزاک اللہ خیرا​
     
  3. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

    [​IMG]
    [​IMG]
    بہت شکریہ مزید پرکشش اور دلکش ڈاک کا انتطار رہے گا
     
  4. UrduLover

    UrduLover Work hard. Dream big. Staff Member

    بہت عمدہ اشتراک کیا ہے۔ہمیں اللہ اس تحریر کو پڑھنے کی تو فیق عطا فرمائے۔شکریہ
     
  5. AllRounder

    AllRounder Guest

    شکریہ ایسی مزید پوسٹنگ کا انتظار رہے گا
     
  6. BlackSoul

    BlackSoul Guest

    Masha Allah Nice post sir Iqbal,mazeed aisi posting ka intzar rehey ghaa,Jazak Allah
     
  7. PakWatan

    PakWatan Regular Member

    بہت عمدہ پوسٹ ہے۔مزید کا منتطر رہیں گے
     

Share This Page