1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم کی سماجی زندگی

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by IQBAL HASSAN, Nov 10, 2016.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Management

    [​IMG] [​IMG] [​IMG] [​IMG]
    رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم کی سماجی زندگی
    [​IMG] [​IMG] [​IMG] [​IMG]

    تاریخ عالم میں اگر کوئی ایسی ہستی تلاش کی جائے جس کی پوری زندگی پورے اعتماد کے ساتھ محفوظ ہو، جس کی سیرت انسانی سماج کے ہر فرد کے لیے رہنمائی رکھتی ہو، جس کی حیات طیبہ کو ہر شعبہٴ زندگی کے لیے ایک بہترین آئیڈیل کے طور پر پیش کیاجاسکے یعنی ایسی ہستی جس میں جامعیت، کاملیت اور تاریخیت اپنے پورے جمال وجلال کے ساتھ جلوہ گر ہو، تو ہزارہا برس کی طویل انسانی تاریخ میں صرف ایک ہستی ایسی ملے گی اور وہ ہوگی فخر کائنات سید الانبیاء محمد عربی صلى الله عليه وسلم کی، جس کے مثل نہ تو اس سے پہلے کوئی ہستی عالم وجود میں آئی اور نہ آئندہ ایسی جامعیت، کاملیت اور تاریخیت کے اوصاف کسی انسانی وجود کو نصیب ہوسکیں گے۔

    رسول اللہ صلى الله عليه وسلم جس دین کو لے کر آئے وہ جامع اور مکمل دین ہے،اس کی تعلیمات زندگی کے ہر ہرگوشہ اورہرہرشعبہ کے لیے بھرپور ہے،اس دین کی بنیادی کتاب قرآن مجید میں اس کی کاملیت کااعلان کیاگیا ہے: ”اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ“ آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا تم پر اپنی نعمت پوری کردی۔ اس کتاب مقدس کی شرح کا نام سنت نبوی ہے اور اسی کا دوسرا نام سرورعالم صلى الله عليه وسلم کی حیات طیبہ ہے، سنت نبوی نے کتاب الٰہی کی ہر ہدایت کو عمل کے سانچے میں ڈھال کر انسانوں کے سامنے پیش کیا، اور راہ حیات کو ایسا روشن و منور کردیا کہ اس کی شب بھی ایک ضیاء بار دن کی مانند بن گئی، ارشاد ہوا: تَرَکْتُکُمْ عَلٰی مِلَّةٍ بَیْضَاءَ لَیْلُہَا کَنَہَارِہَا سَوَاءٌ (حدیث) میں نے تم کو ایسی روشن راہ پر چھوڑا ہے جس کی رات بھی اس کے دن کی طرح ہے۔

    حیات طیبہ کی یہ جمال وجلال آفریں روشنی اور ضیاء بار کرنیں انسانی زندگی کے ہر شعبہ پر یکساں پڑتی ہے۔ سیاسی زندگی ہو یا معاشی زندگی، انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی زندگی، سماجی زندگی ہو یا زندگی کا کوئی اورایسا پہلو، اور پھر زندگی کے کسی بھی شعبہ کا کوئی بھی مرحلہ درپیش ہو، سیرت طیبہ کے بحر بیکراں میں اس کی ہدایت و رہنمائی کی درنایاب موجود ملتے ہیں،اس لیے کہنے والے نے درست کہا ہے: انسانی زندگی اپنے حقیقی روپ میں سماج کے اندر ہی جلوہ فگن ہوتی ہے۔ رسول کریم صلى الله عليه وسلم کی پاکیزہ زندگی انسانی سماج کے لیے بیش بہا متاع گراں مایہ ہے، بہتر انسانی سماج کی تشکیل اور ہر فرد سماج کی فلاح و بہبود حیات طیبہ کی وہ عطر بیزی ہے جس کی خوشگوار بھینی بھینی خوشبوؤں سے انسانی چمن بارہا معطر ہوتا رہتا ہے۔ سماج افراد سے وجود میں آتا ہے اور افراد کی جان عزت اور مال و آبرو کا تحفظ اس کے وجود و بقاء کے لیے لازم ہوتا ہے، رسول کریم صلى الله عليه وسلم کی حیات طیبہ نے انسانی جان کو اتنا محترم اور قیمتی بنایا کہ ناحق کسی انسان کی جان لینے کو نہ صرف بہت بڑا گناہ بتایا، بلکہ ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے برابر قرار دیا، اوراس دروازے کو سختی سے بند کرنے کا مضبوط نظام قائم فرمایا۔ عزت و آبرو اور دوسرے کے مال پر کسی قسم کی دست درازی کو سخت تعزیری جرم قرار دے کر ہر فرد کی عزت اور مال کے تحفظ کی ضمانت فراہم فرمائی۔

    رسول کریم صلى الله عليه وسلم کی سماجی زندگی ایک بہترین اور مکمل انسان کی زندگی ہے، جس کے اخلاق فاضلہ کی روشنی سے ہر دور کے انسانی سماج کو منور کیا جاسکتاہے، رسول صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں میں کامل ایمان اس کاہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔“ آپ صلى الله عليه وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ ”انسان حسن اخلاق سے وہ درجہ پاسکتا ہے جو دن بھر روزہ رکھنے اور رات بھر نماز پڑھنے سے ملتا ہے“ اخلاق کو اتنی اہمیت اس لیے دی گئی کہ انسانی سماج کی بہتر تشکیل اخلاقی خوبیوں کی بنیاد پر ہی ہوتی ہے، خود آپ صلى الله عليه وسلم کی حیات طیبہ اخلاق کے بلند مقام پر تھی، قرآن نے کہا: ”اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ“ بے شک آپ اخلاق کے بڑے درجے پر ہیں۔

    مساوات و برابری اور عدل وانصاف بہتر انسانی سماج کی تشکیل کیلئے ضروری ہیں۔رسول صلى الله عليه وسلم کی حیات طیبہ میں مساوات اور انصاف کی روشن مثالیں ملتی ہیں۔ ایک مرتبہ قریش کی ایک خاتون چوری کے جرم میں پکڑی گئی، بعض عزیز ترین صحابہ نے اس کی سفارش کرنا چاہی تو آپ صلى الله عليه وسلم نے ان کی نہ سنی، اور فرمایا: ”تم سے پہلے کی قومیں اس لیے تباہ ہوئیں کہ جب ان میں معمولی لوگ گناہ کرتے تھے تو ان کو سزا دی جاتی تھی اور جب بڑے لوگ کرتے تو ان کا جرم نظر انداز کردیاجاتا تھا۔“

    مظلوموں کو مدد اور محتاجوں کی اعانت آپ صلى الله عليه وسلم کا شیوہ رہا ہے، مکہ مکرمہ کی زندگی میں جب ایک مظلوم نے مدد کے لیے خانہٴ کعبہ کے پاس فریاد کی تواس کی مدد کے لیے چند دیگر افراد کے ساتھ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم بھی کھڑے ہوئے، عبداللہ بن جدعان کے گھر میں انھوں نے باہم مشورہ کرکے ایک جماعت بنائی اور یہ عہد کیا کہ مکہ میں جس شخص پر بھی ظلم کیا جائے گا ہم سب اس مظلوم کی مدد کریں گے۔ یہ معاہدہ تاریخ میں ”حَلَفُ الْفُضُول“ کے نام سے سنہرے حروف میں لکھا گیا ہے۔ ظلم کے خلاف متحد ہوکر آواز بلند کرنا اورمظلوم کو اس کاحق دلانا رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو اس قدر محبوب تھا کہ مدنی زندگی میں بھی ایک بار آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: کہ اگر مجھے آج بھی خلف الفضول میں بلایا جائے تو میں اسے قبول کروں گا۔ سماج کے کمزور افراد کی خبرگیری اور مدد آپ صلى الله عليه وسلم کی حیات طیبہ کی روشن مثالیں ہیں۔ ایک صحابی حضرت خباب رضي الله تعالى عنه کسی لشکر میں گئے ہوئے تھے، ان کے گھر میں کوئی دوسرا مرد نہ تھا، اور عورتوں کو دودھ دوہنا نہیں آتا تھا، آپ صلى الله عليه وسلم روزانہ ان کے گھر جاکر دودھ دوہ آتے تھے، دوسروں کے کام کردینا آپ صلى الله عليه وسلم کو اس قدر محبوب تھا کہ ایک دفعہ نماز کے لیے جماعت کھڑی ہوچکی تھی، اسی دوران ایک بدو نے آپ صلى الله عليه وسلم کا دامن پکڑ کر کہا میرا تھوڑا ساکام رہ گیا ہے، آپ پہلے اسے کردیجئے۔ آپ صلى الله عليه وسلم چپ چاپ اس کے ساتھ ہولیے، اوراس کا کام پورا کرنے کے بعد نماز کے لیے تشریف لائے۔ مکہ میں ایک بار قحط پڑگیا۔ اہل مکہ جو مسلمانان مدینہ کے جانی دشمن بنے ہوئے تھے، رسول کریم صلى الله عليه وسلم نے ان کے ساتھ انسانی حسن سلوک کا اعلیٰ نمونہ قائم کرتے ہوئے مسلمانوں کی غربت وتنگدستی کے عالم میں بھی پانچ سو دینار جمع کرکے سرداران مکہ کو بھیجے کہ وہ قحط کے شکار لوگوں کی مدد کرسکیں۔

    رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی ذاتی اور گھریلو زندگی پرنظر ڈالی جائے تو وہ ایک عام انسان کی طرح روزمرہ کے کاموں اورہر دکھ درد میں شریک نظر آتے ہیں، بکری کا دودھ دوہ دیتے، خادموں کو ان کے کاموں میں مدد دیتے، بازار ے سودا خریدلاتے اور کوئی دعوت دیتا تو فوراً قبول کرلیتے تھے۔ سماجی تعاون اور خوشی و غمی میں شرکت کے لیے کوئی مذہبی رکاوٹ آپ کی راہ میں حائل نہیں تھی۔ ایک یہودی خاتون کی دعوت آپ نے قبول فرمائی، اوراس کا کھانا کھایا، اسی طرح ایک یہودی لڑکا بیمارہواتو آپ صلى الله عليه وسلم اس کی مزاج پرسی کے لیے تشریف لے گئے، ایک بار نجران کے عیسائیوں کا وفد مدینہ آیا، تو آپ صلى الله عليه وسلم نے خود مہمانداری کی، اور وفد کے اراکین کو مسجد نبوی میں ٹھہرایا۔ حق و انصاف کے معاملہ میں بلا تفریق مذہب ہر انسان آپ کی نظر میں برابر تھا۔ اگرکبھی اختلاف ہوتاتو ناحق کسی مسلمان کا ساتھ نہیں دیتے تھے۔



    [​IMG] [​IMG] [​IMG] [​IMG]
     
    PakArt likes this.
  2. UmerAmer

    UmerAmer VIP Member

    جزاک اللہ خیرا​
     
  3. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan Staff Member

    [​IMG]
    [​IMG]
    بہت شکریہ مزید پرکشش اور دلکش ڈاک کا انتطار رہے گا
     
  4. UrduLover

    UrduLover Work hard. Dream big. Staff Member

    بہت عمدہ اشتراک کیا ہے۔ہمیں اللہ اس تحریر کو پڑھنے کی تو فیق عطا فرمائے۔شکریہ
     
  5. AllRounder

    AllRounder Guest

    شکریہ ایسی مزید پوسٹنگ کا انتظار رہے گا
     
  6. BlackSoul

    BlackSoul Guest

    Masha Allah Nice post sir Iqbal,mazeed aisi posting ka intzar rehey ghaa,shukriya
     
  7. PakWatan

    PakWatan Regular Member

    بہت عمدہ پوسٹ ہے۔مزید کا منتطر رہیں گے
     
  8. UrduLover

    UrduLover Work hard. Dream big. Staff Member

    Hello guest, Thank you for Register or you log to see the links!


    ***

    Hello guest, Thank you for Register or you log to see the links!

     

Share This Page