1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

ایمان کی مٹھاس کس کو محسوس ہوتی ہے؟

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by IQBAL HASSAN, Nov 12, 2016.

  1. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Super Moderators

    [​IMG]

    ایمان کی مٹھاس کس کو محسوس ہوتی ہے؟

    بے شک یہ بات تو طے ہے کہ اللہ کی نعمتیں کسی شمار میں نہیں سما سکتیں۔مگراس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ شکرگزاری کے جذبے کے تحت ان پر نگاہ ہی نہ دوڑائی جائے۔سب سے پہلی نعمت تو ہماری زندگی کی ہے۔ ہماری صحت،شکل و صورت، خاندان،دوست احباب،عزیزرشتہ داریہ سب وہ نعمتیں ہیں جن کو ہم اپنا حق سمجھتے ہوئے کبھی شکر کی گنتی میں نہیں لاتے۔اور ان تمام نعمتوں میں سب سے اہم تو ایمان اور نیک اعمال کی توفیق ہے۔زندگی،صحت،اعزا واقرباء تو بہت سوں کے پاس ہے مگر ان میں سے کتنوں کو اللہ نے ایمان کی نعمت سے نوازا ہےاور کتنوں کو راہ راست کی سمجھ عطا کی ہے؟ہمیں اس بات کا ادراک کرنا چاہیےکہ دنیا میں بسنے والے چھ ارب لوگوں میں سےاللہ نےہمیں اسلام کے لیےچن کرکتنا بڑاکرم کیا ہے۔صرف یہی نہیں بلکہ اس بےشمار انسانوں کے سمندر میں سے ہم کو خاص کرکے نماز،روزے اور نیک اعمال والی زندگی بھی دےدی۔
    جان دی ،دی ہوئی اسی کی تھی
    حق تو یہ ہےکہ حق ادا نہ ہوا
    کتنے ہیں جو اس ہدایت اور نیکی سےبے بہرہ ہیں۔ہم میں سے جونماز کے پابند ہیں،جان لیں کہ یہ بھی دراصل اسی رب کی ایک اور مہربانی ہے۔تقوی حاصل کرنے کی تڑپ بھی اُسی کی عطاہے۔اپنا کوئی کمال نہیں۔دلوں میں اس کی چاہ اور اس کے پیارے نبی صلی اللہ وسلم کی عقیدت اگراُسی کا انعام نہیں تو اور کیا ہے؟
    اللہ کے رسولﷺ سے دلی محبت بڑھانے کیلئے خود کویاد دہانی کراتے رہنا چاہیے کہ آپﷺ نے اللہ کے پیغام کوہم تک پوری جانفشانی سے پہنچایا۔
    ذراایک لمحے کو رک کر اسی بات سے اندازہ کریں کہ ہمارے معزز اساتذہ،ہمارے علماء،مخلص داعی جو ہمیں اللہ کا دین سکھاتے ہیں،اسی ایک وجہ سے وہ ہمیں کس قدر بےحد و حساب محبوب ہوجاتے ہیں۔اپنے محسنوں سے کون محبت نہیں کرتا؟...۔اللہ کی توحید کی پہچان کروانے والے محمدﷺ سے محبت کی گہرائیوں کا تو اندازہ ہی نہیں۔اللہ کے رسولﷺ نے اس دین کوہم تک پہنچانے کیلئے بہت اذیتیں اور نفرتیں جھیلیں۔دن کو جا جاکر بےحد صبراور حلم سے ایک اللہ کی بندگی کی دعوت دیتے اور راتوں کواُٹھ کر لمبے قیام و سجود میں اللہ کے سامنے گڑگڑا کر دعائیں مانگتے۔
    ہمیں اور ہماری نسلوں کو اس محبت کاحقیقی طور پر احساس تب تک نہیں ہوسکتا جب تک ہم ان کی سیرت کامطالعہ اپنی زندگیوں کا حصہ نہ بنا لیں۔تب ہم کو اندازہ ہوگا کہ محض تعارف پہ جو دل اتنا مرعوب ہے یہ تو صرف آغازتھا۔جوں جوں سیرت مبارکہ ،اسوۃ حسنہ،پیغمبرانہ اخلاق اور کردار سے آشنائی بڑھتی جائے گی،یہ محبت اور عقیدت دلوں سے نکل کر جسم و جان پر راج کرنے لگے گی۔ اور خدا کے محبوب سے انتا جو پیار ہوگا تو کیا خدا کا پیار مزید نہ بڑھےگا؟..اللہ سے توفیق کی التجا ہے،آمین یا رب۔
    خدا نے کیسا پیارا اور عظیم نبی ہم کو دیا،جس کا کردار اور اخلاق دنیا میں سب سے بڑھ کر، جس کی بہادری بے مثال اور جس کا صبر بے پایاں۔جس نے راہ حق میں قربانیاں بھی بہت عظیم دیں۔نہ صرف یہ بلکہ تمام مصائب کے باوجود سب سے ذیادہ مسکرانے والا مبارک چہرہ۔آگے بڑھ بڑھ کردوسروں پر مہربانیاں اور شفقت کرنے والا، کسی فکرمند باپ کی مانند ایک ایک کی خبرگیری کرنے والا نبی۔صلی اللہ علیہ وسلم۔آپ کے تمام اسوہ حسنہ کا بیان یہاں ممکن نہیں مگر جو بھی انصاف اور ضمیر رکھنے والا انسان ہوگا وہ ایسے اچھے انسان سے محبت کیے بنا نہ رہ سکے گا۔
    خدا کی محبت میں بڑھنے کا ایک اور ذریعہ خدا کی ذات و صفات پر غور و فکر ہے۔اس کی قدرت کیا ہی زبردست غالب ہے اور صناعی کیا ہی خوبصورت ۔اس کی مہربانیاں ہیں کہ ختم ہونے میں ہی نہیں آتیں۔اس کا ہم پر رحم بیان سے باہر ہے۔خود پر نگاہ کریں تو کوتاہیاں اور نافرمانیاں ،نہ خدا کی وہ قدر دل میں جس کا وہ حقدار تھا۔مگر پھر بھی وہ ہم کو معاف کردیتا ہے۔اور ہمیں ہماری لغزشوں پر سزا نہیں دیتا۔بلکہ لگاتار مواقع دیے چلاجاتا ہے کہ ہم اس کے بندے کب تائب ہو کر پلٹ آتے ہیں۔ بے شک اللہ ان سے محبت کرتا ہے جو توبہ کرنے والے اور خود کو پاک صاف رکھنے والے ہوتے ہیں۔

    ہم کو بار بار معاف کرنے والے رب کو ہماری حاجت نہیں،وہ زبردست غالب اللہ ہمارے لیے اپنی محبت یوں بیان فرماتا ہے: {مفہوم} "میں ویسا ہوں جیسا میرا بندہ میرے بارے میں گمان کرتا ہے۔میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں جب وہ مجھے یاد کرتاہے۔وہ میرے بارے میں سوچتا ہے،میں اس کو اپنی سوچ میں یاد کرتا ہوں،وہ لوگوں میں میرا ذکرکرتا ہے میں اس سے برگزیدہ تر محفل میں اس کا تذکرہ کرتا ہوں۔وہ ایک بالشت میری طرف آتا ہے میں ایک بازو اس کے قریب آتا ہوں۔وہ ایک بازو میرے قریب آتا ہے میں دو بازووں برابر اس کے قریب آتا ہوں۔اگر وہ میری جانب چل کے آتا ہے میں دوڑ کر اس کی طرف آتا ہوں۔"[صحیح بخاری۶۳۰۸۔صحیح مسلم۲۷۴۴]
    اللہ سبحانہ و تعالی ہم کو توفیق سے نوازے کہ ہم اس کی وہ قدر جانیں جس کا وہ حقدار ہے آمین

    [​IMG]





     
    PakArt likes this.
  2. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

  3. UrduLover

    UrduLover Work hard. Dream big. Staff Member

    Hello guest, Thank you for Register or you log to see the links!


    ***

    Hello guest, Thank you for Register or you log to see the links!

     
  4. UrduLover

    UrduLover Work hard. Dream big. Staff Member

    Hello guest, Thank you for Register or you log to see the links!


    ***

    Hello guest, Thank you for Register or you log to see the links!

     

Share This Page