1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice
  3. Dismiss Notice

ایمانداری کا انعام


آئی ٹی استاد کی ںئی ایپ ڈاونلوڈ کریں اور آئی ٹی استاد ٹیلی نار اور ذونگ نیٹ ورک پر فری استمال کریں

itustad

Discussion in 'History aur Waqiat' started by Admin, Nov 16, 2016.

History aur Waqiat"/>Nov 16, 2016"/>

Share This Page

  1. Admin
    Offline

    Admin Lover Staff Member
    • 63/65

    ایمانداری کا انعام

    پہلی صدی ہجری میں یحییٰ بن ہبیرہ ایک مشہور وزیرگزرا ہے۔ اس کو یہ عہد بنوامیہ کی حکومت کے زمانے میں ملا تھا۔ وہ ایک غریب عرب سپاہی کے گھرمیں پیدا ہوا تھا اوراسے بچپن ہی سے علم حاصل کرنے کا بہت شوق تھا۔ اس نے دن رات محنت کرکے علم حاصل کیا اور چند ہی سال کے اندربہت بڑا عالم بن گیا جلد ہی اس کے علم اور دانائی شہر دور دور تک پھیل گئی اور وہ لوگوں میں عوالدین (یعنی دین کا مددگار) کے لقب سے مشہور ہو گۓ،مگراس کی غریبی دورنہ ہوئی اور وہ تنگی ترشی سے گزرا کرتا رہا۔ اللہ کی قدرت کہ ایک دن نہ صرف اس کی غریبی دور ہو گئی، بلکہ وہ حکومت کا وزیر بن گیا۔

    یہ کیسے ہوا؟یہ ایک عجیب قصہ ہے جو یحییٰ بن ہمیرہ نے خود بیان کیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میں سخت تنگ دست تھا اوربڑی تنگی ترشی سے زندگی کے دن گزار رہا تھا ۔اس زمانے میں کچھ لوگوں نے اپنے تجربے کی بنا پرمجھے بتایا کہ حضرت معروف کرخی رحمة اللہ علیہ (ایک مشہوربزرگ)کی قبرپرجا کراکثر دعا قبول ہو جاتی ہے۔ یہ سن کرمیں وہاں گیا اورحضرت معروف کرخی بخشش کے لئے دعا مانگی ،پھراللہ تعالی سے اپنی غریبی دور ہونے کی دعا بھی کی۔میں دعا کرکے واپس آ رہا تھا کہ راستے میں ایک ٹوٹی پھوٹی پرانی مسجد نظر آئی میں نے سوچا کہ تھوڑی دیر اس مسجد میں بیٹھ کرسستا لوں اوردونفل نماز بھی پڑھ لوں ۔

    یہ سوچ کرمیں مسجد میں داخل ہوا تودیکھا کہ ایک بیماربوڑھا وہاں لیٹا ہوا ہے اور رو رہا ہے۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس کوسخت تکلیف ہے اوراس کا آخری وقت آ پہنچا ہے میں نے اس سے کہا:”بابا جی! کوئی چیزکھانے کو جی چاہتا ہو بتلاﺅ۔“

    اس نے کہا :”خربوزہ کھانے کومیرا دل بہت چاہ رہا ہے۔“

    میں دوڑکر بازار گیا اورخربوزہ خرید کر لے آیا۔ بوڑھے نے خربوزہ کھایا تو بہت خوش ہوا اوراٹھ کربیٹھ گیا۔ پھر وہ گھسیٹتا ہوا مسجد کے ایک گوشے میں پہنچا اورزمین کھود کر وہاں سے ایک برتن نکالا،جس میں پانچ سو دینا۔ سونے کے سکے)تھے۔ بوڑھے نے یہ دیناربرتن سے نکال کرمیرے سامنے رکھ دئیے اورکہا:”پیارے دوست!یہ دینارآپ رکھ لیں۔آپ انہیں لینے کے حق دارہیں۔“

    بوڑھے نے آہ بھرکرکہا:”میراایک بھائی تھا۔بڑاپیارا ماں باپ جایا بھائی،لیکن برسوں سے وہ ایسا گم ہوا کہ معلوم نہیں جیتا ہے یا مرگیا ہے۔ میں نے ایک بارسنا تھا کہ وہ مرگیا۔ میں رصافہ (عراق کا ایک شہر)کا باشندہ ہوں۔وہاں سے آنے کے بعد میں نے بھائی کو کبھی نہیں دیکھا۔“

    اتنا کہہ کربوڑھے نے آخری سانس لیا اورفوت ہو گیا۔میں نے اس کے کفن دفن کا کا انتظام کیا اوراس سے فارغ ہو کر دریائے دجلہ کے دوسرے کنارے پر جانے کے لئے گھاٹ پرپہنچا ۔پھٹے پرانے کپڑے پہنے ایک ملاح نے مجھ سے کہا کہ چلئے میں آپ کو دریا کے پار لے چلتا ہیں۔میں اس کی کشتی میں بیٹھ گیا اور اس سے پوچھا: ”تم کہاں کے رہنے والے ہو؟‘

    اس نے کہا :”رشافہ کا۔ لڑکپن ہی میں یہاں آیا تھا اور یہیں آ کر ہوش سنبھالا۔“

    میں نے پوچھا: تمہارا کوئی رشتے دار نہیں؟“

    اس نے کہا: ”صرف ایک بھائی تھا ، مگرسالہا سال سے اس کا کچھ پتا نہیں۔“

    میں نے غور سے اس کی شکل دیکھی تو وہ مرنے والے بوڑھے جیسا دکھائی دیا ۔ میں سمجھ گیا کہ یہی اس کا بھائی ہے۔“

    میں نے اس سے کہا: ”بھائی اپنی چادر کا پلو پھیلاﺅ۔ “اس نے پلو پھیلایا تو میں نے اس میں بوڑھے کے دئیے ہوئے پانچ سو دینار ڈال دئیے۔

    وہ حیران رہ گیا اور پوچھا : ”یہ دینارآپ مجھے کیوں دے رہے ہیں؟“ میں نے سارا قصہ اسے سنایا اور اس کو بتایا کہ یہ تمہارے مرحوم بھائی کا مال ہے اور تم ہی اس کے وارث ہو۔“

    ملاح نے کہا: ”آدھے تم لے لو۔“

    میں نے کہا: ”نہیں بھائی! میرا ان پر کوئی حق نہیں، یہ سارے دینار تم کو مبارک ہوں۔“ ملاح نے مجھے بہت دعائیں دیں اور دینار رکھ لئے ۔ وہاں سے آ کر میں نے شاہی دربار میں نوکری کے لئے عرضی پیش کی ۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر فضل کیا اورعرضی پیش ہوتے ہی مجھے خزانچی مقرر کر دیا گیا۔ میں نے بڑی دیانت اور محنت سے کام کیا، یہاں تک کہ ترقی کرتے کرتے وزیرکے عہدے تک پہنچ گیا۔ مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس بات کا انعام دیا کہ میں نے غریب ملاح کواس کا حق پہنچا دیا۔
     
    IQBAL HASSAN likes this.
  2. IQBAL HASSAN
    Offline

    IQBAL HASSAN Designer
    • 63/65

    [​IMG] [​IMG]

    ماشا اللہ ۔۔۔۔
    بہت ھی خو بصورت اور ایمان آفروز واقعہ ھے
    اور غربت کے باوجود اتنا بڑا دل اللہ نے دیا
    ۔بہت اچھی تحریر ہے اللہ آپ کو خوش ر کھئے
    آمین ثمہ امین۔۔۔


    [​IMG] [​IMG]
     
  3. PakArt
    Online

    PakArt ITUstad dmin Staff Member
    • 83/98

Share This Page