1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice
  3. Dismiss Notice

مسئلہ شفاعت قرآن و سنّت کی روشنی میں


آئی ٹی استاد کی ںئی ایپ ڈاونلوڈ کریں اور آئی ٹی استاد ٹیلی نار اور ذونگ نیٹ ورک پر فری استمال کریں

itustad

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by IQBAL HASSAN, Nov 14, 2016.

General Topics Of Islam"/>Nov 14, 2016"/>

Share This Page

  1. IQBAL HASSAN
    Offline

    IQBAL HASSAN Designer
    • 63/65



    [​IMG]
    مسئلہ شفاعت قرآن و سنّت کی روشنی میں
    [​IMG]

    شفاعت کا لفظ شفع سے نکلا ہے جس کے معنی ایک چیز کو دوسری سے جوڑنے کے ہیں اور اسی مفہوم سے یہ ترقی کرکے کسی بات کی تائید و حمایت یا کسی کے حق میں سفارش کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ (تدبر 2/349) لغوی معنی سے قطع نظر اس کے اصطلاحی معنی یہ ہیں کہ قیامت کے دن حساب کتاب کے وقت کسی فرد کا کسی خاص مذہب یا شخصیت سے وابستہ ہونا اور اس شخصیت کی سفارش کا مل جانا، اس کی نجات کا سبب بن جائے گا۔ اس کی سب سے بڑی مثال اس وقت مسیحیت ہے جو دنیا کا سب سے بڑا مذہب ہے۔ عیسائیوں کے عقیدے کے مطابق ایک شخص جب سیدنا مسیح پر ایمان لے آتا ہے تو مسیحی عقائد پر اس کا یقین اور مسیح سے اس کی وابستگی اس کی نجات کے لیے کافی ہے۔
    [​IMG]


    قرآن کے اولین مخاطب یعنی مشرکین عرب کی پوری مذہبیت اسی شفاعت کے عقیدے پر قائم تھی۔ ان کے نزدیک ان کے دیوی دیوتا خدا کے حضور ان کے حمایتی اور سفارشی تھے۔یہ بات صرف سفارش اور حمایت ہی پر نہیں رکتی بلکہ اس سے آگے بڑھ کر یہی چیز لوگوں کے شرک میں مبتلا ہوجانے کا سبب بن جاتی ہے۔ چنانچہ اسی بنیاد پر مسیحیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا کا بیٹا بنا دیا اور مشرکین عرب معاذ اللہ اپنے دیوی دیوتاؤں کو اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دے کر ان کی پرستش اور عبادت کیا کرتے تھے۔


    یہ کوئی ایسی عجیب بات نہیں ہے۔ اس دنیا میں بھی یہ ہوتا ہے کہ جب ہم کسی مصیبت میں پھنس جاتے ہیں اور کوئی شخص ہماری مدد کرتا ہے تو ہم اس کے تا عمر شکرگزار رہتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح جو ہستی خدا کے حضور، انسان کے سارے گناہوں کے باجود اس کی نجات کا سبب بن رہی ہو، انسان اپنے دل میں اس کی غیر معمولی عقیدت اور محبت محسوس کرتا ہے۔ یہ محبت بڑھتی ہے، عظمت میں بدلتی ہے اور آخرکار معاملہ باقاعدہ پرستش اور خدا کے شریک بنانے تک پہنچ جاتا ہے۔ انسان اس ہستی کے گن گاتے گاتے ،انہیں خوش کرنے کے لیے ان کے حضور نذر ونیاز پیش کرتے،دنیا کے معاملات میں بھی ان سے مدد مانگتے اور ان سے دعا کرنے لگتے ہیں۔ یہی کچھ عیسائی اور مشرکین عرب کیا کرتے تھے۔ یہی سبب ہے کہ قرآن نہ صرف جگہ جگہ ان کے شرک کی مذمت کرتا ہے بلکہ ان کے اس عقیدہ شفاعت کی بھی بھرپور تردیدکرتا ہے۔


    سورہ مائدہ کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے اپنا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قیامت کے دن ہونے والا ایک ڈائیلاگ بڑی تفصیل سے نقل کر کے یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول نہ کسی غلط عقیدے کی تعلیم دیتے ہیں اور نہ وہ اللہ کے حضور کسی کی غلط سفارش کرتے ہیں۔ اسی طرح مشرکین عرب کے شرک اور شفاعت دونوں قسم کے نظریات کی بھی قرآن میں جگہ جگہ تردید کی گئی ہے مثلاً سورہ یونس میں فرمایا:


    یہ اللہ کو چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ انہیں نفع دیتی ہیں اور نہ نقصان۔ اور وہ کہتے ہیں کہ یہ خدا کے حضور ہمارے سفارشی ہیں۔ان سے کہو کیا تم اللہ کو وہ بتاتے ہو جسے نہ وہ آسمان میں جانتا ہے اور نہ زمین میں ۔ یہ لوگ جو شرک کررہے ہیں اللہ کی ذات اس سے پاک ہے۔ (یونس 10:18)


    ایک سوال
    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب قرآن اس معاملے میں ایک فیصلہ کن بات کہہ چکا ہے تو پھر کیا سبب ہے کہ مسلمانوں کے اندراس مسئلے میں اتنا غلو پایا جاتا ہے۔ میرے نزدیک اس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک یہ کہ ہمارے ہاں لوگوں میں قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا رواج نہیں اور نہ انہیں یہ معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کیا کچھ فرمایا ہے۔
    دوسرا سبب یہ ہے کہ قرآن نے ہر چند کے مختلف طریقوں سے قیامت کے دن ہر طرح کی شفاعت کی نفی کی ہے مگر بعض مقامات پر کچھ استثنا بھی دیا ہے۔ اسی استثنا کی وضاحت مختلف احادیث میں کی گئی ہے۔ مگر جب ان احادیث کو قرآن پاک کی روشنی میں نہیں سمجھا جاتا اور پھر ان کے ساتھ ضعیف و موضوع روایات میں گھڑے ہوئے قصے، واعظوں کی داستانیں اور لوگوں کی خواہشات شامل ہوتی ہیں تو عوام الناس کی سطح پر معاملہ کی نوعیت وہی کچھ ہوجاتی ہے جس کی تردید پورے قرآن کا موضوع ہے۔ اس لیے ضرور ی ہے کہ شفاعت کے حوالے سے دین کا موقف عام فہم انداز میں پوری طرح واضح کردیا جائے۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ چند بنیادی باتوں کو سمجھ لیا جائے ۔ یہ باتیں درج ذیل ہیں۔


    الله ہم سب کو اپنے سیدھے راستے کی طرف گامزن کرے -آمین
    [​IMG] [​IMG] [​IMG]


     
  2. PakArt
    Offline

    PakArt ITUstad dmin Staff Member
    • 83/98

  3. UmerAmer
    Offline

    UmerAmer Regular Member
    • 38/49

    جزاک اللہ خیرا​
     
  4. IronMan
    Offline

    IronMan My Name is Zain Khan from Islambad Staff Member
    • 28/33

    Hidden Content:
    یہ لنک دیکھنے کے لیے فورم پر آپ کا اکاونٹ ہونا ضروری ہے اکاونٹ بنانے کے لیے یہاں کلک کریں

    ***
    Hidden Content:
    یہ لنک دیکھنے کے لیے فورم پر آپ کا اکاونٹ ہونا ضروری ہے اکاونٹ بنانے کے لیے یہاں کلک کریں
     
  5. Najam Mirani
    Offline

    Najam Mirani Management Staff Member
    • 28/33

    یہ تو آدھا تھریڈ ہے ، درج ذیل باتیں کون سی ہیں وہ بھی تو بیان کریں
     

Share This Page