1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

کنجوسی اور فضول خرچی

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by IQBAL HASSAN, Nov 10, 2016.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Management

    [​IMG] [​IMG] [​IMG] [​IMG]

    کنجوسی وہ ملکہ ہے۔ جو اِنسان کو مال خرچ کرنے سے روکتا ہے۔ جہاں مذہب یا مروّت کی رو سے خرچ کرنا واجب ہو۔
    فضول خرچی وہ ملکہ ہے۔ کہ جس سے انسان ایسی جگہ مال خرچ کرے۔ جہاں مذہب یا مروّت کی رو سے جا ئز نہ ہو۔
    کنجوسی بُری شے ہے۔ کنجوس دن رات جمع کرنے کی فکر ہی میں رہتا ہے۔ اور مال سے نہ خود فائدہ اُٹھاتا ہے۔ اورنہ دوسروں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ دنیا میں بخیل کی کوئی عزت نہیں کرتا۔ بلکہ اُس کی بیوی اور بال بچے بھی تنگ آ کر اُس کی موت کی دعا کرتے ہیں۔ چونکہ وہ مال کے متعلق حقوق کو ادا نہیں کرتا۔ اِس لئے عاقبت میں بھی ذلیل ہی ہوگا۔
    کنجوسی کا سبب مال کی محبت ہے۔ حُبِّ مال کے اسباب اور اُن کا علاج بدیں تفصیل ہے۔
    اوّل:۔ اولاد کی محبت
    اِس کا علاج یہ ہے کہ انسان سوچے، کہ ہر ایک بندے کے ساتھ خدا نے اُس کا رزق پیدا کیا ہے۔ کئی لڑکے ایسے ہیں۔ کہ جن کے باپ کا ترکہ کچھ نہ تھا۔ مگر اُن کا حال دوسروں سے اچھا ہے۔ کہ جن کے باپ بہت سی جائیداد چھوڑ کر مرے۔ اگر اولاد نیک ہو۔ تو خدا اُن کے لئے کافی ہے۔ اگر بدکار ہو، تو اُس مال سے کئی قسم کے گناہ کریں گے۔ جن کی باز پرس باپ سے بھی ہوگی۔ بشرطیکہ اُسے اُن کی بدکاری معلوم ہو، یا اُن کی بدکاری کا ظن ہو۔
    دوم: مال کی خوشی
    بعض لوگ خصوصاً بوڑھے ایسے ہوا کرتے ہیں، کہ وہ اپنے مال کو فقط دیکھ کرخوش ہوتے ہیں۔ اور اُسے اپنی خوراک و پوشاک میں بھی خرچ کرنا گوارا نہیں کرتے۔ یہ بڑا سخت مرض ہے۔ اِس کا علاج یہ ہے۔ کہ وہ بخیلوں کی بدحالی و بدنامی اور سخیوں کی خوشحالی ونیک نامی کو مد نظر رکھیں۔ اور بہ تکلّف مناسب خرچ کرنا شروع کریں۔ یہاں تک کہ آہستہ آہستہ کنجوسی کا مرض جاتا رہے۔
    سوم: دنیا کی لذتوں کی محبت
    اِس کا علاج یہ ہے، کہ زہد اختیار کرے اور اپنی ناپائیداری اور آخرت پر نظر ڈالے۔
    کنجوسی کی طرح فضول خرچی بھی بُری ہے۔ مال اللہ تعالیٰ کی نعمت اور آخرت کی کھیتی ہے۔ کیونکہ معاد و معاش کا انتظام اسی سے ہوتا ہے۔ سعادتِ دارین کا ذریعہ یہی ہے۔ بدن جو آلۂ طاعت ہے، اُس کی غذا اور لباس اور مسکن اِسی سے حاصل ہوتا ہے۔ اِسی کی بدولت انسان سوال کی ذلّت سے بچتا ہے۔ سخیوں کا درجہ اِسی سے حاصل ہوتا ہے۔ اِسی سے صلۂ رحم ہو سکتا ہے۔ غریبوں اور محتاجوں کی حاجتیں اِسی سے پوری ہوتی ہیں۔ نفع عام کے کام مثلاً عبادت گاہیں۔ مدرسے۔ کنوئیں، مہمان سرائے اور پُل اِسی سے بنتے ہیں۔ دنیا کے بڑے بڑے کارخانے اِسی سے چلتے ہیں۔ اور بعض بڑے عہدے اِسی کی بدولت ملتے ہیں۔ اِس لئے مال کو دینی یا جائز دنیوی فائدے کے بغیر ضائع کرنا نعمت کی ناشکری ہے۔ جس کا انجام عذاب الہٰی اور زوالِ نعمت ہے۔
    فضول خرچی کئی طرح سے ہوتی ہے۔ ہندوستان کے لوگ ننگ و ناموس کی خاطر اکثر مرگ و شادی کے موقعوں پر حیثیت سے بڑھ کر کام کرتے ہیں۔ اگر پاس نہ ہو۔ تو دوسروں سے سود پر قرض لیکر ناچ رنگ وغیرہ میں اُڑادیتے ہیں۔ قرض تو درکنار اُس کا سود بھی اُن سے ادا نہیں ہوسکتا۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے، کہ مکان ہو تو نیلام ہو جاتا ہے، اور زمین ہو تو رہن یا بیع ہو جاتی ہے۔ اورجائیداد منقولہ جو ہو وہ قرق ہو جاتی ہے۔ اِس وقت اُن سے پوچھنا چاہئے، کہ وہ ننگ و ناموس کہاں ہے؟ عمارت میں بھی بہت لوگ فضول خرچی کر جاتے ہیں۔ دوسروں کے چار منزلے مکان دیکھ کر اُن کے دل میں برابری کی اُمنگ پیدا ہو جاتی ہے۔ آخر عمارت اُنہیں غارت کردیتی ہے۔
    بعض دولتمند شراب و کباب وغیرہ ہی میں برباد ہو جاتے ہیں۔ اِس سے یہ نہ سمجھنا کہ گناہ میں ہزاروں روپے خرچ کرنا ہی فضول خرچی ہے۔ نہیں بلکہ گناہ میں تو ایک کوڑی بھی خرچ کرنا فضول خرچی میں داخل ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے۔ کہ آیا صدقے میں بھی فضول خرچی ہوتی ہے؟ کسی نے حاتم سے کہا۔ کہ اسراف میں نیکی نہیں۔ اُس نے جواب دیا۔ کہ نیکی میں اسراف نہیں۔
    اِس سے بعض لوگوں نے خیال کیا ہے، کہ صدقے میں کسی حالت میں فضول خرچی نہیں۔ اُن کا یہ خیال عموماً درست ہے۔ مگر بعض صورتیں ایسی بھی ہیں۔ کہ جن میں صدقے میں بھی فضول خرچی ہے۔ چنانچہ اگر کوئی شخص مقروض ہو، اور وہ اپنا کل مال خیرات کردے۔ تو یہ فضول خرچی ہے۔ اُسے چاہئے کہ پہلے قرض ادا کرے، یا اتنی خیرات کرے، کہ قرض ادا کرنے کے لئے اُس کے پاس باقی بچا رہے۔
    اِسی طرح اگر کوئی شخص اپنا تمام مال راہِ خدا میں دیدے۔ اور اہل و عیال کے لئے کچھ نہ چھوڑے۔ اور وہ صبر بھی نہ کرسکتے ہوں۔ تو یہ فضول خرچی ہے، جس شخص
    کے ہاں اہل و عیال نہ ہوں، اگر وہ اپنا تمام مال صدقہ کردے، اوراُسے اپنے نفس پر بحالتِ اضطرار صبر کا اعتماد نہ ہو۔ تو یہ بھی فضول خرچی ہے۔ مال کے مصارف کی ترتیب یہ ہونی چاہئے۔ اول اپنی ذات ، پھر اہل وعیال، پھر رشتے دار، پھر فقراء۔ اگر کوئی شخص پہلے فقراء کو دے۔ حالانکہ خود اُسے یا اُس کے اہل و عیال یا رشتہ داروں کو اُس کی ضرورت ہو اور صبر کرنے کی بھی طاقت نہ ہو۔ تو یہ بھی فضول خرچی میں داخل ہے۔
    فضول خرچی کا علاج دو طرح سے ہوتا ہے۔ علمی اور عملی، علمی علاج تو یہ ہے۔ کہ فضول خرچی کے نقصانات پر جو اوپر بیان ہوئے ، نظر ڈالے۔ عملی علاج اسباب کی شناخت پر موقوف ہے۔ اس لئے فضول خرچی کے اسباب اور اُن کے ازالے کے طریقے ذیل میں لکھے جاتے ہیں۔


    [​IMG] [​IMG] [​IMG] [​IMG]
     
    PakArt likes this.
  2. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Management

    [​IMG] [​IMG] [​IMG] [​IMG]

    اوّل: کم عقلی
    کم عقلی عموماً جبلّی ہوتی ہے۔ مگر اُس کے ساتھ اور اسباب بھی جمع ہو جاتے ہیں۔ جن سے فضول خرچی کو تقویت پہنچتی ہے۔ دولتمندوں اور امیروں، منصبداروں اور مشائخ کے لڑکے اکثر ایسے کم عقل ہوتے ہیں، کہ انہیں مال کا ٹھیک استعمال نہیں آتا۔ باپ کی آنکھیں بند ہوتے ہی تمام مال مفت ہاتھ لگ جاتا ہے۔ آنکھیں بند کر کے بیدردی سے خرچ کرنا شروع کردیتے ہیں۔ اُن کے ہم صحبت یار بھی فضول خرچی ہی کی ترغیب دیتے ہیں۔ مفت خورے اور خوشامدی بھی گِدوں کی طرح آموجود ہوتے ہیں۔ اور چند ہی روز میں تمام جائداد کا صفایا کر کے کافور ہو جاتے ہیں۔ ایسے کم عقل کا علاج بہت دشوار ہے۔ اُسے بدکاروں اورخوشامدیوں کی صحبت سے روکا جائے۔ داناؤں کی صحبت اُس پر لازم کردی جائے۔ فضول خرچی کی خرابیاں ہر وقت اُس کے گوش گزار ہوتی رہیں۔ اگر قرینِ مصلحت ہو، تو عتاب و عقاب سے بھی کام لیا جائے۔
    دوم: نادانی
    بعض لوگ فضول خرچی اور سخاوت میں تمیز نہیں کرسکتے۔ اِس لئے وہ فضول خرچی کرتے ہیں، اور اُسے سخاوت سمجھتے ہیں۔ اِس کا علاج تعلیم ہے۔
    سوم: ریاکاری
    بعض لوگ دوسروں کے دکھانے کے لئے خرچ کرتے ہیں۔ اُن کی غرض صرف یہ ہوتی ہے۔ کہ لوگ اُن کی تعریف کریں۔ مگر یہ معلوم رہے، کہ ریاکاروں کو کوئی ثواب نہ ملے گا۔ قیامت کے دن خدا تعالیٰ ناراض ہو کر اُنہیں حکم دے گا۔ کہ تم اپنے اعمال کا اجر لینے کے لئے اُن لوگوں کے پاس جاؤ، جن کے لئے تم نے وہ عمل کئے تھے۔ ریا کا علاج یہ ہے، کہ اُس کی قباحتوں پر نظر ڈالے، اوراخلاص اختیار کرے۔
    چہارم: سُستی
    بعض دولتمندایسے سُست ہو جاتے ہیں کہ اپنے مال کی بھی خبر گیری نہیں کرتے۔ اگر بیجا خرچ ہو رہا ہو۔ تو اُنہیں کچھ پروا نہیں۔ اِس کا علمی علاج یہ ہے۔ کہ سوچے کہ خدا نے ہمیں کام کے لئے پیدا کیا ہے۔ ایک جگہ پڑے رہنا جمادات کا خاصہ ہے۔ عملی علاج یہ ہے۔ کہ سُست آدمیوں کی صحبت سے پرہیز کیا جائے۔ اور محنتی لوگوں کی صحبت لازم کردی جائے۔
    پنجم: اخلاقی یا مذہبی کمزوری
    بعض لوگ مجلسوں میں دوسروں کو گناہ میں روپیہ خرچ کرتے دیکھ کر آپ بھی شرم کے مارے اُن کی تقلید کرتے ہیں۔ عزیزو! ذرا سوچو! بندوں سے شرم کیا؟ خدا سے حیا چاہئے۔ اور اُن لوگوں کی صحبت اختیار کرنی چاہئے۔ جو اخلاق ومذہب میں ثابت قدم ہوں۔
    فضول خرچی اور کنجوسی کے عین وسط میں فضیلتِ سخاوت واقع ہے۔ سخاوت وہ خوبی ہے۔ کہ جس میں دین و دنیا کی سعادت ہے، دین کی سعادت تو ظاہر ہے۔ کہ ایک پیسہ خرچ کرے تو عاقبت میں دس لے۔ دنیا کی سعادت یوں ہے کہ سخاوت سے دوسروں کے دل ہاتھ میں آجاتے ہیں۔ اِس لئے سخی کے دنیوی مقاصد آسانی سے پورے ہو جاتے ہیں۔ ایک حکیم سے پوچھا گیا۔ کہ وہ کونسا عیب ہے، کہ جس سے تمام ہُنر پوشیدہ ہو جاتے ہیں؟ اُس نے جواب دیا: بُخل ، پھر پوچھا گیا، کہ وہ کونسا ہُنر ہے، کہ جس سے تمام عیب چھپ جاتے ہیں۔ فرمایا : سخاوت۔
     
    PakArt likes this.
  3. UmerAmer

    UmerAmer VIP Member

    جزاک اللہ خیرا​
     
  4. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

    [​IMG]
    [​IMG]
    بہت شکریہ مزید پرکشش اور دلکش ڈاک کا انتطار رہے گا
     
  5. UrduLover

    UrduLover Work hard. Dream big. Staff Member

    بہت عمدہ اشتراک کیا ہے۔ہمیں اللہ اس تحریر کو پڑھنے کی تو فیق عطا فرمائے۔شکریہ
     
  6. AllRounder

    AllRounder Guest

    شکریہ ایسی مزید پوسٹنگ کا انتظار رہے گا
     
  7. BlackSoul

    BlackSoul Guest

    Masha Allah Nice post sir Iqbal,mazeed aisi posting ka intzar rehey ghaa,Jazak Allah
     
  8. PakWatan

    PakWatan Regular Member

    بہت عمدہ پوسٹ ہے۔مزید کا منتطر رہیں گے
     

Share This Page