1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

قرآن مقدس کا اعجاز

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by IQBAL HASSAN, Nov 11, 2016.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Management

    [​IMG] [​IMG] [​IMG] [​IMG]


    قرآن مقدس کا اعجاز




    اہل عرب اسلام کی آمد سے قبل کتنی ہی اخلاقی پستیوں کے شکار رہے ہیں، لیکن ان کی ایک اہم خوبی زبان و ادب پر ان کی غیر معمولی قدرت و دسترس اور اس سے خاصی دلچسپی تھی۔ انہیں اپنی اس صفت پر اس قدر فخر تھا کہ وہ ساری دنیا کو بے زبان، صرف خود کو اہل زبان تصور کیا کرتے تھے، وہ ماسوائے عرب کو عجمی کہتے تھے۔

    یہ دعویٰ گوکہ صحیح نہیں، لیکن بالکل غلط بھی نہیں، یہ حقیقت ہے کہ اہل عرب کی زبان و بیان اور فصاحت و بلاغت پر قدرت اور غیر عرب کی قدرت میں زمین و آسمان کا تناسب تھا۔ یہ بات صرف اس زمانے کی نہیں، آج بھی عربی زبان دنیا کی عظیم ترین ترقی یافتہ زبانوں سے ایک ہے اور غیر عربی کو عربی سے ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے۔

    اس سے اس نظریئے کو بھی تقویت ملتی ہے کہ اہل عرب زبان و ادب اور فکر وتخیل کی قوت کو سب سے بڑی نعمت تصور کرتے تھے، اتنی بڑی کہ جتنی بڑی کوئی دوسری نعمت نہیں اور گویا یہ زبان و ادب کو منتہائے کمال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فصحائے عرب اس خوف سے کہ عوام الناس کے میل جول اور گفتگو سے ان کی زبان متاثرنہ ہوجائے، وہ شہر کی رنگینیوں کو تج کر پہاڑوں کے غاروں میں بسیرا کیا کرتے تھے۔

    جب اسلام آبا تو اہل عرب بلکہ دنیائے انسانیت کو اخلاقی پستیوں اور توہمات کی زنجیروں سے نجات دلانے کا عظیم مقصد لے کر آیا، اس لئے ضروری تھا کہ ان کی رہنمائی ایسے ذرائع سے ہو جو بلند اقدار کا حامل ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی زبان و ادب کے متعلق مذکورہ نظریے کی تردید کرتا ہو۔ یہ اس لئے بھی ضروری تھا کہ گزشتہ قوموں کی ہدایت کے لئے جو انبیاء آیا کرتے تھے۔ ایک مخصوص مدت کے لئے آیا کرتے تھے، انہیں مخصوص قوم کی ہدایت کے لئے بھیجا جاتا تھا، ان کی لائی ہوئی شریعت محدود زمانے تک کے لئے ہوا کرتی تھی، سابقہ قومیں موجودہ اقوام اور اقوام عرب کی بہ نسبت ذہنی اعتبار سے انتہائی پست ہوا کرتی تھیں۔ اس لئے ان انبیاء کو دلائل نبوت کے طور پر جو معجزے عطا کئے جاتے تھے وہ حسی اور وقتی ہوا کرتے تھے، لیکن جب جناب احمد مجتبیٰ محمد مصطفیﷺ کو آخری نبی بنا کر بھیجا جاتا ہے، ان کی شریعت رہتی دنیا تک کے لئے نافذ ہوتی ہے، پھر ان کی نبوت بلاتخصیص سارے عالم کی ہدایت کے لئے تھی تو ضروری تھا کہ انہیں دلیل نبوت کے طور پر جو معجزہ عطا کیا جائے، وہ بھی عقلی اور قیامت کے لئے ہو جس میں غور وفکر کرکے قیامت تک کی انسانیت راہ یاب ہوسکے۔ زبان و بیان اور طرز و اسلوب کی سحر طرازی جو کسی تنتر منتر سے ختم نہیں ہوتی، اس مقصد کے لئے زیادہ موزوں ہوسکتی تھی، چنانچہ اﷲ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید نازل فرمایا جو ایک طرف دنیائے ادب کا سب سے عظیم شاہکار ہے تو دوسری طرف دین و دنیا کی فلاح و بہبود اور کامیابی و کامرانی کا علم بردار۔

    جن کے اندر ذرا بھی احساس کا مادہ، غور وفکر کی قوت اور حق قبول کرنے کی لیاقت تھی، انہوں نے حق قبول کیا، قرآن سے مستفید ہوئے اور جنت کی راہ پائی، لیکن جن کے قلوب و اذہان شخصی تعصب و عناد ذاتی نخوتوں اور ابدی گمراہیوں سے بھرے ہوئے تھے، اور جن کے سروں پر ضلالت و گمراہی ناچ رہی تھی، انہوں نے اسے کلام بشر، پاگل پنے کی بات، اگلوں کی حکایات اور شعر و سحر سے موسوم کیا۔

    کفار کے ان دعوؤں کی تردید اور انہیں ساکت و مبہوت کرنے کے لئے اﷲ تبارک و تعالیٰ نے انہیں چیلنج کیا، پہلے پہل تو اس جیسی کوئی مستقل کتاب لانے، پھر اس جیسی دس سورتیں پیش کرنے کا اور اخیر میں قرآن کے مثل معمولی سورت پیش کرنے کا مطالبہ کیا لیکن وہ قرآن کریم کے معجزانہ اسلوب اور اس کے آفاقی نظریات کے سامنے دم بخود رہ گئے اور زبان و بیان پر غیر معمولی دسترس کے باوجود ایسا کرنے سے قاصر رہے۔ مطالبے والی آیتیں ترتیب وار ملاحظہ کریں


    (۱) فلیا توا بحدیث مثلہ ان کانوا صادقین o (الطور: ۳۴)


    (۲) ام یقولون افتراہ قل فائتوا بعشر سور مثلہ مفتریات وادعو من استطعتم من دون اﷲ ان کنتم صٰدقین o (ہود: ۱۳)

    (۳) (الف) ام یقولون افتراہ قل فائتو بسورۃ مثلہ وادعو من استطعتم من دون اﷲ ان کنتم صٰدقین o (یونس: ۳۸)

    (ب) وان کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا فائتو بسورۃ من مثلہ وادعوا شہداء کم من دون اﷲ ان کنتم صٰدقین (البقرہ : ۲۳)

    ترجمہ(۱) اگر وہ سچے ہیں تو اس جیسی ایک بات (کتاب) تو لے آئیں (جو حسن و خوبی اور فصاحت و بلاغت میں اس کے مثل ہو)

    (۲) کیا وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے خود سے گڑھ لیا، اگر ایسا ہے تو آپ فرمادیجئے کہ ایسی ہی گڑھی ہوئی دس سورتیں پیش کردو اگر تم (اپنے دعوے میں) سچے ہو۔

    (۳) (الف) کیا وہ کہتے ہیں انہوں نے اپنی جانب سے بنالیا ہے۔ آپ کہہ دیجئے کہ اس جیسی ہی سورہ لے آؤ اور (اس کام کے لئے) اﷲ کے سوا جن کو چاہو بلالو اگر تم (اپنے دعوے میں) سچے ہو۔

    (ب) ہم نے اپنے بندے پر جو کچھ اتارا ہے اس میں اگر تم کو ذرہ برابر بھی شک ہو تو اس جیسی ایک سورہ پیش کردو اور اﷲ کے علاوہ اپنے مددگاروں کو بھی بلالو، اگر تم سچے ہو۔

    اس سلسلہ وار مطالبے کے بعد اﷲ تبارک و تعالیٰ نے قیامت تک کے لئے واضح فیصلہ فرمادیا کہ یہ خالق کا کلام ہے، کسی مخلوق کا نہیں، اس کی مثال ہرگز نہیں پیش کی جاسکتی۔ ارشاد ہے:

    قل لئن اجتمعت الانس والجن علی ان یاتوا بمثل ہذا القرآن لایاتون بمثلہ ولو کان بعضہم لبعضہم ظہیراً (بنی اسرائیل: ۸۸)

    ترجمہ: آپ فرمادیجئے کہ جن و انس اگر قرآن کا مثل لانے پر اتفاق کرلیں تو باہم معاونت کے باوجود وہ ایسا نہ کرسکیں گے۔

    اس چیز کا اعتراف خود کفار مکہ کو بھی تھا۔ وہ بھی جانتے تھے کہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جس کی مثال نہیں پیش کی جاسکتی۔ ایسا کلام کسی انسان کا نہیں ہوسکتا۔ یہ کتاب یقینا مینارۂ نور اور سرچشمہ ہدایت ہے۔ لیکن ذاتی عصبیت اور ازلی ضلالت انہیں اسے قبول کرنے سے روکتی تھی۔
    [​IMG] [​IMG] [​IMG] [​IMG]
     
  2. UmerAmer

    UmerAmer VIP Member

    جزاک اللہ خیرا​
     

Share This Page